English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

اسراء اور راستے کا نقشہ

بقلم: تراجی الجنزوری۔۔ ایک لمبی آزمائش کے بعد جو سالہا سال جاری رہی۔۔۔ سخت پریشانیوں کے بعد جن سے بارہا دوچار ہوئے۔۔۔ شہر رجب کی ستائیسویں (27) تاریخ کو آسمان سے یہ اعلان ہوتا ہے:

اے محمد! اہل زمین نے اگرآپ سے نفرت کی ہے۔۔۔ تو ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔

اے محمد! اہل زمین نے اگر آپ کو رسوا کیا ہے۔۔۔ تو ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔

اے محمد! اہل زمین نے اگر آپ کو دور کیا ہے۔۔۔ تو ہم آپ کو قریب کرتے ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے: (إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ) (غافر:51): (یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانئی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے)۔

اسراء ومعراج مستقبل کی ایک جھلک ہے

تمام انبیاء کرام کو نماز پڑھانا رسمی طور پر یہ اعلان ہے کہ سربراہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے متبعین کے لئے ہوگی۔

آپ کا حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کرنا:-

یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس روئے زمین کے تمام فرقوں کے اندر اسلام پہنچے گا۔۔۔ اور اللہ رب العالمین کوئی بھی ایسا گھر نہیں چھوڑے گا جہاں اسلام نہ پہنچے۔

آپ کا دونوں خالہ زاد بھا‏ئی حضرت یحیی اور عیسی علیہما السلام سے ملاقات کرنا:-

یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے یہود اور نصاری کی طرف سے ان کے ساتھـ جو کچھـ ہوا آپ کے ساتھـ بھی ایسا ہوگا۔۔۔ لہذا آپ ہوشیار ہوجائیں۔

آپ کا یوسف علیہ السلام سے ملاقات کرنا:-

اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دل کو مطمئن کرنا اور تسلی دینا مقصود ہے۔۔۔ کہ آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان آخری کامیابی آپ کی ہوگی جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے (وَكَذَلِكَ مَكَّنِّا لِيُوسُفَ فِي الأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ) (یوسف:56): (اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک کا قبضہ دے دیا کہ وہ جہاں کہیں چاہے رہےسہے)۔

آپ کا ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنا:-

یہ آپ کے لئے مقام و مرتبہ کے بلند ہونے کی بشارت ہے اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے (وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً) (مریم:57): (ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھالیا)۔ حقیقت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلندی پر گئے۔۔۔ جہاں سدرۃ المنتہی ہے۔۔۔ جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔

آپ کا ہارون علیہ السلام جو اپنے قوم میں بہت محبوب تھے ان سے ملاقات کرنا:-

یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو دل آپ سے نفرت کرتا ہے وہ آپ سے محبت کرنے لگے گا۔۔۔ اس کی پہچان: "آپ یہاں آئے اس حال میں کہ میرے دل میں آپ سب سے ناپسندیدہ شخص تھے۔۔۔ اور اب حال یہ ہے کہ میرے دل میں سب سے زیادہ پسندیدہ شخص آپ ہیں"۔

آپ کا موسی علیہ السلام سے ملاقات کرنا:-

یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور آپ کے متبعین کے لئے اشارہ اور ساتھـ ہی ساتھـ بشارت بھی ہے بایں طور پر کہ اللہ رب العالمین نے حضرت موسی علیہ السلام اور جو لوگ ان کے ساتھـ تھے ان کے حق میں یہ فرمانا: (وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ) (القصص:5): (پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بےحد کمزور کردیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں)۔

آپ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کرنا:-

یہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دنیا سے آخری تعلق بیت اللہ الحرام سے ہوگا۔

کچھـ نشانیاں جو راستے کی خصوصیات کو واضح کرتی ہیں

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھـ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ایک دن زراعت و کاشتکاری کرتے ہیں، اور پھر ایک دن کاٹتے ہیں، اور زراعت پھر ویسا کا ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ پہلے تھا۔۔۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کرتے ہیں وہ آپ کو اس کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ یہ وہ شہداء کرام ہیں جو اللہ رب العالمین کے راستے میں شہید ہوئے۔۔۔ اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔۔۔ لہذا آنے والے مرحلوں میں اپنے آپ کے اندر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا جذبہ پیدا کرو اور اجر عظیم کا انتظار کرو۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھـ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹ کی طرح ہیں ان کے ہاتھوں میں آگ کا ٹکڑا ہے وہ اسے اپنے منہ میں ڈالتے ہیں اور وہ ان کے پیچھے کے راستے سے نکل جاتا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم کرکے یتیموں کا مال کھاتے تھے۔۔۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہدائے کرام اپنے پیچھے کچھـ یتیم چھوڑ کر جائیں گے۔۔۔ لہذا تم اپنے آپ کو ان کا مال کھانے سے بچاؤ۔ ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرو۔۔۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھـ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ناخن پیتل کے ہیں اور وہ لوگ اس سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں۔۔۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی عزت و آبرو پرڈاکہ ڈالتے تھے۔

سورہ اسراء اور سورہ نجم کی آیتوں کا اشارہ

ابوالحسن الندوی (رحمہ اللہ) کہتے ہیں:

"سورہ اسراء اور سورہ نجم نے یہ اعلان کردیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں قبلوں کے نبی ہیں۔۔۔ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کے امام ہیں۔۔۔ اپنے سے پہلے تمام انبیاء کرام کے وارث ہیں۔۔۔ آئندہ آنے والی تمام نسلوں کے امام ہیں۔۔۔ آپ کی شخصیت اور آپ کے اسراء کے حوالے سے مکہ مکرمہ اور قدس شریف دونوں ایک ساتھـ ملے۔۔۔ اور بیت اللہ الحرام یہ مسجد اقصی سے۔۔۔ تمام انبیاء کرام نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔۔۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ کی رسالت تمام لوگوں کے لئے عام ہوگی۔۔۔ آپ کی امامت ہمیشہ ہمیش کے ل‍ئے باقی رہے گی آپ کی انسانی تعلیمات بھی ہمیشہ کے لئے باقی رہیں گی۔۔۔ زمان و مکان کے مختلف ہونے کے باوجود بھی ان کی صلاحیت باقی رہے گی۔

اس سورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کی تعیین کردی آپ کی امامت اور قیادت کی صفت بیان کردی۔۔۔ اور اس امت کے مقام و مرتبے کی بھی تعیین کردی جس کی طرف آپ بھیجے گئے تھے اور وہ آپ پر ایمان لائی۔۔۔ اور آپ کی رسالت کو بھی بیان کردیا۔۔۔ اور اس کردار کو بھی واضح کردیا جواس دنیا کے سامنے تمام قبیلوں اور امتوں کے درمیان نمائندگی کرے گی۔

الإسراء ورسم خارطة الطريق UR



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت