English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
فتوے -

امام كے جانے تك نماز تروايح ميں امام كى متابعت كرنا

سوال

نماز تراويح ميں جب گيارہ ركعت ادا كرنا راجح ہے، تو اگر ميں كسى ايسى مسجد ميں نماز تراويح ادا كروں جہاں اكيس ركعت ادا كى جاتى ہوں تو كيا ميرے ليے دس ركعت ادا كرنے كے بعد وہاں سے جانا جائز ہے، يا كہ افضل اور بہتر يہ ہے كہ ميں ان كے ساتھ اكيس ركعت ادا كروں؟۔

مفتی

الشيخ محمد صالح المنجد، الاسلام سوال وجواب

جواب

الحمد للہ، افضل تو يہ ہے كہ امام كے ساتھ نماز مكمل كى جائے حتى كہ امام مكمل كر كے جائے، چاہے وہ گيارہ ركعت سے بھى زيادہ ادا كرتا ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فرمان كے عموم سے زيادہ ركعات كى ادائيگى جائز ہے:

فرمان نبوى ہے: (جس نے امام كے جانے تك اس كے ساتھ قيام كيا اللہ تعالى اس كے ليے سارى رات كے قيام كا اجروثواب لكھتا ہے) (سنن نسائى:1605)۔

اور ايك حديث ميں فرمان نبوى ہے: (رات كى نماز دو دو ركعت ہے، لہذا جب تمہيں صبح طلوع ہونے كا خدشہ ہو تو ايك ركعت پڑھ اسے وتر بنا لو) (رواہ السبعۃ، يہ الفاظ نسائى كے ہيں:1668)۔

ليكن اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت پر عمل كرنا اولى اور افضل اور بہتر ہے، اور اجروثواب بھى اسى ميں زيادہ ہے كہ نماز كو لمبا كيا جائے اور اسے اچھے طريقہ سے ادا كيا جائے، ليكن جب معاملہ يہ ہو كہ امام زيادہ ركعات ادا كرے اور اس كى موافقت كا مسئلہ ہو تو مقتدى كے ليے افضل يہ ہے كہ وہ مندرجہ بالا احاديث كى بنا پر امام كے ساتھ ہى ادا كرے۔

واللہ اعلم

متابعة الإمام حتى ينصرف في التراويح UR



فتوے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت