|
کیا ہم سازشی نظریہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہوں گے؟۔ بقلم: ڈاکٹر/ ناجح ابراہیم۔۔ اسلام پسند لوگوں میں سے بعض نئے لوگ اب سازش رچنے والے نظریہ سے متاثرہو کرکے دوسروں کے ساتھـ معاملہ کرتے ہیں، اسی کی روشنی میں سوچتے ہیں اور نقل و حرکت کرتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی وہ نظریہ ہے جو عربی اور اسلامی سوچ و فکر کو پچھلے سالوں میں لے ڈوبی۔
اب جو کچھـ بھی ہوتا ہے وہ ایک سازش ہے۔۔۔ اگر کچھـ ہوجائے اور پھر کچھـ ہی دن میں اس کے الٹا بھی ہوجائے تو لوگ پہلے اور بعد میں ہونے والے دونوں کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک سازش ہے۔
یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ یہاں کچھـ پارٹیاں ایسی ہیں جو یہ نہیں پسند کرتی ہیں کہ اسلام پسند طبقہ کے لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں۔۔۔ لیکن نہ تو ان کے ہاتھـ میں اور نہ ہی ان کے مخالفین کے ہاتھـ میں کائنات کی چابھی ہے اور نہ ہی اس کائنات میں وقوع پزیر ہونے والے حادثوں میں ان کا کوئی دخل ہے۔۔۔ ورنہ اسلام کے جنم لیتے ہی ابتداء میں مسلمانوں کو سلطنت فارس اور روم پر کامیابی نہ ملتی کیونکہ یہ دونوں ریاستیں ابتدائی مرحلے ہی میں اسلام کے لئے چیلنج بنی ہوئی تھیں۔۔۔ صلاح الدین ایوبی کو جنگ حطین میں عیسائیوں پر کامیابی نہ ملتی۔۔۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو مرتد ہونے والوں پر کامیابی نہ ملتی۔۔۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کو جنگ قادسیہ میں کامیابی نہ ملتی۔۔۔ حضرت خالد بن ولید کو جنگ یرموک میں کامیابی نہ ملتی۔۔۔ طیب اردغان یہ نئے طرز پر ترقی یافتہ اسلامی ملک قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوتے وہ بھی اس یورپ کے درمیان جو ترکی اور اسلام دونوں سے شدید نفرت کرتا ہے۔۔۔ اور یہ کبھی نہیں چاہتا کہ یورپ یا اس کے گرد وپیش میں بھی کسی اسلامی ملک کا قیام سامنے آئے۔
ہمارے خلاف دسیسہ کاریاں کرنے میں پرابلم نہیں ہے بلکہ پرابلم خود ہمارے اندر ہے۔
کیا ہم اسلام کے لئے، اپنے بلند اغراض و مقاصد کے لئے صحیح طریقہ سے کام کررہے ہیں یا غلط طریقہ سے؟
کیا ہم اسلام اور وطن کو اپنی پارٹی، جماعت، شخصیت پر فوقیت دیتے ہیں یا زیادہ تر اس کے خلاف ہی ہوتا ہے؟
کیا ہم ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے اسلام کی اتباع کرتے ہیں یا ہم صرف اسلام کو ظاہری طور پر پکڑے ہوئے ہیں اور حقیقی اسلام سے کوسوں دور ہیں؟!!
کیا ہم اسلامی تعلیمات پر اس وقت عمل کرتے ہیں جب ایسا کرنے میں ہمیں شخصی طور پر یا ہماری پارٹی کو فائدہ نہ پہنچ رہا ہو؟!!
سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے بعض لوگ دین و اسلام کا مطلب وہی سمجھتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہوتا ہے۔
ہرشکست کھانے والے کے پیچھے یہی وجہ نہیں ہوتی کہ دوسرے لوگوں نے اس کے خلاف سازش رچی ہے۔۔۔ کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو شکست اس لئے اٹھانی پڑی کیونکہ وہ خود ناکام رہ گیا، ادھر ادھر بھٹکتا رہا، اچھی طرح سے معاملے کی دیکھـ بھال نہ کرسکا، اس کے پاس تجربات بہت کم تھے یا اس کی خواہشات نفس اس پر غالب آگئ۔
سیاسی، اقتصادی یا انتظامی طور پر جو شخص ناکام ہوتا ہے کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کے خلاف سازش ہی اس کے ناکامی کا سبب ہو۔۔۔ کبھی کبھی اس کے ناکامی کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس نے کامیابی کے تمام وسائل و ذرائع کا استعمال نہیں کیا۔۔۔ جس شخص نے گھورے میں بیج لگایا اور پھر اس میں پھل نہ لگا تو اس کو چاہيئے کہ وہ اسلام پر طعن و تشنیع نہ کرے بلکہ وہ خود اپنے آپ کو برا بھلا کہے، ناکام رہ جانے پر اپنے خلاف سازش رچنے کو دلیل نہ بنائے۔۔۔ اسی طرح سے وہ شخص جس نے ٹینک کا مقابلہ بندوق سے کیا اور پھر ہار گیا تو وہ شخص بھی اسلام کو مورد الزام نہ ٹھہرائے اسے چاہيئے کہ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرے۔۔۔ اسی طرح سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ پرانے سیاسی افکار و خیالات کو ذہن میں رکھـ کر جن کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے نئے ملک کی قیادت کرے۔۔۔ کیونکہ اسلام وسائل و ذرائع کے ساتھـ جدت اور ترقی کو قبول کرتا ہے صرف ثابت شدہ اصولوں کے ساتھـ ثابت رہتا ہے۔۔۔ اس کے برخلاف جس شخص نے اسلام کو مکمل طور پر ثابت شدہ قرار دیا اس کے اندر جدت کو قبول نہ کیا یہاں تک کہ جو پہلو تبدیلی کو قبول کرتی ہیں ان میں اور دیگر وسائل و ذرائع میں بھی کسی طرح کی تبدیلی کو قبول نہ کیا اور پھر وہ ناکام ہوگیا تو ایسے شخص کو بھی چاہیئے کہ وہ اسلام کو مورد الزام نہ ٹھہرائے۔۔۔ اس کو چاہیئے کہ وہ بذات خود اپنے آپ کو برا بھلا کہے۔
بلاشبہ دشمنوں کا سازش رچنا یہ تو اس دنیا میں پرانی بات ہے لیکن یہ سازش رچنے والے تو کائنات نہیں چلا رہے ہیں اور نہ ہی یہ اس میں تصرف کررہے ہیں۔۔۔ بلکہ اللہ رب العالمین کی قدرت ہی سنن کونیہ میں تصرف کرتی ہے جس کا کہنا ہے کہ جس شخص نے کامیابی و کامرانی کے اسباب و ذرائع کو اپنایا وہ کامیاب ہوا اگرچہ وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ اور جس شخص نے ناکامی اور ذلت و رسوائی کے اسباب و ذرائع کو اپنایا وہ ناکام و نامراد ہوا اگرچہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ بے شک اللہ رب الـعـالـمین عـدل پسند امتوں، ملکوں اور جماعـتوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں قائم کرتا ہے اگرچـہ وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ اور اس کے برخـلاف ان ظلم و ستم ڈھـانے والی امتـوں کا صفـایا کرتا ہے اگرچـہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔
عجیب وغریب بات یہ ہے کہ دسیسہ کاری کا نظریہ تو یہ اللہ رب العالمین کے سنن کونیہ سے بھی ٹکراتی ہے، خاص طور پر وہ دونوں ایجابی اور منفی تبدیلی کی سنت جس کا قرآن کریم نے تذکرہ کیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: "إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ" (کسی قوم کی حالت اللہ تعالی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان ان کے دلوں میں ہے)۔
ایک دوسری جگہ منفی تبدیلی کی سنت کے بارے میں ارشاد ہے: " َ ذَلِكَ بِأَنَّ اللّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّراً نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمْ" (یہ اس لئے کہ اللہ تعالی ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی)۔
تو کیا اب جو بھی ناکامی ہمارے نصیب میں آتی ہے وہ سازش و دسیسہ کاری کا نتیجہ ہوتی ہے جبکہ تقصیر و کوتاہی، غفلت و سستی اور غلطی ہر صاحب بصر اور بصیرت کے لئے صاف طور پر واضح ہے۔
بلاشبہ اسلامی تحریک کی صفوں کے اندر انفرادی اور اجتماعی پیمانے پر اصلاح کرنے کا نظام تقریبا ناپید ہوچکا ہے۔۔۔ قرآن کریم نے اسے "نفس لوامہ" کا نام دیا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ نفس لوامہ انفرادی اور اجتماعی طور پر پایا جائے تاکہ ہم اپنے پیغام کو دوسروں تک پہنچا سکیں اور اپنے اغراض و مقاصد کو بھی حاصل کرسکیں۔
بےشک آج کل اسلامی نظریہ رکھنے والا ایک شخص اپنے ہی جیسے اسلامی نظریہ رکھنے والے دوسرے شخص پر تنقید نہیں کرسکتا ہے اگرچہ وہ جانتا ہے کہ ایسا کرنا اس کے لئے اور دوسرے اسلام پسند لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔ وہ اس خوف سے کہ کہیں دوسرے فریق کے متبعین اس کے حق میں گالی گلوچ پر نہ اتر آئیں۔
آپ کو کیا معلوم کہ جنہیں نصیحت کی جا رہی ہے ان کے متبعین کی جانب سے گالی گلوچ کا کیا مطلب ہوتا ہے بےشک وہ ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر آج کل آپ ہزاروں آزاد خیال اور سیکولر مزاج کے لوگوں پر طعن و تشنیع کریں تو وہ لوگ بغیر کسی ردفعل کے یا بغیر گالی گلوچ کئے ہوئے اسے قبول کریں گے۔۔۔ لیکن اس کے برخلاف اگر آپ کسی اسلامی نظریہ رکھنے والے شخص کو مہذب انداز میں نصیحت کریں اور وہ بھی کسی ایسی فاش غلطی کی وجہ سے جو مکمل طور پر واضح ہے تو اسے تمام لوگ دیکھیں گے کہ وہ اس کے متبعین کی جانب سے مکمل بھڑکتے ہوئے آگ کے شعلے کی شکل اختیار کرگیا ہے، متبعین کی جانب سے ایسی ایسی گالیاں سامنے آتی ہیں جس سے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں، اس کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے کہ اس مہذب انداز میں کی گئی نصیحت سے کیا مراد ہے یا اس نصیحت کا خلاصہ کیا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ ہم سیاست میں کبھی غلطی کرہی نہیں سکتے ہیں جبکہ سیاست اجتہاد، دوسروں سے لینے اور انہیں دینے، غلطی کرنے اور درستگی تک پہنچنے کا ہی نام ہے۔
جب اپنی ہی اصلاح کرنے میں ہم تنگی محسوس کرتے ہیں تو پھر یہ بات جان لیں کہ اسلامی تحریک بہت خطرے میں ہے۔۔۔ اگر اسلامی تحریکوں کا اقتدار پر پہنچنے سے پہلے ہی یہ حال ہے تو پھر اس وقت کا عالم کیا ہوگا جب وہ برسراقتدار ہوگی اور تلوار نطع (چمڑے کا فرش جو مجرم کو قتل کرنے کے لئے بچھایا جائے) اور جیل غرضیکہ ہرسیاہ سفید کی باگ ڈور ہی اس کے ہاتھـ میں ہوگی۔
هل نودع نظرية المؤامرة ونبني صرح النقد الذاتي ؟ UR
موجودہ قضيے -
|