|
گیلانی فوراً عہدہ چھوڑ دیں: نواز شریف ????? ?? بى بى سى - جمعرات 26 اپريل 2012 پاکستان کی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے فوری طور پر سبکدوش ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
میاں نواز شریف نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سزایافتہ وزیراعظم کے ہونے سے اب پارلیمان کی تضحیک ہوگی۔ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی کو وزارتِ عظمٰی کا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس فیصلے کا پس منظر کیا ہے اور پس منظر یہ ہے کہ سپریم کورٹ ملک اور عوام کا لُوٹا ہوا مال واپس لانا چاہتی ہے جبکہ حکومت نہیں چاہتی۔
عدالتی فیصلے کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی سپریم کورٹ نے آج کیا ہے وہ بالکل حق اور سچ پر مبنی ہے، نہ ہی اس فیصلے پر کسی کو خوشی ہے نہ ہی میرے خیال میں سپریم کورٹ نے خوش دلی سے یہ فیصلہ دیا ہے، مگر حکومت نے بھی سپریم کورٹ کی تضحیک کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، اپنے من پسند افسر لگائے گئے کوئی کسر نہیں چھوڑی، سپریم کورٹ کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوا ہوگا، جس طرح عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کتنے وزیراعظم قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر اگلا وزیراعظم خط نہیں لکھے گا تو اس پر بھی توہینِ عدالت کے ارتکاب کا الزام لگے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ اگر وزیراعظم اس معاملے کو طول دیں گے تو ملک کو ایک نئے بحران کا سامنا ہوگا اور وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ملک کو مزید انتشار کی جانب نہ دھکیلیں، اُن کو ازخود اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے ورنہ بحران کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’وزیر اعظم کو کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے، بصورت دیگر سپریم کورٹ کی بھی توہین ہوگی۔‘
ان کے بقول حکومت کو چاہیے کہ وہ وزارتِ عظمٰی کے لیے نیا امیدوار لائیں جو سوئس حکام کو خط لکھے، اچھی نگراں حکومت کا انتخاب کرے اور پھر شفاف عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرے۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ نے کہا ’ہم اپنی پارٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں تمام امور کا جائزہ لیا جائے گا۔‘
انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعتوں پر وزیراعظم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے عدالت جانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کا کردار کیا ہے اور عوام ان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ا
نہوں نے کہا کہ آج قوم ان سے پوچھے کہ آپ ان کے ساتھ کیوں گئے تو یہ کیا جواب دیں گے، کیا یہ کہیں گے کہ پاکستانیوں کا مال جو لُوٹا ہے اس پر ان کا ساتھ دینے کیلیے گئے، جس نے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو لوٹا اور سوئس بینک میں اس کو ڈالا تو اس پر حکومت نے اسٹینڈ لیا کہ ہم خط نہیں لکھیں گے یعنی حکومت نہیں چاہتی کہ عوام کا پیسہ ملک میں واپس آئے۔
اخبار -
|