|
معصوم اسلام اور غیرمعصوم اسلامی کا اشکال بقلم: ڈاکٹر/ ناجح ابراہیم۔۔ اسلامی تحریک کو ان دنوں بہت ہی شدت کے ساتھـ اور بلاکسی تاخیر کے اپنے خطاب میں تجدید کرنے کی ضرورت ہے، اس میں مزید نکھار لانے کی ضرورت ہے وہ بھی اس انداز سے تاکہ وہ اسلام کے ثابت شدہ اصولوں سے نہ ٹکرائے۔۔۔ اس سلسلے میں اسے چاہیۓ کہ ایک نئے ملک کے قیام کے لئے اسلام کے لچکدار پہلو کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید وسائل و ذرائع سے استفادہ کرے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خندق کے موقع پر جلیل القدر صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعہ فارس کے طرز دفاع پر خندق کھودنے والے مشورے پر عمل کیا۔۔۔ اسی طرح سے حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فارس ہی سے وزارات والے نظریہ سے استفادہ حاصل کیا۔۔۔ اسی طرح سے فارس اور روم سے فوجی مہارت والے نظریہ سے رہنمائی حاصل کی، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جنگ کرنے والی کوئی مخصوص فوج نہیں تھی۔
صحابہ کرام (رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) کو صرف جنگ کے اوقات میں قتال کرنے کی دعوت دی جاتی تھی، پھر اس کے بعد وہ اپنے تجارتی یا کاشتکاری والے کام کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ آج کل اسلامی تحریک کو پہلے سے بھی کہیں زیادہ تجدید و تصحیح اور شخصی اصلاح کرنے کی سخت ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ یہ وہ اہم آلیات ہیں جو اسلامی تحریک کی طاقت و قوت کو جلا بخشتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم ذیل میں بعض ان قواعد کا ذکر کرتے ہیں جس کی اسلامی تحریک کو ان دنوں بہت ہی سخت ضرورت ہے: 1- نہایت ہی دقت کے ساتھـ اور بغیر کسی تاخیر کے معصوم اسلام - جس کے قریب باطل پر بھی نہیں مار سکتا ہے- اس کے اور غیرمعصوم اسلامی تحریک - جوخطا بھی کرسکتی ہے اور درست بھی کرسکتی ہے- کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ 2- معصوم اسلام اور غیرمعصوم اسلامی حکم کے درمیان بھی فرق کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ پہلا یعنی اسلام یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے نازل کردہ ہے جبکہ دوسرا یعنی اسلامی حکم اس میں بسا اوقات عدل و انصاف یہ ظلم و ستم کے ساتھـ ۔۔۔ خیر یہ شر کے ساتھـ ۔۔۔ حق یہ باطل کے ساتھـ ۔۔۔ خلط ملط ہوسکتا ہے۔۔۔ بسا اوقات اچھائی کے ساتھـ خواہشات نفس، اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھـ معصیت کی بھی آمیزش ہوسکتی ہے۔ 3- بہت ہی قطعیت کے ساتھـ معصوم اسلام اور غیرمعصوم اسلامی کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اسلام پسند جب غلطی کرجائے تو اس کو دلیل بناتے ہوئے کہ یہ تو اسلام کا دفاع کرنا ہے حق و باطل کا سہارا لے کر اس کا دفاع نہ کیا جائے۔۔۔ اسی طرح سے اسلام پسندوں کو چاہیئے کہ وہ بھی دوسروں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو قبول کریں جب وہ غلطی پر ہوں اور خاص کر جب اس تنقید میں سچائی پائی جاتی ہو۔۔۔ اور اس کو یہ بھی چاہیئے کہ جو شخص اس پر تنقید کررہا ہے وہ اس کے دین اور اخلاق میں طعن و تشنیع نہ کرے یا اسے فاسق، کافـر نہ قرار دے یا یہ نہ گمان کرے کہ وہ تو اسلام ہی کا دشمن ہے۔ اسی طرح سے اسلام کی مخالفت کرنے والوں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اسلامی یا اسلامی تحریک یا اسلامی نظام حکم جوکہ غیرمعصوم ہیں ان پر تنقید کرتے کرتے اچانک براہ راست اسلام جو کہ معصوم ہے اس پر نہ تنقید کرنے لگیں۔ اگر ہر فریق ان اصول و ضوابط کی پابندی کرے تو پھر اسلامی کارواں کا راستہ ہمیشہ کے لئے بغیر کسی پر کیچڑ اچھالے ہوئے، بغیر کسی کی توہین کئے ہوئے اور ساتھـ ہی کسی کو کافر و فاسق کہے بغیر یا دوسرے فریق کو بدعتی قرار دیئے بغیر مکمل طور پر صحیح و درست ہوجائے گا۔ ادھر دوسری جانب اسلام پسندوں پر یہ ضروری ہے کہ وہ لوگ مخالفین کے ساتھـ شیطانی نہ کریں یا جو شخص ان پر کسی طرح کی تنقید کرے اس کو شیطان کا دوست اور اللہ رب العالمین کا دشمن نہ قرار دیں۔۔۔ اسی طرح سے اسلام پسندوں کے جو مخالفین ہیں ان تمام لوگوں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ بھی ان اسلام پسندوں میں سے کسی ایک شخص کے غلطی کرنے کی بنیاد پر تمام اسلام پسندوں کے ساتھـ شیطانی کرنے پر نہ اتر آئیں۔۔۔ اور نہ ہی ایک جیسا حکم ان تمام لوگوں پر لاگو کریں۔۔۔ اور کسی ایک شخص کی غلطی کو مدعا بنا کر پورے اسلام کو منہدم کرنے کی کوشش نہ کریں یا یہ نہ سمجھیں کہ اسلام میں سماج کی قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔۔۔ یا اسلامی تہذیب و ثقافت میں دوسروں کے ساتھـ معاملہ کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے۔ 4- معصوم اسلام اور غیرمعصوم اسلامی افکار و نظریات میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ افکار و نظریات یہ بشری سمجھـ بوجھـ کا نتیجہ ہوتے ہیں اور بشری سمجھـ بوجھـ میں غلطی ہوسکتی ہے۔۔۔ یہاں اسلامی افکار و نظریات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اسلام میں ان ثابت شدہ اصول و ضوابط سے ہٹ کر ہیں جن کے صحیح ہونے پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔ اسلامی افکار و نظریات میں بسا اوقات جو غلطی پائی جاتی ہے وہ شرعی دلیلوں کے سمجھنے میں، یا اس کے اغراض و مقاصد کا ادراک کرنے میں یا اس کی باریکیوں میں غوروخوض کرنے میں غلطی کا نتیجہ ہوتی ہے۔۔۔ یا صرف ظاہری دلیلوں پر اکتفاء کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں۔۔۔ یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس معاشرے کی صورت حال کا جائزہ لینے میں غلطی واقع ہوجاتی ہے جس معاشرے میں اس شرعی دلیل کی تنفیذ کی جائے گی۔۔۔ یا پھر مفاد و نقصان کا اندازہ لگانے میں غلطی واقع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بشری افکار و نظریات کو عظمت و برتری حاصل نہیں اگرچہ وہ اسلامی ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ عظمت و برتری اگر کسی کو حاصل ہو تو وہ صرف قرآن کریم، احادیث صحیحہ، اسلام کے قطعی احکام اور اس کے بنیادی ارکان ہیں جس پر تمام امت مسلمہ کا اتفاق ہے۔ إشكالية الإسلام المعصوم والإسلامي الغير معصوم UR
موجودہ قضيے -
|