English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
موجودہ قضيے -

داعیان دین زندگی سنوارنے والے ہوتے ہیں

ڈاکٹر/ ناجح ابراہیمبقلم: ڈاکٹر/ناجح ابراہیم۔۔ اللہ رب العالمین کی طرف دعوت و تبلیغ کرنے کا عمل یہ ایک ربانی ہوا کا جھوکا ہے جو سچے اور مخلص داعیوں کے دلوں سے منتقل ہوکر مخاطبین کے دلوں میں سرایت کرجاتا ہے اور پھر ان کے دلوں میں پیار و محبت، خیروبھلائی، رشد وہدایت، بشارت اور قربت پیدا کرتا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھـ ہی ان سے بغض و کراہیت، سختی، باہمی پھوٹ اور نفاق جیسے مہلک بیماریوں کا صفایا کرتا ہے۔

اس جیسے بلند و بالا معانی اگر داعی کی شخصیت اور اس کے کردارمیں ناپید ہیں تو پھر وہ کہاں سے دعوت دے گا جب کہ اس کے اندر بذات خود ان بلند و بالا معانی کا فقدان ہے وہ کہاں سے خرچ کرسکتاہے جب خود اس کا جیب ہی خالی ہے۔۔۔ دعوت و تبلیغ کا عمل یہ ایک طرح کا زکاۃ ہے اور نیک و صالح ہونا اس کا نصاب ہے۔۔۔ پندونصیحت بھی زکاۃ ہے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنا اس کا نصاب ہے۔

اللہ رب العالمین کی طرف دعوت دینے کا عمل یہ انبیاء و رسل کی بنیادی مشن رہی ہے۔۔۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور وراثت کوئی دینار و درہم نہیں چھوڑا اور نہ ہی دنیوی سازوسامان چھوڑا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت و تبلیغ کا عمل بطورمیراث چھوڑا جو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچائی جاتی ہے۔۔۔ آپ نے رشد و ہدایت کا راستہ بتلایا جس کی تمام لوگوں کے درمیان نشرواشاعت کی جاتی ہے۔۔۔ آپ نے نورہدایت چھوڑا جنہیں جلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی روشنی سے افق روشن ہوسکے۔ دعوت الی اللہ کا مطلب صرف دو ہی ہوتا ہے کوئی تیسرا نہیں اور وہ یہ ہے "حق پر ڈٹے رہنا اور تمام مخلوق پر رحم کرنا"۔

اب جو شخص حق پر تو ڈٹا رہا لیکن اس نے لوگوں پر رحم نہیں کیا یا ان کے ساتھـ نرمی سے نہیں پیش آیا تو پھر وہ حقیقت میں داعی نہیں ہے۔۔۔ اسی طرح سے جو شخص تمام لوگوں کے ساتھـ تو اچھائی کے ساتھـ پیش آیا لیکن وہ حق پر نہ ڈٹ سکا یا اس نے دوسروں کی چاپلوسی کی تو پھر ایسا شخص بھی حقیقت میں سچا داعی نہیں ہے۔

وہ داعی جو اللہ رب العالمین کا پیغام صحیح طریقہ سے نہیں پہنچاتا یا وہ اس کے اندر تحریف کرتا ہے یا وہ اپنے مزاج کے مطابق اس میں رد و بدل کرتا ہے تو پھر ایسا شخص دعوت و تبلیغ کے حقیقی معنوں سے کوسوں دور ہے، اور وہ داعی جو لوگوں پر ان مسائل میں سختی کرتا ہے جن مسائل میں اللہ رب العالمین نے آسانی کی ہے۔۔۔ یا اس چیز کا دائرہ تنگ کرتا ہے جس کا دائرہ اللہ رب العـزت نے لوگوں پر کشادہ کیا ہے۔۔۔ یا وہ لوگوں میں تفرقہ بازی سے کام لیتا ہے۔۔۔ یا وہ چوردروازوں کے بند کرنے کو صرف اہمیت دیتا ہے کوئی دوسرا دروازہ کھولنے کی طرف دھیان نہیں دیتا ہے۔۔۔ یا وہ حق کا تو اہتمام کرتا ہے لیکن وہ دوسرے پہلوؤں پر کان نہیں دھرتا۔۔۔ یا وہ حق کا تو اہتمام کرتا ہے لیکن خیر و بھلائی کے کام نہیں کرتا ہے۔۔۔ یا وہ عورتوں کے حقوق کی رعایت کئے بغیر صرف مرد کی سربراہی کا دم بھرتا ہے تو ایسا شخص بھی حقیقت میں سچا داعی نہیں ہے۔

حقیقی داعی وہی ہے جو اللہ رب العالمین کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ شریعت کے اردگرد ہی چکر لگاتا ہے نہ کہ اپنے نفس کے اردگرد گھومتا رہتا ہے۔۔۔ وہ اپنے رب ذوالجلال، اس کی شریعت سے زیادہ اپنی شخصیت، اپنی جماعت یا اپنی پارٹی سے متعلق گفتگو نہیں کرتا ہے۔

اگر کوئی شخص اپنی شخصیت سے متعلق لمبی چوڑی گفتگو کرتا ہے تو وہ حقیقت میں داعی الی اللہ نہیں ہے۔۔۔ اور جس شخص نے اللہ رب العالمین سے زیادہ اپنی گروہ یا اپنی جماعت یا اپنی پارٹی سے متعلق زیادہ گفتگو کیا تو ایسا شخص بھی حقیقت میں داعی اللہ اللہ نہیں ہے۔

اسلام ایک ایسا متحرک دین ہے جو دوسروں کے ساتھـ ہم آہنگ ہوتا ہے ان سے لیتا بھی ہے اور انہیں دیتا بھی ہے، ہر چھوٹے بڑے، صالح و نیکوکار، ناکارہ و نا اہل، مسلم و غیر مسلم، مرد و عورت اور نوجوان و بوڑھوں سب کے ساتھـ معاملہ کرتا ہے۔

کوئی بھی داعی جو لوگوں کے تمام طبقوں کے ساتھـ معاملہ نہیں کرتا ہے وہ دعوت کے قابل نہیں ہے۔۔۔ جس شخص نے اپنے آپ کو دوسروں سے دور رکھا اس حجت کے ساتھـ  کہ وہ غیرمسلم ہیں یا وہ اطاعت گزار تو ہیں لیکن اس کی اپنے متبعین نہیں ہیں تو ایسا شخص بھی حقیقت میں داعی نہیں ہے۔۔۔ داعی الی اللہ تو سب کے لئے یکساں ہے وہ اپنے خیر کو محدود نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اپنے عطیہ سے دوسروں کو محروم کرتا ہے۔

دعوت الی اللہ اصل میں تمام مخلوق کے لئے پیار و محبت کا ایک پیغام ہے۔۔۔ کوئی بھی داعی جو لوگوں سے نفرت کرتا ہے، ان سے متنفر ہوتا ہے، ان سے محبت نہیں کرتا ہے یا انہیں ٹولیوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، یا اس کو دوسروں میں صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں تو ایسا شخص داعی کہلانے کے قابل نہیں ہے۔۔۔ اگر داعی لوگوں سے محبت نہیں کرے گا تو پھر دوسرے لوگ اسے کس طرح سے محبت کریں گے۔۔۔ اگر داعی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ لوگ اس داعی کی طرف کیسے متوجہ ہوں گے۔۔۔ اگر داعی ان کے ساتھـ نرمی کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے تو پھر وہ لوگ اس داعی کی مدد بھی نہیں کرتے ہیں۔ اب کیا ہم لوگ داعی الی اللہ ہونا پسند کریں گے؟ یا ایسا داعی ہونا پسند کریں گے جو اپنی شخصیت اور اپنی پارٹی و جماعت کی طرف دعوت دیتے ہیں؟

الدعاة إلي الله صناع الحياة الجميلة UR



موجودہ قضيے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت