|
سفر حج سے متعلق کچھـ فقہی مسائل پر غور وخوض۔۔ ڈاکٹر ناجح ابراہیم کے ساتھـ ہمارے انٹریو کا چوتھا حصّہ انٹرویواور پیشکش: ڈاکٹر اسامہ عبد العظیم۔۔ ہمیشہ موسم حج کے دن آتے ہی دل میں مقدس سرزمینوں کی خوشبودار ہوائیں چلتی ہیں، اور دلوں میں بیت اللہ کی زیارت کا شوق پیدا کردیتی ہیں، بلاشبہ مسلمانوں کے مسلمانوں کے دلوں میں خانہ کعبہ کی ایک ایسی بے نظیر عظمت ہے جس کے برابر کوئی عظمت نہیں ہو سکتی ہے۔۔۔ دلوں میں حج کی ایک ایسی چاہت ہوتی ہے جس کے برابر کوئی چاہت نہیں ہو سکتی ہے۔۔۔ حاجی ہزاروں صعوبتیں اور پریشانیاں برداشت کرنے کے باوجود بھی یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ ہر سال حج کرے۔
ڈاکٹر ناجح کے ساتھـ گزشتہ انٹرویو کی تکمیل کرتے ہوئے جس میں ہم اپنے دل و جان کے ساتھـ سفر حج کے خوشگوار ایمانی معنی و مفہوم سے لطف اندوز ہو رہے تھے؛ آج ہم فریضہ حج کے چند فقہی پہلوؤں پر غور کریں گے۔۔۔ تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالی نے کس طرح سے سب سے زیادہ مشقت و پریشانی والے فریضہ کو اپنی رحمت کے ذریعہ آسان کردیا۔
اور ان کے ساتھـ ہماری انٹرویو بعض ان لطیف مشاہدات سے خالی نہیں رہی جن کا انہوں نے پچھلے سفر کے دوران مشاہدہ کیا تھا، اور قارئین کرام زندگی اور معاملات کے بعض مفید عبرتوں سے محروم نہیں ہوں گے ۔ لہذا اے معزز بھائیو! آئیے ہم دل و جان کے ساتھـ تھوڑی دیر کے لئے ڈاکٹر ناجح کے ساتھـ مکہ اور مدینہ کی فضائوں میں سیر کرییں۔
آج آپ کے فریضہ حج کی ادائیگی کو مکمل ایک سال ہوچکے ہیں، اور اس وقت آپ بیت اللہ کی زیارت کرنے والوں کا مشاہدہ کررہے ہیں، اور وہ اپنے بیگ وغیرہ خانہ کعبہ کی طرف سفر کے لئے ٹھیک کررہے ہیں، بلا شبہ آپ کے کچھـ الگ احساس ہوں گے جو آپ کے دلوں میں امنڈ رہے ہوں گے، بعض ان مشاعر وجذبات کو ہمارے لئے بھی بیان کریں؟۔
میرے بڑے بھائی استاذ صلاح ابراہیم جو تعلیم کے سابق مدیرعام (جنرل ڈائرکٹر) رہے۔ امسال (اس سال) اللہ کی توفیق سے ان کو حج سے شرف یاب ہونے کا موقع ملا، وہ بھی ان کے اور بڑی بہن (اشرف کی ماں) کے درمیاں قرعہ ہوا تھا، اس میں ان کا نام نہ نکلا، پھر دوبارہ قرعہ کے ذریعہ ہی ان کا نام اللہ کے فضل و کرم سے اس میں داخل کردیا گیا۔ اسوقت میں نے کہا: ابراھیم عبد اللہ کے خاندان کے لئے زندگی دوبارہ لوٹ آئی، اور رنج و غم کے بعد خوشحالی دکھائی دینے لگی، تھوڑی دیر بعد ہم اپنے بھائی احمد کے ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کریں گے، تاکہ وہ مرض سے شفایاب ہوجائیں، اور اپنے گھر لوٹ آئیں، اور اس قدر رنج و غم کے بعد ایک بڑے خاندان میں خوشحالی لوٹ آئے گی۔
لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ زندگی کسی کے لئے خوشگوار ہو؟، یہی وہ نتیجہ ہے جس تک ہم پہونچے ہیں۔
اندلس میں مسلمانوں کے سب سے بڑے حاکم "عبد الرحمان ناصر" جنہوں نے پچاس سال تک حکومت کی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی میں کتنا دن خوشگوار رہا؟ تو انہوں نے کہا: صرف چودہ (14) دن ہی میرے زندگی کے خوشگوار گزرے تھے کہ میرے بھائی احمد کی وفات ہوگئی، تاکہ خوشگواری کے بعد ناگواری آجائے، آسانی کے بعد مشکل آجائے، گویا کہ اللہ تعالی کوئی چیز لینے سے پہلے اپنے رحم و کرم سے ہمیں نوازتا ہے۔۔۔ اور ہم پر تنگی آنے سے پہلے آسانی کے راستے ہموار کر دیتا ہے۔
ان تمام چیزوں کے باوجود میں بہت خوش ہوا، اسلئے کہ میرا بھائی ان لوگوں میں سے ہے جن پر یہ حدیث صادق آتی ہے: "المبطون شھید" جو پیٹ کی کسی بیماری میں مبتلا ہو کر وفات پایا وہ (بھی) شہید ہے۔۔۔ حقیقت میں وہ پیٹ میں مختلف جگہ سے خون نکلنے، اور برابر پیٹ میں، اور جسم کے دیگر متفرق حصّہ میں جاری رہنےکی بنیاد پر بہت سخت تکلیف میں مبتلا تھے۔
مرض کے آخری دنوں میں پوچھنے والوں سے اپنی حالت کے بارے میں کہا کرتے تھے:"الحمد للہ، الحمد للہ" گاہ بہ گاہ ان کے تکلیف سے کراہنے اور آہ آہ کرنے، اور اسے چھپانے کے باجود بھی۔۔۔ حالانکہ وہ اول مرض میں اتنا زیادہ اللہ کے اوامر کی تمثیل کرنے والے نہیں تھے، جیسا کہ آخری چیز جو ان کے پیٹ میں پہنچی وہ زمزم تھا، جو میرے سگے بھائی نے ان کے لئے صعید (مصر میں ایک علاقے کا نام ہے) سے بھیجا تھا۔
افسوس اس دنیا پہ یر کوئی بھی یہاں خوش نہ ہوا مگر اس کو جانا پڑا۔۔۔ اور کسی پر بھی اتنی فراخ دل نہ ہوئی مگر کچھـ ہی دن بعد اس سے منہ موڑ لیا۔۔۔ اور نہ ہی کسی کے لئے ایک پل بھر مسکراتی ہے مگراس کو ابدی زخم دے جاتی ہے، ان کی وفات سے پہلے میں نے اپنے دل میں کہا: یقینا ابراہیم عبد اللہ کے خاندان کے لئے جن کا پورا خاندان جیلوں کی چہار دیواریوں میں برسوں گزارا وقت آچکا ہے کہ اب وہ امن وآمان اور سلامتی کی زندگی گزاریں، تو اچانک امراض کا حملہ شروع ہوگیا، یہی ہے زندگی کی کار گزاری، نہ تو اس سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے خوشحالی ملتی ہے۔
حقیقی سکون واطمینان اور سعادت مندی تو صرف جنت میں ہے، ارشاد باری ہے (فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ) (آل عمران:185): "پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وہ کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے" ان ہی ساری چیزوں نے اس مدت میں حج کے لئے مقدس جگہوں کی جانب جانے والے وفود کے سلسلے میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا تھا۔
گزشہ سال حج کے تعلق سے آپ کے ساتھـ کئے گئے انٹرویو کا میں مطالعہ کر رہا تھا، وہاں ایک معنی نے ہم کو غور و خوض کرنے پر مجبور کردیا جسے آپ نے دوران گفتگو بہت زیادہ اہمیت دی تھی، وہ اس عظیم فریضے میں بھی آسانی کا پہلو ہے، کیا اس عظیم فریضہ میں آپ ان آسانیوں کے بارے میں کچھـ بتانا چاہیں گے؟۔
ہاں! میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اس جامع و مانع فریضہ میں شروع سے لیکر اخیر تک آسانی اور سہولت کا معنی پایا جاتا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فریضہ حج کے موقع پر گفتگو کے دوران ارشاد فرمایا: " اللہ نے حج کو فرض کیا ہے چنانچہ حج کرو" چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دعوت و تبلیغ کے عبقری اسلوب سے پوچھنے والے کے سوال پر جواب دینے سے کتراتے ہیں جو اپنے اس سوال پر اصرار کرتا ہے کہ " کیا ہر سال (حج) کریں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم" ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تین (3) مرتبہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کتراتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا! "اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا، پھر تمہیں اس بات کی قدرت نہ ہوتی"۔
اسلئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی کمزوری کو جانتے تھے، اور ان کے وسائل (امکانیات) کی کمی کو بھی، اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ کی امت دنیا کے ہر ہر کونے میں پہنچ جائے گی، اور عنقریب لوگ حج کے لئے امریکہ، کنڈا، آسٹریلیا، ہندوستان، مغرب، چین، جنوبی افریقہ اور دنیا کے ہر ہر کونے سے آئیں گے، تو اگر حج ہر سال فرض ہوتا تو مسلمانوں پر یہ اعلی درجہ کی مشقت اور تنگی ہوتی۔
اسی طرح قائد کی نظر دور رس ہوتی ہے، ان کی فکر آفاقی ہوتی ہے، ان کی نظر صرف اپنے گرد و پیش تک محدود نہیں ہوتی ہے۔
اس سوال کی مناسبت سے جس پر سائل (پوچھنے والے) نے اس قدر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ حج کے بارے میں اصرار کیا تھا، مسلم نوجوانوں کو اور اسلامی تحریک کے فرزندوں کو کیا سبق ملتا ہے؟
اسلامی تحریک کے فرزندگان کو اس حدیث سے بڑی نصیحتیں ملتی ہیں، وہ یہ کہ سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھـ جو عمل کیا اسے " پوچھی گئی چیز کے بارے میں ناگواری کا اظہار کرنا " کہتے ہیں (یعنی ذمہ دار کو مجبور کرنا)۔ یہ ایک پرانی بیماری ہے، اور اسلامی عمل میں نئی بیماری ہے، جس کی شروعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوۂ احد ہی میں ہوگئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اندر رہتے ہوئے ہی مشرکین سے لڑنے کا ارادہ کیا تھا، اور وہ ٹھیک رائے تھی، یہ بات معلوم ہے اپنے شہر میں رہتے ہوئے ہی دفاع کرنے سے دفاعی پوزیشن قوی رہتی ہے، اور دشمنوں کو مارنے میں بھی آسانی رہتی ہے۔
شہر سے لڑنے کے لئے فوجیوں کے یہاں یہ بات مشہور ہے کہ صحراء میں ٹینکوں کی ٹولی ایک کامل دستہ شمار کی جاتی ہے، لیکن وہی ٹولی شہر کے اندر ایک ٹینک شمار کی جاتی ہے۔
لیکن وہ نوجوان صحابۂ کرام جو غزوہ بدر میں چھوٹ گئے تھے، مشرکین سے لڑنے کے لئے کافی خواہشمند تھے، تو ان لوگوں نے ہر جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ادبی اور معنوی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے اصرار کرنا شروع کردیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا، اور مسلمانوں کے لشکر کو لیکر مدینہ سے باہر نکل گئے، پھرجو کچھـ ہونا تھا وہ ہوا اور چیدہ صحابۂ کرام قتل کئے گئے۔
کیا آپ کے سامنے کوئی ایسی مثال ہے جسے "اسلامی عمل میں پوچھی گئی چیز کے بارے میں ناگواری کا اظہار کرنا " کے نام سے جانا جاتا ہے؟۔
یقینا، سب سے واضح مثال ان چند نوجوان فوجیوں کا معاملہ ہے، وہ مشہور معاملہ جس میں چند فوجی نوجوان طلبہ نے صدر انور السادات کو قید کرنے یا قتل کرنےکی اس وقت کوشش کی تھی جس وقت وہ قومی اسمبلی (مجلس الشعب) میں خطاب کر رہے تھے۔۔۔ اور شیخ صالح سریہ ان نوجوانوں کی قیادت کر رہے تھے، جو در حقیقت اس کام کی تنفیذ کرنے کو رفض کر رہے تھے یا اس میں متردد تھے، لیکن ان کے شاگردوں میں سے کچھـ نوجوانوں نے ان سے اس کام کے لئے اصرار کیا اور ان کو اس تنفیذی عمل کے قبول کرنے پر مجبور کردیا، تو نتیجۃ ناکامی ہوئی، بہت سارے طلبہ شہید ہوئے، باقی لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا (ان کا محاکمہ کیا گیا) اور پھر ان میں سے چند کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا جن میں سر فہرست شیخ صالح سریہ بذات خود تھے۔
اسلامی تحریکوں کے قائدین کے لئے اس واقعہ میں بہت عبرت ہے جن کے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیروکاروں سے ان لوگوں سے جلد متاثر نہ ہوں، جن میں عجلت بازی اور اندھے جوش کا غلبہ ہوتا ہے۔ ساتھـ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ان نوجوانوں کو عجلت بازی سے باز رکھیں اور ان کے جوش و جذبات کو کنٹرول کریں۔۔۔ تا کہ یہ تحریک نیست و نابود نہ ہو جائے، اور تاکہ ان نیک نوجوانوں کی روحیں ہوا کے نذر نہ ہوجائیں۔
ہم دوبارہ حج میں سہولت و آسانی کے پہلوکی طرف لوٹتے ہیں، توکیا اور بھی کوئی پہلو ہے جو بندوں پر اس عظیم فریضہ کی ادائیگی میں خفت اور سہولت پر دلالت کرتا ہے؟۔
ہاں! فریضہ حج کی ادائیگی میں سہولت وآسانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فریضہ کی (ادائیگی) کا وقت کافی وسیع ہے ساری عمر کو شامل ہے، بلوغ سے لیکر آخری عمر تک جب بھی فرصت ہو حج کرلے۔ اسی طرح علماء کرام نے یہ فیصلہ کیا ہے بخلاف دوسرے اسلامی فرائض کے، جیسا کہ نماز، تو اس کا وقت مختصر ہوتا ہے، اسی طرح زکاۃ جس کی مدت سال کے آخر تک ختم ہو جاتی ہے، اسلئے حج بہت سارے فقہاء کی نظر میں تاخیر سے کرنا واجب ہے، اگرچہ اس کے پاس سواری اور زاد راہ کی استطاعت ہی کیوں نہ ہو، اور اگر چہ اس کے حق میں جلدی کرنا بہتر ہی کیوں نہ ہو، یہ بھی اللہ تعالی کی طرف سے فریضہ حج کی ادائیگی میں ایک طرح کی سہولت و آسانی میں سے ہے۔
حج کی سہولت و آسانی میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ اسلام نے احرام سے پہلے حج کی تین قسموں میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دے دیا، افراد، یا تمتع، یا قران۔
کسی ایک صورت پر لازم نہیں کردیا، بلکہ اختیار کا حق دیا ہے، لیکن ان قسموں میں سے ایک پر ابھارا ہے، وہ ہے "تمتع" وہ یہ کہ عمرہ کا احرام باندھے اور اسے ادا کرے، پھر اپنا احرام کھول دے، اور پھر اسی حالت میں باقی رہے یہاں تک حج کا موسم آ جائے، تو احرام باندھـ کر حج کرلے۔ یہ حج ان تینوں میں سے سب سے زیادہ آسان ہے،اور وقت ومحنت کے اعتبار سے بھی بہت مفید ہے، اکثر حاجی لوگ حج تمتع ہی کا احرام باندھتے ہیں۔
حج کی سہولت و آسانی میں سے یہ بھی ہے کہ شریعت نے فدیہ کے معاملہ میں ان کو اختیار دے دیاہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: (فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) (بقره:196) "البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھـ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے" تو قرآن نے انہیں اختیار دے دیا، چاہے روزہ رکھے، یا صدقہ دے، یا ذبح کرے۔ لہذا جو فقیر ہے اس کے لئے روزہ زیادہ مناسب ہے، اور جو مال دار ہے اس کے لئے صدقہ یا ذبح زیادہ مناسب ہے، اس طریقے سے شریعت نے حاجی کے تمام سطح کی رعایت کی ہے، فدیہ کے کسی قسم کی تحدید سے ان پر تنگی نہیں کی ہے کیونکہ بسا اوقات یہ چیز بعض پر آسان ہوتی اور بعض دوسرے لوگوں پر گراں گزرتی۔
سچ تو یہ ہے کہ فریضہ حج میں اتنے زیادہ سہولت و آسانی کے پہلو ہیں جو ختم نہیں ہو سکتے ہیں، لیکن یہ بعض مثالیں ہیں جو ہمارے لئے یہ واضح کرتی ہیں کہ اسلام اپنے پیروکاروں سے مشکل ترین عبادت میں حد درجہ رحمت کا خواہاں ہے، اور وہ (عبادت) اس حد تک سہولت و آسانی سے گھری ہوئی ہے کہ مکلف (بندوں) کے حق میں بالکل آسان ہو گئی۔
میں آپ کو دیکھـ رہا ہوں کہ آپ مستقل طور پراپنی کتابوں میں سہولت و آسانی کی باتیں کررہے ہیں، اور بہت ہی زیادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا والی حدیث پیش کررہے ہیں جس میں آپ فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کو کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کو اختیار فرمایا جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا پھر اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے زیادہ دور رہتے تھے" کیا ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ یہ سہولت وآسانی کہیں دین کے ضیاع کا سبب نہ بن جائے؟۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آپ حدیث شریف میں نشاندیہی کی گئی سہولت و آسانی کو اپناتے ہیں تو آپ دین کو مضبوطی اور پختگی کے ساتھـ نہیں اختیار کرتے۔۔۔ لیکن یہ خیال سرا سر غلط ہے، کون ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ افضل، طاقتور اور خود دار ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کو کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کو اختیار فرمایا جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا" ضروری یہ ہے کہ وہ گناہ (کا کام) نہ ہو۔
تو جو شخص بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ سے بلند درجہ کا خواہاں ہے وہ یا تو اپنے دعوی میں جھوٹا ہے، یا اپنے آپ کو حد درجہ کی ایسی تنگی میں ڈالنا چاہتا ہے، جو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ کار پر عمل کرنے کے لئے مجبور کردے گی۔۔۔ یا تو وہ مکمل طور پر دین ہی سے نکل جائے گا۔
ذرا بتائیے! کیا اسلام تنگی اور سختی ہی کو لیکر آیا ہے، یا اس کے برعکس؟ (يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ) (البقره:185) "اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھـ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں" یہ ساری چیزیں مشروط ہیں ایک ہی شرط کے ساتھـ، وہ یہ کہ کسی طرح کا گناہ نہ ہو، اور نہ ہی کوئی بڑی معصیت۔
عام طور پر دین میں غلوکرنا یا تقصیر(کوتاہی) کرنا یہ ایک ہی سکّے کا دو رخ ہے، اور زیادہ تر مسلمان یا تو غلو میں پڑجاتے ہیں یا تقصیر(کوتاہی) میں، اور یہ دونوں ہی دین واسلام اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سہولت و آسانی اور اسلامی وسطیت (اعتدال) کو اچھی طرح سمجھیں، سہولت و آسانی کا مطلب یہ نہیں کہ دین کو علمانیوں کی طرح خیرباد کہ دیں ۔ اور نہ ہی اس کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کو حرام کی طرف منتقل کریں یا اپنے رب کے خلاف سرکشی کرنے پر آمادہ کریں، یا دین ہی سے نکل جائیں، یا فاحشات اور کبیرہ گناہوں میں پڑجائیں، یا دین اور عزت و آبرو کو لے کر شکوک شبہات میں پڑجائیں، یا علماء کرام کی معمولی غلطیوں کو نشانہ بنایا جائے، یا اماموں لی لغزشوں کو اچھالے، تا کہ یہی چیز ان کے علم و عمل کا نتیجہ بن جائے جس کا نہ دین میں کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی دنیا میں۔ چنانچہ یہ حدیث آپ کودو مباح کاموں کے درمیان اختیار دیتی ہے تا کہ آپ اپنے لئے، اپنی امت کے لئے اور اپنی جماعت کے لئے ان دو میں سے آسان کو اختیار کریں۔ ہم میں سے بعض لوگ پچھلے زمانے میں فقہی فرعیات میں سخت اور دشوار مسئلہ کو اختیار کرتے تھے، اسی طرح اماموں کے اقوال میں بھی احتیاط برتتے ہوئے اور عزیمت پر عمل کرتے ہوئے اختیار کرتے تھے جیسا کہ ہم گمان کرتے تھے۔۔۔ لیکن یہ غلط ہے اور شریعت کے مخالف بھی ہے، خاص کرجب آپ قائد ہوں یا مفتی ہوں یا ذمہ دار ہوں یہاں تک کہ اپنے آپ کے لئے بھی ضروری ہے کہ آسان مسئلہ اختیار کریں جب تک کہ وہ حلال ہے، اسلئے کہ شریعت ہم کو عذاب دے کرعبادت طلب نہیں کرتی۔
کیا اس حدیث کے قرآن وحدیث میں کچھـ شواہد بھی ہیں؟ یا نہیں؟۔
میں اس حدیث کو بڑی عظیم ترین اور مہم حدیثوں میں شمار کرتا ہوں، اس کے قرآن وحدیث میں بڑے شواہد ہیں، ذرا مجھے اسلامی تحریکوں کے لئے، دعاہ مبلغین ومربین کے لئے، قائدین اور ذمہ داروں کے لئے اس حدیث کی تشریح بیان کرنے دیجئے: بلاشبہ یہ حدیث تمام رہنماؤں کے لئے مشعل راہ ہے، خواہ وہ ملکوں کے سربراہ ہوں، یا امتوں کے، یا جماعتوں کے، یا اسلامی تحریکوں کے، بلکہ وہ والد کے لئے اپنے گھر میں بلکہ یہ انفرادی طور پر ہر شخص کےلئے نور ہدایت ہے ۔
ان تمام لوگوں کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے کہ وہ ہمیشہ آسان کو اختیار کریں، جب تک کہ وہ حلال ہو، اس میں کوئی گناہ نہ ہو، اور نہ ہی شریعت اسلام کے مخالف ہو۔ اسلام اسلئے نہیں آیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو پریشان کرے، یا ان کو مشقت اور تنگی میں ڈالے، اور یہ کیسے ہوگا جبکہ اس کا آنا ہی رفع حرج اور دفع مشقت کے لئے ہوا ہے، وہ اسلامی شریعت کے اصل مقصدوں میں سے ہے، اللہ تعالی نے فرمایا ہے: (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ) (حج:78) یعنی:" اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی" اور اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشن کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی فرمایا: (وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ) (الأعراف:157): (اور ان لوگوں پرجو بوجھـ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے سچے پیروکاروں، دعاۃ ومربین کا کام یہ ہے کہ لوگوں سے بوجھـ ہلکا کریں، اور ان کے پیروں میں پڑی ہوئی بیڑیوں اور زنجیروں کھولیں۔ چنانچہ جس شخص نے لوگوں پر بوجھـ ڈالنے کی کوشش کی، اور ان کو تنگی میں مبتلا کیا، تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی صریح مخالفت کی، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشن پر عمل پیرا نہیں، بلکہ وہ اللہ کے شرعی ارادے کے مخالف بھی ہے، فرمان باری ہے: (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ العُسْرَ) (البقرہ:185)، (اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھـ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں ہے)۔
اوراللہ رب العالمین کے اس خطاب پر غور کریں جس کے مخاطب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اورآپ کے بعد سارے مؤمنین ہیں، سورہ طہ کے شروع میں ارشاد ہے: (طه * مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ القُرْآنَ لِتَشْقَى)، (طہ:1-2) "طہ، ہم نے یہ قرآن تجھـ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے۔ یہ خطاب صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہی خاص نہیں تھا، بلکہ یہ تمام مسلمانوں سے عام خطاب ہے، اللہ رب رب العالمین یہ خبر دے رہا ہے کہ قرآن کا نزول مؤمنوں کی تعذیب اور ان سے سختی کا برتاؤ کرنے کے لئے نہیں ہوا ہے، بلکہ ان کی سعادت واکرام کے لئے ہوا ہے، ان کی کشادگی اور راحت کے لئے ہوا ہے، لیکن حلال طریقوں سے جس سے اللہ راضی ہو۔ شریعت میں اسی معنی کے تواتر کے لئے فقھاء نے اس سلسلے میں قرآن وسنت کے نصوص سے بہت سے متفقہ فقہی قواعد کا استنباط کیا ہے، اور اس پر اتفاق کیا ہے کہ فقہاء کے اجتہادات اور ان کے فتووں میں اس کی مخالفت کرنا کسی بھی زمانے میں جائز نہیں ہے۔ انہی قواعد میں سے یہ ہے "المشقۃ تجلب التیسیر" یعنی پریشانیاں سہولتیں لاتی ہیں، انہی میں سے یہ بھی ہے "إذا ضاق الأمر اتسع" جب معاملہ تنگ ہوجاتا ہے تو کشادگی آجاتی ہے، جسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو استنباط کرنے کا شرف حاصل ہوا، ان دونوں کے علاوہ بھی شریعت اسلامیہ میں حرج دور کرنے کے (بہت سارے) قواعد ہیں۔
کیا وہ سہولت و آسانی جس کے بارے میں آپ نے گفتگو کی اس کے لئے کوئی شرط بھی ہے، یا کسی قید و شرط کی رعایت کئے بغیر معاملہ بالکل کھلا ہوا ہے ؟! جب کہ عمار بن یاسر جن کا شمار بڑے صحابہ کرام میں ہوتا ہے ان سے یہ (حدیث) مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں "ما خیر عمار بین امرین الا اختار اشدھما" عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جب بھی دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، تو انہوں نے اس میں سب سے زیادہ سختی والے ہی کو اختیار کیا۔۔۔ تو کیوں ہم ہمیشہ صرف سہولت وآسانی والی حدیث ہی کو لیتے ہیں، اور عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بھول جاتے ہیں؟۔
میں ایک بار پہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی طرف لوٹتا ہوں اور اس میں موجود ایک جملہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو کہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ ہے "اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے" میری رائے یہی وہ تنہا قید ہے جو کہ مسلمان کو سہولت و آسانی کے (اختیار کے) اخذ کرنے سے منع کرتی ہے، وہ یہ کہ ان کا یہ اختیار شریعت کے بالکل صریح مخالف نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت میں سہولت و آسانی کا اختیار کرنا کسی طرح سے جائز نہیں ہے۔ بہر حال اس کے علاوہ جو مختلف فیہ امور ہیں اور وہ اجتہاد کے دائرے میں آتے ہیں، تو ایسے امور میں سہولت وآسانی پر عمل کرنا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ جہاں تک حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بات ہے، تو آپ نے مجھـ سے اس کے بارے میں پوچھـ کر بہت اچھا کیا کیونکہ حقیقت میں یہ بعض لوگوں پر ملتبس ہوگئی ہے، میں یہاں اسی (حدیث) کے سلسلے میں چند امور کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔
• پہلا: یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھـ روایت کی گئی ہے، جس میں سے ایک روایت یہ بھی ہے "إلا اختار أشدهما". دوسری روایت میں ہے "إلا اختار أرشدهما". تیسری روایت میں ہے "إلا اختار أسدهما " أي أقربهما للسداد والصواب یعنی درستگی و صوابدیدگی سے زیادہ قریب ہے۔ یہ ساری روایتیں ایک دوسرے کی بغیر تعارض کے تفسیر کرتی ہیں، توان تمام روایتوں کا مقصود یہ ہے کہ اس کو چیزکو اختیار کرنا جو حق، خیر و بھلائی اور درستگی کے زیادہ قریب ہے۔
• دوسرا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے اختیار میں زمین آسمان کا فرق ہے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ جب کسی چیز کو اختیار کریں تو یہ اختیار ان کے لئے (خاص) ہے، ان کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دین کے لئے وہ محتاط ہوں اگر وہ ایسا چاہیں، یہ عمل ان کے ساتھـ خاص ہے، دوسروں پر لازم نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے تو آپ کا کوئی چیز اختیارکرنا یہ آپ کے زمانے میں موجود لوگوں کے لئے اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے سارے زمانے کے لوگوں کے لئے ہے، تو وہ شخص جو اپنے لئے کوئی چیز اختیار کرے اس طور پر کہ وہ اپنے حال کو زیادہ جانتا ہے وہ، اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی امت کے لئے اختیار کریں جس میں کمزور بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، مالدار اور فقیر بھی ہیں، ضرورت مند بھی ہیں، عالم اور جاہل بھی ہیں، ذہین اور احمق بھی ہیں، غرضیکہ انسانوں کی ساری قسمیں ہیں، کون سا اختیار بہتر ہوگا، (یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار ہی بہتر ہوگا) ۔ خلاصہ یہ کی فرد کی سوچ جماعات وملکوں اور امتوں کے سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔ اسلئے اہل علم کے لئے، حکام اور قائدین کے لئے، مفتی اور امراء کے لئے قطعا مناسب نہیں کہ وہ اپنے رعایا کے لئے دشوار کن مسئلہ اختیار کریں، اس حجت سے کہ اس میں دین کے لئے احتیاط ہے، بزرگوں اور زاہدوں کے لئے بلندی ہے، اس پر رعایا کا معاملہ درست نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ان لوگوں پر ضروری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، اور لوگوں کے لئے آسان و سہل ترین رائے کا انتخاب کریں جب تک کہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
• تیسرا: اگر یہ بات مان بھی لیں کہ یہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا اختیار اور ان کا اپنا طریقہ ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ زیادہ زیادہ بہتر اور کامل ہے۔ پھر یہ کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سارے انبیاء کے طریقوں پر فوقیت دیتے ہیں، تو کیوں نہ ہم ان کے طریقے کو ایک صحابی کے طریقے پر فوقیت دیں۔
اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام نے جیل سے نکلنے میں داعی کو ٹھکڑا دیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے اجتہاد کی مخالفت کی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں سکھلایا کہ ہم داعی کی آواز پر لبیک کہیں آپ نے ارشاد فرمایا: "اگر میں اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کی جگہ پر ہوتا تو داعی کو لبیک کہتا "، چونکہ آپ کا طریقہ سب سے بہتراور کامل ہے، یہ آپ کے طریقہ میں سے ہے کہ جو بھی آپ کی طرف مدد کا ہاتھـ بڑھائے تاکہ آپ آزمائش سے نکلیں، یا بلاء سے چھٹکارہ پائیں، بشرطیکہ اس میں کسی طرح کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ نہ ہو تو آپ اسے قبول کریں۔
اسی طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے ہلاکت و بربادی کی دعاء کرتے ہوئے فرمایا (رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الكَافِرِينَ دَيَّاراً) (نوح:26) "اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ"، اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ ہم اپنی قوم کے لئے ہدایت کی دعاء کریں، اور جب آپ کی قوم نے آپ کو ستایا آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور آپ کو بھگایا تو آپ نے فرمایا: "اے اللہ تو میری قوم کو ہدایت دے اسلئے کہ وہ نہیں جانتی ہے"۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں سے یہ نہیں ہے جو لوگ آج اپنی امت کے لئے ہلاکت وتباہی کی بدعاء کررہے ہیں، اور نہ ہی یہ داعیوں(دعوت و تبلیغ کرنے والوں) کا اخلاق ہے، چونکہ داعی تو لوگوں پر سب سے زیادہ مشفق اور مہربان ہوتے ہیں، اور لوگوں کی ہدایت پر سب سے زیادہ حریص ہوتے ہیں ان کی تباہی و بربادی کے خواہاں نہیں ہوتے ہیں۔
حج میں سہولت و آسانی کے باقی پہلوؤں پر ہم پھر آپ کے سوال کی طرف رجوع کریں گے۔۔۔ لیکن فی الحال میں چاہتا ہوں آپ سے گزشتہ سال کے حج کی بقیہ داستان سنوں۔ چونکہ آپ نے پچھلے سال کے انٹرویو میں جن مشاہدات کا تذکرہ کیا تھا وہ میرے ذہنوں میں اب تک نقش ہے،مزید سننے کا جی چاہتا ہے؟۔
ہاں! خدا کی قسم وہ سارے مشاہدات اب تک میرے ذہنوں میں ایسے ہی موجود ہیں گویا کہ کل ہی میں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن جب آج ہم حج کے فقہی موضوع پر کچھـ باتیں کرہی رہے ہیں تو لیجئے اسی سے متعلق چند چیزیں ملاحظہ ہوں۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ جب میں نے مقدس سرزمین میں قدم رکھا، اور نماز کے لئے حرم گیا، تو یہ دیکھکر اچنبھے میں پڑ گیا کہ مؤذن جمعہ کے لئے دو مرتبہ اذان دے رہا ہے، اسی طرح جیسے کہ مصر کی پرانی مسجدوں میں ہوتا تھا، اور جب اس کے بعد میں مدینہ گیا تو وہاں بھی ویسے ہی پایا، باوجودیکہ سعودیہ عرب کے عام فقھاء اور خاص طور پر سلفی حضرات اس رائے کو قبول نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ صورتحال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے، تو میں نے اپنے دل میں کہا! سبحان اللہ، یہ تو اس مقدس سرزمین کے فقہاء کے گہرائی پر دلالت کرتی ہے، کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ اس طریقے کو بدل دیں، جس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جاری کیا تھا، تاکہ حج اورحرمین سے متعلق دیگر عبادات کی شکل میں کچھـ تغیر وتبدیلی نہ آجائے، اور تاکہ حرم ایک کھلونا نہ بن جائے، اور جو بھی خلیفہ یا امام آئے اس میں اپنی مرضی کے مطابق رد و بدل کرے۔
اور میں نے دل میں یہ بھی کہا: کہ جمعہ کے دو آذان دنیا کی سب سے بڑی اور مستند دو مسجدوں میں موجود ہے، اور وہ یہ ہے "مسجد حرام اور مسجد نبوی" چنانچہ مسئلہ میں اختلاف کی گنجائش ہے، اور یہ اس درجہ کی بات نہیں، کہ اس کے لئے لڑائی جھگڑا کیا جائے، بات حق وباطل کی نہیں ہے، بات تو صرف اور صرف راجح اور مرجوح کی ہے۔
اسلام کا ستارہ چمکے ہوئے اتنا عرصہ دراز گزرنے کے باوجود بھی مسجد حرام اور مسجد نبوی کی زیارت کو ہر سال ہزاروں علماء کرام اور ائمہ دین تشریف لاتے ہیں، جیسے کہ امام مالک، امام شافعی، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل علامہ ابن تیمیہ علامہ ابن قیم وغیرہ رحمہم اللہ۔ لیکن کسی نے اس امر پر نکیر کرنے کی یا اس میں رد و بدل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اس میں ایک واضح پیغام ہے خاص طور پر تحریک اسلامی کے ان فرزندگان کے لئے جو فقہ کے ان فرعی مسائل میں شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس میں اختلاف کی گنجائش ہے، اور وہ بھول جاتے ہیں کہ اگر اللہ رب العالمین چاہتا تو سارے دین کو ایک کردیتا جس میں اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہ رہتی، لیکن اللہ نے لوگوں پر رحمت و شفقت کرتے ہوئے مختلف آراء و خیالات اور نقطہ نظر کو فرعیات میں پسند کیا، اوردین کی حفاظت کی وجہ سے فقہ کو وسیع کردیا۔
آج میں ان سرگرم نوجوانوں کو جن میں اکثر مخلص ہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ مختلف فیہ مسائل میں نہ پڑیں، اسلئے کہ فقھی کے فرعی اختلافات قیامت تک ختم نہیں ہو سکتے ہیں،اور انہیں چاہئے کہ اپنے دل کو مخالفین کے لئے بھی وسیع کرلیں جب تک کہ بات شریعت کے حدود میں ہے، اور ان کو چاہیئے کہ وہ ان بڑے بڑے مسائل کا اہتمام کریں جو دین کے اساس میں سے ہے، جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس لئے کہ جوں جوں شریعت میں ان مسائل کی قدر وقیمت ہوتی ہے - اور دین کے سارے مسائل بڑی قدر و قیمت والے ہیں- اور وہ اسلام کے اہداف میں سے ایک ہدف ہوتی ہیں۔۔۔ یا وہ اس کے ارکان میں سے ایک رکن ہوتی ہیں یا اس کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہوتی ہیں اسی قدر اختلاف کا دائرۃ تنگ ہوتا ہے، اختلاف ہمیشہ وسائل وفرعیات (فروعات) اور تفاصیل میں ہوتا ہے، اور اس وقت یہ اختلاف لوگوں کے لئے رحمت بن جاتا ہے۔
ذرا امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے بات پر جو انہوں نے اختلاف الفقھاء کے سلسلے میں کہا تھا غور کریں "کہ ان کا اجماع قطعی حجت ہے، اور ان کا اختلاف وسیع رحمت ہے" اسی طرح عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا: "میں بہتر نہیں سمجھتا کہ صحابہ کے درمیان اختلاف نہ ہوا ہو۔ اسلئے کہ اگر اختلاف نہ ہوا ہوتا تو ایک ہی بات رہتی، اور لوگ تنگی میں پڑجاتے، لیکن وہ لوگ تو ہدایت کے امام ہیں، تو اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی ایک کے قول کو بھی لیا، تو یہ سنت ہوگا"۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے آداب ہیں جنہیں اختلاف رائے میں لحاظ رکھنا چاہئے۔ میں نے مقدس سرزمین میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ تعصب وہاں سے ختم ہو رہا ہے، اور لوگوں کے دلوں سے یہ چیز ناپید ہو رہی ہیں، تاکہ بھائی چارگی کی روح اس کی جگہ لے لے۔، سکون واطمنان کی فرحت بخش ہوائیں چلیں، جو برکت مکانی کی وجہ سے سب کو ڈھانپ لیں، اور اے کاش کہ سارے مسلمان بھائی اس پاکیزہ روح کو لیکر سارے عالم میں اور ہر زمانے میں ساتھـ ساتھـ لے کر جائیں۔
اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کا آپ نے وہاں مشاہدہ کیا، اور ان چیزوں نے آپ کو کافی متاثر کیا؟۔
میں نے اس مقدس سرزمین میں بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے، جن میں سے یہ بھی وہاں حرمین شریفین میں نمازوں میں تخفیف کرتے ہیں، زیادہ لمبی نمازیں نہیں پڑھتے ہیں، میرا حرمین شریفین میں پچیس/٢٥ دن تک قیام رہا، جہری وسری نمازوں میں بھی شریک ہوا، جس سے اندازہ ہو گیا کہ وہ لوگ ایسی نماز پڑھتے ہیں، جس میں ہر طرح کے ظروف و احوال والے تمام لوگوں کی رعایت ہوتی ہے، چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، تندرست ہو یا مریض، جوان ہو یا بوڑھا، عربی ہو یا عجمی۔ یہاں تک کہ رمضان میں تہجد کی نماز میں بھی تمام نمازیوں کے احوال و ظروف کی رعایت کرتے ہوئے ہلکی نماز پڑھتے ہیں۔
تو میں نے پھر اپنے دل میں کہا: "سبحان اللہ" یہ بھی سہولت و آسانی کی فقہ میں سے ہے کہ اس میں سارے لوگوں کے احوال و ظروف کی رعایت ہوتی ہے، اور یہ بات عجیب وغریب بھی نہیں ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ہر قسم کے حاجی کو دیکھا ہو، چھوٹے بچوں سے لیکر ستّر، اسّی، نوّے سال کے بوڑھے تک۔
بعض ان میں سے جھکی کمروالے ہوتے ہیں جو چل نہیں سکتے، بعض دودھـ پلانے والی عورتیں ہوتی ہیں، اور بعض ان میں سے اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہوتی ہیں، یہ ساری پریشانیاں اس شدید بھیڑ بھاڑ اور آپس میں دھکے کے علاوہ ہیں، جس کا حاجی سامنا کرتا ہے، وہ سجدے کے لئے جگہ بھی نہیں پاتے ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جس کو حرمین شریفین کے امام تطبیق دیتے ہیں "المشقۃ تجلب التیسیر" پریشانیاں آسانی کی موجب ہیں۔
چنانچہ جتنا چاہے انسان اپنی نماز اتنی ہی لمبی کرے بشرطیکہ وہ اکیلا ہو، لیکن جب وہ امام ہو قائد ہو تو چاہئے کہ ان سب کی رعایت کریں جو ان کی رعیت میں ہیں۔ اسی طریقے سے میں نے دیکھا کہ سارے ممالک کے لوگ اچھی طرح نماز پڑھتے ہیں، یہ اس کے بالکل برعکس ہے جو میں نے سن رکھا تھا کہ بہت سارے عجمی لوگ اچھی طرح نماز پڑھنا نہیں جانتے ہیں (حالانکہ بات ایسی نہیں ہے)۔ اور یہی وہ چیز ہے جو دلالت کرتی ہے کہ اسلام الحمد للہ پھیل رہا ہے اور اس کے شعائر سے لوگوں کو محبت ہوتی ہے، اور لوگوں کا اقبال اس کے سیکھنے سکھانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
وہ کون سے مظاہر ہیں جو آپ کو پسند نہیں آئیں، اور آپ نے تمنا کی، کہ اے کاش یہ چیزیں بیت اللہ شریف کی زیارت کرنے والوں میں نہ ہوتیں؟۔
سب سے زیادہ جو بات ناگوار لگی وہ ہے حجاج کرام کے درمیان ہر چیز میں سخت بھیڑ۔ باب حرم پر بھیڑ۔۔۔ طواف میں بھیڑ۔۔۔ حجر اسود تک پہونچنے میں بھیڑ۔۔۔ ہوٹلوں میں رہنے سہنے کی جگہوں پر، لفٹ اوردروازوں پر بھیڑ۔۔۔ ان بسوں پر سوار ہونے میں بھیڑجو حجاج کرام کو نقل کرتی ہیں ۔۔۔ اسی طرح داخل حرم میں ہر ہر جگہ بھیڑ۔۔۔ گزرگا ہوں پر بھیڑ، اس طرح مسجد نبوی میں روضۂ شریف کے پاس پہنچنے میں سخت بھیڑ، اگر وہاں پولیس موجود نہ ہو تو کیا سے کیا ہوجائے۔ اسی سخت بھیڑ میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیاری حدیث یاد آئی، جب آپ نے صحابۂ کرام کی بھیڑ دیکھـ کر فرمایا تھا "سکون و اطمینان کے ساتھـ۔۔۔ سکون و اطمینان کے ساتھـ اسلئے کہ بھلائی دھکا دھکی میں نہیں ہے" یہ اس وقت کی بات ہے جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد اسی (80) ہزار سے زائد نہ تھی، اور پھر آج کا عالم کیا ہوگا جب کہ حاجیوں کی تعداد لاکھوں تک پہونچ گئی ہے۔۔۔ لہذا صحابہ کرام کی تعداد کم ہونے کے باوجود آپ نے بھیڑ بھاڑ سے منع کیا۔
حدیث میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ حج کا مقصود نیکی ہے۔۔۔ اور یہ نیکی عجلت بازی و جلد بازی لوگوں کو دھکا دینے اور لڑائی کرنے سے نہیں آئیگی، بلکہ نیکی تو سکون و اطمینان اور خاموشی سے آتی ہے۔ یہاں حدیث میں ایک معنی یہ بھی ہے کہ عبادات وفرائض صرف اللہ کے حقوق کی رعایت وپاسداری کرنے سے نہیں ہوتی ہے، بلکہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق کی بھی رعایت کریں جن کے ساتھـ ان کا معاملہ ہو، یا ان کے ساتھـ ان کا اٹھنا بیٹھنا ہو، وہ لوگوں سے الگ ہو کر کسی خاص جزیرہ میں تو زندگی نہیں گزارے گا، وہ اسی معاشرہ میں زندگی گزارے گا جہاں ان کے علاوہ اور بھی لوگ بستے ہیں، اس پر ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے تعامل سیکھیں، اور کیسے ان کے حقوق کی رعایت کی جاتی ہے بغیر کسی کو تکلیف پہونچائے ہوئے اس حال میں کہ وہ بھی حج کر رہے ہوں۔
در اصل مسئلہ مرتبط ہے مسلم کے حقیقی عبادت کے فہم پر، اسلئے کہ وہ ظاہری اشکال وہیئات کی ادائیگی کی وجہ سے مقصود عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں، جس بنا پر ساری محنتیں ضائع ہوجاتی ہیں کیا اس سے آپ کی مراد یہی ہے؟۔
سب سے پہلی پریشانی تو یہی ہے کہ لوگ عبادات وشریعت کے اصل مقاصد کو نہیں سمجھتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر حاجی کو چاہیئے کہ طواف کے بعد مقام ابراھیم کے پیچھے کھڑے ہوں تاکہ وہ دو رکعت نماز پڑھ لیں جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے (وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى) (بقرہ:125)، "تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو" یہ دونوں رکعت کی ادائیگی حرم کے کسی جگہ سے بھی کرسکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کے سامنے وہ مقام ہو، چاہے وہ دوسری منزل یا تیسری منزل ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ آپ کے سامنے سینکڑوں میٹر کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن بعض حاجی لوگ جان بوجھکر اسی جگہ پر نماز پڑھتے ہیں جہاں حاجیوں کی جھنڈ طواف کر رہی ہوتی ہے نتیجۃ وہ دھکے کھاتے ہیں، بسا اوقات گرپڑتے ہیں چونکہ لاکھوں حاجیوں کا مجمع جو خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے، بسا اوقات تو وہ قدموں کے نیچے روندے جاتے ہیں اور اس کا پتہ بھی نہیں چل پاتا ہے۔
بلکہ میں نے یہاں تک دیکھا کہ کسی ملک کے حاجی لوگ لائن میں کھڑے ہوگئے تاکہ یکے بعد دیگرے سیدھے مقام کے پیچھے نماز پڑھیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے اور ان حاجیوں کے درمیان جو خانہ کعبہ کا اس جگہ سے طواف کرنا چاہتے ہیں جھگڑے کی نوبت تک آجاتی ہے، باتیں بڑھنے لگتی ہیں، یہاں تک کہ جوتوں اور ہاتھوں سے لڑائی کی نوبت آجاتی ہے، یہ ایسی چیز ہے کہ ہر عقلمند ادمی اس پر افسوس کا مظاہرہ کرتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ یہ مقدس جگہ لڑائی، جھگڑا اور آپسی پھوٹ کی جگہ نہیں ہوتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے وہ یہ کہ کس چیز نے حاجیوں کو ان کے اصلی مقاصد سے غافل کردیا، کہ نوبت اس حد تک پہونچ گئی، کہ عمر کے سب سے اچھے دنوں میں بھی لڑائی جھگڑے جیسے بدترین چیزوں کا خیال آنے لگتا ہے؟۔
جہاں تک میری رائے ہے تو وہ یہ ہے کہ امت اسلام کا زمانہ جتنا ہی لمبا ہوتا جا رہا ہے، انسان رسالت کے سرچشموں سے اتنا ہی دور ہونے لگتا ہے، دعوت و تبلیغ کا کام سست پڑنے لگتا ہے، حقیقت عبادت اور اس کے بڑے مقاصد کی تربیت کا فقدان ہونے لگتا ہے، تو اسوقت عبادات بھی رسم و رواج اور عادات وتقالید میں تبدیل ہونے لگتے ہیں جن میں کوئی روح باقی نہیں رہ جاتی ہے۔
پھر تو ان عبادتوں سے دل پر خاطر خواہ فائدہ بھی نہیں ہو پاتا ہے، اور نہ ہی انسان فضیلت اور اخلاق میں ترقی کر پاتا ہے، پھر تو عبادت کی صرف شکلیں باقی رہ جاتی ہیں، جس کے اندر کوئی جان باقی نہیں رہ جاتی ہے، صرف ظاہر کی تکمیل ہوتی ہے، باطن کی نہیں، ان کی تفصیلات اور دقت نظری حقیقت سے خالی (عاری) ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالی تو صرف اپنے بندے کے دلوں کا تقوی چاہتا ہے، ظاہر سے پہلے باطن کا اصلاح چاہتا ہے، قربانی کے بارے میں اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور کریں(لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلاَ دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ) (حج:37) "اللہ تعالی کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون، بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہونچتی ہے"۔ تاکہ آپ جان لیں کہ اللہ تعالی کی نظر قربانی کی کھال یا اس کے گوشت یا اس کے خون پر نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہ تو صرف قربانی کرنے والے کے دل کو دیکھتا ہے۔ اس کی روح اور اس کے باطن کودیکھتا ہے۔
چنانچہ حاجیوں پر خاص طور پر اور مسلمانوں پر عام طور پر ضروری ہے کہ عبادت میں اللہ رب العالمین کے مقاصد کو جانیں، تاکہ وہ ان کی حقیقت اور صحیح معنی و مفہوم تک پہنچ سکیں، ان کے رسموں اور شکلوں ہی تک محدود ہو کر نہ رہ جائیں۔
اگر حاجی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو سمجھتے جس میں کہا گیا ہے کہ "اللہ تعالی نے بیت اللہ کے طواف، صفا ومروۃ کے درمیاں دوڑ لگانے اور کنکری پھنیکنے کو اس لے لازم قرار دیا ہے کہ اس سے اللہ کا ذکر قائم ہوتا ہے" تو یہ جان لیتے کہ سارے ارکان حج میں اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑا مقصد ہے، اگر لوگ اسے جان لیں تو سیڑھیوں اور راستوں پر کھبی بھیڑ نہ لگائیں ۔ بسوں میں سوار ہونے اور ہوٹلوں کے کمروں میں داخل ہونے میں کبھی سبقت نہ کریں، اور نہ ہی دوسروں کو دھکا دیں اور اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو اذیت و تکلیف دیں تا کہ حجر اسود کے پاس کسی بھی طرح سے پہنچ جائیں اگرچہ اس کے لئے جو بھی برداشت کرنا پڑے۔۔۔ اور نہ ہی حرم کھبی کبھار لڑائی وجھگڑے کا میدان بنے۔
آج ہم آپ کے اسی قدر حج کے مشاہدات پر اکتفا کرتے ہیں، اور اپنی اساسی گفتگو پر لوٹتے ہیں وہ ہے حج میں سہولت و آسانی کا مسئلہ، میرا کہنا ہے کہ بعض لوگ تو حج کے معاملہ یہ نعرہ بلند کرتے ہیں" ارے کرو کوئی بات نہیں" سہولت و آسانی کو دلیل بنا کر۔۔۔ تو کیا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حاجی جو بھی خلاف شرع چاہے کرے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے؟ یا اور کوئی بات ہے؟۔
جواب دینے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اس حدیث کو ذکر کردوں جس میں یہ ٹکڑا وارد ہوا ہے "افعل ولا حرج" یعنی کرو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ضروری ہے کہ ہم اس عبارت کو اسی سیاق میں سمجھیں جس میں کہا گیا ہے۔ وہ حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے وقت منی میں کھڑے ہوکر لوگوں کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا، چنانچہ ایک شخص آیا اور آپ سے کہا: میں نے اس کا احساس نہیں کیا اور ذبح کرنے سے پہلے بالوں کو منڈوا لیا، تو آپ نے فرمایا: "ذبح کرو کوئی حرج نہیں" اس موقع سے ایک دوسرا شخص بھی آگیا، اور کہا: اے اللہ کے رسول اللہ میں نے احساس نہیں کیا اور پتھر یا کنکری پھنکنے سے پہلے ذبح کرلیا، تو آپ نے فرمایا: "کنکری پھینکو کوئی حرج نہیں" تو اس دن کسی بھی چیز کے آگے یا پیچھے کرنے کے بارے میں بھی پوچھا گیا تو آپ نے کہا: "کرو کوئی حرج نہیں"۔ میں کہتا ہوں کہ یہ نعرہ جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بلند کیا تھا "کرو کوئی حرج نہیں" اس کے بعد بھی وہی حکم ہے۔۔۔ وہ اسلامی شریعت کے بڑے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے۔ جس میں لوگوں پر ان کے عبادات وشرائع کے تعلق سے مہربانی اور حلم وبردباری کے معانی جھلکتے ہیں، اور وہ بہت اہم چیز ہے جو امت مسلمہ کو دیگر امتوں سےممتاز کرتی ہے۔
تو ایسے موقع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شدت نہیں برتی۔ اور اس دن مناسک حج کی ادائیگی میں تقدیم وتاخیر کی اجازت دے دی، چنانچہ آپ نے تمام لوگوں سے کہا "کرو کوئی حرج نہیں"۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے ایسا کرنے کی اجازت صرف اسلئے دی تھی کہ اس میں مشقت بہت زیادہ ہے، اس کے علاوہ اور جو بھی عبادات وفرائض ہیں اس میں تقدیم وتاخیر جائز نہیں ہے جیسا کہ نماز وغیرہ۔
میں سبھی لیڈر، مبلغین، مفتی اور مربی سے درخواست کرتا ہوں، کہ وہ اس جامع قول "افعل ولا حرج" (کرو کوئی حرج نہیں) کو اپنا شعار بنا لیں، تاکہ لوگوں کے لئے انہی چیزوں کو اختیار کریں جو ان کے نفوس پر سہل اور آسان ہو مذکورہ شرطوں کیساتھـ:
(١) جب تک وہ اللہ کی شریعت کے مخالف نہ ہو۔
(٢) ان چیزوں میں جس میں نص وارد نہ ہوئی ہو۔
(٣) تحریم وتضییق کا دائرہ وسیع نہ کرے، چونکہ عبادات کے علاوہ اشیاء کی اصل اباحت ہے، چنانچہ تحریم کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ اسلئے کہ محرمات کے لئے تفصیل شریعت میں موجود ہے ارشاد باری ہے: (وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ) (الانعام:119) "اللہ تعالی نے ان سب (جانوروں) کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے"۔
تو یہ وہ حج کا فریضہ ہے جو شریعت اسلام کی عظمت اور لوگوں پر اس کی وسیع رحمت "افعل ولا حرج" کے شعار کے ذریعہ خوبی اور بڑھوتری کو واضح کرتا ہے، اگر مسلمان بھائی اس کے عظیم قیمت اور معانی کا صحیح ادراک کرلیں تو ترقی کے لئے کافی ہوگا۔
ڈاکٹر ناجح کے ساتھـ سفر حج سے متعلق ہمارے دلچسپ انٹرویو کے اس چوتھے حصّے کے ساتھـ ہم ان کا ہر طرح سے شکریہ ادا کرتے ہیں اس امید کے ساتھـ کہ اللہ رب العالمین ان کو ہر طرح کی صحت وعافیت اور توفیق سے نوازے (آمین)۔ ساتھـ ہی مترجم کو بھی اپنے والدہ محترمہ کے ساتھـ حج کی توفیق دے (آمین، ثم آمین)۔
تأملات فقهية جامعة في رحلة الحج.. ج4 من حوار د. ناجح إبراهيم UR
ملاقاتيں -
|