English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
ملاقاتيں -

جس نے دیر تک دروازہ کھٹکھٹایا مراد کو پا لیا۔۔ ڈاکٹر ناجح ابراہیم کے ساتھـ انٹرویو کا دوسرا حصّہ

انٹرویو اورپیشکش: ڈاکٹر اسامہ عبد العظیم۔۔ حج ایک خدائی پکار کا نام ہے، جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے پکارے، اور جس نے دیر تک دروازہ کھٹکھٹایا اس نے مراد کو بھی پالیا، بیت اللہ کے سائے میں زندگی گزارنا بڑی خوش نصیبی کی بات ہے اور اس مقدس احساس کے سائے میں زندگی یہ روح کو فارغ البالی اور خوشحالی بخشتی ہے۔۔۔ اور کیوں نہ ہو جبکہ اس سر زمین پر وحی کا نزول ہوا، اور سب سے معزز ہستی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو بھیجا گیا، جہاں خیر امت پروان چڑھی، مؤمنین کے دلوں پر اب تک عرفات کی باد نسیم چل رہی ہے، اور ہم ڈاکٹر ناجح صاحب کے زندگی کے سفر کے یادوں میں محو ہیں، اور وہ اپنی پر لطف اور دلچسپ گفتگو سے ہم لوگوں کو حج اور اس کے اسرار و معانی سے مسحور کر رہے ہیں۔ اور آج۔ اللہ رب العالمین کے فضل وکرم سے۔ ہم سفرحج سے متعلق اپنے انٹرویو کو جو ہم نے شروع کیا تھا اسے مکمل کریں گے۔۔۔ اور اس بات کی کوشش کریں گےکہ اس سے کچھـ اچھے نتائج اور مفید باتیں سامنے آجائیں جو سفر حج کے دوران اللہ رب العالمین نے ان پر عیاں کی ہے۔

استاد محترم۔۔ آپ نے اپنی دلچسپ انٹرویو کے پہلے حصّے میں ذکر کیا تھا کہ آپ جیل میں پچیس(25) سال (ایک چوتھائی صدی) تک برابر اللہ رب العالمین سے دعاء کرتے رہے کہ اللہ رب العالمین آپ کو حج کی توفیق دے۔۔۔ تو آخرکس چیز نے آپ کے شوق کی اس حد تک حوصلہ افزائی کی؟ اور کیا آپ حج سے محروم رہ جانے کا خوف بھی محسوس کرتے تھے؟۔

ہاں ! شاید کہ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے گزشتہ انٹرویو میں کہا تھا کہ: دعوت الی اللہ کی بڑھتی ذمہ داریوں نے میرے قلب و جگر کو حج جیسے عظیم فریضہ سے مشغول کر رکھا تھا۔۔۔ اور اسی مشغولیت کے پیش نظر اس عظیم فریضہ کے تئیں مجھـ سے کوتاہی ہوئی۔۔۔ جس کا میں صحیح اندازہ جیل میں جانے کے بعد ہی لگا سکا، اور اس وقت میں نے حج کے سارے ذکریات کو یاد کیا، اور انہیں ذکریات اور یادگاروں میں سے چچا " مالک" کا بھی قصہ تھا۔۔۔ وہ مرکز "دیروط" میں "ابو الہدر" نامی گاؤں کے رہنے والے ہمارے ایک قریبی تھے۔۔۔ آپس میں ہم ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے، اور جب ہم اس گاؤں میں جاتے تھے تو انہیں کے پاس ٹھہرتے تھے۔۔۔ بلا شبہ وہ اور ان کا خاندان انتہائی نیک تھا، اور اس وقت میں چھوٹا تھا، چالیس (40) سال سے میں نے ان کو نہیں دیکھا تھا،اور ابھی تک مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں؟۔

چچا مالک بہت زیادہ حج کی خواہش کیا کرتے تھے، چنانچہ ہر سال شروع میں حج کی نیت سے ایک چھوٹی سی بھینس خریدتے تھے، اور جب حج کیلئے درخواست پیش کرنے کا وقت آتا تو اس کو بیچ کر پیسے اور کاغذات لے کے ہمارے پاس زیارت کے لئے آتے اور ہمارے ساتھـ ہی تعلیم گاہ میں سوتے، تو ہم اور ہمارے بھائی ان کیلئے حج کی درخواست لکھـ کر ان کے ساتھـ حج آفس جاتے تھے۔۔۔ اور مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک مرتبہ وہ یونہی واپس آگئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ (چچا) ماجرا کیا ہے؟ تو بتایا کہ میری درخواست اس سال قبول نہیں ہوسکی، میں اپنے پیسے واپس لے لونگا اور ایک دوسری نئی بھینس خریدونگا، پھر اس کو آخری سال میں بیچ کرآئندہ سال کے لئے دوبارہ درخواست پیش کرونگا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، خریدا پھر بیچا اور پھر اپنی درخواست پیش کی، اور اس مرتبہ ان کی درخواست قبول ہوگئی۔

یہ قصہ میرے ذھن میں اب تک موجود ہے، اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سادہ لوح لوگوں کے دلوں میں حج کا کتنا احترام اور کتنی قدر وقیمت ہوتی ہے یہ آدمی درخواست قبول نہ ہونے کی صورت میں اپنے پیسے واپس لے لیتا تھا تا کہ دوبارہ ازسرنوپیسوں کو جمع کرسکے اور اسے دوبارہ تقدیم کرسکے یہاں تک کہ اس کی درخواست قبول ہو گئی۔

یہ قصہ ایک نئی ایمانی روح کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ یہ کہ اللہ کے سامنے اصرار کرنا، کیا ایسا ہی نہیں ہے؟۔

ہاں ! بیشک اللہ تعالی اصرار کو پسند فرماتا ہے، باوجود یکہ خدا کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے کبھی بند نہیں ہوتا۔۔۔ مگر پھر بھی تابعین میں سےبعض کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اپنے درسوں میں یہ کہا کرتے تھے " جس نے دروازہ دیر تک کھٹکھٹایا قریب ہے دروازہ اس کیلئے کھول دیا جائے"، تو رابعہ عدویہ نے کہا کہ: تمہارا برا ہو۔۔۔ خدا کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

کتابوں سے پہلے یہ بات میں نے جیل میں سیکھی کہ خدا کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالی کسی مصلحت کی وجہ سے ان کی دعاء کی قبولیت میں تاخیر کرتا ہے،ان میں سے بعض درج ذیل ہیں: اللہ تعالی کی مصلحت میں سے یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کی دعاء وفریاد، عاجزی وبے بسی، گر یہ و زاری کو سننا بے حد پسند کرتا ہے۔۔۔ اسی طرح سے نیک بندہ بھی چاہتا ہے کہ وہ اللہ سے محبت کی وجہ سے خوب سوال کرے، زیادہ سے زیادہ سرگوشی کرے، وارفتگی و بے خودی کا اظہار کرے، یہی وہ چیزیں ہیں جو صحابۂ کرام سے مروی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹتا تھا، تو وہ اللہ تعالی ہی سے اپنے ٹوٹے ہوئے جوتے کے تسمے کا بھی سوال کرتے تھے کہ اللہ رب العالمین اس کی اصلاح کرنے میں ان کی مدد کرے۔۔۔ اور تسمہ حقیقت میں ایک حقیر اور کمتر چیز ہے۔

میں برابر اپنے بچوں اور بھائیوں سے کہتا ہوں کہ مسئلہ جوتےکے تسمہ کا نہیں بلکہ وہ لوگ اللہ تعالی سے بے حد محبت کرتے تھے، اور دعاء کے ذریعہ قربت حاصل کرکے لذت حاصل کرتے تھے۔ اور الحاح (گریہ و زاری) اللہ کو بے حد پسند ہے، اس لئے قبولیت میں تاخیر ہوجاتی ہے، تو وہ مؤمن بندہ غلطی سے سوچتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے بھلا دیا، اسے چھوڑدیا، اور اس کی دعاؤں غفلت برتی۔۔۔ معاذ اللہ! وہ اپنے نیک بندوں کے ساتھـ ایسا نہیں کرتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے تو وہ دعاء کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ وہ لوگ رزق کے چکر میں پڑ کر رازق کو بھول جاتے ہیں۔ اسلامی تحریک کے کارکنان کے درمیان بھی یہ ایک طرح کی بیماری ہے اور عام طور پر بہت سارے دیندار لوگوں میں بھی۔ اوربعض دوسرے لوگوں کے نزدیک ایک بہت بڑی آفت یہ بھی ہے، کہ جب ان کے پاس رزق آتا ہے تو وہ رازق سے دور ہوجاتے ہیں، حالانکہ رزق آنے کے بعد اور زیادہ رازق کی طرف مائل ہونا چاہئے، نعمت میں مست ہوکر نعمت دینے والے کوہی بھول جاتے ہیں۔

استاد محترم! بہت سارے اعزاء و اقارب، دوست و احباب سفر سے پہلے حاجیوں کے ارد گرد ہوتے ہیں۔۔۔ اور اس کو بڑی قیمتی نصیحتیں کرتے ہیں۔۔۔ لیکن بہت ہی کم نصیحتیں ذہنوں میں باقی رہتی ہیں اور وہ کبھی نہیں بھولتی ہیں۔۔۔ تو کیا آپ کو بھی آپ کے سفر حج پر نکلنے ہے پہلے کسی بھائی نے کوئی ایسی نصیحت کی جس کا آپ کے اوپر اچھا اثررہا ہو؟۔

میرے سفر سے پہلے ایک اچھی چیز یہ ہوئی کہ شیخ حمدی عبد الرحمن نے مجھے فون کیا اور کہا کہ: میں آپ کو ایک خوبصورت ھدیہ پیش کرتا ہوں، تو میں نے کہا وہ کیا ہے؟ تو فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جب خانہ کعبہ پرنظر پڑتی ہے اور اس کا احترام آپ کے دل میں بیٹتا ہے، تو اس وقت آپ کی ایک دعاء قبول ہوتی ہے،لہذا آپ اس وقت اللہ سے یہ دعاء کریں کہ اللہ تعالی آپ کو مستجاب الدعوات بنا دے۔۔۔۔ اور ضروری ہے کہ یہ آپ کی پہلی دعاء ہو تو مجھے اس ھدیہ سے بڑی خوشی ہوئی۔۔۔ اور میں نے اللہ تعالی سے من وعن ویسے ہی دعاء کی، اور میں اس سے قبولیت کا خواستگار ہوں، اسی طرح شیخ کرم نے وصیت کی کہ میں عرفات میں صرف ذکر اور دعاؤں میں مشغول رہوں، اپنے شامیانے سے حرکت نہ کروں، اور نہ ہی مسجد نمرہ جاؤں جو عرفات میں ہے، اسلئے کہ وہاں بھیڑ بہت زیادہ ہوگی اور مسجد بھی نہ پہونچ پاؤں گا، عرفہ کا سارا دن بغیر کسی فائدہ کے ضائع ہوجائیگا، لیکن بعض ان حاجیوں کے اصرار کی وجہ سے جو ہمارے ساتھـ خیمہ میں رہتے تھے بطور تجربہ کچھـ وقت کے لئے نکلے لیکن کامیابی نہ ملی۔۔۔ ہم پہنچ بھی نہ پائے اوربے انتہاء بھیڑ بھاڑ و سخت دھوپ میں ہمارا دوگھنٹے کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوگیا، اور اس وقت ہمیں شیخ کرم کی وصیت یاد آئی، لہذا جلدی سے میں والدہ کے ساتھـ اپنے خیمے میں واپس لوٹ آیا، اور پھردوبارہ رات میں عرفات سے نکلتے وقت ہی اس کو خیرآباد کہا۔ اس طریقے سے یہ مبارک سفر اپنی محبوب والدہ کے ساتھـ ستائیس سالوں کے اس ناگوار جدائی کے بعد پچھلی یادوں کے لوٹانے کا سبب بن گیا۔

ہم پچیس دنوں تک ساتھـ رہے، میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ ایک ہی روم میں ہم دونوں رہیں، لیکن حاجیوں کے ہوٹل کا نظام اس کے آڑے آگیا، چنانچہ ہم نے ایسے روم کا انتخاب کیا جو والدہ کے روم سے زیادہ قریب تھا، تاکہ میں ان سے قریب رہ کرکے خوش ہو سکوں اور ہمہ وقت ان کی خدمت کر سکوں۔

اللہ تعالی کے احسانات کو جہاز میں بھی بہت زیادہ سوچ رہا تھا، اور غور کر رہا تھا کہ اگر جیل میں ہی میری زندگی ختم ہوجاتی تو میں حج کے فریضہ سے محروم ہی ہوجاتا، اور والدین کی خدمت کا شرف بھی حاصل نہ کر پاتا، اور نہ ہی میں اس بات پر قادر ہوتا کہ انکے ساتھـ صلہ رحمی کرسکوں اور ان لوگوں کے احسان کا بدلہ دے سکوں جنہوں نے میرے ساتھـ کسی بھی طرح کی بھلائی کی۔۔۔ اسلئے طواف کے دوران میں برابر یہی دعاء کرتا تھا " اے اللہ! تو اس کے ساتھـ احسان کا معاملہ کر جس نے میرے ساتھـ احسان کیا ہے، اور اس کو نواز جنہوں نے مجھے نوازا ہے، اور جس نے بھی میری مصیبت کو دور کرنے میں کوشش کی تو اس سے بھی مصیبت کو دور کردے اور انہیں سعادت بخش جنہوں نے مجھے اور میرے خاندان کو سعادت بخشی ہے" حقیقت میں، میں ڈرتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ان سارے لوگوں کا دعاء میں احاطہ نہ کرسکوں جنہوں نے میرے ساتھـ کسی طرح کا احسان کیا یا کسی طرح کی بھلائی کی۔

استاد گرامی! جب آپ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے، اور آپ کے ارد گرد لاکھوں لوگ بھی طواف کر رہے تھے اور تلبیہ (لبیک اللھم لبیک۔۔۔) پڑھ رہے تھے، تو یقینا آپ کو اگرچہ کچھـ پل کے لئے ہی صحیح کچھـ متعین بھائیوں اور دوستوں کی یادیں آئی ہوں گی جو آپ کے خیالوں میں آئے ہوں گے اور اپنی سوچ و فکر میں ان کے ساتھـ تسبیح و تہلیل کی ہوگی، تو بتائے وہ کون سے حضرات تھے جن کو آپ نے ایسے مبارک موقع پریاد کیا؟۔

حقیقتا میں نے بہت سارے دوستوں اور بھائیوں کو یاد کیا، اور میں ان تمام لوگوں کیلئے رزق میں کشادگی اور صحت میں عافیت اور بیت اللہ شریف کی زیارت کیلئے دعاء کرتا تھا، مگر ان میں ایک بھائی کو میں بہت زیادہ یاد کرتا تھا، وہ ہیں وکیل حسن مرسی۔ رحمہ اللہ علیہ۔ یہ بیچارے ان کم لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مجھے اور میرے خاندان کو آزمائش کے آخری سالوں میں کافی نوازا، اور جب میں لمبی مدت کیلئے "طرہ" کی جیل میں تھا اور میری بیوی جب بھی ملاقات کیلئے آتی تھی تو ان کی شریک حیات کے پاس قاہرہ میں ٹھہرتی تھی۔۔۔ بھائی حسن۔ رحمہ اللہ علیہ۔ بہت بڑے مہمان نواز تھے، کبھی کبھی تو میری بیوی کے اکرام میں گھر چھوڑ کر مسجد میں جاکر سوجاتے تھے، تا کہ خواتین کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھـ کچھـ وقت کے لئے چھوڑدیں۔۔۔ اور کبھی کبھی آنے سے پہلے خوب ٹھاٹ باٹ سے کھانا پانی تیار کرتے تھے، اور جب میری بیوی آتی تو ان کے لئے قید خانہ کے دروازے تک پہنچنے کے لئے ٹیکسی کا انتظام کرکے بذات خود اپنی جیب سے کرایہ بھی دیتے تھے۔

اس نیک آدمی کو میں نے متعدد جگہوں پر یاد کیا، خانہ کعبہ کے طواف کے درمیان یاد کیا، صفا و مروہ کے درمیان دوڑ لگانے کے وقت یاد کیا، جبل عرفات پربھی یاد کیا، ان کیلئے اور ان کے خاندان کیلئے میں نے بہت زیادہ دعائیں کی۔۔۔۔ بڑی تمنا تھی کہ اللہ ان کی عمر کو دراز کرے تاکہ میں ان کے احسان کا کچھـ بدلہ چکا سکوں، لیکن جوانی ہی میں بلڈ پریشر ہائی ہونے کی بنیاد پر دماغ کی نس پھٹنے کی وجہ سے داعئ اجل کو لبیک کہ گئے۔

لوگ کہتے ہیں: سفر سے پہلے رفیق سفر کو چنیں، تو اس مبارک سفر میں جسمیں نیک اور صالح رفیق کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، آپ کو اس سال کی سفر حج میں اپنے دوستوں میں سے کس کو رفیق سفر بنانے کی خواہش ہوئی؟

بخدا میری یہ آرزو تھی کہ اسلامی جماعت کی ایک کثیر تعداد میرے ساتھـ ہو، اور ان پاکیزہ جذبات کے میدان میں میرے ساتھـ چلیں، میں نے جماعت کے لوگوں کیلئے خاص طور پر اورفرزندان اسلامی تحریک کیلئے عام طور پر دعاء کی کہ اللہ تعالی ان سب کو بارہا حج نصیب فرمائے۔ اور شاید کہ دعاء میں میری توجہ جماعت اسلامی کے لوگوں پر اس لئے تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ لوگ فقیر اور بے بس ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر لوگ مالی پریشانی کی بنیاد پر حج نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ اس لئے ہم نے ان کے لئے حج و عمرہ کی بہت زیادہ دعائیں کیں۔

لیکن اللہ تعالی نے اس سفر میں ایک بڑے ہی نیک بھائی سے ملاقات کروائی جو بہت ہی زیانہ خدمت گزار اور صبر کرنے والے تھے، اور وہ شیخ محمد یاسین صاحب ہیں، ان کے ساتھـ ان کی بیگم اوران کا تین مہینے کا چھوٹا سا بچہ طارق بھی تھا۔جس نے مصری وفد میں سب سے چھوٹے حاجی کا لقب پایا۔ ہم لوگ اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ ڈر رہے تھے، لیکن۔ الحمد اللہ۔ اس نے سفر کو مکمل کیا، اسی طرح بہت سارے چھوٹے چھوٹے بچے جنہیں ان کے والدین حج کی ادائيگی کے لئے ساتھـ لائے تھے ان کا منظر بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔ اور اسی طرح اس سال کا ایک اچھا منظر بہت پسند آیا وہ یہ کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنے والدین کے ساتھـ حج کر رہی تھی اور ان کا احرام کے کپڑے میں ملبوس ہونے والا منظر دلوں کو بہت بھاتا تھا۔

بڑی اچھی بات ہے کہ بچے احرام کا کپڑا پہنیں، اور اپنے والدین کے ساتھـ حج کی ادائیگی میں شریک ہوں، اور بلا شبہ وہ منظر دلوں کو لبہا لینے والا منظر ہوتا ہے، لیکن استاد گرامی! اس سال حاجیوں میں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ان مناظر میں سے کسی چیز نے آپ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ اور کیا آپ کو کوئی ایسا منظر یاد ہے جس نے آپ کو کافی متاثر کیا ہو؟۔

یقینا اس سال وہاں حاجیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جن کے ساتھـ مختلف عمر کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔۔۔ حج میں سب سے زیادہ جاذب منظر یہ رہا کہ آپ دیکھیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے احرام میں ملبوس اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہیں جو ان کو لیکر کعبہ کا طواف کر رہے ہیں یا ان کو لیکر صفا مروہ کے درمیان دوڑ رہے ہیں۔

 حج کے سفر میں بچوں کا سب سے اچھا منظر جو لگا وہ مدینہ منورہ میں تھا، اورخاص کر مسجد نبوی میں جہاں آپ مختلف عمر کے بچوں کی ایک بڑی جماعت کو پائیں گے، وہ عصر کے بعد سے لیکر اذان مغرب تک حفظ قرآن کے حلقوں میں بیٹھتے ہیں۔۔۔ قرآن کا حلقہ ختم ہونے کے بعد بڑے مہذب انداز میں مسجد کے اندر وہ بچے آپس میں مشہور کھیل " الرست" کھیلتے ہیں۔۔۔ ان بچوں کی بڑی اچھی عادت تھی کہ وہ بالکل سکون سے رہتے تھے، ایسا منظر مجھے صرف مسجد نبوی ہی میں نظر آیا۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ مسجد نبوی کی کمیٹی بڑی ہی عالی اور منظم کمیٹی ہے، جو تمام پروگراموں کو مرتب اور منظم انداز میں چلاتی ہے، چاہے وہ دعوتی اور تربیتی حلقہ ہو، یا فجر اور عصر کے بعد دروس کا حلقہ ہو یا عورتوں کے دروس کا، یا بچوں کے حفظ قرآن کا حلقہ ہو۔

استاد گرامی۔۔ حج کا موسم مختلف ملکوں سے اہل اسلام کے درمیان ملاقات اور تعارف کا ایک بہترین موقع ہے، اور بلا شبہ اس سفر میں آپ کی بہت سارے مختلف ملکوں کے ان لوگوں سے ملاقات ہوئی ہوگی جوحج کی ادائیگی کی غرض سے اس مقدس سرزمین کی طرف گئے۔۔۔ تو مختلف ملکوں کے حاجیوں کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات رہے؟ اور وہاں کسی چیز نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا؟۔

وہاں سب سے زیادہ نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرانے والا منظروہ عجمی مسلمان حاجیوں کا منظر تھا، حقیقت میں ان کی تعداد زیادہ تھی، ان کے احساسات جوش مار رہے تھے، مسجد حرام اور مقدس مقامات سے بے حد محبت اور بے انتہاء اس کا احترام کرتے تھے۔

مکہ میں انڈونیشی حجاج ہمارے پڑوس ہی میں رہتے تھے، اس سال حاجیوں کے وفد میں میں سب سے بڑی تعداد انڈونیشی حاجیوں کی تھی، اسلئے کہ وہ سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، باوجودیکہ اقتصادی اعتبار سے یہ ملک متوسط درجہ کا ہے لیکن ان کا کیمپ تنظیم وتنسیق کے اعتبار سے کافی اچھا تھا۔۔۔ سبھی لوگوں کا ایک ہی یونیفارم تھا، اور اس پر انڈونیشی جھنڈے کا نشان تھا، جس پر انگریزی میں "انڈونیشیا" لکھا ہوا تھا، اور ان کے وفد کا ایک خاص ایمبولینس بھی تھا۔

انڈونیشی حجاج طویل وقت تک مسجد حرام میں ٹھہرنے کو زیادہ پسند کرتے تھے، نماز کیلئے سویرے ہی جاتے تھے، ان میں ہر ایک کے ساتھـ ایک چھوٹا سا بیگ ہوا کرتا تھا، گویا کہ وہ ان مبارک دنوں میں اپنے آپ کو دنیاوی بوجھوں سے ہلکا کر لیتے ہیں، میں رات میں خانہ کعبہ کو جاتا تھا تو دیکھتا تھا کہ وہ خانہ کعبہ کے سامنے مکمل خشوع و خضوع سے کھڑے ہوئے ہیں، اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔

بعض ایشیائی حاجیوں نے تو عجب کر رکھا تھا، انہوں نے اپنی عورتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈھانکے ہوئے سر کے اوپرایک خاص قسم کا چھوٹے سے گلاب کا پھول لگالیں جو صرف ان کے لئے خاص ہو، یہ علامت انہیں تمام حاجیوں سے الگ کر دیتی تھی،ان کے درمیان آپس میں بڑا ہی تعاون تھا، کہیں بھی جاتے ایک ہی ساتھـ چلتے، جب وہ کنکری مارنے سے فارغ ہوتے تو اپنا جھنڈا بلند کرتے، اور سبھی لوگ اس کے پاس جمع ہوجاتے، پھر اپنے قیام گاہ کی جگہ لوٹ آتے۔

انڈونیشی حجاج خاموش مزاجی میں اپنی مثال آپ تھے، ان میں سے بعض لوگ ہماری ہوٹل میں بھی تھے، ان میں اوروں کے بنسبت خاموش مزاجی زیادہ تھی، اور مسجد نبوی میں بچوں کے منظر کے بڑے دلدادہ تھے، وہ عصر سے عشاء تک مسجد نبوی میں صرف اسلئے بیٹھتے تھے کہ بچوں کے حفظ قرآن کے حلقات کو دیکھـ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کریں، اور سنجیدگی کے ساتھـ کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھکر وہ لوگ بہت خوش ہوتے، گویا کہ انہوں نے اس سے پہلے بچوں کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔

ترکی حاجیوں کا وفد بھی ہمارے پڑوس ہی میں تھا، اور ہر ترکی حاجی اپنی بیوی کے ساتھـ تھا، اور ایک اعتبار سے وہ لوگ عمر رسیدہ تھے، اور اس ہوٹل کے نیچے جس میں ترکی حجاج رہتے تھے ایک ترکی (کھانے کا) ہوٹل بھی تھا، اس ہوٹل میں صرف ترکی ڈشیں (کھانے) ہی ملتی تھیں، مثلا "ترکی کباب"، "ترکی چاول" ایک مرتبہ ہم اور شیخ یاسین یہاں آئے اوراس ترکی ہوٹل میں کھانا کھائے۔

ترکی حاجیوں کی یہ عادت تھی کہ وہ شاپنگ کرنا بہت زیادہ پسند کرتے تھے، اور سامانوں کو بڑے شوق سے خریدتے تھے ٹھیک مصریوں کی طرح، اسی طرح ایرانی بھی شاپنگ کرنے کو زیادہ پسند کرتے تھے، لہذا جب آپ مکہ اور جدہ کی بڑی مارکٹوں (بازاروں) میں جائیں گے تو وہاں عام طور پرخریداری کرنے والے انہیں تین ملکوں کے لوگوں کو زیادہ پائیں گے۔

ترکی وفد میں ایک اچھی بات یہ تھی کہ جب وہ لوگ ارکان حج سے مکمل طور پر فارغ ہوجاتے، تو ان کے ذمہ دار گاڑیوں کے ذریعہ عمرہ کی ادا‎‎‎‎‎‎‎ئیگی کیلئے منظم انداز میں سفرکا انتظام کرتے تھے، اور یہ بات معلوم ہے کہ جو شخص مکہ میں رہ کرعمرہ کیلئے احرام باندھنے کا ارادہ کرے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ "تنعیم" کی طرف نکل جائے جو کہ حدود حرم سے خارج ہے،پھر وہاں سے جاکر احرام باندھے اور ازسر نو مکہ میں داخل ہو۔۔۔ اور زیادہ تر حجاج۔ اور مصری حجاج بھی۔ تنعیم کی طرف نکل جاتے تھے اور پھر وہاں سے اپنی وفد کے ساتھـ بغیر کسی سابق ترتیب کے صرف اپنے اجتھاد وعلم اور طاقت کے بقدر احرام باندھ لیتے تھے۔۔۔ برخلاف ترکی حاجیوں کے، کیونکہ ان کی گاڑیاں ہر پندرہ منٹ کے بعد ان حضرات کو جو عمرہ کرنے کی نیت سے احرام باندھنا چاہتے تھے ان کو لیکر "تنعیم" کو جاتی تھیں۔۔۔ سعودی طواف کروانے والے حضرات ترکیوں کے ساتھـ اوقات کا کافی احترام کرتے تھے، ان کے نظام کو بگاڑنے کی کسی کے اندر ہمت نہ ہوتی تھی، اس طریقے سے ترکی وفد نے حج کے سفر سے ایک ایک پل کا بڑا فائدہ اٹھایا، اوراس مقدس سرزمین میں اپنے موجودگی کے قیمتی وقت سے ہر طرح سے فائدہ اٹھانے پر بھی حریص رہا۔ اسی طریقے سے ترکی وفد نے اپنے حاجیوں کو دوسرے تاریخی مزارات دیکھانے اور ان کی زیارت کرنے کے لئے پرگرام کی ترتیب دی، جیسے کہ مسجد قباء، جبل احد (احد پہاڑ)، شھداء احد کی قبریں اورمسجد قبلتین (دو قبلہ والی مسجد) اور اس کے علاوہ دوسرے مقدس مقامات بھی۔

وہاں میں نے فلپین کے حاجیوں کو بھی کو پایا، ان کے اندر بھی اچھا نظم ونسق تھا، ان کے کپڑے ایک ہی انداز کے تھے، اورعام طور پر ایشیائی حجاج نظم ونسق کے اعلی مراتب پر تھے، اسی طرح ملیشیائی حجاج نے بھی میری توجہ اپنی طرف مبذول کرلی، ان کا امتیاز یہ تھا کہ وہ خاندان کے ساتھـ ہوا کرتے تھے، آپ دیکھیں گے کہ شوہر بھی ہے، بیوی بھی ہے اور بچے بھی ہیں، سبھی حج کیلئے تشریف لائے ہیں، عام طور پر غیر عرب (عجمی) حجاج عدد میں، نظم و نسق اور ترتیب میں، شعائر کی ادائیگی میں، اور ارکان حج کے اہتمام میں عربوں پر کئی درجہ فائق تھے۔

ایک منفی پہلو بھی دیکھنے کو ملا، وہ ہے" سگریٹ نوشی" یہ بلا بعض مصری اور ایشیائی حجاج کے درمیان منتشر تھی، یہ منظر بڑا افسوس کن تھا، چاہئے تو یہ تھا کہ حج جیسی عظیم عبادت میں اپنی بیہودہ عادتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے، لیکن ہائے افسوس! کہ بعض حضرات اپنے ( اس بیہودہ) عمل سے حج میں بھی باز نہ رہ سکے۔

استاد گرامی! اس مبارک سر زمین جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام کے پائے مبارک پہنچے ان کی زیارت کرنے والے اپنے دل میں دعوت اسلامی کی ابتدائی یادوں کوضرور سوچتے ہوں گےاور یہ بھی یاد کرتے ہوں گے کہ صحابہ کرام کی جماعت نے اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں کس قدر تکلیفیں برداشت کیں؛ توکیا آپ نے دعوت وتبلیغ سے متعلق تاریخی مقامات ومزارات کی زیارت کی؟ اور ان جگہوں پر آپ کے شعور وجذبات کیسے رہے؟۔

حاجی کیلئے ان جگہوں میں سے تو کسی کا چھوڑنا مناسب نہیں ہے، اسلئے کہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جہاد کی خوشبو آتی ہے، جو ان لوگوں نے اس دین کی مدد کیلئے بکھیری تھیں۔

اللہ تعالی نے مجھے، میری والدہ، شیخ محمد یاسین، ان کی بیگم اور ان کے بچے کو جبل احد اور جنگ احد میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کے قبروں کی زیارت کی توفیق دی، وہاں میں نے صحابۂ کرام میں سے حضرت حمزہ ومصعب بن عمیر وعمرو بن الجموح رضی اللہ عنھم اجمعین اور ان کے علاوہ بڑے بڑے صحابہ کرام کو یاد کیا، اور کچھـ ایمانی لمحے روحانی طور پر ان کے ساتھـ گزاری۔

ہم نے شھداء احد کے قبروں کی زیارت کی، ان کے لئے بہت دعا‏ئیں کی، ہم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبر کے بارے میں پوچھا، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہاں بہتّر (72) شھداء احد کی قبریں ہیں جن میں تمییزکرنا بہت دشوار ہے، کوئی نہیں جانتا ہے کہ یہ کس کی قبر ہے۔

 بڑے لطف کی بات ہے کہ ہم نے ان قبروں کے پاس مٹھائیاں اور چا کلیٹ دیکھے، جسے بعض ملکوں کے کچھـ افراد نے شھداء احد کے لئے بطور مبارک باد پیش کیا تھا، ان لوگوں کے یہاں عرف یہی ہے کہ اپنے بڑے بہادرں اور جانثاروں کیلئے بطور مبارک باد مٹھائیوں اور چاکلیٹ کے کچھـ ٹکڑے رکھتے ہیں۔۔۔ ان مسلمانوں کے جذبات تو اچھے ہیں اگرچہ ان جذبات کی تعبیر کا طریقہ اچھا نہیں ہے۔

وہاں میرے ذہن میں ایک فکرہ آیا، میری خواہش تھی کہ اے کاش کہ وہ شرمندہ تعبیر ہو جائے، وہ یہ کہ اس جگہ کسی ایسی چیز کا قیام عمل میں آئے جو جنگ احد کو لیکر بانوراما کی طرح سے ہو اور اس بانوراما کے ذریعہ جنگ اور اس کے تاریخی آثار و نشانات کو ہرممکن (عربی، انگریزی، فرانسیس، اردو، سواحلی وغیرہ) زبان میں بیان کیا جائے، خصوصا وہ صحرائی علاقے ہیں جہاں اس طرح کے منصوبے کوعمل میں لانا بہت ہی آسان ہے۔۔۔ مردوں اور عورتوں کی باری لگا کر اس کی مکمل زیارت کا بھی امکان ہے۔۔۔ اور میرا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو دین و اسلام کی دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔

 لیکن وہاں کی بھی حالت ہمارے یہاں کے ایک حکومتی روٹین کی طرح ہوگیا ہے، ترجمانی کرنے والا دو باتیں رٹ لیتا ہے اور اسی کو ہربار زیارت کرنی والی فوج پر دہراتا ہے، اور پھر ان سے شہیدوں کیلئے رحمت و مغفرت اور دعا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اس میں کسی طرح کے اخلاص و جذبہ کی بو بھی نہیں آتی ہے، وہ دعوت کتنی ہی کمزور ہوتی ہے جو ٹھنڈے احساس و جذبات کے ساتھـ دی جاتی ہے یا اس دعوت وتبلیغ کو انجام دینے والے زرخرید ملازم یا روٹینی طور پر کام کرنے والے حضرات ہوں۔۔۔ کیونکہ روٹینی عمل دعوت و تبلیغ کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور مبلغین کے اندر سے روحانیت کا خاتمہ کر دیتا ہے اور ایسی کیفیت پیدا کر دیتا ہے کہ مبلغین کے زبان سے نکلے ہوئے کلمات ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں نہ کوئی روح ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دم۔

میں برابر کہتا تھا کہ: دعوت کوئی روٹینی عمل نہیں ہے، وہ ایک ایمانی جذبہ ہے جو داعیہ کے روح سے نکل کر مدعویین کے جسم و جان تک سرایت کرجاتا ہے، میرا گمان ہے کہ اس جیسے اچھے معالم اگر ہم لوگوں کے علاوہ مغربی ممالک کے پاس ہوتے تو وہ اس موقع کا کافی فائدہ اٹھاتے۔

کیا آپ کو بعض وہ اہم دعائیں یاد ہیں جو آپ نے عرفات یا طواف یا ان دونوں کے علاوہ کسی جگہ میں کی ہو؟۔

میں نے دیکھا کہ اکثر حاجی لوگ حج کے دنوں میں ذکر و دعا میں مشغول ہوگئے ہیں، عرفہ میں میں نے اپنے خیمہ کے اندر بعض حاجیوں کو دیکھا کہ وہ لوگ دنیوں باتوں میں لگے ہوئے ہیں جس سے کوئی فائدہ نہیں، میں بارہا اپنے دل میں کہتا تھا، کہ یہ لاکھوں کا مجمع ہے جسے صرف دین نے جمع کیا ہے، سیاست ہی ان کو الگ کردیتی ہے جب بھی انہوں نے کسی سیاسی موضوع پر گفتگو کی ان میں شدید اختلاف اور جھگڑا ہی ہوا۔

تو میں نے انھیں کہا، اے میرے بھائیو! آؤ سب دعاء کرتے ہیں۔۔۔ لہذا ظہر کے بعد میں نے تقریبا مکمل ایک گھنٹہ ان لوگوں کی ساتھـ دعاء کی، پھر میں نے ان سے کہا ہر آدمی ذکر ودعاء میں مشغول ہو جائے اور اللہ تعالی سے وہ چیز طلب کرے جو انھیں بہت ہی زیادہ محبوب ہے، پھر ان کو میں نے عصر بعد بھی ایک جامع دعاء پر جمع کیا، جنکو اپنی گمان سے میں نے اچھا سمجھا پہلے میں نے اس دعاء کی درخواست کی، پھر اس کے بعد دوسرے پھر تیسرے کو۔ پھر مغرب کے وقت دعائیں ختم کیں، اس طریقے سے ہم نے اس دن کو ضائع نہیں کیا،اسی طرح میں نے طواف کے وقت بھی دعاء کی اور وہ لوگ میرے پیچھے تھے اور اس وقت جو بھی وہاں حاضرہوا سب آمین کہتے رہے، میں نےقرآن وسنت کی ہر دعائیں پڑھ ڈالیں کیونکہ یہ ساری جامع دعائیں ہیں، پھر میں نے مسلمانوں کی ہر جماعت کے لئے بلا استثناء دعائیں کی، اسلامی تحریکوں کے لئے عام طور پر اور جماعت اسلامی کیلئے خاص طور پر اس طرح میں نے نوجوان مردوں اور عورتوں کے لئے، بیماروں اور جو لوگ مر چکے ہیں ان کے لئے، گرفتارشدہ بھائیوں کے لئے، قیدی بھائیوں کے لئے اور ان کے لئے بھی جن پر پھانسی کا حکم لگ چکا ہے اور مسلمانوں کے علماء اور ان کے مبلغین کے لئے خاص طور پر دعائیں کی ہیں۔

میں نے دعاء کی کہ اللہ تعالی میری اس پیشکش کو قبول فرمائے، مسلمانوں کی پریشانیاں دور کر دے، ان کے اندر امن وامان پھیلا دے، بھلائی کا دور دورہ ہو، سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کے بہتے ہوئے خون رک جائیں، یہ تنہا اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے ہو، اور وہ ہمارے لئے ذخیرہ بن جائے اس دن کے لئے جس دن کہ مال واولاد کچھـ کام نہ آئے گی، لیکن فائدہ والا وہی ہوگا جو اللہ تعالی کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔

میں نے دعاء کی کہ اے اللہ دوبارہ اسلامی تحریک کے فرزندگان کو تو جیل کا منہ نہ دکھا، اور نہ ہی محاکم عسکریہ اور ان جیسی چیزوں کا سامنا کرا، اے اللہ ان لوگوں کو خاص طور پر طویل قید سے نجات دلادے، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں " جیل کی چھوٹی سی مدت نعمت ہے اور بڑی مدت نقمت ہے " جسکو خاص لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں، یہ ان بلاؤں میں سے ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی تھی، یہ بھی دعاء کی ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلم ملک میں حکام اور اسلامی حرکت کے درمیان صلح پیدا کردے، اور انہیں بڑے خطرات کا سامنا کرنے کے لئے یکجا کردے، جن خطرات سے عالم اسلامی آج کل خارجی وداخلی طور پر دوچار ہے، اور اللہ تعالی انہیں آپس میں ہر طرح کی ٹھندے وگرم لڑای سے دور رہنے کی توفیق دے، اسلئے کہ اخیر میں فائدہ دشمنوں کو ہی پہونچتا ہے، اسی طرح بار بار میں نے دعائیں کی کہ اللہ تعالی ہمیں اور اسلامی تحریک کو خاص طور پر خونریزی، مال کی ضیاع، معصوم لوگوں کی آبروریزی خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ہوں ان سب سے درو رکھے، اور ہمیں اپنے پسندیدہ راستے کی ہدایت دے۔ اسی طرح میں نے بار بار دعائیں کی کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے دین کی طرف دعوت کے شرف اور اس پر عمل کرنے سے محروم نہ کر، اسی طرح سارے لوگوں کو بھلائی پیش کرنے سے بھی محروم نہ کر۔

میں نے اپنی طرف سے اس مؤثر دعاء کو بار بار دہرایا وہ یہ ہے "اے میرے پروردگار مجھـ پر رحم کر اور میرے ذریعہ (لوگوں پر) رحم کر(یعنی مجھـ کو بھی لوگوں پر رحم کرنے والا بنادے)۔۔۔ اور مجھـ کو نیک بنا اور میرے ذریعہ (لوگوں کو) بھی نیک بنا۔۔۔ اور مجھے عزت دے اور میرے ذریعہ (لوگوں کو) بھی عزت دے۔۔۔ اور میری پریشانی کو دور کردے اور مجھے بھی دوسروں کے دکھـ درد دور کرنے والا بنا دے۔۔۔" اور اسی طرح کی بہت ساری دعائیں کی جو میں مانگنا چاہتا تھا، اور میں نے دعائیں کی ہر اس شخص کے لئے جنہوں نے میرا اکرام کیا اور مجھے سعات بخشی اور میرے خاندان پر احسان کیا، اور ہر اس شخص کے لئے جو میرے اور ہزار لوگوں کے دکھـ درد دور کرنے کا باعث بنے، اور میں نے جماعت اسلامی کے لئے خاص طور پر دعائیں کی کہ اللہ تعالی انہیں خالص صالح ہدایت کی طرف موڑ دے، اور پہلے سے اچھا بنادے، انہیں اچھے اخلاق واعمال کی ہدایت دے دے، ان کے رزق کو کشادہ کردے، اور انہیں حج وعمرہ کی توفیق دے دے، وہ غریب ہیں ابھی ابھی جیل سے نکلے ہیں تاکہ مہنگائی ان کو دبوچ لے، ایک طرف فقر وحاجت منہ کھول کر کھڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اللہ رب العالمین کی طرف دعوت و تبلیغ کی خواہش کے ساتھـ ساتھـ اپنی فیملیوں کے اور والدین کے جو متطلبات ہیں جواس پورے آزمائش کے سالوں میں انہوں نے برداشت کی ہیں ان کی کمی بھی پوری کرنی ہے۔

افسوس صد افسوس ان داعیوں پر جو آج محتاج کھڑے ہیں یا ان مشکل دنوں میں ضرورتمند ہیں،وہ کبھی بخیلی نہیں کر سکتے جیسی بھی صورتحال ہو۔۔۔ کیونکہ وہ خرچ کرنے اور طرح طرح کی قربانیاں دینے کے عادی ہو چکے ہیں اور آج حالات نے ان کو اس لائق بنا دیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ پسندیدہ لوگوں پر بھی کچھـ نہیں خرچ کر سکتے ہیں۔

اخیر میں اے استاد گرامی ہم آپ کے لئے صرف یہی کہہ سکتے ہیں، کہ اللہ تعالی آپ کو اس بلند سوچ و فکر پر بہتریں بدلہ دے، یقینا گفتگو کا کچھـ حصہ اور باقی رہ گیا ہے جس کو ہم انشاء اللہ دوسرے حلقات میں پورا کریں گے، کیونکہ ابھی بھی ہمارے دلوں میں بہت سارے سوالات امنڈ رہے ہیں اور آپ کے دل و دماغ میں بھی بہت کچھـ ہے جس سے ہم انشاء اللہ اگلی ملاقات میں فائدہ اٹھائیں گے، ہم آپ کو اس اللہ کے حوالے کرتے ہیں جس کے یہاں کوئی امانت ضائع نہیں ہوتی ہے۔

من أدمن قرع الباب فُتح له ج2 من حوار د. ناجح إبراهيم UR



ملاقاتيں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت