کیا شعبان کے پورے مہینہ میں روزے رکھنے مستحب ہیں
الحمدللہ۔۔ شعبان کے مہینہ میں زیادہ سے زيادہ رکھنے روزے رکھنے مستحب ہيں، حدیث میں بیان کیا گياہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے: ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ: (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا، لیکن آپ۔۔۔ مزيد پڑھيے ... |
|
والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے
الشيخ عبد الرزاق عفيفى۔۔ الحمد للہ، بہتر تو يہى ہے كہ آپ اپنى والدہ كى جانب سے روزے ركھيں؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: (جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كا ولى اس كى جانب سے روزے ركھے) متفق عليہ۔ اور ولى ميت كا قريبى ہوتا ہے۔۔۔ مزيد پڑھيے ... |
|
روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم
شيخ محمد صالح المنجد۔۔ الحمد للہ، حاملہ عورت ـ اور دودھ پلانے والى بھى اس جيسى ہى ہے ـ كو جب اپنى جان كو ضرر كا خدشہ ہو، يا اپنے بچے كى جان كو خطرہ ہو تو اس كے ليے رمضان المبارك كے روزے چھوڑنا جائز ہيں، اور صرف اس كے ذمہ بعد ميں قضاء ہو گى؛ كيونكہ وہ مريض كى طرح ہے۔۔۔ مزيد پڑھيے ... |
|
رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا
محمد صالح المنجد۔۔ الحمد للہ، علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ جس نےبھي رمضان المبارك كےروزے نہ ركھے اس پرآئندہ رمضان آنے سے قبل روزوں كي قضاء كرني واجب ہے۔ اس ميں انہوں نے مندرجہ ذيل حديث سے استدلال كيا ہے: عائشہ رضي اللہ تعالى عنھا بيان كرتي ہيں كہ: (ميرے ذمہ رمضان المبارك۔۔۔ مزيد پڑھيے ... |
|