English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
موجودہ قضيے -

دعوتی و ملکی پیمانے پر مصری ایرانی تعلقات

ڈاکٹر/ ناجح ابراہیمبقلم: ڈاکٹر/ ناجح ابراہیم۔۔ شیعوں کا مذہب اہل سنہ کے مذہب سے کافی مختلف ہے، سب سے زیادہ اہم مسئلہ جس کو لیکر اہل سنہ اہل شیعہ پر طعن و تشنیع کرتے ہیں وہ دو ہیں: پہلا امام کا معصوم ہونا اور دوسرا صحابہ کرام کو گالی دینا اور خاص طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں وزیر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما کو۔

ان دونوں خطرناک وجہوں کے تئیں اہل سنہ حق پر ہیں، مصرمیں اہل سنہ کی مسجدوں میں مصرمیں شیعی خطرات سے برابر آگاہ کیا جاتا ہے، اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ شیعی افکار و خیالات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور خاص طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینے کا مسئلہ، بات صرف اتنے پر ہی آکرکے ختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مصری ایرانی سفارتی تعلقات کی واپسی کو مسترد کرنے کی بات کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ صرف سیاسی معاملہ ہے اس کا تعلق صرف مفاد اور نقصان سے ہے۔

اب عالم یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مبلغین مصری اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں، یہی لوگ اس سے پہلے مصری ایرانی سفارتی تعلقات کی واپسی کو مسترد کرنے والے تھے، اور اس کے ساتھـ ہی ان لوگوں نے دعوتی مشن کو جاری رکھا ایران کو مدنظر رکھتے ہوئے اور یہ اعتبار کرتے ہوئے کہ ایران ہی پوری دنیا کے شیعوں کا محافظ ہے اور وہی اپنے افکاروخیالات کو عرب دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جبکہ یہی لوگ اب اس ملک کی نمائندگی کرنے جارہے ہیں ان مبلغین کا موقف کیا ہوگا؟۔

کیا یہ لوگ مصری ایرانی سفارتی تعلقات کی واپسی کے حوالے سے اپنے مسترد کرنے والے موقف پر اٹل رہیں گے؟۔

اگر ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیں گے، تو پھر تمام لوگوں کے نزدیک یہ چیز غیرقابل قبول ہوگی کیونکہ ایران کے ساتھـ تعلقات کیسے منقطع کیا جا سکتا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھـ تعلقات بحال ہیں۔

ایران یہ اسلامی ملک ہے اس نے کسی بھی عربی اور اسلامی ملک پر قبضہ نہیں کیا، جبکہ اسرائیل اسلامی عربی زمین کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے، ادھر عرب اور اسرائیل کے درمیان عرصہ دراز تک جنگی سلسلہ چلتا رہا اور پھر آخرمیں بطورنتیجہ مصراور اردن کے ساتھـ انوکھے انداز سے امن و معاہدہ پر اتفاق ہوگیا۔

ایران کے ساتھـ تعلقات کیوں نہیں برقرار رکھے جا سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب اس امریکہ کے ساتھـ تعلقات برقرار ہیں جو افغانستان کو اب تک اپنے قبضے میں لئے ہوئے ہے، ابھی کچھـ عرصہ پہلے تک عراق کو بھی اپنے چنگل میں لئے ہوئے تھا، صرف عراق میں سیکڑوں لوگوں کا خون کیا، عراق کو مکمل طور پر ملیامیٹ کردیا اور اس کی ساری مال و دولت کو ہڑپ کرگیا۔

یہ وہ منطقی سوالات ہیں جن کا انہیں بہت ہی شدت کے ساتھـ سامنا کرنا ہوگا۔

بسا اوقات بعض لوگ یہ کہیں گے کہ ایران مصرمیں شیعی مذہب پھیلانا چاہتا ہے، لیکن اگرایسا کچھـ ہوا تو پھر تمہارے داعیان کرام، بڑے بڑے علماء، محکمہ سراغ رسانی اور مقامی پولس کہاں ہے، کیا اہل سنہ کے پاس علماء کرام اور فقہاء نہیں ہیں، ان کے پاس اپنی قوی اور ٹھوس دلیلیں نہیں ہیں، پھر ہم اس طرح سے کیوں خوف زدہ ہیں؟ اور اس مسلم ملک ایران سے ہی صرف اس طرح خطرہ کیوں ہے جو بہت سارے اسلامی مسائل میں ہمارے ساتھـ ہے ان میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ فلسطین کا ہے جس نے ایران کو بھی کافی ضرر پہنچایا ہے۔

کیا امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور فرانس یہ سب مصر میں کتاب و سنت کی نشرواشاعت کرنا چاہتے ہیں یا ان کے اپنے نظریات ہیں جو اسلامی افکاروخیالات سے بالکل مختلف ہیں؟۔

کیا تمام ممالک کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو سب کے ساتھـ بحال کریں اور اسی کے ساتھـ اپنے عقائد، افکار و نظریات اور ملک کی سلامتی کی حفاظت کریں اور کسی سے الگ تھلگ بھی نہ رہیں؟۔

دوسری بات یہ ہے کہ مصر اور ایران کے درمیان جو چیزیں مشترک ہیں وہ مصر اور امریکہ، برطانیہ، روسیا اور چین کے درمیان مشترکہ چیزوں سے کہیں زیادہ ہیں جب کہ یہ سارے لوگ ہمارے ساتھـ اس وقت اور مستقبل میں بھی سفارتی تعلقات بنائے رکھنے کے لئے کوساں ہیں۔

یہ سارے ممالک ان کے بھی اپنے نظریات ہیں، ان کی اپنی حرص اور لالچ ہے اور گزشتہ ایام میں ان کا عربی و اسلامی ممالک پر قبضہ بھی رہا ہے جبکہ ایران کی تاریخ میں اس قسم کا کوئی احتلال نہیں ملتا، پھر اسلامی ملک کے دوسرے ملکوں کے ساتھـ تعلقات کا دارومدار دینی بنیاد پر نہیں ہے جیسا کہ دعوتی میدان میں ہوتا ہے بلکہ اس کا دارومدار مصلحت اور مفاد پر مبنی ہے جیسا کہ زیادہ تر فقہاء نے کہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض فقہاء نے مسلم ملک کے لئے یہ بھی جائز قرار دیا ہے کہ وہ اپنی ممکنہ جنگوں میں غیرمسلموں سے مدد حاصل کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان میں امانتداری اور اہلیت پائی جاتی ہو، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے وقت عبداللہ بن اریقط سے مدد حاصل کی تھی اور جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے مدد حاصل کی تھی جبکہ یہ دونوں اس وقت مسلمان نہیں تھے۔ اسی طرح سے فقہاء کرام نے غیرمسلموں کے ساتھـ حلف برداری کو بھی جائز قرار دیا ہے جب تک کہ یہ صحیح مقصد کے لئے ہے یا اسلام کی یا وطن کی کوئی مصلحت اس سے وابستہ ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش اور بنوبکر کے خلاف خزاعہ کے مشرکوں کے ساتھـ کیا تھا، یہی نہیں بلکہ آپ نے مکہ جو فتح کیا تو وہ غیرمسلم خزاعہ کے ساتھـ ہونے والی غداری کے نتیجے میں کیا، اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلف الفضول کو جائز قرار دیا کیونکہ اس سے آپ کا بہت ہی عظیم مقصد تھا اور وہ تھا ظلم کا جواب دینا، حالانکہ اس میں دونوں فریق غیرمسلم تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ بھی فرمایا: "اگر اسلام میں مجھے اس چیز کی دعوت دی گئی تو میں ضرور اسے قبول کروں گا"۔

العلاقات المصرية الإيرانية بين فقه الدعوة والدولة UR



موجودہ قضيے -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت