|
اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین مکالمے میں پیچیدگیاں از قلم:أ/ اسماعیل احمد۔۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب کبھی اسلام پسندوں کے ساتھ دوسروں کی گفتگو ہوتی ہے۔ یہ ایسی مضحکہ خیز صورت اختیار کرجاتی ہے جیسا کہ ہم فلموں میں دیکھتے ہیں جب دو بہرے آپس میں بات چیت کرتے ہیں، بھانت بھانت کے سوال اٹھتے ہیں عجیب جوابی حملے ہوتے ہیں اور سامعین کی کھلکھلاہٹ گونجنے لگتی ہے یا دو ریلوں میں چیکر اپنی اپنی سمت کو جانے والا ایک دوسرے سے سوال کرتا ہے اور دوسرا جواب دیتا ہے اور حروف پٹڑیوں کے بیچ گر جاتے ہیں (کوئی کچھ نہیں سمجھ پاتا)۔ دسرے کے پاس تسلیم شدہ حقائق کے سوا کچھ نہیں رہتا اس مکالمے کے آغاز میں التباس اور غلط فہمی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
مکالمہ ایک علمی ضرورت ہے ذرائع ابلاغ اس کے لیے اکٹھےہوتے ہیں خواہ یہ تہذیبوں کے مابین ہو یا مذاہب یا حکومتوں یا عوام کے مابین۔ نقطہ ہاۓ نظر کے درمیان قربت کی خاطر یہ آسان راستہ ہے لیکن اسلام پسندوں کی دوسروں کے ساتھ بات چیت آج مشکل اور دشوار ہوچکی ہے اگر ہوئی بھی تو گفتگو جاری نہیں رہ سکتی یا پھر بے سود اور بے ثمر ہوتی ہے۔
اسلام میں مکالمے کی بنیادیں
قرآن کریم کی سورتوں میں ہمارے لیے رسولوں اور ان کی قوموں کے مابین گفتگو کے کئی ایک نمونے ملتے ہیں؛ بات چیت میں فریق اپنے دین اور نظریات کی بنیاد پر ہوتا اگرچہ رسولوں کے ساتھ جہالت کا رویہ جابرانہ اور معاندانہ رہا لیکن پھر بھی گفتگو واضح اور براہ راست ہوتی تھی، جس کی وجہ سے واضح نتائج سامنے آتے اور طاقت کا پلڑا رسولوں کے حق میں تبدیل ہو جاتا رہا۔ جس سے ان کو زبردست فتح ہوتی یا کم سے کم ان کا موقف دوسرے کیمپ پر مضبوط شکل میں نمایاں ہوجاتا۔ لیکن ہمارے معاصر مکالمے کی صورت ایسی نہیں ہوتی بلکہ یہ بات چیت اصلی مقصد کے اوپر سے گزر کر وسیع توں تکار تک پہنچ جاتی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ ہم بغیر کسی فائدے کے گفتگو کرتے ہیں!! یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام پسند سواۓ اپنی من پسند باتوں کے کسی دوسری چیز کو قبول ہی نہیں کرتے اور نہ کوئی محدد تصور پیش کرتے ہیں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ ان سے کسی معین پروگرام یا منہج کا مطالبہ کرسکیں!۔ اور برجستہ (واضح) سوال کو پیش کرنے سے پہلے ہی مکامہ ختم ہوجاتا ہے؛ آپ ہمیں کس چیز کی دعوت دے رہے ہیں؟ اور ہم آپ کو کیا دعوت دیتے ہیں؟ یا ہم کیا کہتے ہیں؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ وضاحت کرنے سے پہلے ہی ہم سے بحث مباحثہ کرنے لگتے ہیں یہ فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ہمارے اقوال ہیں؛ اور ہم تفصیل بیان کیے بغیر۔۔۔ یہ گمان کرتے ہوۓ بحث کرتے ہیں کہ یہ ان کی اراء ہیں، بلکہ سب کو امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ تعالی کا یہ قول یاد ہے "میں نے جس کے ساتھ بھی بحث کی صرف اس نیت کے ساتھ کہ حق بات اس کی زبان پر جاری ہو جاۓ" اور شاید ہی مکالمہ اس دور میں حق کی خواہش رکھتا ہو۔
قرآنی مکالمے: اسلوب اور مقصد
قرآن حکیم نے اکثر مواقف کا ذکر کیا جن میں رسولوں اور کفار یا رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں یا رب العزت اور اس کے انبیاء کرام کے مابین مکالمہ ہوا۔ یہ گفتگو پر حکمت ہوتی تھی تا کہ کسی جدل و کڑواہٹ کے بغیر مقصود تک پہنچ سکے۔ اگر ہم غور کریں تو قرآن کریم مسائل، اخلاق اور اسالیب کے بارے میں کیا فرماتا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ تو ہمیں مکالمے کی قدروقیمت معلوم ہوجاۓ گی؛ بات چیت کا مقصد صرف فصاحت و بلاغت نمایاں کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی غرض دوسروں کے سفر کو کھوٹا کرنا ہوتا ہے بلکہ چاہیے کہ گفتگو کا ایک ہی مقصد ہو اور وہ حق تک رسائی اور تعاون کا پکا ارادہ۔ اگر تعاون کے اثار نہ پاۓ جائيں تو حق یا سچائی تک رسائی نہیں ہوگی، تو ایسے میں مکلمہ غیرسنجیدہ ہوجاۓ گا۔
قرآن کریم نے رسولوں اور ان کی اقوام یا ان پر ایمان لانے والوں کے مابین بات چیت کی صورتیں بیان کی ہیں جو کئی ایک اقدار اور مثالوں سے لبریز ہیں۔ ہم سرسری طور سے بعض پر نظر ڈالتے ہیں۔اللہ جل مجدہ نے حضرت عیسی بن مریم سلام اللہ علیھما کو بنی اسرائیل کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور ان کو بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں کے لیے ایک مثال بنایا۔ آپ پر بہت سے لوگ ایمان لاۓ کچھ وقت کے بعد انہوں نے یہ گمان کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام (معاذ اللہ) ابن اللہ یعنی اللہ کے بیٹے ہیں۔ اب قرآن کریم روز قیامت کا منظر پیش کررہا ہے، جب ہرچیز کا علم رکھنے والا خداۓ لم یزل ان سے یہ سوال کرے گا: (وَإِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ) (المائدة:116): (اور اس وقت کو بھی یاد رکھو جب اللہ فرماۓ گا کہ اے عیسی بن مریم کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو)۔
حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالی ہر راز اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے اور وہ جس کے بارے میں مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہر چیز پر شاہد ہے؛ لیکن یہ مکالمہ اولاد آدم کو ایسے امور کی تعلیم دیتا ہے جس کی وہ بہت زیادہ محتاج ہے۔ وہ اس بات کی قدرنمایاں کرتا ہے کہ انسان کو حتمی طور پر اپنے اوپر لگاۓ گۓ الزام کا سامنا کرنا ہوگا اور وہ خود ہی واضح اور صراحت کے ساتھ اپنی ذات کا دفاع کرے گا۔ اپنے کسی ناکردہ فعل کا الزام، دوسروں کے فعل کی ذمہ داری کے الزام سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے دل میں اپنے بھائیوں کے لیے کہاتھا: (قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَاناً وَاللّهُ أَعْلَمْ بِمَا تَصِفُونَ) (يوسف:77) (انہوں نے کہا: اگر اس نے چوری کی ہے (تو کوئی تعجب نہیں) بیشک اس کا بھائی (یوسف) بھی اس سے پہلے چوری کر چکا ہے، سو یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں (چھپائے) رکھی اور اسے ان پر ظاہر نہ کیا، (دل میں ہی) کہا: تمہارا حال نہایت برا ہے، اور اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو)۔
اور حضرت عیسی علیہ السلام اپنی ذات سے الزام کا وضاحت کے ساتھ جواب دیتے ہیں: (قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ) (المائدة:116): (کہا تو پاک ہے مجھے یہ شایاں تھا کہ ایسی بات کہتا جس کا مجھے حق نہیں، اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھے اس کا علم ہوگا کیونکہ جو بات میرے جی میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو بات تیرے علم میں ہے میں اسے نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے)۔ وہ اپنی براءت کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ پوجا کیے جانے کے لائق ہوں اور جو کچھ ہوا اللہ تعالی اسے جانتا ہے؛ ہم واضح الزام اور جواب کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔
ایک دوسری مثال میں نبی کا مکالمہ ایک خود غرض کے ساتھ ہوتا ہے واضح دلیل اسے خاموش کرادیتی ہے، اس کا عناد ٹوٹ جاتا ہے اور اسکی سرکشی بے نقاب ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود کے ساتھ مکالمہ پیش کیا ہے: (أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَآجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رِبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِـي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِـي وَأُمِيتُ) (البقرة:258): (کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس وجہ سے کہ اﷲ نے اسے سلطنت دی تھی ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرنے لگا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ (بھی) کرتا ہے اور مارتا (بھی) ہے، تو (جواباً) کہنے لگا: میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں)۔ ابن کثیر اپنی نفسیر میں (نمرود کے) جواب پر تبصرہ کرتے ہوۓ لکھتے ہیں: (حقیقت کا علم اللہ تعالی کو ہے لیکن ظاہری طور پر نمرود نے اس سے جو مراد لی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات کا جواب نہ تھا اور نہ ہی اس کا یہ مطلب تھا۔۔۔ بلکہ اس کی نیت یہ تھی کہ وہ عناد اور تکبر کی وجہ سے اپنے لیے اس بات کا دعوی کرتا ہے "نمرود کے پاس دو آدمیوں کو لایا گیا ایک کو پھانسی دیدی اور دوسرے کو معاف کردیا۔ اور یہ خیال کیا کہ زندگی اسی کانام ہے حلانکہ ایسا نہ تھا اور نہ ہی حضرت ابراہیم عیہ السلام کی بات سے یہ مراد تھی؛ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرود کے جواب پر اکتفا کرتے اور فرماتے: اے عقل کے اندھے یہ زندگی اس سے مختلف ہے جیسا کہ میرا رب کرتا ہے وہ انسان۔ پرندوں اور نباتات کو مارتا ہے، تب تو نمرود کی چال کامیاب ہوجاتی اور اس کے ابلاغی و ڈھنڈورچی واویلا کرتے پھرتے کہ اس مکالمے کی کوئی قیمت نہیں اور اس طرح مکالمے کی قدر ہی ختم ہو جاتی۔ لیکن نمرود کی بات کو آگے بڑھاتے ہوۓ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زیادہ اہم بات فرمائی: (قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ) (البقرة:258): (ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: (بیشک اﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے تُو اسے مغرب کی طرف سے نکال لا! سو وہ کافر دہشت زدہ ہو گیا، اور اﷲ ظالم قوم کو حق کی راہ نہیں دکھاتا)۔
امام ابن کثیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کی شرح پر تبصرہ کرتے ہیں : "اگر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ تم زندہ کرسکتے اور مارسکتے ہو تو وہ ذات جو زندگی عطا کرتی اور مارتی ہے وہ چیزوں میں تصرف بھی کرتی ہے۔۔۔ پس یہ سورج ہے ہر روز مشرق سے نکلتا ہے اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو اس کو مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔۔۔ پہلا مقام دوسرے کے لے مقدمہ ہے"۔
اسی طرح کی ایک مثال ان دنوں آزادئ نسواں اور اسلام کا اسے غلام بنانے، شریعت کی روح کی تنفیذ نا کہ اس کی نصوص، کمیونزم کی خوبیاں اور اسلام کے ساتھ اس کے تقابل کے بارے میں مکلمہ چل رہا ہے؛ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نمرود ان لوگوں کی نسبت کم حیلہ ساز اور راۓ میں کمزور تھا جو خاتون، شریعت اور کمیونزم کے بارے میں دلائل دے رہے ہیں۔نمرود حجت کے ظاہر ہونے پر ہکا بکا رہ گیا لیکن ہمارے سامنے تاریخی طور پر مضبوط حقائق ان کو مبہوت نہیں کرسکے جو نمرود کی دلیل سے زیادہ واضح ہیں۔ اور نہ ہی موسی علیہ السلام کے ساتھ جب فرعون نے تمسخر کیا اور اپنی قوم کے سامنے حقیرثابت کرنے کا ڈھونگ رچایا اور کہا: (قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ) (الشعراء:25): (اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو)۔
پھر اس نے دہشت پسندی اور دہمکی دینے کی راہ اختیار نہ کی بلکہ کہا: (قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ) (الشعراء:31): (فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو) اپنے ہم نشینوں سے مشورہ کیاتو انہوں نے اسے اشارہ کیا، (قَالُوا أَرْجِهِ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ) (الشعراء:36) (وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے)۔ فرعون نے مقابلے کی پیش کش کی اور واقعات اسی طرح ختم ہوۓ جس طرح ان کا ختم ہونا اللہ تعالی کو منظور تھا۔ اسی طرح حضرت موسی اور حضرت ہاروں علیھما السلام کا مکالمہ، حضرت ہارون علیہ السلام کے اس قول پر ٹھرجاتا ہے: (إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي) (طه:94):(میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ (نہ) کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان فرقہ بندی کردی ہے اور میرے قول کی نگہداشت نہیں کی)۔
حضرت موسی علیہ السلام ان کی دلیل کو قبول کرتے ہوۓ اس سے اہم معاملے میں مشغول ہوجاتے ہیں جو سامری کی کارستانی اور اس کے شبہ کا خاتمہ ہے۔
اسلام پسندوں کا آپس میں مکالمہ:
یہ پیچیدگی اس وقت مکمل سامنے آتی ہے جب ہم اسلام پسندوں کے آپس میں مکالمے پر غور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری دینی اداروں اور جماعت اسلامی یا اخوان المسلمین اور دعوت سلفی یا جماعت اسلامی اور کسی دوسری جماعت کے مابین مکالمہ یا بات چیت۔ آپ واضح طور پر دیکھیں گے کہ قرآن، سنت، اصول فقہ اور اقوال علماء کے مآخذ ایک ہیں۔ آراء کے مابین بہت کم فاصلہ اور مراجع کے ساتھ اتفاق ہونے کے باوجود کسی اختلاف کےجاری رکھنے پر مجھے حیرانگی ہوتی ہے۔
آپ اسلام پسندوں کی مختلف جماعتوں کے پاس کسی ایک مسئلے میں غور کرکے دیکھ لیں، کتابوں اور آئمہ کرام کے نام ایک جیسے ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ کو سیاق، استدلان اور اختتام میں واضح فرق کے اشارے ملیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس مکالمے کے سامنے زیادہ دیر ٹھروں کیونکہ مجھے پکا یقین ہے کہ اگر یہ جمع ہو بھی جائيں تو مطلوبہ ہدف تک پہنچنے میں کوئی ایک بھی کامیاب نہیں ہو گا، لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام پسندوں کے مکالمے کسی اتفاقی نقطے تک پہنچنے سے پہلے ہی بہت جلد کیوں رک جاتے ہیں؟ بسا اوقات مکالمے کی سرپرستی کرنے والا نہیں ہوتا اور بعض اوقات اگر یہ بات چیت فرض کریں ہوجاۓ تو اجتماع کے مقصد اور حق کی تحقیق ان کے لیے اتنی اہم نہیں جتنی دوسرے کے بچاؤ یا کسی مذہب کی کامیابی یا غلطی کے جواز کے لیے ہوتی ہے۔
اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین اغراض و مقاصد کا اختلاف:
مسلمانوں کی زبانیں صدیق و فاروق (رضی اللہ تعالی عنھما) کی مدح سرائی سے نہیں تھکتیں کہ دونوں نے قرآن کریم اور تربیت نبوی کے منہج کو انسانیت کی بھلائی کے لیے نافذ کیا، نفوس کو جس قدر ان کی توقیر عزیز ہے اسی قدر ان کی برائی یا اہانت و ناقدری سے صدمہ بھی پہنچتا ہے؛ اور یہ مکالمے کی آخری سوچ ہوتی ہے، بسا اوقات آپ کی بات کی نوعیت ایسی ہوجاۓ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصحاب قلیب کے بارے میں تھی۔
آپ ایسے شخص کے ساتھ کیسے گفتگو کریں گے جو یہ کہتا ہو؛ ہمیں کسی ایسے حکمران کی ضرورت نہیں جو لوگوں کو غلطی کرنے پر اپنے درے کےساتھ ڈراۓ، یا وہ جو اصفھان کے نغمے کو سند بنا کر صدیق پر سعد بن عبادہ کو قتل کرنے کی تدبیر کا الزام لگاۓ۔
کیسا مکالمہ جو یقین کو تبدیل کرنے کے لیے یہ کہے : ہم ایسی ہوشمند کاروائی کے محتاج ہیں جو مذہب کی فرسودگی کو روکے اور جو اللہ تعالی کے لیے اور قیصر کے لیے بھی اپنا حق ادا کرنے کے بارے میں ہو۔ ہم لادینیت کے رجحان کے مبلغین نہیں ہیں، علاوہ ازیں ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شریعت اسلامی نے اپنی وسعت اور فراخی سے حکمرانی کا نمونہ پیش کیا ہے۔
یہ لوگ حضرت صدیق (رضی اللہ تعالی عنہ) اور نہ ہی حضرت فاروق (رضی اللہ تعالی عنہ) کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں اور نہ ہی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شریعت کو اپنی زمین پر حکمرانی کا حق ہے حالانکہ وہ اس کی فضیلت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی پسند کرتے ہیں کہ اسلام کو مساجد کی محرابوں میں قید رکھا جاۓ۔کاش یہ اس بارے میں کسی اصول کو بنیاد بناکر فیصلہ کرتے اور مبلغین کو قیدخانوں اور جیلوں میں بند کیا جاۓ۔۔۔ جب وہ ہم سے ہر غرض وغایت میں اختلاف کرتے ہیں تو پھر ہم کس بات میں ان سے گفتکو کریں۔
اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین مآخذ میں تضاد:
غیر اسلام پسند ہمیشہ مقدس اسلامی ظاہری نص میں شک کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ حدیث میں سے ہوتو اس کے ثبوت کے اعتبار سے، جس سے معنی ظاہر ہوتا ہو۔ مثال کے طورپر یہ بعید از امکان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خاتون کے لیے ایسا فرمائیں جو اپنے گھر سے خوشبو لگا کر نکلے وہ ایسی ویسی یعنی زانیا ہے، تب آپ کہہ سکتے ہیں کیااس کایہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خاتون کے لیے بھی ایسا فرمائیں جو خوشبو اس لیے لگاتی ہو کہ اس کے پسینے کی بد بو ختم ہوجاۓ!!!
یا پھر اس کا حکم عمومی ہو اس حیثیت سے کہ وہ مراد شرعی اپنے ظاہر پر دلالت کرتی ہے۔اگر نص قرآنی ہو یہاں تک کہ ایک نےاحکام شریعت کے بارے میں کہا: "اس میں عمومیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے اس کی تفاصیل کو جاننے کے لیے بہت بڑی کوشش کی ضرورت ہے" جو ہرصورت میں انسانی جدوجہد ہی ہوگی اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ " تبلیغ کا اصلی ہدف جس کے حصول کے لیے کوشش کی جارہی ہے وہ شریعت اسلامی کانفاذ ہے اور اس ہدف تک رسائی ناممکن ہے " اور کیونکہ قرآن کریم کے مطلب و معانی کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں اور حدیث شریف کی صحت پر شبہ ہوسکتا ہے اگرچہ صحیح بخاری ہی میں کیوں نہ وارد ہو۔ تب اسلامی مآخذ کے دو رکن قرآن و حدیث پر اعتماد پختہ نہیں رہ سکتا۔
اسلام پسندوں اور دوسروں کے نقطۂ نظر کے مابین اختلاف:
جب اسلام پسند فراعنہ کے بارے میں غورکرتے ہیں تو ان کی راۓ میں وہ ایک قوم تھی جس نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالی کے عقاب کے سزوار ٹھرے لیکن دوسرے ان کی جانب اپنی نسبت پر فخر کرتے ہیں اور اس حد تک چلے جاتے ہیں؛ اگر اسلام ہمارے اور ہماری فرعونیت کے درمیان آڑے آیا تو ہم اسے نظر انداز کردیں گے، اور جب اسلام پسند ہم پر امریکی حملے کا جواز پیش کرتے ہوۓ اسے صلیبی روح اور قدیم مذہبی دشمنی تک پھیلاتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہماری پسماندگی اور غلط فہمی پر وہ اپنے ہونٹوں کو افسوس کے ساتھ چبانے لگتے ہیں۔اور ایک یوں کہتا ہے : جی عمرو کے ہاتھ کے ساتھ، اس سے مراد امریکہ اور اس کی اصلاحات کے لیے نام نہادمہم ہوتی ہے۔اگر ہمارے اپنے ہاتھوں نے تبدیلی کی کوشش نا کی تو، جبکہ اسلام پسند سنت یر پابندی کے انتشار پرخوش ہوتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ دوسری جانب وہ نوجوانوں کےاندر پھیلے ہوۓ تعصب اور اسلام کے چیلنجز کے بارے میں فتووں کی بھرمار پر افسوس کرتے ہیں۔اس طح آپ دیکھیں گے کہ اسلام پسند اور دوسرے قابل ستائش اور قابل نفرت باتوں پر متفق نہیں ہوتے۔
اسلام پسندوں اور دوسروں کی نیتوں پر طعنہ زنی:
قرآن کریم نے دشمنوں کے رسولوں کی نیتوں پر طعنہ زنی کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ معروف قدیم عادت ہے مثال کے طورپر : یہ تمھاری ایک چال ہے جو تم نے مدینہ میں چلی تاکہ یہاں سے اس کے شہریوں کو نکال دو، یا تم اس لیے آۓ ہو کہ ہمیں اس چیز سے پھیر دیں جس پر ہم نے اپنے اباؤ اجداد کو عمل کرتے ہوۓ دیکھا ہے تا کہ تمھیں ہم پر زمین میں بالا دستی حاصل ہو، یا ابو جھل کے اس قول کی طرح جب قریش کے اس معاشرتی بائیکاٹ کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گيا جو بنی ہاشم کے مسلمانوں اور غیر مسلموں سے کیا گیا تھا تو ابو جہل نے کہا : یہ ایسامعاملہ ہے جس کافیصلہ رات کو کیا گیا اور تم جا کر اس جگہ کے علاوہ کہیں اور مشورہ کرو۔
آج کے الزامات رسولوں پر دشمنوں کے چٹکلوں سے کچھ کم نہیں، تو سنیے: موجودہ مسائل کے حل کے لیے اسلام پسندوں کے پاس کوئی منہج نہیں بلکہ وہ تو دین کے بارے میں ضدی اور جاہل ہیں، اپنے زعماء کی راۓ کے لیے متعصب ہیں، اگر ان سے کوئی پروگرام پیش کرنے کا مطالبہ کیا جاۓ یا کوئی اصول، کوئی فقہ یا تصور و نظریہ تو وہ تختۂ حکومت پر پہنچنے سے پہلے کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
تعاون کے لیے منصوبہ:
آخر میں اس بڑے تضاد کے باوجود ہمارے پاس آپس میں مل بیٹھنے کے لیے بعض نقاط کو ذریعہ بنایاجاسکتاہے، جس کے گرد ہم اپنے ملکوں کے مفاد کے لیے جمع ہوسکتے ہیں اگر ان کا کام مذاہب کے لیے بہترہو تو ہم ان سے صداقت کے ساتھ یہ پوچھتے ہیں تا کہ ہمیں ٹھیک جواب مل سکے؛ کیا ہم اپنے ملکوں کو خود مختار و متحد اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے والے دیکھنا چاہتے ہیں یا ناراض و جنگجو، مضبوط، مالدار اور دانشمند یا پھر کمزور، پسماندہ اور مدہوش۔
کیا ہماری تاریخ میں اسلام خود مختاری کی واحد تصویر نہیں رہا، کسی ایک ملک کے سوا اس نے ہمیں ایک جگہ جمع نہیں کیا، یہاں تک کہ عرب حکمرانوں نے اسے اپنا پرچم بنایا جو ان کے ملکوں میں امریکی موجودگی کو چیلنج کے لیے لہرا رہا ہے۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ اسلام کا پرچم ان کے ملکوں میں امریکی اور یورپی حرص ور ان کے ساتھ تصرف کے مخالف ہے، کیا ہمارے ملکوں میں پھیلی ہوئی ہر شکل کی بدعنوانی کو روکنے کے لیے اسلام کے پاس کو ئی بڑاچارۂ کار نہیں؟۔
إشكاليات الحوار بين الإسلاميين وغيرهم UR
موجودہ قضيے -
|