|
اختلافی مسائل میں تفریط اور امت کے مستقبل سے متعلق مسائل سے غفلت ہمیں اس کا پوری طرح ادراک ہے کہ اجتہادی مسائل کے تئیں پائے جانے والے فقہی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش امت کی محنت کو ایسی چیزوں میں ضائع کرنا ہے جس کا کوئی فائدہ اور کوئی حاصل نہیں۔ یہ در اصل ایسی چیز میں الجھانا ہے جس کا کسی کو کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔
اس لئے کہ ظنی، فرعی، اجتہادی اور فقہی مسائل کو پیش کرنا کثرت کے ساتھ اسے بحث ومباحثے کا موضوع بنانا، اس کے لئے شور وہنگامہ کرنا، چیخنا چلانا ان سارے امور نے امت کو بری طرح تھکا دیا ہے۔ اور اس کا کوئی حل سامنے نہیں لایا جا سکا لہذا یہ سب کچھ کرنا ایک خطرناک منفی پالیسی کی ترجمانی ہے اور اللہ کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کو پوری طرح اس سے دور رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ اختلافی مسائل میں تفریط اور تعصب برتنا یہ ایک تخریبی پھاوڑا ہے نہ کہ تعمیری۔ یہ تفریق کرنے والا ہے نہ کہ یکجا کرنے والا۔ امت اس بات کی زیادہ ضرورت مند ہے کہ اس کے کلمے کو متحد کیا جائے اسے گرنے سے بچایا جائے، اس کی شریعت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کو دور کیا جائے۔ ہمارا یہ حق ہے کہ دینی نصوص کے سمجھنے کو ہماری اپنی سوچ اور ہمارا اپنا اجتہاد ہو۔ لیکن اسی کے ساتھ ہم پر یہ بھی عائد ہوتا ہے کہ ہم ہر مجتہد کے اجتہاد کو احترام کی نظر سے دیکھیں جس نے اپنی وسعت بھر کوشش کی اور شریعت کے دائرے میں باقی رہا۔ اس لئے کہ ہماری رائے جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے جہاں صحیح ہو سکتی ہے وہیں اس کے غلط ہونے کا بھی امکان پایا جاتا ہے۔ اور دوسرے کی رائے جہاں غلط ہو سکتی ہے وہیں اس کے صحیح ہونے کا بھی امکان ہو سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد اجر حاصل کرنے والا ہوگا اور اس سے جو غلطی ہوئی ہے اس میں معذور سمجھتا جائیگا اور اگر اس نے اجتہاد صحیح کیا ہے تو دو اجر کا حق دار ہوگا۔ پھر اجتہادی مسائل میں غلط اور صحیح ایک تناسبی مسئلہ ہے۔ لہذا اجتہادی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اس میں تعصب برتنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہماری نظر میں اولیت اس بات کو حاصل ہے کہ بلند امور اور عظیم امیدوں پر محنت صرف کی جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب بڑے مسائل اور امیدوں سے دور ہو جاتے ہیں تو وہ اختلافی گڑھے میں جا گرتے ہیں اور اتحاد اور اتفاق سے ہٹ جاتے ہیں۔ اس لئے کہ جب انسان بڑے مسائل ومشکلات سے خود کو الگ کر لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹے چھوٹے مسائل پر معرکۂ آرائی اور لڑائی جھگرے کرنے لگتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے اہم امور پر توجہ دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کلیات کو چھوڑ کر جزئیات میں لگنا، اصول کو چھوڑ کر فرعی مسائل میں پھنسنا۔ ایک چھوٹی سی غلطی کو بہت بڑے گناہ میں تبدیل کر دینا، نفل کو فرض کا درجہ دینا مکروہ کو حرام ٹھہرانا کہاں کی سمجھداری ہے۔ ہماری نظر میں یہ سب کچھ ہمتوں کو پست کرنے والے اور کوششوں کو رائیگاں کرنے والے امور ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری امت کے حق میں یہ خیانت ہے کہ ہم ایسے فروعی مسائل کے تئیں جن پر ہمارے اسلاف اختلاف کر چکے ہیں اور بعد میں آنے والے لوگ ان پر لڑ جھگڑ چکے ہیں اور معاصرین کے ما بین ان امور پر اتفاق کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہم اپنے آپ کو ایسے جدلی بحث ومباحثے کے سمندر میں کیوں کر ڈبوئیں۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم امت کے عظیم مسائل اور اس کے سانحوں کو فراموش کر دیں۔ اس کی بے پناہ مصیبتوں اور اس کے حالیہ چیلنجر کو بھلا دیں۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ اس دور میں ہمارا فرض یہ ہے کہ امت کے مسائل اور وطن کے بر حق مسائل میں دلچسپی لیں۔ صرف بات چیت اور لمبی چوڑی تقریروں کے ذریعہ نہیں بلکہ حقیقت کی سرزمین پر اترتے ہوئے ان مسائل کا حل نکالیں۔ اس کے لئے مؤثر مشینریوں کو استعمال میں لائیں اور کوشش اس بات کی کریں کہ امت مسلمہ اور اسلامی ممالک کے گندھوں پر موجودہ بوجھ کو اتارنے میں سنجیدہ اور مثبت طور پر شرکت کریں موجودہ وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مل جل کر کام کریں۔ ملکوں اور باشندوں کی قدر وقیمت کو بلند کرنے میں حصہ لیں اور اس کے لئے ہر ممکن وسیلے سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں۔ لوگوں کی نظروں، اور عقلوں کو اس طرف مائل کریں۔ عام مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کریں کہ وہ امت کے عظیم مسائل کی طرف توجہ دیں۔ اس کے لئے سنجیدہ کوشش کریں۔ ہر فرد اپنی اپنی قوت کے مطابق اپنی ذمہ داری بنھائے تاکہ یہ بھاری بوجھ زیادہ لوگوں پر تقسیم ہو تو اس کو انجام دینا آسان ہو جاتا ہے۔ بين تضخيم المسائل الخلافية والانشغال بقضايا الأمة المصيرية 2-10 UR
ہمارے بارے ميں -
|