|
اسلام میں حکمرانی کے اصول بقلم: حمادہ نصار۔۔ بےشک ثواب و عقاب کا مسئلہ ایک مرکزی مسئلہ ہے۔۔۔ یہ اسلامی منہج کے اعتبار سے مکمل طور پر مستند نظریہ ہے۔ منع کرنے یا عطا کرنے میں یہ بالکل انسانی فطرت کے ساتھـ میل کھاتا ہے۔۔۔ بایں طور کہ اللہ رب العالمین نے انسانوں کو پیدا کیا اور اس کے اندر صرف خیر و شر کے تمییز کرنے کی ہی استطاعت نہیں بلکہ وہ دو بہتر چیزوں میں سے اس کے حق میں کیا چیززیادہ بہتر ہے اور دو بری چیزوں میں سے اس کے حق میں کیا چیز زیادہ بری ہے اسے بھی تمییز کرنے کی صلاحیت سے نوازہ۔
ہم اس کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔۔۔ جب نقل و حمل کے ذرائع سے کوئی چورکسی بھی قریب ترین کھڑکی سے چھلانگ لگا دے۔۔۔ اگرچہ یہ کتنی ہی تیز رفتار سے کیوں نہ چل رہی ہو۔۔۔ ایسا اس وقت جب اس پر سوار مسافرین نے یہ جان لیا ہو کہ وہ ان میں سے کسی مسافر کا سامان چرانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔ اور عین اسی وقت کوئی مسافر زور سے چیخ اٹھا (چووووووووووور) تاکہ وہ مسافر باقی دوسرے مسافروں کو بھی اس بات سے آگاہ اور متنبہ کردے کہ وہ لوگ بھی اس چور کی جارحیت کا شکار ہوسکتے ہیں۔۔۔ تو ایسی صورت میں وہ چور جو کام کرے گا وہ یہ کہ وہ اپنے قریب ترین کھڑکی سے پہلی فرصت میں باہر کی جانب چھلانگ لگا دے گا۔۔۔ وہ فوری طور پر اس بات کا موازنہ کرتے ہوئے کہ کھڑکی سے باہر کی طرف چھلانگ لگانا اگرچہ اس چھلانگ سے اسے یقینی طور پر تکلیف پہنچنے والی ہے پھر بھی وہ چھلانگ لگادے گا اور یہ چھلانگ اس کے حق میں دوضرر رساں چیزوں میں سے کم تکلیف دہ ہے اس لئے اس کے حق میں اس کا ارتکاب کرنا کم تکلیف دہ ہے۔۔۔ کیونکہ اس کا موازنہ جب اس تکلیف سے کیا جائے جو مسافرین کی پکڑ میں آنے کے بعد جو اسے ملنے والی ہے وہ کہیں اس سے زیادہ ہے۔
اس کے برعکس ہم نے کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی چور نے اسی جرم کا ارتکاب جہاز میں کیا ہو اس حال میں کہ وہ جہاز خلا میں پرواز کررہا ہو اور اس چور کے ساتھـ بھی ویسا ہی کچھـ ہو جو پہلے والے چور کے ساتھـ ہوا تھا۔۔۔ تو ایسی صورت حال میں ہم نے کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی چور نے اپنے آپ کو جہازمیں موجود اپنے ہی قریب ترین کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہو۔۔۔ آخر ایسا کیوں۔۔۔؟
ایسا اس لئے کہ پہلے والے چور کے خلاف اس چور کے حق میں موت یقینی ہے۔۔۔ ایسی صورت حال میں دوضرر رساں باتوں میں سے اس کے حق میں کم تر یہ ہے کہ مسافرین اس پر قابو پا جائیں اور اسے ہاتھـ پاؤں سے جم کر پٹائی کریں۔
یہ تو تجربے کی روشنی میں ہے آئیے قرآن کریم کی روشنی میں اسے دیکھتے ہیں جیسا کہ اللہ رب العالمین کے اس قول میں اس جانب اشارہ ہے، ارشاد باری تعالی ہے (حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوْمًا قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَن تُعَذِّبَ * وَإِمَّا أَن تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا * قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا* وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا)، (یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کے چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ایک قوم کو بھی پایا، ہم نے فرمادیا کہ اے ذوالقرنین! یا تو تو انہیں تکلیف پہنچائے یا ان کے بارے میں تو کوئی بہترین روش اختیار کرے۔ اس نے کہا کہ جو ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی اب سزا دیں گے، پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اسے سخت تر عذاب دے گا۔ ہاں جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے اس کے لئے تو بدلے میں بھلائی ہے اور ہم اسے اپنے کام میں بھی آسانی ہی کا حکم دیں گے)۔
اس آیت کریمہ پر ایک سرسری نظر ڈالنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے "ثواب و عقاب کے اصول" کا تذکرہ بارہا کیا ہے۔۔۔ لہذا اس نے اس نیک اور صالح انسان ذوالقرنین کو حق واضح کرنے کے بعد نیکوکاروں کو ثواب اور بدکاروں کو عقاب دینے کی اجازت دیدی۔۔۔ کیونکہ مؤاخذہ توضیح اور بیان کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔۔۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے یہ ذوالقرنین نے پہلی قسم کے لوگوں کے حق میں دو باتوں کا ذکر کیا اور اسی طرح سے دوسری قسم کے لوگوں کے حق میں بھی دو باتوں کا ذکر کیا۔۔۔ لیکن اس نے پہلی قسم کے لوگوں کے ساتھـ دنیوی عذاب کو اخروی عذاب پر مقدم کیا۔۔۔ سامنے درپیش حالات کو دیکھتے ہوئے اس لئے کہ وہ ایک ایسی قوم کے ساتھـ معاملہ کررہا ہے جو کافر ہیں ان کے نزدیک آخرت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ آخرت پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتے ہیں۔۔۔ چہ جائےکہ وہ لوگ اخروی عذاب پر یقین رکھتے!! اسی وجہ سے اس نے اس دنیوی عذاب کو مقدم کیا جو انہیں دینے والا ہے۔۔۔ اور یہ ایک جاننے والی اور محسوس کرنے والی بات ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔۔۔ پھر اس کے بعد اخروی عذاب کا ذکر کیا۔
اس کے برعکس دوسرے قسم کے لوگوں کے ساتھـ اس نے اخروی جانب کو مقدم کیا۔۔۔ یہ جانب ان لوگوں کے حق میں یقینی طور پر معلوم ہے اس لئے اس نے کہا (وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى)، (ہاں جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے اس کے لئے تو بدلے میں بھلائی ہے)۔
یہاں اس انوکھے قصے کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے جو علامہ ابن حجرعسقلانی صاحب کتاب "فتح الباری شرح صحیح البخاری" کی تاریخ میں بیان کی جاتی ہے، یہ وہی کتاب ہے جو امام شوکانی کے صحیح بخاری کی شرح کرنے سے باز رہنے کی سبب بنی۔۔۔ جب ان سے صحیح بخاری کی شرح کرنے کا مطالبہ کیا گيا تو انہوں نے یوں جواب دیا "لاھجرۃ بعد الفتح"۔ ابن حجر(رحمہ اللہ) کے اس انوکھے قصے کا خلاصہ کچھـ یوں ہے، علامہ ابن حجر اپنے زمانے میں مصر میں قاضی تھے یہ وہی منصب ہے جو ہمارے زمانے میں عدالت میں جج کا ہوتا ہے۔۔۔ بادشاہوں کی طرح ان کا بھی جلوس نکلتا تھا اور اس جلوس کی بھی ہیبت اور وقار ہوا کرتی تھی۔۔۔ اسی جلوس میں ایک دن کوئی یہودی ان کے سامنے آیا جو پھٹے پرانے کپڑوں میں تیل بیچا کرتا تھا اور دیکھنے میں کافی پریشان حال لگتا تھا۔۔۔ حفاظتی دستوں نے اسے منع کرنا چاہا۔۔۔ لیکن ابن حجر نے ان لوگوں کو منع کیا اور کہا کہ اسے چھوڑدیں۔۔۔ لہذا وہ کہنے لگا: اے امام! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی ہے "دنیا مؤمن کے لئے قیدخانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے"۔ حافظ ابن حجر نے جواب دیا کہ ہاں (ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی ہے) اس تیل بیچنے والے یہودی نے پھر کہا: اے امام! میں دوبارہ تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ اس ناز و نعمت کے باوجود جس سے تم لطف اندوز ہورہے ہو تم کس طرح کی قید میں ہو۔۔۔ اور میں جن مشکل حالات سے دوچار ہورہا ہوں جو آپ دیکھـ رہے ہو میں کس طرح کی جنت میں ہوں۔ اس وقت حافظ ابن حجر نے کہا: میں جس حال میں ہوں اور تم دیکھـ رہے ہو، یہ اس ثواب کے مقابلے میں جس کی میں آخرت میں امید کررہا ہوں میں اسے قید ہی سمجھتا ہوں۔۔۔ اور تم جس قدر تنگدستی اور پریشانی سے گزر رہے ہو یہ اس آگ کے مقابلے میں جو تمہارے انتظار میں ہے اور وہ بدبخت لوگوں کے نصیب ہی میں ہے۔۔۔ تو اس کے مقابلے میں تم جنت میں ہو۔
ثواب و عقاب والے مسئلے کی طرف ہم دوبارہ پلٹتے ہیں۔۔۔ جو کہ ہمارے ذکرکردہ قصے کے بعد ہمارے اس مضمون کی آخری منزل ہے اس قصے کا ذکرضمنی طور پر آگیا تھا اس سے ہمارا مقصد تھا مؤمن کے لئے حسّی طور پر آخرت کے مسائل کو ثابت کرنا۔
ہم فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ بدترین ناکامی جس کا پبلک سیکٹراور اس کے ادارے شکار ہیں یہ ثواب و عقاب والے مسئلے میں پائے جانے والے خلل کا طبیعی نتیجہ ہیں۔۔۔ جب کام کرنے والے ملازموں میں سے بالکل محنت اور دل لگا کر کام کرنے والا شخص یہ دیکھتا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھـ کام کرنے والا دوسرا کاہل اور کام چور شخص بھی مہینے کے آخر میں دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں اور تنخواہیں بھی دونوں کو برابر مل رہی ہیں۔۔۔ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، پھر ایسی صورت حال میں کیا چیز ہے جو اسے دل لگا کر کام کرنے پر ابھار رہی ہے؟!!۔
دستور الحكم في الإسلام UR
موجودہ قضيے -
|