English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

ماہ رمضان سے متعلق ماہ شعبان کی گفتگو

بقلم/ تراجى طاهر۔۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: (إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ) (التوبة:36)، (مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے)۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ماہ رمضان کا سفیر بن کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، اے میرے رب ہمیں رمضان نصیب فرما، اور ہم سب لوگوں سے اسے قبول بھی فرما۔

پیارے بھائیو!

ہمارا رب بہت ہی کریم ہے۔۔۔ اس نے ہمارے لئے رسول کریم کو بھیجا، قرآن کریم کو نازل کیا، اور ہمیں بابرکت ماہ رمضان سے نوازہ۔

وہ ماہ رمضان جس کی شب و روز برکتوں سے بھرپور ہے، ٹھنڈی ہو یا گرمی ہروقت اور ہرموسم مین وہ برکت والا ہے۔

وہ رب ہماری بیماری میں بھی ہم پر کرم کرتا ہے، دوران سفر بھی ہم پر بےپایاں رحمتیں نازل کرتا ہے غرضیکہ وہ ہرہر لمحہ ہرہر پل ہم پر کرم کرتا ہے۔ لہذا اے پیارے بھائیو آپ بھی رحم و کرم کرنے والے بنو۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے، ماہ رمضان میں جس وقت حضرت جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے اور آپ کو قرآن کریم پڑھاتے تھے اس وقت آپ سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔

پیارے بھائیو!

قرآن کریم کو تھامے رہو۔۔۔ سنت رسول کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔۔۔ نماز میں سستی نہ کرو۔ بحث و مباحثہ کرنے کا دور گيا اب یہ عمل کرنے کا وقت ہے۔۔۔ یہ ایسا وقت ہے آپ اس میں اپنے رب کو جانیں۔۔۔ اپنے دل میں اخلاص پیدا کریں۔۔۔ اچھی چیزوں کو اپنائیں، بری چیزوں سے گریز کریں۔۔۔ اچھی باتوں کا حکم دینے والے بنیں، بری باتوں سے روکنے والے بنیں۔ اگر یہ ممکن ہو کہ اللہ رب العالمین کی جانب آپ سے آگے کوئی نہ جاسکے تو ایسا ضرور کریں۔

دوسروں سے آگے بڑھنے کے لئے یہ چند نصیحتیں درج ذیل ہیں:

(فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ) (المائدة:48)، (تم نیکیوں کی طرف دوڑو)۔

ذکر الہی میں مصروف رہنا: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً * وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلاً) (الأحزاب:42-41)، (مسلمانو! اللہ تعالی کا ذکر بہت زیادہ کرو، اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ دن بھر میں اللہ رب العالمین کا ذکر بارہ ہزار (12،000) بار کرتے تھے۔۔۔ اور یہ کہتے تھے کہ یہ ایک غلام آزاد کرنے کے مترادف ہے، تو کیا آپ  بھی ان کے مقام و مرتبہ کو پہنچ سکتے ہیں؟

قرآن کریم کی تلاوت کرنا: ارشاد باری تعالی ہے (الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ) (البقرة:121)، (جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اسے پڑھنے کے حق کے ساتھـ پڑھتے ہیں)۔ ابوبکر بن عیاش نصیحت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہتے ہیں: "ہم نے اس کمرے میں بارہ ہزار(12،000) مرتبہ قرآن کریم پڑھ کر ختم کیا ہے۔۔۔ خبردار یہاں اللہ رب العالمین کی نافرمانی نہیں کرنا" قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے لوگ کہاں ہیں، لوگوں کو چاہیئے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا:

حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالی عنہ رات کے اپنے وظیفے میں پورا وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے تھے۔۔۔ یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا "پھر اس سے تمہارے سارے غم دور ہوجائیں گے اور اللہ رب العالمین آپ کی مغفرت بھی کردے گا"۔ لہذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کریں اور ایسا کرنے سے آپ بھی قابل احترام ہوں گے۔

توبہ واستغفار کرنا:

ارشاد باری تعالی ہے (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ)، (میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو))۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میں دن و رات میں اللہ رب العالمین سے سو(100) مرتبہ سے زیادہ مغفرت طلب کرتا ہوں" تو پھر ہم لوگ بھی کیوں نہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کریں۔

قیام اللیل کرنا:

ارشاد باری تعالی ہے: (كَانُوا قَلِيلاً مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ)، (وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے)۔ آپ اپنی رات کا کتنا حصہ نماز میں گزارتے ہیں، جب اللہ رب العالمین کا یہ قول (اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْراً)، (اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو) نازل ہوا، اس وقت انہوں نے آپس میں رات کے حصوں کو تقسیم کرلیا۔۔۔ کوئی رات کے اول حصہ میں قیام کر رہا ہے دوسرا اس کے بعد قیام کر رہا ہے اسی طرح سے آخری رات تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں کوئی قیام اللیل نہ کررہا ہو۔۔۔ تو کیا ہم سب بھی ایسا کرسکتے ہیں؟

راہ خدا میں خرچ کرنا:

ارشاد باری تعالی ہے (مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللّهَ قَرْضاً حَسَناً)، (ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالی کو اچھا قرض دے)۔ غزوہ تبوک کا واقعہ یاد کریں تاکہ نصیحت حاصل ہو۔۔۔ پہلے کے لوگوں نے کس قدر راہ خدا میں خرچ کیا۔۔۔ کیا کوئی ایسا  ذریعہ ہے جس سے ہم لوگ بھی اس مقام و مرتبہ کو پہنچ سکتے ہیں۔۔۔ لہذا آپ بھی سخی بنیں۔

لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا:

اس سے بڑی اور کوئی نیکی وبھلائی نہیں ہو سکتی ہے کہ آپ کسی مسلمان کو خوش کریں۔۔۔ اللہ رب العالمین نے بعض بندوں کو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خاص کیا ہے۔۔۔ اللہ رب العالمین نے انہیں خیر و بھلائی کی بناء پر اپنا محبوب بندہ بنا لیا ہے اور ان کے دلوں میں خیرو بھلائی کی محبت بھی ڈال دی ہے۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بروزقیامت اللہ رب العالمین کی عذاب سے محفوظ رہیں گے، تو کیا آپ بروزقیامت عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں سے ہیں؟۔

اللہ رب العالمین کی طرف دعوت دینا:

ارشاد باری تعالی ہے: (وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً)، (اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے)۔ ہمارے سلف صالحین کی ایک ایک رگ میں اللہ رب العالمین کی طرف دعوت دینے کی چاہ بھری ہوئی تھی۔۔۔ لہذا وہ لوگ ہرحال میں چاہے خوشحالی میں ہوں یا تنگی میں ہوں انہوں نے دعوت الی اللہ کا پہلو اپنی ہاتھوں سے نہیں چھوڑا۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ جو معذور تھے انہوں نے بھی دعوت الی اللہ کا دامن اپنی ہاتھوں سے نہیں چھوڑا۔۔۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں ہدہد کا تصرف ہمارے لئے بہترین اسوہ ہے۔۔۔ ہدہد نے اس بات سے انکار کردیا کہ وہ یوں ہی اللہ کی زمین میں زندگی گزارے اور اللہ کی دی ہوئی روزی کھائے اور اس کے آسمان تلے سایہ حاصل کرے اور دوسری جانب غیرا للہ کی عبادت کی جا رہی ہو۔۔۔ لہذا اس نے کہا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے(أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ........)، (میں ایک ایسی چیز کی خبر لایا ہوں کہ تجھے اس کی خبر ہی نہیں)۔

لہذا اے میرے بھائیو!

آپ بھی تیار ہوجائیں۔۔۔ کسی یتیم کی پرورش کریں، مسکین کو سہار دیں، غریب و لاچار کی مدد کریں، لوگوں کے عیب چھپائیں، مریضوں کی عیادت کریں، ضرورتمند کی ضرورت کو پورا کریں، مسافر خانہ بنوائیں، غریب بچیوں کی شادی کرائیں، پیسے خرچ کریں، حدیث کی نشرواشاعت کریں، دعوت و تبلیغ کریں، قرآن کریم تقسیم کریں، وعظ و نصیحت کریں، دعاؤں کے پوسٹر تقسیم کریں، ویب سائٹ کو ترقی دلانے میں اس کی مدد کریں، فیاض و سخی بنیں۔ ہم رب ذوالجلال سے دعاء گو ہیں کہ وہ ہم سب کو اچھا کام کرنے کی توفیق دے اور معصیت سے دور رہنے کی توفیق دے۔

شعبان متحدثا ًرسميا ً عن رمضان UR



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت