English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

جب تمہارا دل فسق و فجور کا آماجگاہ ہو تو تقوی و پرہیزگاری کا اظہار نہ کرو

بقلم: احمد زکریا۔۔ اللہ رب العالمین کے راستے پر چلنے والوں کے لئے بہت ہی خطرناک اور بھیانک بیماریوں میں سے ہے مکمل طور پر یا تقریبا مکمکل طور پر ظاہر وباطن اور خفیہ و اعلانیہ رخ کے اندر آپس میں ٹکراؤ کا پایا جانا۔ یا آپ چاہیں تو یہ کہہ لیں کہ وہ شکل و صورت جو ہم نے اپنے آپ کے لئے اختیار کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہم کو اسی شکل و صورت پر سمجھیں ، اس شکل کے درمیان اور ہمارے باطنی حقیقت کے درمیان جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہم تنہا ہوتے ہیں اور بالکل مطمئن ہوتے ہیں کہ کوئی ہم کو اس وقت دیکھـ نہیں رہا ہے۔۔۔ خدا کی قسم یہ بہت ہی خطرناک اور بہت ہی بھیانک شکل ہے زمانے بھرکی مصیبت کے برابر ہے اور پورے عمر کی مصیبت ہے۔

جب ہم میں سے کوئی بھی شخص حضرت لقمان علیہ السلام کی یہ وصیت اپنی نظروں کے سامنے رکھتا ہے: "اے میرے بیٹے! اللہ سے تقوی اختیار کرو، لوگوں کو یہ نہ دکھاؤ کہ تم اللہ کے سامنے بہت ہی عاجزی وانکساری سے رہتے ہو تاکہ اس کی وجہ سے وہ لوگ تمہاری عزت کریں جب کہ حقیقت یہ ہو کہ تمہارا دل فسق و فجور کا آماجگاہ بن چکا ہو۔۔۔ یہ بات انسان کو کتنی کڑوی لگتی ہے وہ جب بھی اللہ رب العالمین کی نافرمانی کرتاہے۔۔۔ جب بھی انسان دھوکہ کا لباس پہنتا ہے وہ اس کو اتارنے میں اس وقت جلدی کرتا ہے جب وہ حرام کردہ چیزوں ارتکاب کرتا ہے"۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ ہی فرمایا جب آپ نے یہ کہا: (ایسی چیز کو ظاہر کرنے والا کہ جو چیز اس کو نہ دی گئی ہو وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے) (صحیح بخاری:5219

امام نووی کہتے ہیں: "علماء کرام کا کہنا ہے: اس کا مطلب ہے کہ جو چیز اس کے پاس موجود نہیں ہے اسے بکثرت ظاہر کرنا۔۔۔ جیسے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اس کے پاس وہ چیز موجود ہے جو دوسروں کے پاس موجود نہیں ہے۔۔۔ ایسا لوگوں کے درمیان بکثرت ظاہر کرے اور باطل سے مزین ہو، تو یہ چیز یقینا لائق مذمت ہے جیسا کہ وہ شخص قابل مذمت ہے جو جھوٹ کا لباس پہنتا ہے۔ ابو عبیدہ اور دوسرے علماء کرام کا کہنا ہے: یہ وہ شخص ہے جو عابدوں ، زاہدوں اور تقوی و پرہیزگاروں جیسا لباس پہنے اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ لوگوں کو یہ دکھلا سکے کہ وہ بھی ان صفات سے متصف ہے اور وہ اس کے ساتھـ ہی خشوع خضوع  اور زہد کا اظہار اس قدر کرے جتنا کہ اس کے دل میں نہ ہو تو یہ جھوٹ اور ریاکاری کا لباس ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو دوسرے کا دو کپڑا پہنے اور لوگوں کو یہ وہم دلائے کہ یہ دونوں اسی کے اپنے ہیں۔ امام خطابی نے ایک دوسرا قول بھی ذکر کیا ہے: کہ کپڑے سے مراد یہاں اسی کی حالت اور اس کا مذہب ہے کیونکہ عربوں میں اس طرح کے کیفیت والے شخص کو کپڑے پہننے سے تعبیر کرنے کا رواج پایا جاتا ہے، تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ شخص اس جھوٹے آدمی کی طرح ہے جو ایسی باتیں کہتا ہے جو اس کے اندر نہیں پائی جاتی ہیں" (شرح النووی علی صحیح مسلم:14/110

ایک دوسری حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جس شخص نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالی اس کا مال اور کم کردے گا) (صیح مسلم:110)۔ امام نووی کہتے ہیں: "قاضی عیاض کا کہنا ہے کہ: یہ حدیث ہر اس قسم کے دعووں کو شامل ہے جو آدمی دعوی کرسکتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے اور دوسروں کے پاس اپنے آپ کو ایسا دکھلانے کے لئے اس طرح کی چالبازی کرتا ہے، یا اپنے آپ کو کسی نسب کی طرف منسوب کرتا ہے یا کسی علم کا دعوی کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس طرح کا کوئی علم نہیں ہے یا وہ دینداری کا اظہار کرتا ہے حالانکہ اس کے اندر ایسی کوئی دینداری نہیں پائی جاتی ہے تو ہر ایسے شخص کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بتلادیا ہے کہ اس کے دعوی میں کوئی برکت نہیں ہے اور نہ ہی اس نے جو کچھـ حاصل کیا ہے اس کی زکوۃ دے رہا ہے" (شرح النووی علی صحیح مسلم:2/126

امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پیغام میں جو انہوں نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس پھیجا تھا اس میں ان کی یہ بات مذکور ہے: "حق کے لئے جس کی نیت میں اخلاص ہوگا اگرچہ وہ اپنے آپ کی حد تک ہی کیوں نہ ہو تو اللہ رب العالمین اس کے لئے لوگوں کی طرف سے کافی ہے ، اور جس شخص نے ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو آراستہ وپیراستہ کیا جو اس کے اندر نہیں پائی جاتی ہیں تو اللہ رب العالمین اسے رسوا کرے گا"۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اس اثر کی شرح میں رقمطراز ہیں:

آپ کا یہ کہنا: "حق کے لئے جس کی نیت میں اخلاص ہوگا۔۔۔" الخ یہ کلام نبوی کی مانند ہے، وہ اس لائق ہیں کہ اس جیسا کلام ان کی زبان سے نکلے، یہ دونوں باتیں علم کے خزانے سے ہیں، جس نے اسے اچھی طرح سے خرچ کیا وہ غیروں کا فائدہ پہنچائے گا اور کافی حد تک فائدہ پہنچائے گا۔۔۔

پہلی بات یہ خیر و بھلائی کا سرچشمہ اور اس کی جڑ ہے۔

دوسری بات یہ برائی کی جڑ اور اس کا خاتمہ کرنے والی ہے۔

بےشک جب بندے کی نیت میں اللہ رب العالمین کے لئے اخلاص ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرنا ہو تو اللہ رب العالمین اس کی مدد کرتا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین تقوی وپرہیزگاری اور احسان کرنے والوں کے ساتھـ ہوتا ہے ، تقوی و پرہیزگاری اور احسان کا دارومدار یہ حق کی ادائیگی میں نیت کے اخلاص پر مبنی ہے، اللہ رب العالمین کو کوئی مغلوب کرنے والا نہیں ہے ، لہذا جب وہ کسی کے ساتھـ ہوگا تو پھر کون شخص اس پر غالب آسکتا ہے یا اس کو تکلیف دے سکتا ہے؟۔

جب اللہ رب العالمین بندے کے ساتھـ ہوگا تو پھر وہ بندہ کس سے ڈرے گا؟۔

اور اگر وہ بندے کے ساتھـ نہ رہے تو پھر وہ بندہ کس سے امیدیں لگائے گا؟ کس پر بھروسہ کرے گا؟ اس کے علاوہ کون اس کی مدد کرے گا؟۔

رہا آپ کا یہ کہنا: "جس شخص نے ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو آراستہ وپیراستہ کیا جو اس کے اندر نہیں پائی جاتی ہیں تو اللہ رب العالمین اسے رسوا کرے گا" جب آدمی ایسی چیزوں سے آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے جس کا اس کے پاس فقدان ہوتا ہے تو یہ اخلاص کے خلاف ہے- کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے جو ظاہر کرنا چاہتا ہے حقیقت میں اس کا باطن اس کے بالکل برعکس ہے- تو اللہ رب العالمین بھی اس کے ساتھـ اس کے مقصد کے خلاف ہی معاملہ کرے گا، کیونکہ مقصد کے خلاف سزا دینا یہ شرعی طور پر اور تقدیر سے بھی ثابت ہے۔

جب ایک مخلص شخص کے حق میں اس کے اخلاص کا ثواب جلدی ملتا ہے بایں طور پر کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت و چاہت ہوتی ہے اور اس کا احترام ہوتا ہے تو اس کے برعکس اس شخص کے حق میں جو لوگوں کے سامنے اس چیز کا اظہار کرتا ہے جو اس کے اندر نہیں ہوتی ہیں تو اس کی سزا یہی ہے کہ اللہ رب العالمین اسے دنیا ہی میں لوگوں کے درمیان ذلیل و خوار اور رسوا کردیتا ہے، کیونکہ اس نے بذات خود اللہ رب العالمین کے نزدیک اپنا باطن ذلیل و سوا کرلیا۔

بہرحال جب لوگوں کے سامنے وہ اس طرح مکاری کرکے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اس کے اندر خشوع و خضوع ، دینداری اور علم کا ملکہ موجود ہے تو حقیقت میں اس شخص نے ان اشیاء کے لوازمات کو اپنے ذمہ لے لیا لہذا ضروری ہے کہ لوگ اس سے ان چیزوں کو طلب کریں گے، اور جب لوگ اس کے پاس یہ چیزیں نہیں پائیں گے تو وہ بذات خود ذلیل وخوار ہو جائے گا، اس طرح سے یہ شخص رسوا ہوگا جبکہ وہ یہ گمان کر رہا تھا کہ یہ چیز اس کو مزید زینت بخشے گی۔ اور مزید یہ بھی کہ اس نے لوگوں کے سامنے اصل حقیقت چھپائی جو اس کے اندر تھی ، تو اللہ رب العالمین نے اس کے وہ سارے عیوب لوگوں کے سامنے واضح کردیئے جو اس نے لوگوں سے چھپا رکھا تھا، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ دعاء کرتے تھے: میں اللہ رب العالمین سے نفاق والی خشوع خضوع سے پناہ مانگتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: نفاق والی خشوع خضوع کیا ہے؟ تو فرمایا: آپ یہ محسوس کریں کہ جسم تو خشوع خضوع دکھا رہا ہے لیکن دل میں اس کی کوئی خوشبو نہیں پائی جارہی ہے۔

"نفاق کی جڑ اور بنیاد یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو اس قدر مزین کرکے پیش کرے جتنا کہ اس کے باطن میں ایمان نہیں ہے۔۔۔ لہذا معلوم یہ ہوا کہ یہ دونوں باتیں جو امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہی ہیں یہ نبوی کلام سے ماخوذ ہیں۔۔۔ اور یہ دونوں باتیں بہت ہی کافی نفع بخش باتیں ہیں، اور بیماری کے لئے شفاء دینے والی ہیں" (اعلام الموقعین:2/275-279

اب اس کے بعد کہنے کے لئے کچھـ اور نہیں بچتا۔۔۔ لہذا ہمیں چاہيئے کہ ہم تنہائی اور اس کے علاوہ دیگر حالات میں بھی اللہ رب العالمین سے ڈریں۔۔۔ اور رب ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوں لوگوں کے پاس جو کچھـ بھی ہے ذرہ برابر بھی اس کے لئے حرص ولالچ نہ کریں۔

ہم کوچاہیئے کہ اپنے تئیں کوشش کریں۔۔۔ اپنی انانیت کو چھوڑ دیں ۔۔۔ کیونکہ ہم کو اللہ رب العالمین کے پاس تن تنہا جانا ہے۔

ہم اللہ رب العالمین سے دعاءگو ہیں کہ وہ ہمارے ظاہر وباطن کی اصلاح فرمائے اور دنیا و آخرت میں ہماری سترپوشی کرے (آمین)۔

لا تظهر للناس أنك تقي.. وقلبك فاجر UR



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت