|
الحمد للہ: جب ذوالحجہ كا چاند نظر آ جائے تو جو شخص قربانى كرنے كا ارادہ ركھتا ہو اس كے ليے اپنے جسم كے بال اور ناخن كاٹنے يا پھر جلد كاٹنا حرام ہے، ليكن اس كے ليے نيا لباس زيب تن كرنا اور مہندى اور خوشبو لگانا يا پھر بيوى سے جماع اور مباشرت كرنى حرام نہيں۔
يہ حكم صرف اس شخص كے ليے ہے جو شخص قربانى كرنا چاہتا ہے اس كے اہل خانہ كے باقى افراد كے ليے نہيں، اور جسے قربانى كرنے كا وكيل بنايا گيا ہے اس كے ليے بھى يہ حكم نہيں ہے چنانچہ اس كى بيوى اور بچوں اور وكيل پر يہ اشياء حرام نہيں۔
اس حكم ميں عورت اور مرد دونوں برابر ہيں، اس ليے اگر عورت اپنى جانب سے قربانى كرنے كا ارادہ ركھتى ہو چاہے وہ شادى شدہ ہے يہ شادى شدہ نہيں تو عمومى نصوص كى بنا پر اس كے ليے اپنے بال اور ناخن كاٹنے منع ہيں۔
اور اسے احرام كا نام نہيں ديا جا سكتا؛ كيونكہ احرام تو صرف حج يا عمرہ كے ليے ہوتا ہے، اور پھر محرم شخص احرام كى چادريں زيب تن كرتا ہے اور اس كے ليے خوشبو كا استعمال اور بيوى سے جماع كرنا اور شكار كرنا جائز نہيں، ليكن قربانى كا ارادہ ركھنے والے شخص كے ليے ذوالحجہ كا چاند نظر آنے كے بعد يہ سب كچھ جائز ہے، صرف اس كے ليے بال اور ناخن كٹوانے اور اپنى جلد كاٹنى ممنوع ہے۔
ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (جب تم ذوالحجہ كا چاند ديكھ لو تو تم ميں سے قربانى كرنے كا ارادہ ركھنے والا شخص اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے) (صحيح مسلم حديث نمبر:1977)۔
اور ايك روايت ميں ہے كہ: (تو وہ اپنے بال اور جلد ميں سے كچھ بھى نہ كاٹے) بشرہ انسان كى ظاہرى جلد كو كہتے ہيں۔
واللہ اعلم
ما الذي يمتنع عنه من أراد أن يضحي UR |