English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
موجودہ قضيے -

مبلغین اور حکمت و دشواری کے مابین فقہی اختیارات

ڈاکٹر/ناجح ابراہیمبقلم: ڈاکٹر/ناجح ابراہیم۔۔ مبلغین اور علماء کرام کے لئے ضروری ہے کہ یہ لوگ سلف صالحین کے ائمہ کے اقوال میں سے اسی قول کا انتخاب کریں جو ان کے اس معاشرے کے لئے مناسب ہو جہاں وہ رہ رہے ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ ان اقوال کو بالائے طاق رکھیں جو ان کے معاشرے کے لئے مناسب نہ ہوں اور نہ ہی وہ موجودہ صورت حال کے موافق ہوں یا وہ لوگوں کے لئے دشوار ہوں یا وہ دیگر لوگوں کو بغیر کسی ضرورت کے تنگی میں ڈال دیں۔ اگرچہ اس طرح کے رائے کو اس نے بچپن سے ہی کیوں نہ سیکھا ہو۔ موجودہ صورت حال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء کرام و فقہاء عظام کے اقوال میں سے مناسب رائے کا انتخاب کرنے کا عمل یہ مبلغ اور عالم کے ذہانت و حکمت اور اس کے شرعی وجوب و صورت حال و زندگی کے لوازمات کے مابین مناسب انداز میں یکجا کرنے کی اعلی مثال ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کتے کو پہریداری کی غرض سے استعمال کرنے کو حرام قرار دیتے تھے۔۔۔ جب ان کا انتقال ہوگیا، بغداد کی صورت حال میں تبدیلی آگئی، امن و سلامتی کا امکان بہت ہی کم رہ گیا اور چوریوں کی وارداتیں آئے دن زیادہ ہونے لگیں تو ان کے ایک شاگرد نے کتا پال لیا۔

جب لوگوں نے اس شاگرد سے کہا: آپ کتا کیسے پالیں گے جبکہ آپ کے استاذ محترم امام احمد رحمہ اللہ اس کو حرام قرار دیتے تھے۔

اس شاگرد نے اعتراض کرنے والوں کو برجستہ جواب دیا: آج اگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دوبارہ زندگی مل جائے تو وہ پہریداری کے لئے ایک کتـّا تو درکنار بلکہ وہ ایک خونخوار شیر بھی پال لیں گے۔

آج کے دور میں اگر ہم ایک عام کسان سے جو صرف تین فدان میں گیہوں کی کاشت کررہا ہو، اس سے یہ کہیں کہ تم پر زکاۃ واجب ہے حالانکہ وہ اس میں گیہوں اگا کر زیادہ منافع نہیں کماتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ان لوگوں سے کہیں جو گلاب کی کھیتی کا کاروبار کرتے ہیں اور اسے فرانس برآمد (export) کرکے ہزاروں ڈالروں میں کھیلتے ہیں ان سے یہ کہیں کہ آپ لوگوں پر کوئی زکاۃ نہیں ہے کیونکہ جمہور فقہاء نے یہی کہا ہے۔ یا ہم اس شخص سے جو طبی جڑی بوٹیاں اگاتا ہے اور اسے باہر برآمد کرکے ایک ہی فدان میں دس ہزار ڈالر سے زیادہ منافع کماتا ہے ہم اس سے یہ کہیں کہ آپ پر کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ یا ہم ان لوگوں سے یہ کہیں جو میوے اور سبزیاں اگاتے ہیں کہ آپ لوگوں پر کوئی زکاۃ نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ جمہور فقہاء کرام کے نزدیک اس میں زکاۃ نہیں ہے۔

اگرمعاملہ کچھـ ایسا ہوا تو وہ لوگ جو گیہوں، مکئی یا جو وغیرہ کی کاشتکاری کرتے ہیں وہ ایسا سوچیں گے کہ شریعت اسلامیہ نے ان کے ساتھـ انصاف سے کام نہیں لیا۔۔۔ اور یہ بالکل جھوٹی و بےبنیاد سوچ ہے۔

اس کے بدلے اگر ہم ان لوگوں سے یہ کہیں جو لوگ سبزی ، میوہ ، طبی جڑی بوٹیاں ، گلاب ، خوشبودار پودے وغیرہ کی کیھتی باری کرتے ہیں کہ آپ لوگوں پر بھی دوسروں کی طرح زکاۃ واجب ہے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عمل کرتے ہوئے جو یہ کہتے ہیں کہ زمین سے نکلنے والی ہرچیز پر زکاۃ واجب ہے اور وہ اللہ رب العالمین کے اس قول سے دلیل اخذ کرتے ہیں ارشاد باری تعالی ہے (وَآتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ) (الانعام:141) اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اسکے کاٹنے کے دن دیا کرو۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانے میں پیداوار کی ان قسموں کا ذکر نہیں کیا یا تو اس وجہ سے کہ اس کا ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا جیسے کہ سبزیاں اور میوے۔۔۔ یا تو پھر یہ چیزیں اس وقت اس قدر عام نہیں تھیں یا ان کی خرید و فروخت عام نہیں تھی اور نہ ہی اس طرح کی چیزوں سے تجارتی طور پر استفادہ کیا جاتا تھا جیسے کہ جڑی بوٹیوں کے پودے اور گلاب وغیرہ۔

اسی طرح سے مکہ اور مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور کوئی دوسرا مشہور پھل بھی نہیں تھا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ زکاۃ کی قسموں میں اس کا ذکرآیا اس لئے مختلف قسم کے دیگر میوے کا بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔

لوگوں اور مختلف معاشرے کی صورت حال کے مطابق مناسب فقہی اختیار یہ ان حکمتوں میں سے ہے جس کے بارے میں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا (وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً) (البقرۃ:169) اور جو شخص حکمت اور سمجھـ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا۔

 اللہ رب العالمین سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں حکمت کی نعمت سے نوازے اور اس کی روشنی میں عمل کرنے کی بھی توفیق دے (آمین)۔

الدعاة والاختيارات الفقهية بين الحك

موجودہ قضيے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت