English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
موجودہ قضيے -

جماعت اسلامی کی خواتین اور مبارک کے خلاف ان کا جہاد (2)۔

سمیر عرکیبقلم: سمیر عرکی۔۔ سابقہ نظام حکومت نے اپنے دور میں جماعت اسلامی کی عورتوں کے ساتھـ کیسا برتاؤ کیا اس کی ایک جھلک کا کچھـ حصہ آپ پچھلی قسط میں پڑھ چکے ہیں آج ہم اس کی دوسری اور آخری قسط میں اس کو مزید وضاحت کرتے ہیں۔

عورتوں سے چھیڑچھاڑ کرنے کا مسئلہ بھی ان مستور وجوہات میں سے ایک تھا جو جماعت اسلامی اور مبارک کے اس نظام کے درمیان جس نے عورتوں کا سامنا کرنے کے لئے گھٹیاپن اور کمینگی پر مبنی وسائل و ذرائع کے استعمال سے دریغ نہیں کیا اس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان صورتحال مزید ابتر سے ابتر ہوتے چلے گئے۔۔۔ جب سابقہ نظام حکومت نے عورتوں کو گرفتار کرنے پر اور انہیں رہن کے طور پر استعمال کرنے پر اصرار سے کام لیا۔۔۔ اور جماعت اسلامی کے افراد کو ناکردہ جرائم کا بھی اعتراف کرنے کے لئے خواتین کو ان لوگوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے کاغذات اور دستاویزات کی جگہ استعمال کیا۔۔۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ معاملہ اس حدتک بڑھ گیا تھا کہ ان خواتین کو ان کے اعزاء و اقارب کے سامنے ہی بالکل ننگا کردیا جاتا تھا اور انہیں بری بری گالیاں دی جاتی تھیں اور گھٹیا سے گٹھیا انداز میں انہیں دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ خواتین کے ساتھـ خاص طور پر حسنی مبارک اور ان کے کارندوں کی کارستانیاں اس حد تک بڑھ گئیں تھیں کہ ہم لوگ ان کے اس تصرفات کا موازنہ ابوجہل کے اس عمل سے کرنے لگے جب ابوجہل نے ہجرت کی رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں گھسنے سے انکار کردیا تاکہ آپ کی صاحبزادیاں خوفـزدہ نہ ہوں۔۔۔ حالانکہ وہ اس مقصد سے گیا تھا تاکہ وہ آپ کا سرقلم کرسکے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا سب سے بڑا دشمن تھا اور اللہ رب العالمین کے راستے سے روکنے میں سب سے زیادہ پیش پیش تھا۔ جبکہ حسنی مبارک نے دباؤ ڈالنے کے لئے عورتوں کو کاغذات اور دستاویزات کی طرح استعمال کرنے میں بھی ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، جیسے کہ شرافت و خوداری اور مردانگی کی ہوا بھی ان کے قریب سے ہو کر نہیں گزری۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اسی اسلوب پر اڑے رہے ان کی ضمیر اور اخلاق بھی ان کو اس سے باز نہ رکھـ سکی۔۔۔ یہاں تک کہ ہزاروں نوجوانوں کو بھی پکڑا اور انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا۔۔۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ ان کی زیارت کے لئے ان کے اہل و عیال پر بھی پابندی عا‏ئد کردی۔۔۔ ضبہ کے قیدخانوں میں ڈال کر انہیں ہمیشہ ہمیش کے لئے بھول گئے۔۔۔ ان کی شیطانی منصوبہ بندی مندرجہ ذیل امور پر مشتمل تھی۔

1.       قیدیوں کے اہل خانہ پر اقتصادی ناکہ بندی عائد کردی۔۔۔ بایں طور کہ انہوں نے قیدیوں کے اہل خاہہ کو اہل خیر حضرات کی طرف سے ملنے والی مدد پر مکمل طور پر پابندی لگادی اور اس طرح کی امداد کو سختی سے منع کردیا۔۔۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ معاملہ یہاں تک پہونچ چکا تھا کہ اگر کوئی شخص قیدیوں کے اہل خانہ کی مدد کے بارے میں سوچتا بھی تھا تو اسے بھی گرفتار کرلیا جاتا تھا۔۔۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ان قیدیوں کی عورتیں اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں اور دو وقت کی روٹی کھانے کی خاطر باہر سڑکوں پر در در کی ٹھوکریں کھاتی پھریں۔۔۔ جس کی بنیاد پر بسا اوقات ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کی عورتیں اخلاقی انحراف کا شکار ہوجائیں اور یہ اخلاقی انحراف ان کے اعزاء و اقارب جو قید میں ہیں نفسیاتی طور پر ان کے ارادے چور چور ہوجائیں۔۔۔ لیکن آزاد اور شریف عورت اپنی جان تو دے سکتی ہے پر وہ اپنی عزت و آبرو پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دے گی۔ ان عورتوں نے ہرطرح کی مدد سے محرومی اور بھوک و پیاس کی شدت کو برداشت کیا۔۔۔ ان میں سے بعض عورتوں نے فوٹ پاتھـ پر کپڑے بچھا کر خرید و فروخت کرکے اس پر گزارا کیا ایک ایسی انسانی دلدوز کہانی جو بہت ہی کم وجود میں آتی ہے۔

2.       جن عورتوں کے شوہر قید تھے ان عورتوں پر کافی دباؤ ڈالا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے شوہروں سے طلاق طلب کریں۔۔۔ اور یہ عمل وقتا فوقتا اسٹیٹ سیکورٹی کے ہیڈکواٹر میں انہیں بلا کر انجام دیا جاتا تھا۔۔۔ ان عورتوں کو اور دیگر اقارب کو بھی اس طرح ڈرانے دھمکانے کا جو عمل تھا اس سے ان کا مقصد قیدی پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ اپنے تمام افکار وخیالات سے باز آجائے۔۔۔ چونکہ وہ قیدی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا تھا کہ اس کا گھرخود اسی کی آنکھوں کے سامنے تباہ و برباد ہورہا ہے۔۔۔ لیکن قربان جائیں ان عورتوں پر جنہوں نے وفاداری اور صبر و تحمل کی اعلی مثال پیش کی۔۔۔ اپنے شوہروں کو آرام و راحت پہنچانے کی خاطر انہیں جن غیراخلاقی حرکتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا وہ ان تمام حرکتوں اور ہرطرح کی دباؤ کو برداشت کر جاتی تھیں۔ مجھے اب تک وہ خطبہ یاد آرہا ہے جو میں نے "طرہ" کے عقرب جیل میں بارہ سال گزارنے کے بعد اپنی رہائی سے چند دن پہلے دیا تھا ، میں نے اس خطبہ میں یہ کوشش کی تھی کہ اپنے بھائیوں کو ان تمام لوگوں کی وفاداری کی یاد دلاؤں جنہوں نے ان کی پریشانی میں کسی بھی طرح سے ان کی مدد کی تھی۔۔۔ ان لوگوں میں سرفہرست ہماری مائیں اور بیویاں تھیں۔۔۔ میں نے اس وقت خطبہ میں یہ بھی ذکر کیا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ہمشیرہ حضرت ہالہ رضی اللہ تعالی عنہا کی آواز سن کر بہت متاثر ہوتے تھے۔۔۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ کو ان کی آواز حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفاداری یاد دلاتی تھی جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے دعوت کے ابتدائی مرحلے میں آپ کو سہارا دیا تھا۔

3.       قید شدہ لوگوں کے گھروں میں برابر راتوں کو چھاپا مارنا۔۔۔ اور ان کے گھروں میں  گھس جانے پر اصرار کرنا ، اس کی تفتش کرنا تاکہ عورتیں اور ننھے منھے بچے مزید پریشان ہوں ، اس طرح کا دھاوا بول کرگھروں میں گسنا ، ان بےچاری ضعیف و ناتواں عورتوں کے ساتھـ بدتمیزی کے ساتھـ پیش آنا۔۔۔ ان عورتوں کے پاس مادی طاقت و قوت کے اسباب بھی نہیں کیونکہ ان کے شوہروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔

4.       گرفتارشدہ لوگوں کو سالہا سال اپنے اعزاء و اقارب کی زیارت کرنے اور ان سے کسی بھی طرح کا رابطہ رکھنے سے محروم رکھنا۔۔۔ یہاں تک کہ جب زیارت کرنے کی اجازت دی گئی تو ان لوگوں میں سے زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کو ہی نہ پہچان سکے۔۔۔ بعض خواتین کے سامنے اپنے اعزاء و اقارب کو دیکھنے کی خاطر عدالت اور اسٹیٹ سکیورٹی کی جگہ کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ تھا۔۔۔ ان عورتوں نے موسم سرما کی برفیلی ہوائیں بھی برداشت کیں، موسم گرما کی تپتی اور چلچلاتی ہوئی گرمی کو بھی جھیلا تاکہ اپنے لخت جگر یا شوہرکا دیدار کرنے کی خاطر چند منٹ کی کامیابی حاصل کرسکیں۔۔۔ بلکہ زیادہ تر ایسا ہوتا تھا کہ وہ بےچاریاں چند منٹ کی دیدار سے بھی محروم رہ جاتی تھیں اور بغیر دیدار کئے ہی واپس آجاتی تھیں۔

بہرکیف اللہ اللہ کرکے ہماری پریشانیاں ختم ہوگئیں اور ہم اپنے گردوپیش متوجہ ہوئے ان صبردار ماؤوں کو تلاش کیا۔۔۔ تو دیکھا کہ ہم تو غموں کے درمیان گھر چکے ہیں ہم یکے بعد دیگرے انہیں ان کے رب کے حوالے کررہے ہیں، زمانے نے ہم کو اتنا وقت نہیں دیا کہ ہم بھی ان کے بعض احسانات کا بدلہ دے سکیں۔۔۔ وہ اپنے اپنے رب سے جا ملیں اور ان کی زبان حال یہ کہہ رہی تھی "حقیقت میں ہم لوگوں نے اپنا فرض پورا کردیا، اپنی ذمہ داری نبھا دی۔۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے پروردگار کے پاس جاکر آرام کریں"۔

اللہ کی رحمت ہو ہر اس ماں پر جس کے گود سے اس کا لخت جگر چھین لیا گیا اور وہ روتی بلکتی رہ گئی اس کی عمر اتنی لمبی نہ ہو سکی کہ وہ بھی اپنی ہی آنکھوں سے سوزان ثابت کو دیکھے کہ وہ بھی اپنے اولاد کی خاطر آنسو بہا رہی ہے اور اس کے دونوں لاڈلوں کو خود اس کی آنکھوں کے سامنے ہی جیل لے جایا جا رہا ہے۔۔۔ یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے ایک نشانی ہے جس کا احساس صرف وہ عورتیں ہی کرسکتی ہیں جو روتی گڑگڑاتی رہ گئیں، دل مسوس کر رہ گئیں جب ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ان کی اولاد کو بغیر کسی رحم و کرم کے چھین لیا گیا۔۔۔ اللہ رب العالمین کی رحمت ہو ان عورتوں پر جس نے لمبی عمر پائی تاکہ وہ بھی ظالم قوم پر اللہ کا عقاب دیکھـ کر اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا سکیں۔

اسی طرح سے اللہ رب العالمین کی رحمت ہو ہر اس ماں پر جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو حسنی مبارک کے جیل میں گنوا دیا یا اس کا لخت جگر اسی کی آنکھوں کے سامنے ہی چھین لیا گيا۔۔۔ اور وہ آج تک اس کے بارے میں کچھـ بھی نہ جان سکی کہ وہ کہاں ہیں۔

اللہ رب العالمین کی سلامتی ہو ہر اس بیوی پر جس نے صبر سے کام لیا۔۔۔ اپنے شوہرکی پریشانی میں اسی کے ساتھـ برابر لگی رہی۔۔۔ اپنے لئے اپنے ہی گھر کا دروازہ بند کرلیا۔۔۔ اپنے بچوں کی اچھی طرح سے تربیت کی اور اپنے شوہرکی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کی۔ حسنی مبارک کے عہد حکومت میں ہر گرفتار شدہ شخص کے پیچھے داد و دہش، جانثاری اور جہاد کی کہانی چھپی ہوئی ہے جو اس کی مستحق ہے کہ اسے سنہرے الفاظ میں لکھا جائے تب بھی شاید اس کا حق ادا نہ ہو سکے۔

جماعت اسلامی کی خواتین اور مبارک کے خلاف ان کا جہاد (1)۔

 الجماعة الإسلامية وجهادهن ضد مبارك 2-2 UR



موجودہ قضيے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت