|
انسانیت اسلام کی سب سے نمایاں خصوصیت بقلم: ڈاکٹر/ محمد جمال عبدالرحمن۔۔ بلاشبہ دین اسلام میں غور و فکر کرنے والا یہ پائے گا کہ انسانیت کا اسلام میں بہت ہی اونچا مقام ہے۔۔۔ جیسا کہ یہ دین اسلام کی بہت ہی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔
انسانیت کا مطلب: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اس دین میں بہت ہی اونچا اور بلند وبالا مقام ہے۔۔۔ یہاں تک کہ تمام دینی عقائد، اس کے احکام اور اس کے اغراض و مقاصد یہ سب کے سب اسی انسان کی سعادتمندی کے لئے، اسی کو اہمیت دینے کے لئے اور اسی کے حق میں فائدہ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اسی سیاق میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم بھی ایک بشر اور انسان ہیں اور آپ ہی نے اللہ رب العالمین کے پاس سے یہ دین ہمارے پاس منتقل کیا ہے جس میں اس معنی کو ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے ارشاد باری تعالی ہے: (قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ) (الکھف:110): (آپ کہہ دیجئےکہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے)۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام اللہ رب العالمین کے پاس سے جو دعوت لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دعوت لے کرآئے ان سب کی دعوت کا مقصد صرف اور صرف توحید اور اللہ رب العالمین کی عبادت کی دعوت دینا تھا، لیکن اس کے ساتھـ ہی ساتھـ اس دعوت نے انسان، اس کی ضروریات اور اس کی معیشت کی اصلاح کو یوں ہی رائیگاں نہیں چھوڑا لہذا وہ انحرافات کے ان اصلاحی پہلو کو بھی شامل حال رہا جو بسا اوقات انسانی معاشرے میں واقع ہو سکتی تھیں۔ مثال کے طور پر اللہ کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کو دیکھیں وہ اپنی قوم سے مخاطب ہوکرکہتے ہیں: (اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ) (ھود:84): (اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو)۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے توحید کی طرف دعوت دینے کے ساتھـ ہی ساتھـ اپنی قوم کو اس بات کی بھی نصیحت کی کہ ناپ تول میں کمی نہ کریں، اور نہ ہی لوگوں کے ساتھـ خرید وفروخت میں دھوکہ دھڑی سے کام لیں۔ اسی طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کی جو کہ لواطت (ہم جنس پرستی) جیسی گھٹیا برائی کے شکار تھے، وہ اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں: (وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِينَ) (الاعراف:80): (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا)۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ) (الشعراء:65): (کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھـ شہوت رانی کرتے ہو)۔ لہذا شریعت اسلامیہ عبادات و معاملات کے ساتھـ ہی ساتھـ ہر چہار جانب سے انسانی پہلو کو اہمیت دیتی ہے۔۔۔ انسان ہی کی مصلحت کی خاطر۔۔۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مالدار آدمی سے زکوۃ لی جاتی ہے اور پھر اسے غریبوں میں تقسیم کردی جاتی ہے۔ روزہ نماز یہ انسان کی زندگی کو سنوارتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ) (البقرة:153): (اے ایمان والو! صبراور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبروالوں کا ساتھـ دیتا ہے)۔ اسلام نے خرید وفروخت کے ان تمام طریقوں کو حرام قرار دیا جو انسانوں کو کسی طرح سے بھی ضرر پہنچا سکتی تھیں (اسی پر اکتفاء نہیں) بلکہ ایسے ایسے آداب واخلاق مشروع کئے جو انسانوں کی عزت وناموس کی حفاظت کرسکے۔ شریعت اسلامیہ کی طرف سے کی جانے والی انسانی تکریم کے چند پہلو پر ہم یہاں روشنی ڈال رہے ہیں: پہلا:- زمین میں اسے جانشین بنایا اللہ رب العالمین نے انسان کی تکریم اس طرح سے کی کہ اسے زمین پر رہنے سہنے کے لئے جانشین مقرر فرمایا، اور اسے ایسے علم و عقل سے آراستہ وپیراستہ کیا جس کے ذریعہ فرشتوں پر اسے فوقیت بخشی تھی۔ ارشاد باری تعالی ہے: (وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ) (البقرۃ:30): (اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں، تو انہوں نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح، حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ہو)۔ دوسرا:- اسے بہترین صورت میں پیدا کیا اللہ رب العالمین نے انسان کو بہترشکل میں پیدا کیا اور خوبصورت رنگ و روپ عطا فرمایا، اور اس کے ساتھـ ہی ساتھـ اسے تمام دیگر کائنات میں کافی اکرام سے نوازا۔۔۔ ارشاد باری تعالی ہے: (لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ) (التین:4): (یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا)۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: (اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَاراً وَالسَّمَاء بِنَاء وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ) (غافر:64): (اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنادیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں والا اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے والا)۔ تیسرا:- اللہ تعالی نے انسان کو اپنی بابرکت روح سے پیدا کیا کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک باعزت ہے ارشاد باری تعالی ہے: (إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَراً مِن طِينٍ* فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَ) (ص:71-72): (جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا)۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: (ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاء مَّهِينٍ* ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ) (السجدۃ:8-9): (پھر اس کی نسل ایک بےوقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی۔ جسے ٹھیک ٹھاک کرکے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو)۔ چوتھا:- پوری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے مسخـّرکیا اسلام کی نظر میں اللہ کے نزدیک اس انسان کی تکریم کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس نے پوری کائنات کو اس کی خدمت کے لئے مسخر کردیا، یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے محض انسان کی تکریم اور اس پر اللہ کی نعمت ہے، تاکہ وہ دنیا میں سعادتمندی کی زندگی گزار سکے۔۔۔ اور اپنے رب کی عبادت کے لئے اس سے مدد حاصل کرسکے۔ اللہ رب العالمین پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: (اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنْهَارَ* وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ* وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّهِ لاَ تُحْصُوهَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ) (ابراھیم:32-34): (اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لئے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تہمارے بس میں کردیا ہے کہ دریاؤں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کردی ہیں۔ اسی نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تہمارے کام میں لگا رکھا ہے۔ اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان کو گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔ یقینا انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے)۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: (أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ) (لقمان:20): (کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی نے زمین و آسمان کی ہرچیز کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں)۔ پانچواں:- شریعت اسلامیہ نے اللہ رب العالمین اور بندے کے درمیان موجود سارے وسیلے اور رکاوٹوں کو راستے سے ہٹادیا ایک مسلم انسان کی یہ دوسری تکریم ہے۔۔۔ کیونکہ بندہ اس کی بنیاد پر جب چاہے رب کائنات کے حضور دست دعاء دراز کرے تاکہ وہ اس کے گناہوں کی بخشش کردے اور اسی کی ساری ضرورتوں کو پورا کردے۔۔۔ بندے کو صرف یہی کرنا ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کے سامنے دست دعاء دراز کرے اور اپنی ضرورتوں کا سوال کرے۔۔۔ کیونکہ بندے اور اللہ رب العالمین کے درمیان کسی بھی شخص کو وسیلہ بنانے کی حاجت نہیں ہے جس طرح کی عیسائیوں کے یہاں پایا جاتا ہے اور اس سے انسان کی عزت وآبرو کی پامالی بھی ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ عیسائیت سارے انسانوں کی سعادت کو چند متعین افراد کے قدموں میں ڈال دیتی ہے۔۔۔ اور وہ ہیں ان کے کاہن اور پادری لوگ۔۔۔ جو رب کائنات کی نیابت کرتے ہوئے سارے لوگوں کے لئے مغفرت کی سرٹیفکٹ جاری کرتے ہیں، یہ لوگ اللہ رب العالمین اور بندوں کے درمیان روڑے کی طرح ہیں۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے: (وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ) (البقرۃ:186): (جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہدیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہرپکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھـ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے)۔ چھٹواں:- شریعت اسلامیہ میں انسان کی کرامت، اس کی مال وجائیداد اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت اسلام نے انسان کی عزت و آبرو کی حرمت اور اس کی تکریم پر کافی زور دیا ہے ساتھـ ہی ساتھـ اس کے خون اور مال وجائیداد کو بھی حرام قرار دیا ہے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخرے مرحلے میں حجۃ الوداع کے موقع پر انسانیت کی ایک جم غفیر کے سامنے آج سے چودہ سو صدی پیشتر انسانوں کے حقوق کا اقرار کرتے ہوئے اس کا کھلم کھلا اعلان کیا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم نحر(قربانی کے دن) خطبہ دیا اور اس میں آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ یوم حرام ہے، آپ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے، آپ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ حرام کا مہینہ ہے، آپ نے فرمایا تمہارا خون تمہارے مال اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر حرام ہے، جس طرح یہ دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرام ہے، آپ نے یہ کلمات چند بار دہرائے، پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: اے میرے اللہ! کیا میں نے پہنچادیا، اے میرے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھـ میں میری جان ہے، آپ نے اپنی امت کو یہی وصیت فرمائی تھی کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ (صحیح بخاری) اسلام نے تو انسانوں کے حقوق کی حفاظت صرف اس کی زندگی ہی میں نہیں کی بلکہ اس کی وفات کے بعد بھی اس کے حقوق کی حفاظت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (مردہ کی ہڈی کا توڑنا اس کی زندگی ہی میں اسے توڑنے کی طرح ہے) ( سنن ابوداؤد و مسند احمد بن حنبل)۔ یہ چیز ان تمام وضعی ادیان و مذاہب کے برخلاف ہے جس کے یہاں انسان کی کوئی قدروقیمت اور وقعت ہی نہیں ہے نہ ہی اس کی زندگی میں اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد ہی، نعمت اسلام پر اللہ رب العالمین کا لاکھـ لاکھـ شکر ہے۔ ساتواں:- شریعت اسلامیہ میں سارے لوگ یکساں ہیں مسلم شخص کے تکریم کی ایک پہچان یہ بھی ہے، کہ کالے گورے اور عربی و عجمی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، سارے لوگ - اسلام لانے کے بعد- حقوق و واجبات میں یکساں ہیں، جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ) (الحجرات:13): (اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنادیئے ہیں اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے)۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: (اے لوگو! بے شک تمہارا رب ایک ہے تمہارے باپ بھی ایک ہیں، کسی بھی عربی شخص کو کسی عجمی پر اور نہ ہی کسی عجمی شخص کو کسی عربی پر، نہ ہی کسی سرخی مائل انسان کو کسی کالے پر اور نہ ہی کسی کالے انسان کو کسی سرخی مائل انسان پرکوئی افضلیت حاصل ہے سوائے تقوی کے) (مسند احمدبن حنبل)۔ یہی نہیں بلکہ اسلام نے جب سرکشی اور جرم کرنے والوں کے حق میں سزاؤں اور حدود کو مشروع کیا تو اس کو اس طور پر مشروع کیا کہ سارے قسم کے لوگوں پر اس کی تنفیذ کی جاسکے چاہے وہ شریف خاندان کے ہوں یا پرلے درجے کے ہوں، مالدار قسم کے لوگ ہوں یا غریب طبقہ کے ہوں، حاکموں کا طبقہ ہو یا عوام کا طبقہ ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: (بے شک تم سے پہلے کے لوگ اس لئے تباہ و برباد کردیئے گئے کہ جب ان میں کوئی شریف آدمی چوری کرتا تھا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس پر حد قائم کرتے تھے، خدا کی قسم اگرفاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھـ کاٹ دیتا) (صحیح بخاری)۔ یہی وہ انسانیت ہے جس کا اسلام نے اس قدر احترام کیا ہے اور اس کی حفاظت کی ہے اور اس کا مقام ومرتبہ سیکولر لوگوں کی نعرہ بازی سے بہت پہلے ہی بلند کرچکا ہے۔۔۔ لہذا ہم اللہ رب العالمین سے دعاء گو ہیں کہ وہ ہمارے عقلوں کو روشن کردے کیونکہ سیکولر لوگوں کے خرافات نے اس کو بالکل گمراہ کردیا ہے۔۔۔ اور ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔۔۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ الإنسانية من أعظم خصائص الإسلام UR
نخلستان اسلام -
|