English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
ملاقاتيں -

خالد نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے بیچ دیا اور میں کسی سے انتقام کا مطالبہ نہیں کرتی

ام خالد اسلامبولی کے انٹرویو کا تیسرا حصّہ

محترمہ ام خالد اسلامبولی ڈاکٹر ناجح ابراہیم کو ان سے انٹرویو لینے کا شرف حاصل ہوا۔۔ یہ عظیم عورت اپنے رب اوراپنے آپ کے ساتھـ کھری نکلی اور اس کا اپنے رب، اپنےنفس، کائنات، زندگی اورلوگوں کے ساتھـ مصالحت کرنا اوراپنے نفس کی رواداری کے ساتھـ ساتھـ۔ خدا کی قسم اگر اسلامی تحریک ان صفات سے متصف ہو جاۓ تو اپنے ملک کے ساتھـ بغیر کسی معمولی یا غیر معمولی لڑائی جھگڑے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتی اور سچائی واخلاقی تیر یا تلوار کھینچنے سے پہلے دلوں کو صحیح راستہ کی طرف لے آتی۔ جیسا کہ شیخ سید نقشبندی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کرتے ہوۓ کہتے ہیں۔

ان کے اخلاق کی تیرنے ہمارے دلوں کو جیت لیا تلوار کھینچنے یا تیراندازی کرنے سے پہلے۔

اللہ رب العالمین کے ساتھـ سچائی اختیار کرنا یہ سب سے بڑی آرائش وزیبائش ہے جس سے اسلامی تحریک آراستہ ہوتی ہے۔ اور سب سے بہترین سامان ہے جو دوسروں کے لۓ پیش کرتی ہے۔ اگر یہ سارا کا سارا کرلیتی تو ساری پارٹیوں، سیاست، اعلام اور صحافت پر غلبہ پالیتی۔

اب پیش ہے ہم سب کی ماں ام خالد اسلامبولی کے ساتھـ ہمارے انٹرویو کا تیسرا حصّہ۔

ایک معمولی سی بیوی ہونے کے ساتھـ ساتھـ کیا آپ کے پاس کوئی قومی سرگرمی بھی ہے؟۔

ہاں۔۔۔ خاص طور پر جون 1967ء کے انقلاب کے بعد۔۔۔ جنگی کوششوں میں صرف کرنے کے لئے میں ملوی سے اسوان کا سفر کیا کرتی تھی تاکہ چند ے کے طور پر عورتوں سے زر و زیور جمع کرسکوں- اس وقت مصری عوام سے ان کی غربت وحاجت کے باوجود بہت زیادہ مال ودولت اورسونا اکٹھا کیا۔ اور ہم بھی دیگر عورتوں کے ساتھـ منتقل ہوتے تھے ملوی سے اسوان تک، شہردرشہر صوبہ درصوبہ چکرلگاتے تھے۔

لیکن۔۔۔ ان ابتدائی اوقات میں اور اسلامی بیداری شروع ہونے سے پہلے قومی واسلامی کوشش کی طرف توجہ دینے میں کیا رازپنہاں تھی؟۔

حقیقت میں میرا دل وجان فلسطین کے ساتھـ تھا اور میں بہت حوصلہ اور اونچے سرگرمی والی تھی کیونکہ میں طبعی طورپر بغیر کسی تکلف کے اسلام اور وطن سے بہت زیادہ محبت کرتی تھی۔

ہم اورہمارے شوہر ہمیشہ بچپن ہی سے نمازکی پابندی کرتے تھے اوراپنے بچوں کو تقوی وپرہیزگاری کی تربیت دیتے تھے خالد اور محمد دونوں کی بچپن ہی سے آرزو تھی کہ وہ فلسطین جائیں اور اس کی آزادی کے لۓ جھاد کریں اور یہ چیزطبیعی تھی اوریہ جذبہ مصر کی تاریخ میں اس وقت کےزیادہ تر نوجوانوں میں موجود تھا۔

کیا آپ کے پاس اور کوئي عام دیگر سرگرمیاں بھی تھیں؟۔

خدا کی قسم اے میرے بیٹے۔۔۔ میں اپنے پڑوس کی مسلم اور عیسائی عورتوں کے ساتھـ اکٹھا ہوتی تھی اور ہم سب فلسطین اوراس کے لۓ قربانی دینے کے بارے میں باتیں کرتے تھے اور ان خواتین کا جواب بےحد اعلی ہوا کرتا تھا۔

آپ کے عورت ہونے کے باوجود۔۔۔ ہر آدمی آپ کےبارے میںجانتا ہے کہ آپ ہمیشہ اللہ کے راستے میں شہادت کی خواہاں ہیں؟۔

ہاں میںنے افغانستان کا سفر کیا تاکہ میں اپنے بیٹے محمد کے ساتھـ زندگی گزاروں اور اسی طرح وہاں اللہ کے راستے میں شہادت پاؤں اور خاص طور پر امریکہ کے افغانستان پر جنگ کے بعد۔۔۔ حقیقت میں، میں بموں اور میزائلوں کے درمیان اس کی ہولناکی کے باوجود بہت خوش تھی ہم سب اس وقت اللہ اکبر کہتے تھے اور ہم محسوس کرتے تھے کہ آسمان بھی ہمارے ساتھـ اللہ اکبر کے نعرے دہراتا ہے۔

اگر شیخ ملا عمر کا سارے مجاہدین کی عورتوں کو افغانستان کے باہر نکالنے کے بارے میں قرار صادر نہ ہوتا۔ اور میرے بےحد مریض شوہر کے تئیں میرا حق نہ ہوتا اور ان کو میری حاجت نہ ہوتی اور مصر میں ان کی دیکھـ بھال کے لئے کسی کے رہنے کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں اپنی عمر کےآخری لمحے تک وہیں زندگی گزارتی کیونکہ نہ تو میں بم سے ڈرتی ہوں نہ ہی توپوں سے اور نہ ہی فضائی حملے سے۔

میں اللہ رب العالمین سے امید کرتی ہوں کہ وہ میری دونوں چاہتیں ایک ساتھـ پوری کردے وہ یہ کہ وہاں پر شہادت پانا اور میرے شوہر کی دیکھـ بھال نیزمیرے اوپر ان کے حق کی ادائیگی۔

پھر تو آپ بہت عظیم بیوی ہیں جیسے کہ آپ ایک عظیم ماں ہیں کیونکہ بسا اوقات عورت عظیم ماں تو ہوتی ہے لیکن دوسری طرف وہ اپنے شوہر کے حقوق کی ادائیگي میں کوتاہ ہوتی ہے۔

آج کل عورت یورپ کی اندھی تقلید کرتی ہے اور میں اس کے خلاف ہوں اور میں یہ بات نہیں مان سکتی کہ عورت اپنے شوہر کے برابر سر ملائے کیونکہ نیک مرد ہی عورت کا سردار وقائد ہوتا ہے۔

کیا آپ ان لوگوں میں سے کسی کے خلاف کینہ رکھتی ہیں جنھوں نے آپ کے بیٹے خالد رحمہ اللہ کے خلاف حکم صادر کیاتھا؟۔

اے میرے بیٹے۔۔۔ میں اپنے دل میں کسی بھی آدمی کے خلاف بغض نہیں رکھتی نہ ہی کسی سے انتقام لینا چاہتی ہوں اور نہ ہی ساری دنیا سے کچھـ چاہتی ہوں۔۔۔

خالد نے اپنے آپ کو بیچ دیا میں نے اس سودے کو قبول کیا اور اس سے راضی ہوں۔۔۔ میرے اور کسی بھی آدمی کے درمیان اب کچھـ نہیں ہے۔ میں اپنے رب کے ساتھـ اس طرح مکمل سنجیدہ اور پرسکون زندگی گزاررہی ہوں کہ اس کے نکھار کو اب کوئی چیز گدلا نہیں کرسکتی۔

آپ ایک لمبے عرصے تک افغانستان میں رہیں یہاں تک کہ افغانستان پر امریکی حملہ وجود میں آیا؟ تو آپ نے حملہ کے بعد اس کو کیوں چھوڑا؟۔

میں چاہتی تھی کہ وہاں زندگی گزاروں یہاں تک کہ اللہ کے راستے میں شھید ہوجاؤں لیکن ملا عمرـــ اللہ رب العالمین انھیں جنت دےـــ نے مجاھدین کی ساری عورتوں کو افغانستان سے نکال دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ قید و بند ، قتل ، زخم یا اس جیسی کسی چیزکا شکار نہ ہوں اور حقیقت میں ہم سب کو قریبی شہر میں بھیج دیا گيا۔اور مردوں کا اپنی عورتوں اور بچوں کو الوداع کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر تھا جو میں نے اپنی پوری زندگی میں دیکھا۔

اور یہ کیسے ہوا تھا؟۔

وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑتا اور اس کو تقریبا یقین ہوتا تھا کہ وہ ان سے دوبارہ شاید کبھی نہ مل سکے گا۔۔۔ یہ مشکل ہی نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ مشکل ہے۔

جب آپ یمن گئیں۔۔۔ تو آپ نے وہاں لمبی زندگی گزاری، آپ وہا ں کہاں رہتی تھیں؟۔

ہم یمن میں کچھـ سال تھے اور ہم وہاں پہاڑوں میں رہتے تھے۔

کیا آپ پہاڑوں میں رہنا پسند کرتی ہیں؟۔

میں کوئی بھی جگہ جہاں اللہ کا ذکر ہو رہنا پسند کرتی ہوں اور یمن میں ہم کو اللہ کے ذکر سے کوئي چیز غافل نہیں کرسکتی تھی۔اور میرے پاس ٹیپ ریکارڈ کے علاوہ کچھـ نہیں تھا میں اس سے ہمیشہ قرآن کریم سنتی تھی اور میں وہاں بہت خوش تھی۔

اے میری ماں! کیا اہل وعیال کی جدائی مشکل نہیں ہوتی؟۔

جدائی مشکل ہوتی ہے جب آپ معیشت یا دنیا کے کےلئے کہیں جارہے ہوں۔۔۔ لیکن جو آدمی کسی ایسی جگہ جاتاہے جہاں وہ اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھـ کرسکے قید خانوں اور نظربندی کی جگہوں سے دور تو ایسی صورت میں مشکل نہیں ہوتی۔

اور یمن بذات خود ہم کو رسالت کے ابتدائی دنوں کی یاد دلاتی تھی اور وہاں گزارے ہوۓ دن ہمارے سب سے بہترین دن ہیں۔

اے میری ماں! لیکن آپ پہاڑوں میں زندگی کیسے گزارتی تھیں؟۔

وہاں پہاڑوں کے اندر پرانے گھر تھے اوران گھروں کے مکین وہاں کی دشوار گزار زندگی کی وجہ سے ہجرت کرکے شہروں کی طرف چلے گۓ تھےاور ان گھروں کی کوئی قیمت نہ تھی لیکن ہم لوگوں نے ان گھروں کو قیمتی بنادیا اور ان کو جنت میں تبدیل کردیا۔۔۔ ہم نے نئے طریقےسے پہاڑوں کے اندر زمین کی کاشتکاری شروع کردی۔ وہ میری زندگی کے سب سے خوبصورت دن تھے۔۔۔ اور حقیقت میں تفریح تھی ہم نل (ھینڈ پائپ) کے ذریعے زمین کی کاشتکاری کرتے تھے اورمرغیاں پالتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات کہ مرغیوں کے بڑے ہونے کے بعد لومڑیاں آتی تھیں اور کھا جاتی تھیں " اور ام خالد دل وجان سے ہنسنے لگیں"

لیکن کیا وہاں کچھـ بھایئوں کی بیویاں ایسی نہیں تھیں جو مصر میں اپنے اھل وعیال کی خواہش مند ہوں؟۔

ہاں۔۔۔ بعض کم عمر بیویاں وہ جدائی سے بہت زیادہ پریشان تھیں اور وہ مصر میں اپنے اہل وعیال کی بہت شدت کے ساتھ خواہش کرتی تھیں۔ اور اسی چیز نےان کی زندگی تنگ کر رکھی تھی لیکن میں تو بہت زیادہ خوش تھی۔

یمن میں آپ کو کیاچیزیں پسندآئیں؟۔

وہاں ہم کو بہت ساری چيزیں پسند آئیں۔ مارب کا باندھ دیکھنے گئی۔۔۔ بلقیس کا عرش دیکھا۔۔۔ اور اسی طرح یمن کے باشندے اور یمنی عورتیں پسند آئیں۔

یمنی انسان کے بارے میں آپ کی کیا راۓ ہے؟۔

یمنی کی اصل (جنس) بہت اچھی ہے۔۔۔ اور اہل یمن اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہم چاہتے تھے کہ یمن کبھی نہ چھوڑیں۔۔۔ یمنی قوم بہت زیادہ غریب ہے لیکن اسکے ساتھـ ساتھـ مہمان نواز بھی ہیں۔ میں بچوں اور بڑوں کو دیکھتی تھی وہ کسی بھی کام کے انتظارمیں ہوتے تھے جس سے کمائی کرسکیں اس کے با وجود حقیقی مہمان نوازتھے۔ وہ دین اسلام کو دل وجان سے پسند کرتے تھے۔ لیکن وہاں بہت خراب چیز سے کھانا تناول کرتے تھے۔

یمنی عورتوں کے بارے میں آپ کی کیا راۓ ہے؟۔

یمنی خاتون سیدھی سادی اور حقیقی دین دار ہوتی ہے۔۔۔ اور آراستہ ہوکر نکلنے والی عورت کو وہاں عصمت فروش(زانیہ) کہتے ہیں۔

پھر آپ نے یمن کیوں چھوڑدیا؟۔

وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور ہم سب سے کہا آپ لوگوں کی جگہوں کے بارے میں پتہ چل چکا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ آپ لوگ ہم سب کو پریشانی میں ڈالیں۔۔۔ تو آپ لوگ کسی دوسرے شہر کی طرف چلے جائیں۔۔۔ ہم لوگوں نے ان سے کہا۔۔۔ ہم پہاڑوں میں رہتے ہیں اور ہم لوگ کسی کے لۓ خطرہ نہیں ہیں اور کسی کے نزدیک ہم لوگوں کی کو‎‏ئی قیمت بھی نہیں ہےاور ہم کسی سے کچھـ چاہتے بھی نہیں ہیں اور کسی کے معاملے میں دخل اندازی بھی نہیں کرتے۔۔۔ اس کے باوجود وہ سب اپنی بات پر اڑے رہے۔

اس طرح ام خالد کے ساتھـ ہمارے انٹرویو کا یہ تیسرا حصّہ ختم ہوتاہے اس امید کے ساتھـ کہ ہم قریب ہی میں ان کے ساتھـ اپنی انٹرویو کے چوتھے حصے کے لۓ پھر ملیں گے۔۔۔

اس وقت کے آنے تک ہم پیاری ماں ام خالد کا شکریہ اداکرتے ہیں۔

خالد باع نفسه لله، وأنا لا أطلب ثأراً من أحد ج3 من حوار أم خالد الإسلامبولي UR



ملاقاتيں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت