English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

اللہ پر بھروسہ کیا تو تمہیں رزق سے ایسے ہی نوازے گا جیسا کی چڑیوں کو نوازتا ہے

شيخ/ محمد تيسيربقلم: محمد تیسیر۔۔ توکل کا مسئلہ بہت ہی اہمیت والا مسئلہ ہے۔۔۔ کیونکہ بہت سارے لوگ توکل کا معنی و مطلب صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسباب کو اختیار کرنے کے ساتھـ ہی ساتھـ اللہ رب العالمین پر توکل کرے۔۔۔ کوئی بعید نہیں کہ توکل کا مطلب زیادہ ترلوگ یہی سمجھتے ہوں مگر جس کو اللہ رب العالمین نے اس کی توفیق دی کہ وہ توکل کا مطلب ویسا سمجھے جیسا کہ اللہ رب العالمین چاہتا ہے۔

آپ جب لوگوں کے درمیان توکل سے متعلق گفتگو کریں گے تو آپ یہ دیکھیں گے کہ لوگ آپ سے کہیں گے کہ مولانا صاحب ہم تو صرف روزی چاہتے ہیں ، ہم لوگ بہت ہی تنگی میں ہیں، اس لئے توکل سے متعلق گفتگو کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ رزق کے حوالے سے ہم اور آپ اللہ رب العالمین کے اس قول سے اپنا اپنا دل مطمئن کرلیں، ارشاد باری تعالی ہے (وَفِي السَّمَاء رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ * فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ)، (اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے، آسمان و زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو)۔

محترم بھائیو! قرآن کریم کو بہت ہی اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العالمین نے جب یہ فرمایا (وَفِي السَّمَاء رِزْقُكُمْ) اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری روزی کسی بھی مخلوق کے ہاتھـ میں نہیں ہے۔ اللہ رب العالمین کبھی کبھی بعض چیزوں کے لئے ان چیزوں کی قسم کھاتا ہے جو اس نے پیدا کی ہیں جیسے کہ سورج یا چاشت کے وقت کی یا آسمان یا رات کی قسم کھاتا ہے لیکن جب اس نے رزق سے متعلق قسم کھائی تو رب ذوالجلال نے اپنی ذات عالیہ کی قسم کھائی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ)، (آسمان و زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے)۔ دوسری بات جو غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ اللہ رب العالمین نے "وإله السماء والأرض" یا "وملك السماء والأرض" نہیں کہا بلکہ اس نے یہ فرمایا (فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ)، (آسمان و زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو)۔

"رب" کا مطلب ہوتا ہے پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، تدبیر کرنے والا اور لغوی طور پر اس کا مطلب ہوتا ہے پرورش و پرداخت کرنے والا۔۔۔ یعنی کہ وہ اپنے ماتحت تمام لوگوں کی پرورش و پرداخت کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں رزق کی ضمانت کے لئے ہیں یہاں تک کہ ایک دیہاتی آدمی نے اس آیت کریمہ کی تلاوت سنی تو فورا بول پڑا کہ "کس نے بردبارکو غصہ دلایا یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی"۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ملاحظہ کریں گے کہ اللہ رب العالمین نے دعاء اور امیدیں برلانے والی آیتوں میں رب کا ذکر کیا ہے۔۔۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ)، (اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھـ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھـ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو)۔

اے میرے پروردگار اب ہم لوگ کیا کریں، ارشاد ہوا (فامشوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ)، (تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ(پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھـ کھڑا ہونا ہے)۔ اس میں روزی کی ضمانت ہے اس لئے اللہ رب العالمین نے رزق کی نسبت اپنی طرف کی۔۔۔ اور پھر اللہ رب العالمین کا یہ قول " وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " یعنی کہ جوکچھـ آپ نے کمایا ہے اللہ تعالی اس کا حساب و کتاب بھی لے گا۔

جب اللہ رب العالمین نے یہ ارشاد فرمایا (وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ)، (اس ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ تعالی پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں)۔ تاکہ تم سب یہ جان لو کہ تم زندہ رہوگے اور پھر موت بھی آئے گی۔۔۔ لیکن رہا تمہارے روزی کا سوال تو وہ اس ہستی کے ہاتھـ میں ہے جس کو کبھی موت نہ آئے گی۔

توکل صرف اور صرف اللہ رب العالمین پر ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ اسی کا فرمان ہے (أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَّعَ اللَّهِ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ)، (بےکس کی پکار کو جب وہ پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کردیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالی کے ساتھـ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو)۔

کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک مرنے والا شخص لوگوں کے درمیان زندہ رہتا ہے اور وہ کسی میت کے پاس اس کی قبر پر جاتا ہے اور کہتا ہے "یا سیدی" ہمیں ایسا اور ایسا عنایت کردو۔۔۔ حالانکہ ان لوگوں کے ہاتھـ میں نہ تو موت ہے نہ ہی زندگی ہے اور نہ ہی یہ دوبارہ اٹھنے کی طاقت رکھتے ہیں، جب کہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے (وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ)، (اس ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ تعالی پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں)۔

اسباب کو بروئے کار لانے کے بعد ہی توکل کا مرحلہ آتا ہے۔۔۔ آپ کبھی یہ گمان نہ کریں گے کہ عطا کرنے یا منع کرنے میں اسباب کا ہی دخل ہوتا ہے۔۔۔ لہذا دعاء توکل کے ساتھـ صحیح اور قابل قبول ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم سیدہ ہاجر کے قصے سے بھی نصیحت حاصل کریں جب انہوں نے دریافت کیا "کیا اللہ رب العالمین نے آپ کو ایسا کرنے کے لئے حکم دیا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں پھر سیدہ ہاجر نے کہا تب تو اللہ رب العالمین ہمیں ضائع نہیں کرے گا"۔ لہذا اللہ رب العالمین نے زمزم کو ایسا کردیا کہ اس کا پانی اب تک امنڈ امنڈ کر نکل رہا ہے یہ صرف ان کے اللہ رب العالمین کی ذات پر توکل کرنے کا نتیجہ ہے۔۔۔ کیونکہ دعاء توکل کے ساتھـ صحیح اور قابل قبول ہے۔ لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ)، (پس تو کچھـ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے)۔ اللہ رب العالمین ایسے اسباب بھی مہیا کرتا ہے جو ہم لوگ جانتے ہیں اور ایسے اسباب بھی مہیا کرتا ہے جو ہم لوگ نہیں جانتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْداً وَسَلَاماً عَلَى إِبْرَاهِيمَ)، (ہم نے فرمایا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑجا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا!)۔ اللہ رب العالمین نے ہی اسباب کو ایسا کردیا کہ وہ اپنی ماہیت سے ہٹ کر الٹا اثر کرنے لگا۔۔۔ اللہ رب العالمین نے حضرت موسی علیہ السلام کو پانی سے بچایا اور اسی پانی سے فرعون کا غرق کردیا۔

لو توكلتم على الله لرزقكم كما يرزق الطير UR



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت