|
الحمد للہ؛ نصف شعبان كے وقت نماز روزہ كے فضائل كے متعلق جو احاديث بھى وارد ہيں وہ ضعيف قسم ميں سے نہيں، بلكہ وہ احاديث تو باطل اور موضوع و من گھڑت ہيں، اور اس پر عمل كرنا حلال نہيں نہ تو فضائل اعمال ميں اور نہ ہى كسى دوسرے ميں۔
ان روايات كے باطل ہونے كا حكم اكثر اہل علم نے لگايا ہے، جن ميں ابن جوزى رحمہ اللہ تعالى نے اپنى كتاب "الموضوعات" (2/440-445) اور ابن قيم الجوزيۃ رحمہ اللہ نے اپنى كتاب "المنار المنيف" حديث نمبر (174-177) اور ابو شامۃ الشافعى نے "الباعث على انكار البدع والحوادث" (124-137) اور العراقى نے "تخريج احياء علوم الدين" حديث نمبر (582) اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے ان احاديث كے باطل ہونے كا "مجموع الفتاوى (28/138) ميں نقل كيا ہے۔
اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى نصف شعبان كا جشن منانے كے حكم ميں كہتے ہيں:
"اكثر اہل علم كے ہاں نصف شعبان كو نماز وغيرہ ادا كر جشن منانا اور اس دن كے روزہ كى تخصيص كرنا منكر قسم كى بدعت ہے، اور شريعت مطہرہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں ملتى"۔
اور ايك مقام پر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
"نصف شعبان كى رات كے متعلق كوئى بھى صحيح حديث وارد نہيں ہے بلكہ اس كے متعلق سب احاديث موضوع اور ضعيف ہيں جن كى كوئى اصل نہيں، اور اس رات كو كوئى خصوصيت حاصل نہيں، نہ تو اس ميں تلاوت قرآن كى فضيلت اور خصوصيت ہے، اور نہ ہى نماز اور جماعت كى۔
اور بعض علماء كرام نے اس كے متعلق جو خصوصيت بيان كى ہے وہ ضعيف قول ہے، لہذا ہمارے ليے جائز نہيں كہ ہم كسى چيز كے ساتھ اسے خاص كريں، صحيح يہى ہے"۔
اللہ تعالى ہى توفيق دينےوالا ہے۔
واللہ اعلم۔
هل يصوم يوم النصف من شعبان حتى لو كان الحديث ضعيفاً UR |