|
ہماری دعوت ہمہ جہت ہے نہ کہ اسلامی معاشرے کے ساتھ ٹکراؤ کے لیے ہم لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کوشاں ہیں نہ کہ دنیا سے علیحدگی کے لیے۔۔۔ ہمارا یقین ہے میل جول زندگی کی ضرورت اور انسانی فطرت ہے۔۔۔ اور تنہائی معاشرے سے جدائی ہے۔۔۔ ہم جس معاشرے اور صورت حال میں رہتے ہیں اس کی مختلف شکلوں اور رجحانات سے غافل نہیں ہیں۔۔۔ نہ ہی ہم کسی ٹیڑھے مینار میں نہیں رہتے ہیں۔۔۔ بلکہ ہم لوگوں کے ساتھ ان کی بود و باش، رہن سہن اور روایات میں تعامل کرتے ہیں۔۔۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔۔۔ ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ ان کی خوشیوں اور غموں میں شامل ہوتے ہیں۔۔۔ ان کی تمناؤں اور تکالیف کا احساس کر تے ہیں۔۔ ان کے علماء کی قدر کرتے۔۔۔ جہلا کو سیکھاتے۔۔۔ غافلوں کو تنبیہ کرتے۔۔۔ بھولنے والوں کو یاد دلاتے۔۔۔ بھگوڑوں کو واپس بلاتے۔۔۔ بیماروں کا علاج کراتے۔۔ کمزوروں کی مدد اور ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔۔۔
ہمارا عقیدہ ہے اسلام کا سپاہی اپنے سے چھوٹے کا باپ، بڑے کا بیٹا۔۔۔ اور ہم عمر کا بھائی ہوتا ہے۔ لوگوں کو دعوت دینے میں ان کو پریشان خاطر نہیں کرتے۔۔۔ اور نہ ہی ان کی واپسی سے مایوس ہوتے ہیں۔۔ ہم ان کے ساتھ تعامل کرنے میں صبر جمیل اور امید طویل سے کام لیتے ہیں۔۔۔ ہم بیج کے کونپل، کونپل سے پتے نکلنے، شاخوں پر بور لگنے، بور کے پھل بننے، پھل کے پکنے، ہر موسم میں اپنے رب کے حکم سے درخت کے پھلدار ہونے تک صبر سے کام لیتے ہیں۔۔۔ معاشرے تو ایک تاریخی سرمایہ اور ہر اسلامی تحریک و ایمانی دعوت کے قدرتی حلیف ہوتے ہیں۔۔۔ اس لیے ہم معاشرے کے ساتھ عدم ٹکراؤ اور صلح کل کی ثقافت کی تعمیر کرتے ہیں۔۔۔ جب تک وہ قائم یا رائج معاشرتی روایات و عادات جو قاعدۂ شرعی یا اصول دینی اور ارکان عقیدہ کے کسی ثابت شدہ دینی اصول کی مخالف نہ ہوں۔ ہم حق کو بیان کرنے اور مخلوق کے ساتھ نرم دلی، حق کی عظمت اور مخلوق پر مہربانی، حق کا اقرار اور مخلوق کے ساتھ رکھ رکھاؤ کو جمع کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ لوگوں کا اپنی عادات پر قائم رہنا معاشرتی ضروریات میں سے ہے۔ ان کو چھوڑنا ان پر گراں گزرتا ہے۔۔۔ اسلام آسانی پیدا کرنے اور حرج کو اٹھانے کے لیے آیا: (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ العُسْرَ) (البقرة:185): (اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمھارے لیے تنگی نہیں چاہتا)۔ اسلام نے عرف کو قانون سازی کا ذریعہ اور دعوت کا ایک اصول قرار دیا ہے۔۔۔ جب تک عرف کسی نص قطعی یا اجماع یقینی سے نہ ٹکراتا ہو اور نہ ہی کسی حقیقی ضرر کا سبب بنتا ہو۔ ہم اماکن، اوقات اور احوال یا حالات کی تبدیلی کی وجہ سےتقالید میں تبدیلی کو یقینی سمجھتے ہیں۔۔۔ کل جس عرف پر عمل ہوتا تھا۔۔۔ ہوسکتا ہے آج اس پر عمل نہ ہو سکے۔۔۔ جو عرف کسی ایک جگہ کے لیے درست تھا ہو سکتا ہے کسی دوسری جگہ کے لیے مناسب نہ ہو۔ دعوتنا في محيط الناس لا للصدام مع المجتمع المسلم 4-6 UR
ہمارے بارے ميں -
|