|
دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں۔۔۔ نہ کہ وہ آپ کے پاس آئیں بقلم: تراجی جنزوری۔۔ اللہ رب العـزت کا ارشاد ہے (وَجَاء مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ)، (اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راہ پر چلو)۔ زیادہ تر مبلغین دعوت کو خطبہ جمعہ اور عام ملاقاتوں میں منحصر سمجھتے ہیں۔۔۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان کا مقام و مرتبہ بہت ہی بلند و بالا ہے لیکن یہ دونوں اس مقصد کو مکمل طور پر پورا نہیں کرتے ہیں جس غرض سے دعوت الی اللہ کا وجود سامنے آیا۔۔۔ ان دونوں قسموں کا تعلق صرف لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے اور غفلت میں ڈوبے لوگوں کو متنبہ کرنے سے ہے۔
جہاں تک دعوت الی اللہ کا تعلق ہے تو اس کا مطلب ہے حق کا اعلان کرنا اور اس کے ساتھـ ہی ساتھـ تمام مخلوق کے ساتھـ احسان کرنا۔۔۔ لہذا اعلان حق اور ديگر لوگوں کے ساتھـ احسان اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب آپ خود لوگوں کے پاس جائیں ان کی مجلسوں میں بیٹھیں ان کے ساتھـ گھل مل کر رہیں اور پھر ان کو مخاطب کریں۔ حضرت نوح علیہ السلام: نوسوپچاس (950) سال۔۔۔ شب و روز، چپکے چپکے اور علانیہ طور پر دعوت الی اللہ میں لگے رہے۔۔۔ کوئی بھی دروازہ ایسا نہ چھوڑا جسے دعوت کے لئے نہ کھٹکھٹایا ہو۔۔۔ کوئی بھی راستہ ایسا نہ چھوڑا جس پر دعوت کے لئے چلے نہ ہوں۔۔۔ اے لوگو کہو "لا إله إلا الله" کامیاب ہوجاؤ گے۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ اگر وہ اپنی مسجد ہی میں بیٹھے رہتے تو ان کی بات کوئی بھی شخص نہ سنتا۔ اے داعیان کرام: جو لوگ قہوہ خانے میں بیٹھے رہتے ہیں آپ انہیں حق کی دعوت کیوں نہیں دیتے؟ جو لوگ راستوں اور گلیوں کوچوں میں بیٹھے رہتے ہیں آپ انہیں دعوت کیوں نہیں دیتے ہیں؟ جو لوگ نقل و حرکت کے وسائل و ذرائع استعمال کرتے آپ انہیں دعوت کیوں نہیں دیتے ہیں؟ اگر آپ لوگوں نے ان سب کی طرف رخ نہ کیا تو پھر کون کرے گا؟۔۔۔ آپ انہیں باطل پرستی کے لئے نہ چھوڑو۔ جنّوں نے اس میدان میں بہت ہی اعلی مثال پیش کی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَراً مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ * قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَاباً أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ* يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ)، (اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن کریم سنیں، پس جب (نبی کے) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے) کہنے لگے خاموش ہوجاؤ، پھر جب پڑھ کر ختم ہوگیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے۔ کہنے لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقینا وہ کتاب سنی ہے جو موسی (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو، اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا)۔ قرآن کریم کی چند آیات سنتے ہی وہ اس بات کو سمجھـ گئے کہ دعوت الی اللہ کا مطلب ہے کہ آپ خود لوگوں کے پاس جائیں نہ کہ وہ آپ کے پاس آئیں۔۔۔ لہذا وہ جن اپنی اپنی قوموں کو خبردار کرنے کے لئے واپس لوٹ گئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ہدہد اپنی زبان حال سے کہہ رہا ہے: تیار ہوجاؤ اور لوگوں کے پاس جاؤ۔۔۔ دعوت الی اللہ یہی ہے۔۔۔ اس نے انکار کردیا کہ اللہ رب العالمین کی زمین پر یوں ہی زندگی گزارے، یوں ہی اس کی دی ہوئی روزی کھاتا پیتا رہے، اس کے آسمان سے سایہ حاصل کرتا رہے اور دوسری جانب غیراللہ کی عبادت کی جارہی ہو، لہذا وہ اعلان حق کی خاطر نکل پڑا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں یہ ہدیہ پیش کیا (وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ........)، (سبا کی ایک سچی خبر تیرے پاس لایا ہوں........)۔ آل یاسین کے مؤمن کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے (وَجَاء مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ)،(اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راہ پر چلو)۔ وہ دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھـ اٹھیں بیٹھیں۔۔۔ ان کے سامنے حق بیان کریں اور انہیں کامیابی کا راستہ بتلائیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: جب سے آپ پر اللہ رب العالمین کا یہ قول نازل ہوا (يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنذِرْ* وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ)،(اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے، اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر)۔ آپ نے اسی وقت حضرت خدیجہ سے فرمایا: اے خدیجہ اب سونے کا وقت ختم ہوا۔۔۔ آرام کرنے کا وقت گیا۔۔۔ بستر پر لیٹنے کا دور ختم ہوا۔۔۔ اسی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آرام نہیں کیا اورنہ ہی آپ کی آنکھوں نے نیند دیکھیں یہاں تک کہ آپ نے مکمل طریقے سے پیغام سب کو پہنچا دیا۔۔۔ امانت کا جو حق ہوتا ہے وہ آپ نے پورا کردیا۔۔۔ لہذا آپ طائف تشریف لے گئے۔۔۔ ایک ایک گھر سے گزرے، لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھے۔۔۔ ان کے تہواروں میں بھی ان کے ساتھـ رہے۔۔۔ ان کے ساتھـ خرید و فروخت میں بھی شرکت کی۔۔۔ حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیں۔۔۔ رجیع اور بئرمعونہ کے موقع پر بھی وفد بھیجا تاکہ وہ تمام لوگوں کو حق کی راہ دکھلائیں۔ یہ ساری باتیں ہمیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ: دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں۔۔۔ نہ کہ وہ آپ کے پاس آئیں۔ لہذا اے داعیان حق! تیار ہوجاؤ اور حرکت میں آؤ، حدیث کی نشرواشاعت کرو، کیسٹیں تقسیم کرو، کتابچہ ہدیہ کرو، قافلہ تیار کرو، ویسے ہی بیکار نہ بیٹھو۔ دوسرا رکن: لوگوں کےساتھـ احسان کرنا: "ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں": احسان کا مطلب ہے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں۔۔۔ مریضوں کی عیادت کریں۔۔۔ یتیموں کے سر پر ہاتھـ پھیریں۔۔۔ محتاجوں کی دیکھـ بھال کریں۔۔۔ مسکینوں کو سہارا دیں۔۔۔ ان کے زخموں پر مرہم لگائیں۔۔۔ انہیں دلاسہ دیں خوش کریں۔۔۔ ان کے عیوب کی سترپوشی کریں۔۔۔ ان کی مصیبتیں دور کریں۔۔۔ بڑوں پر رحم کریں۔۔۔ ننھے منھے بچوں کے ساتھـ شفقت کریں۔۔۔ ان کی پریشانیاں دور کریں۔ غلام اخدود: (سورۃ بروج میں وارد ہونے والے قصہ میں اصحاب اخدود کے غلام کی طرف اشارہ ہے) وہ نیکوکاروں میں سے تھا، حرکت میں آیا اورچاروں طرف دعوت الی اللہ کی غرض سے گیا۔۔۔ یہ غلام مادرزاد اندھے، برص اور دیگر بعض بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا اور وہ بھی بغیرکسی اجر کے۔ بطور اجر اس کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آؤ۔۔۔ لہذا اس کے ہاتھوں بہت سارے لوگ ایمان لائے۔۔۔ اور اس کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا شہر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام لے آیا۔ حضرت ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ: ملک کے سربراہ اور حاکم ہیں۔۔۔ وہ مدینہ کے آخری حصہ میں بڑھیا عورت کے پاس جاتے ہیں، اس کے گھرکی صفائی کرتے ہیں، اس کے لئے اس کی بکریاں دوہتے ہیں، اس کے لئے کھانا تیار کرتے ہیں، اس کی تنہائی میں اسے سہارا دیتے ہیں، اس سے خوف و ہراس دور کرتے ہیں۔ علی زین العابدین: اللہ رب العالمین کی راہ میں دعوت دینے کی خاطر - تمام لوگوں کے ساتھـ احسان کرنے کے لئے- ہمیں نہایت ہی عظیم سبق سکھلاتے ہیں۔۔۔ جس دن ان کا انتقال ہوا مدینہ میں پچاس (50) گھروں نے اپنی مفلسی کا اعلان کردیا۔۔۔ اس کے پس پردہ کیا اسباب تھے؟ تمام لوگوں کو معلوم ہوا کہ جو ان کی دیکھـ بھال کرتے تھے وہ علی زین العابدین ہی تھے۔۔۔ اور جب لوگ انہیں نہلا رہے تھے تو یہ بھی دیکھا کہ آٹے کی بوریاں جو وہ اپنی پشت پر اٹھاکر ان لوگوں کے پاس پہنچاتے تھے اس سے ان کی پشت پر نشان بھی پڑگئے تھے۔ اے داعیان دین: ہوش میں آؤ، یتیموں کی کفالت کرو، مسکینوں کو سہارا دو، مریضوں کی عیادت کرو، پریشان حال کی مدد کرو، لوگوں کے عیوب پر پردہ ڈالو، زخموں پر مرہم رکھو، ضرورت مند کی ضرورت پوری کرو، لوگوں سے پریشانیاں دور کرو۔ اللہ تعالی شيخ شعراوی اور شیخ حسن البنا پر رحم کرے وہ دونوں بہت ہی اچھے داعی تھے۔ الدعوة إلى الله أن تذهب إلى الناس UR
موجودہ قضيے -
|