English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
فتوے -

قربانى كا ارادہ ركھنے والے كے ليے كيا كچھ ممنوع ہے؟۔

سوال

حاجى كے ليے دوسرے مسلمانوں پر عشرہ ذوالحجہ ميں كيا كچھ كرنا واجب ہے؟ يعنى كيا قربانى كرنے سے قبل ناخن اور بال كاٹنے اور مہندى لگانى اور نيا لباس پہننا جائز نہيں ہے؟۔

مفتی

الاسلام سوال وجواب

جواب

الحمد للہ: جب ذوالحجہ كا چاند نظر آ جائے تو جو شخص قربانى كرنے كا ارادہ ركھتا ہو اس كے ليے اپنے جسم كے بال اور ناخن كاٹنے يا پھر جلد كاٹنا حرام ہے، ليكن اس كے ليے نيا لباس زيب تن كرنا اور مہندى اور خوشبو لگانا يا پھر بيوى سے جماع اور مباشرت كرنى حرام نہيں۔

يہ حكم صرف اس شخص كے ليے ہے جو شخص قربانى كرنا چاہتا ہے اس كے اہل خانہ كے باقى افراد كے ليے نہيں، اور جسے قربانى كرنے كا وكيل بنايا گيا ہے اس كے ليے بھى يہ حكم نہيں ہے چنانچہ اس كى بيوى اور بچوں اور وكيل پر يہ اشياء حرام نہيں۔

اس حكم ميں عورت اور مرد دونوں برابر ہيں، اس ليے اگر عورت اپنى جانب سے قربانى كرنے كا ارادہ ركھتى ہو چاہے وہ شادى شدہ ہے يہ شادى شدہ نہيں تو عمومى نصوص كى بنا پر اس كے ليے اپنے بال اور ناخن كاٹنے منع ہيں۔

اور اسے احرام كا نام نہيں ديا جا سكتا؛ كيونكہ احرام تو صرف حج يا عمرہ كے ليے ہوتا ہے، اور پھر محرم شخص احرام كى چادريں زيب تن كرتا ہے اور اس كے ليے خوشبو كا استعمال اور بيوى سے جماع كرنا اور شكار كرنا جائز نہيں، ليكن قربانى كا ارادہ ركھنے والے شخص كے ليے ذوالحجہ كا چاند نظر آنے كے بعد يہ سب كچھ جائز ہے، صرف اس كے ليے بال اور ناخن كٹوانے اور اپنى جلد كاٹنى ممنوع ہے۔

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (جب تم ذوالحجہ كا چاند ديكھ لو تو تم ميں سے قربانى كرنے كا ارادہ ركھنے والا شخص اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے) (صحيح مسلم حديث نمبر:1977)۔

اور ايك روايت ميں ہے كہ: (تو وہ اپنے بال اور جلد ميں سے كچھ بھى نہ كاٹے) بشرہ انسان كى ظاہرى جلد كو كہتے ہيں۔

واللہ اعلم

ما الذي يمتنع عنه من أراد أن يضحي UR



فتوے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت