English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
فتوے -

کسی ملک کے لوگوں کا عید اورروزوں میں اختلاف کرنا جائزنہيں

سوال

ہمارے ملک میں کچھ بھائي دین کا التزام کرنے والے توہیں لیکن وہ کچھ امور میں ہماری مخالفات کرتے ہیں، مثلا رمضان کے روزوں میں کیونکہ وہ بعینہ چاند دیکھنے کے بغیر روزہ نہيں رکھتے، اوربعض اوقات تو ماہ رمضان میں ہم ان سے ایک یا دو یوم پہلے ہی روزہ رکھ لیتے ہیں۔

اوروہ اپنے حساب سے ہماری عید کے ایک یا دو روزبعد عید مناتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہم جب تک بعینہ چاند نہ دیکھ لیں اس وقت تک نہ تو روزہ رکھیں گے اور نہ ہی عید منائيں گے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( چانددیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کرہی عید مناؤ)۔

لیکن وہ لوگ آلات کے ساتھ رؤیت ھلال کا اعتراف نہيں کرتے، جیسا کہ آپ کو علم ہے وہ ہماری عید کے ایک یا دو دن بعد اپنی رؤیت کے حساب سے ہی عید پڑھتے ہیں، اور اسی طرح عیدالاضحی میں بھی ہماری مخالفت کرتےہیں یوم عرفات اورقربانی ذبح کرنے میں بھی مخالفت کرتے ہوئے ہماری عیدسے ایک یا دودن بعد عید پڑھتےہیں۔

توکیا اس کا یہ سب کچھ کرنا صحیح ہے، اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے؟۔

مفتی

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء، الاسلام سوال وجواب

جواب

الحمد للہ، ان کے لیے واجب ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھيں اورنماز عیدین بھی اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ہی ادا کریں ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(چاند دیکھ روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر ہی عید الفطر مناؤ اوراگر چاند چھپ جائے (یعنی آسمان ابرآلود ہو) تو شعبان کے تیس یوم پورے کرو) صحیح بخاری۔

روزے رکھے اورعید الفطر منانے کے حکم سے مراد یہ ہے کہ جب رؤیت ھلال آنکھ سے ثابت ہوجائے یا پھر ان وسائل سے جن میں آنکھ استعمال ہوتی ہے مثلا دوربین وغیرہ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(روزہ اسی دن ہے جس دن تم روزہ رکھو، اورفطر اسی دن ہے جس دن تم عیدالفطرکرو، اورعیدالاضحی جب تم قربانی کرو) (سنن ابوداود:2324)۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے، اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آل اورصحابہ کرام پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء (10/94)۔

لا يجوز مخالفة أهل البلد في الصيام والعيد UR



فتوے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت