English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
موجودہ قضيے -

بت شکن

ہشام نجاربقلم: ہشام نجار۔۔ جو شخص کسی اسٹیچو (مجسمہ) کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے اس کے اسلامی تحریک سے منسلک ہونے میں مجھے شک ہے۔۔۔ کیونکہ مصر میں اسلامی تحریک کے فرزندگان کئی دہائیوں کے تجربے سے گزرنے کے بعد اس مرحلے کو پہنچے ہیں۔ جو شخص اس طرح کی حرکت کرتا ہے یا تو وہ شخص کسی سیاسی اغراض و مقاصد کے تئیں اسلام پسند طبقہ سے خوف کھاتے ہوئے اس جماعت سے اپنے آپ کو منسلک سمجھتا ہے۔۔۔ یا تو پھر بعض نوجوانوں کی طرف سے جو کسی خاص رجحان رکھنے والی جماعت سے منسلک ہیں یہ ان کا انفرادی تصرف ہے۔۔۔ ان نوجوانوں نے علم حاصل کرنے والے طور طریقے کو مدنظر رکھتے ہوئے علم حاصل نہیں کیا۔۔۔ ان کے اندر کوئی بامقصد نظریہ نہیں پایا جاتا اور یہ لوگ اللہ رب العالمین کی عبادت ایسے اعمال سے کرتے ہیں جو شریعت کے مخالف بھی ہوتے ہیں اور ایسے اعمال سے شریعت کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔

بعض لوگوں نے اسکندریہ میں پائے جانے والے مجسموں کو ڈھانپ دیا۔۔۔ بعض لوگوں نے اس کا بھی مطالبہ کیا کہ فرعونی مجسمے (آثار) کو بھی ڈھانپ دیا جائے، بعض لوگوں نے سوہاج (جنوب مصر میں ایک مشہور صوبہ کا نام ہے) میں نصب کئے ہوئے جمال عبدالناصر کے مجسمے کو بھی ڈھانے کا مطالبہ کیا۔۔۔ اور آخر میں بعض لوگوں نے فیلمی دنیا کے مشہور ڈائریکٹر محمد کریم کے قاہرہ کے فیلمی شہر میں موجود مجسمے کو جلا کر خاکستر کردیا۔

ہمارے دین نے اس قسم کے مجسموں کو حرام قرار دیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہو جیسا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بذات خود ان مجسموں کو ڈھایا ہے جو خاص طور پر مسجد میں بغرض عبادت نصب کئے گئے تھے۔۔۔ بہرکیف معاملہ اس حدتک نہیں پہنچا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکوں کے گھروں میں ان بتوں (مورتوں) کو توڑنے کے لئے تشریف لے گئے ہوں جو ان کے پاس تھے اگرچہ وہ مشرکین ان بتوں کو عبادت کی غرض سے ہی کیوں نہ اپنے اپنے گھروں میں رکھے ہوئے ہوں کیونکہ ان کے لئے ان کا دین ہے اور ہمارے لئے ہمارا دین ہے۔

اس کے برخلاف جو مجسمے عبادت کی غرض سے نہ رکھے گئے ہوں یا ان مجسموں میں حساس اور پرکشش اعضاء کو واضح نہ کیا گیا ہو تو پھر وہ جواز کے دائرے میں آجاتے ہیں۔۔۔ بلکہ بذات خود قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نعمتوں کی تعداد کے ضمن میں کیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: (يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْراً وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُو)"، (جو کچھـ سلیمان چاہتے وہ جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داود اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں)۔

یہاں یہ مجسمے مباح ہیں کیونکہ ان کا مقصد عبادت نہیں ہے، اللہ رب العالمین کے تمام انبیاء کرام کا عقیدہ خالص توحید پر مبنی تھا۔ ہمارے دین میں دو طرح کے مجسمے ہیں ان میں سے یک حرام کردہ بت (مورت) ہے کیونکہ ان کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے لہذا اس طرح کے مجسموں کو وجوبی طور پر ڈھادیا جائے گا۔ دوسرا وہ ہے جو مباح ہے، کیونکہ وہ اللہ رب العالمین کی وحدانیت کی دلیل ہے جو بسا اوقات کوئی بناتا ہے تاکہ وہ مخاطب کو اسے دلیل بناکر اللہ کا راستہ دکھلا سکے۔۔۔ قرآن کریم نے ایسے معجزہ خیز مجسمے کا واقعہ بیان کیا ہے جس نے قوم کو اللہ رب العالمین کی وحدانیت کی راہ دکھلائی۔ ارشاد باری تعالی ہے (وَرَسُولاً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْراً بِإِذْنِ اللّهِ)، (اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے)۔

اسلام میں مجسمے کا تعلق اس کے مقصد سے جڑا ہوا ہے۔۔۔ اگر وہ مجسمے اللہ رب العالمین کے ساتھـ شرک کی غرض سے نصب کئے گئے ہیں تو پھران کا باقی رکھنا حرام ہے انہیں ڈھادینا واجب ہے۔۔۔ لیکن اگر وہ کسی دوسری مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں جیسے کہ اس طرح کی فنکاری جس میں حقارت نہ پائی جاتی ہو تو وہ مباح ہے۔۔۔ جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مجسموں اور گڑیوں کی اجازت دی ہے جس سے بچے کھیلتے ہیں۔

مزید احتیاط برتنے کے لئے اسلام نے اس سے دور ہی رہنے کے لئے زور دیا ہے تاکہ کسی بھی مجسمے کے لئے دل میں ذرہ برابر بھی تعظیم باقی نہ رہ جائے تاکہ جسم کے حساس اور پرکشش اعضاء کو اجاگر کرنے کے لئے اسے ذریعہ نہ تصور کیا جائے۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجسمے کے سر کو توڑنے کا اس وقت حکم دیا جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے گھرداخل ہونے سے انکار کردیا۔ اس میں اس سے دور رہنے کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ مجسمے کا باقی حصہ اگرچہ موجود ہے اس میں نقش و نگاری بھی کی ہوئی ہے اور وہ قابل قبول بھی ہے کیونکہ وہ اپنے اصل سے مشابہت نہیں رکھتا ہے، اسی طرح سے مجسمے سے اہم حصہ کے اس سے الگ کئے جانے کے بعد وہاں تعظیم کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

بت شکن ہرمذہب میں، ہر عقیدے کے ماننے والوں میں، کسی بھی طرح کے فلسفہ پر یقین کرنے والوں میں پا‏‏‏ئے جاتے ہیں۔ عیسائیوں نے اہل رومان اور اہل یونان کے معبودوں کے مجسموں کو توڑا تھا۔۔۔ اسی طرح سے پروٹسٹنٹوں (ایک عیسائی فرقہ) نے کیتھولیکوں (ایک عیسائی فرقہ) کے اس قدر مجسمے توڑے جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح سے کسی مسلم سرپرست کو فتنہ پرور یا شرک تک پہنچانے والے مجسموں کے توڑنے پر ملامت نہیں کیا جاسکتا ہے۔۔۔ بلاشبہ ملامت کا مستحق وہ شخص ہے جو ان فرعونی مجسموں کو توڑنے کی دعوت دے جبکہ فرعونی عقائد کا نام و نشان ہزاروں برس پہلے اس دنیا سے ناپید ہوچکاہے اب صرف ان کے آثار ہی باقی رہ گئے ہیں جو بطور عبرت و نصیحت ان کے وجود پر گواہ ہیں۔ ملامت اس شخص کو کیا جائے گا جو اس زمانے میں کسی سرخیل یا لیڈر کے مجسمے کو توڑنے میں دلچسپی لے گویا کہ ترقی کی بنیاد انہی مجسموں کو توڑ کرکے انہیں کے ملبے پر رکھی جائے گی۔

جہاں تک میرا خیال ہے کہ انقلاب کے بعد اسلام پسندوں کے ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں کے ساتھـ تعلقات کی بنیاد ہی غلط جگہ سے شروع ہوئی۔۔۔ جیسے کہ پابندی، ممانعت، توڑپھوڑ، سختی، ایک دوسرے کے گھات میں رہنا وغیرہ۔۔۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دونوں کے درمیان پہلے اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی جائے، دونوں میں قربت پیدا کی جائے، باہم ایک دوسرے کے تعاون پر زور دیا جائے اور دونوں کے نقطہ نظرمیں قربت پیدا کی جائے۔

اگر اس پر عمل کیا گیا تو یہ اس فن کے حق میں زیادہ درست اور بہتر ہوگا جس فن کو لے کر اتنا بڑا مسئلہ پیدا کیا جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں تخلیقی فن کو پیش کرکے دینی اہداف و مقاصد میں قربت پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے ساتھـ ہی دوسری جانب اسلام پسند طبقہ کو بھی اس فن کے تئیں اپنے خطاب میں تازگی اور نکھار لانے کی ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ ہرطرح کی فنکاری حرام بھی نہیں ہے۔۔۔ اور نہ ہی ہرطرح کی تخلیق ممنوع ہے ایسا کرنے سے ہم پر اس داعی کا قول سچ ثابت ہوگا جس نے یہ کہا کہ "اہل دین کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ فن سیکھیں اور اہل فن کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے اندر دینداری پیدا کریں"۔

محطمو الأصنام UR



موجودہ قضيے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت