English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

اسلام دین رحمت

الحمد لله: دین اسلام رحمت ومہربانی کا دین ہے اوریہ دین آسانی و نرمی والا دین ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے اس امت کواسی چيزکا مکلف بنایا ہے جس کی اس میں استطاعت وطاقت ہے، تواب جوبھی اچھائی‏ اورنیکی‏ کرے اسے اس کا اجروثواب حاصل ہوتا ہے اورجوبھی شرو برائی کا کام کرے اس پراس کا وبال اورگناہ ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایا ہے: (لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ) (البقرۃ:286) یعنی: (اللہ تعالی کسی کوبھی اس کی طاقت سے زيادہ مکلف نہیں کرتا اس کو جوبھی وہ عمل کرے اس کا اجروثواب اورجوبھی وہ گناہ کرے اس کا وبال اورگناہ بھی اس پرہی ہے)۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے مسلمانوں پرمکلف کی گئی ہرچيز پرمشقت اورتنگی ختم کر کے اسے اٹھا لیا ہے۔

اللہ تعالی نے اسی کے متعلق فرمایا: (وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيداً عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ) (الحج:78) یعنی: (اس اللہ تعالی نے تمہیں اختیار کرلیا ہے اور تم پرتمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی)۔

مسلمان کا وہ گناہ جس کا سبب غلطی اوربھول یا پھر جبر ہے وہ اللہ تعالی کی جانب سے معاف کردیا گیا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے: (لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ) (البقرۃ:286) یعنی: (اے ہمارے رب اگرم ہم سے بھول ہوجاۓ یاپھرہم غلطی کرلیں توہمارا مؤاخذہ نہ کرنا)۔

حدیث میں آتا ہے کہ اس کے جواب میں اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا، یقینا میں نے ایسا کردیا۔

مسلمان کے گناہوں کا محاسبہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے عمدا اورجان بوجھ کرکیا جاۓ نہ کہ غلطی سے۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَّحِيماً) (الاحزاب:5) یعنی: (جس میں تم غلطی کرلواس کا تم پرکوئی گناہ نہیں لیکن گناہ اس میں ہے جوتمہارے دل عمدا اورجان بوجھ کرکریں)۔

اوراللہ تبارک وتعالی بڑا مہربان اوررحم کرنے والا ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوآسانی اوریکسو اورنرمی والا دین دے کر مبعوث فرمایا۔

اللہ جل شانہ کا کا ارشاد ہے : (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضاً أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ) (البقرۃ:185) یعنی: (اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اوروہ تمہیں مشکل اورسختی میں نہیں ڈالنا چاہتا)۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے: (یقینا دین (اسلام) آسان ہے اورجوبھی دین میں طاقت سے زيادہ سختی کرتا ہے وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا، توتم میانہ روی اختیار کرو، اور صحیح کام کرو اورخوشياں بانٹو) (صحیح بخاری:39

اورشیطان جوکہ انسان کاسب سے بڑا اورازلی دشمن ہے اسے اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کردیتا اوراسے کے لیے گناہ و معصیت کومزين کرتا ہے تا کہ وہ اس کا ارتکاب کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔

اللہ تبارک وتعالی کے ارشاد کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے: (اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُوْلَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ) (المجادلۃ:19) یعنی: (ان پرشیطان نے غلبہ حاصل کرلیا اورانہیں اللہ تعالی کا ذکر بھلا دیا، یہ شیطانی لشکر ہے، بلاشک شبہ شیطانی لشکر ہی خسارہ میں ہے)۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی نے دل میں پیدا ہونے کی بات اورسوچ کوبھی معاف کردیا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (یقنا اللہ تعالی نے میری امت کواس کے دل میں پیدا ہونے والی باتوں اورخیالا ت سے درگزر فرمادیا ہے لیکن جب وہ اس کوزبان پر لیے آئيں یا پھر اس پرعمل کرلیں تومعاف نہيں) (صحیح مسلم:127

جوبھی کوئی معصیت وگناہ کا مرتکب ہواوراللہ تعالی نے اس کے گناہ پرپردہ ڈالا تواس کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ اس معصیت اورگناہ کا پرچارکرتا پھرے اورلوگوں کو بتاۓ کہ میں نے ایسا کیا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میری ساری امت کودرگزر کردیا گیا ہے مگرگناہ کا اعلان کرنے والوں کونہیں) (صحیح مسلم:2990

اورجب انسان کسی گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد نادم ہوتا ہوا اس سےتوبہ کرتا ہے تواللہ تعالی بھی اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔

اللہ غفور و رحیم کا فرمان ہے: (وَإِذَا جَاءكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءاً بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) (الانعام:54) یعنی: (تمہارے رب نے مہربانی کرنا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے، توجوشخص بھی تم میں سے جہالت کی بنا پرکو‏ئی گناہ اورمعصیت کرلے اوراس کے بعد توبہ کرتا ہوۓ اصلاح کرلے تویقینا اللہ تعالی بڑی مغفرت والا اوربڑی رحمت والا ہے)۔

اوراللہ تبارک وتعالی بڑی کرم وسخا کا مالک ہے وہ حسنات و نیکیوں میں تواضافہ فرماتا اوراورگناہوں اورمعصیات سے معاف اوردرگزر فرماتا ہے۔

جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے حدیث قدسی بیان کرتے ہوۓ فرمایا ہے:

(بلاشبہ اللہ تعالی نے نیکیوں اور برائیوں کولکھا پھر انہیں بیان کیا، توجوبھی کسی نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اوراس پرعمل نہیں کرتا اللہ تعالی اسے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتے ہیں، اورجو ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے اپنے پاس دس نیکیوں سے سات سوبلکہ اس سے بھی زيادہ تک کے اضافہ کے ساتھ لکھتے ہیں

اورجوکوئی‏ برائی کرنے کاارادہ کرتا اوراس پرعمل نہیں کرتا تواللہ تعالی اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتے ہیں، اور اگر وہ ارادہ کرنے کے بعد اس پرعمل بھی کرلیتا ہے تواللہ تعالی اسے صرف ایک ہی برائی لکھتے ہیں) (متفق علیہ، صحیح بخاری:81

Source: sunnionline



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت