English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
کتابيں -

۔(2) حاکمیت۔۔۔ شریعت اور حقیقت کے آئینے میں

مؤلف/ ڈاکٹر ناجح ابراہیم۔۔ فصل ثانی میں مصنف کتاب نے بہت سے اسلامی مفاہیم و اصطلاحات کا تجزیہ پیش کیا ہے جو تکفیری جماعت کےغلو وتشویش کے شکارہیں۔۔۔ یہاں کاتب نے اسلامی حلقے پر پھیلے ہوئے متعدد اصطلاحات کا جر‏اءت مندانہ انداز میں بحث کیا ہے اور بہت ہی سلاست ونرمی سے شرعی دلیلوں پر اعتماد کرتے ہوئے اور کبھی عقلی طور پر ثابت شدہ بدیہیات اورمنظم دلائل کی روشنی میں انہیں نقل کیا ہے۔

خالق کی حاکمیت کا مطلب مخلوق کی تکفیر نہیں

ابتدا میں مصنف نے زیادہ تر ان اسلامی مفاہیم پر روشنی ڈالی ہے جو دور جدید میں (عام طور پر) اختلاف کا سبب بنتے ہیں اور وہ حاکمیت کا مسئلہ ہے۔۔۔ مؤلف اس سلسے میں فرماتے ہیں کہ: حاکمیت کی اصطلاح کو۔اپنی جدت کے باوجود۔ نوجوان حلقوں میں بہت شہرت حاصل ہوئی اور بالخصوص جب سید قطب رحمۃ اللہ نے اس موضوع پر اپنی کتاب "فی ظلال القرآن" اور "معالم فی الطریق" میں لکھا تو اس کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوا۔

 مصنف یہاں اس بات کی وضاحت کر تے ہیں کہ بہت سارے لوگوں نے حاکمیت کے مقصود اوراس کے مدلول کو صحیح سمجھا لیکن کچھـ مسلم نوجوان پر یہ مشتبہ ہوگیا اور نہ صرف حاکمیت کے مقصود کو سمجھنے میں جانب داری کے شکار ہوئے بلکہ انہوں نے حاکمیت کی اس اصطلاح کو فکری ارتکاز کا مرکز بنا دیاجس کی وجہ سے مسلم معاشروں میں ٹکراؤ اور کشمکش کی صورت حال پیدا ہوگئ اور ان پر کفراور جاہلیت کے الزامات لگائے گئے۔ پھر مصنف حاکمیت کا صحیح مطلب بتاتے ہو ئے اس شک کو درست کرتے ہیں کہ حاکمیت کا مطلب اللہ تعالی کے نازل کردہ حکم کو واجب قرار دینا اور اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حرام اور حلال چیزوں کو حلال قرار دینا ہےاور ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ حاکمیت پر مکمل ایمان رکھے جس طرح وہ نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور اسلام کے دوسرے تمام واجبات پر ایمان رکھتا ہے لہذا حاکمیت یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے اختیار کرنے میں یا سمجھنے میں مسلمان کوتاہی برتے جیسا کہ بعض لوگ ایسا چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسا وہم و گمان دلائیں۔

جو لوگ حاکمیت کوذریعہ بنا کر دوسروں پر کفر کا الزام لگاتے ہیں مؤلف ان کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے حاکمیت کا مطلب اس کے سوا کچھـ سمجھا ہی نہیں کہ فلاں حاکم کافر ہے اور فلاں حاکم کافر ہے۔۔۔ بعض لوگوں نے حاکمیت کا مطلب یہی سمجھا ہے حالانکہ حاکمیت کا کفر سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے، چنانچہ کسی معین حاکم یا محکوم کو کافر قرار دینا اس سے حاکمیت کا کیا تعلق ہے؟ وہ آگے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی حاکمیت پر ایمان لانے اور کسی شخص پر کفر کا حکم لگانے کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔۔۔ چنانچہ پہلا ہر مسلمان پر واجب ہے اور دوسرا صرف مجتہدین کے ساتھـ خاص ہے، پہلا قطعی اور یقینی ہے جبکہ دوسرا ظنی اور اجتہادی ہے۔۔۔ پہلے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اور دوسرے میں اختلاف کے دروازے بہت وسیع ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اسلامی احکامات کی پابندی نہیں کرتے اورشریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے یہ ایک دوسری چیز ہے اس کا حاکمیت سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ مجتہدین سے متعلق ہے اس میں اختلاف اور متعدد آراء کی گنجائش ہے۔

عقیدہ کے احکام، حاکم ومحکوم کے درمیان فرق نہیں کرتے

 پھر مصنف ان لوگو ں کے منہج پر حیرت و تعجب کا اظہار کرتے ہیں جو اعتقادی مسائل میں صرف حکام کو موضوع بحث بناتے ہیں، وہ زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عقیدہ کے احکام میں کوئی طرفداری و جانبداری نہیں ہے اور نہ ہی اس میں حاکم و محکوم کے درمیان کوئی فرق ہے، اعتقادی مسائل میں صرف حکام پر زور دینا اسلام کے اس عدل وانصاف کے منافی ہے جس کی شریعت اسلامیہ دعوت دی ہے۔ مصنف اس مسئلہ کی علت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کچھـ مسلم نوجوان کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ صرف حکام پر تشدد وسختی برتنے کے لئے آئی ہے اور شریعت نے ان حکام کے لئے بالخصوص اعتقادی امور اور ایمان وکفر کے مسائل میں عام لوگوں سے ہٹ کر سخت احکام متعین کیا ہے۔۔۔ چنانچہ انہوں نے سمجھـ لیا کہ اگر حاکم کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے جومحکوم کے حق میں گناہ شمار کیا جاتا ہے تو وہ (حاکم) صرف اس کی بنیاد پر بسا اوقات کافر گردانا جا سکتا ہے۔

 یہاں مصنف اسلام میں حاکم کی عظیم ذمہ داری سے بے خبر نہیں ہیں بلکہ وہ حاکم کی گراں قدر ذمہ داری اور عامۃ الناس کے تئیں شرعی احکام کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں کہ حاکم کی کچھـ ذمہ داریاں ہیں جو محکوم سے بالکل الگ اور مختلف ہیں لیکن کفر و ایمان کے احکام دونوں کے لئے یکساں اور برابر ہیں اس میں حاکم محکوم کے درومیان کوئی فرق نہیں ہے، چنانچہ اطاعت یہ اطاعت ہی ہوگی خواہ حاکم سے صادر ہو یا محکوم سے اور معصیت بھی معصیت ہی ہوگی چاہے وہ حاکم سے سرزد ہو یا محکوم سے۔

حکام کی تکفیر کرنا عوام کی تکفیر کرنے سے زیادہ خطرناک ہے

اس عنوان کے ذیل میں مصنف عصر حاضر کے سنگین فقہی مسائل پرروشنی ڈالتے ہیں جن مسائل نے آج بہت سے مسلم ملکوں میں انتشار اور ابتری کی صورت حال پیدا کردی ہے۔ اس سلسلے میں مصنف موصوف مسلم حکام کی بغیر کسی واضح دلیل کے تکفیر کرنے والے مسائل کی سنگینی پر زور دیا ہے۔۔۔ اور خاص طور پر زیادہ تر حکام کی تکفیر یہ ایک ہی وطن میں رہنے والوں اور ایک ہی دین کی اتباع کرنے والوں کے درمیان ہمیشہ جاری رہنے والی خونریز لڑائی اور اس کے پس پردہ جو فتنہ و فساد کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کا سبب بنتی ہے۔۔۔ مؤلف فرماتے ہیں کہ حکام کی تکفیر عام مسلمان کی تکفیر کرنے سے زیادہ سنگین اور مضر ہے کیونکہ ایک عام مسلمان کی تکفیر کے اثرات صرف اسی پراور اس کے گرد وپیش رہنے والوں پر ہی محدود و منحصر رہے گا۔۔۔ لیکن مسلم حکام کی تکفیر کے اثرات پوری امت پر ظاہر ہوں گے اور اس کے بھیانک نتائج پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔۔۔ امت اسلامیہ اپنی طویل تاریخ میں بارہا حکام کے خلاف بغاوت کے مسائل سے دوچار ہوئی ہے، اور حکام کی تکفیرنے ہمیشہ ان عظیم مسائل کو مشتعل کر نے میں چنگاری کا کام کیا ہے۔

 پھر مصنف فرماتے ہیں کہ قاری کو حکام کی تکفیر کے مسئلہ میں تشدد وسختی برتنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے نہ ہی ان کی طرف مائل ہوکرکے اور نہ ہی ان کو دیگر مسلمانوں پر ترجیح دے کر کے بلکہ اس پر مرتب ہونے والے ان سنگین نتائج کا اعتبار کرکے جو ان کو کافر قرار دینے کے بعد مرتب ہوتے ہیں اور اس بھیانک انجام پر غور کرکے جو ان پر یہ حکم لگانے کے بعد سامنے آئیں گے۔

مسلم نوجوانوں کو ان جیسے پیچیدہ مسائل میں پڑنے سے متنبہ کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ حکام کی تکفیر۔ جو اس کو بہت آسان سمجھتے ہیں۔ محض ایک کلمہ ہی نہیں ہے جسے زبان سے ادا کردیا اور اسی طرح گزر جائے گا بلکہ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے پیچھے بڑے اثرات و نتائج مخفی ہوتے ہیں۔۔۔ اور وہ اس حاکم کے لئے ایک حکم کی حیثیت رکھتی ہے، اس کلمہ (حکم) سے پہلے بات بہت آسان ہے اور اس کے بعد بہت ہی گمبھیر اور مشکل ہے۔

وہ مزید فرماتے ہیں کہ شریعت کے حدود و تعزیرات میں کسی انسان کا ہاتھـ کاٹنے کے لئے بہت ہی زیادہ تحقیق اورچھان بین کی ضرورت پڑتی ہے اور معمولی شک و شبہ کی بنیاد پر ہاتھـ کاٹنے کا حکم ساقط بوجاتا ہے جب صرف ہاتھـ کاٹنے میں اتنے احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے تو تصور کیجئے حکام کی تکفیر کرنے مین کس قدر احتیاط اور چھان بین کی ضرورت ہے اور بسا اوقات حاکم کی تکفیر سے ہزاروں ہاتھـ اور گردنوں کو قلم کر نا بلکہ اسلامی ممالک سے زندگی کی شہہ رگ کا کاٹنا لازم آئے گا اور ایک لمبے لڑائی جھگڑے کے بعد اس کو ایسے ہی بے مقصد چھوڑنا لازم آئے گا۔

یہاں مصنف علماء و مفتیان کرا م پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان مسائل پر قابو پائیں اور عوام کو با خبر کریں کہ وہ بغیر کسی ضابطے کے ان سنگین احکام کو نہ چھيڑیں کیوں کہ اس سے پرجوش نوجوان غلط فہمی کے شکار ہو تے ہیں وہ مفتیان کرام و مجتہدین کومخاطب کر تے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ ان پر ضروری ہے کہ مستفتی (فتوی پوچھنے والا) کے حالات کا بغور ادراک کریں اور سمجھیں کہ فتوئے کا اثر حقیقی طور پر کھل کر سامنے آئے گا۔۔۔ کیونکہ مفتی تو اللہ رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے اور شریعت کی زبان ہوتے ہیں۔ اور شریعت کے لئے محال ہے کہ وہ انتشارو ابتري پھیلائے شریعت تو ہمیشہ بڑے مصالح و فوائد کو بروئے کار لاتی ہے اور مفاسد کو دور کرتی ہے۔

(حاکمانہ نظام) کیا اس کو کفر یا ایمان سے متصف کیا جائےگا؟۔

 مصنف اسلامی حلقے میں پھیلے ہوئے اصطلاحات و مفاہیم کی ابتري کا علاج کر تے ہیں اس بار انہوں نے حاکمانہ نظام کی تکفیر کے مفہوم پر زور دیا ہے جو بعض قلم کاروں اور مقررین کے لئے زیر بحث ہے، مصنف موصوف اس اصطلاح کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ایک جدید اصطلاح ہے جو تقریبا بیسویں صدی کے بیچ میں ظاہر ہوا اور اس طرح کے کسي لفظ کا اسلاف کی تحریروں میں مطلقا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی نظام کے کفر یا ایمان کے قول کا سلف صالحین کی معروف ومشہور توحید کی کتابوں میں اس کی کوئی بنیاد ہے۔

پھر مصنف یہ سوال کرتے ہیں کہ اداروں، تنظیموں اور کمیٹیوں پر ایمان و کفر کا اطلاق کر نا کہاں تک صحیح ہے حالانکہ یہ اعتباری طور پر افراد ہیں حقیقی طور پر براہ راست مکلف افراد نہیں ہیں وہ فرماتے ہیں کہ: کیا کفر کا اطلاق ان اداروں، اس کی اینٹوں اور دفتروں پر ہوگا یا ان افراد پر ہوگا جنہوں نے اسے قائم کیا ہے اور اس میں کام کر رہے ہیں؟ ان اداروں ونظاموں پر کفر کی تطبیق کے کیا حدود ہیں اور کس بنیاد پر ہوگا؟۔

مصنف موصوف بہت ہی نرمی کے ساتھـ ان سے بحث ومباحثہ کر تے ہیں اور مبہم اصطلاحات کی عدم صحت اور کفر و ایمان کے مسائل پر گفتگو کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ حاکمانہ نظام صرف ایک شخص پر قائم نہیں ہے بلکہ ان کی تعداد تو بسااوقات کئی لاکھـ تک پہونچتی ہے جو مختلف قسم کے کاموں اورمشن میں منقسم ہوتے ہیں۔۔۔ یہ ملک کے اقتدار اعلی سے لے کر ادنی سرکاری ملازم تک اور فوج کے بڑے عہدے سے لیکر کسی بھی علاقے کے چھوٹے سے چھوٹے سپاہی تک کو شامل ہوتا ہے اسی طرح یہ نظام انتظامی اوراسی طرح یہ نظام تمام اداری ودفتری کاموں پر مشتمل ہے۔ تو اتنے بڑے پیمانے پر کفرکا حکم لگانے سے ہمارا مقصود کیا ہے؟!، اور کس حد تک ہمیں توقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے یہاں تک کہ یہ کھوکھلی کہاوت صادق آئے؟!۔

پھر مصنف نے ان سوالات کا جوابات دیتے ہوئے یہ خلاصہ پیش کیا ہے کہ: یہ بات صاف طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ اس اصطلاح میں بہت ابہام ہے اس میں دقت نظری بالکل نہیں پائی جاتی ہے اور ساتھـ ساتھـ یہ اصول و ضابطہ سے بھی کافی دور ہے اور اس طرح کا غموض اور (بلا سوچے سمجھے) کسی طرح کا حکم لگانا بالخصوص توحید کے مسائل اور اعتقادی امور میں قابل قبول نہیں ہے۔

لغت اور شریعت میں طاغوت کی حقیقت

مصنف یہاں کچھـ مظلوم اصطلاحات پر گفتگو کر تے ہیں جسے تکفیری فکر میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے اور جو عصر حاضر میں عام مسلمانوں کی تکفیر کی بنیاد بھی ہے وہ ہے "کفر بالطاغوت" کا مسئلہ۔ ابتدا میں مصنف اس باب کے ذیل میں ایک شرعی قاعدے کی بنیاد رکتھے ہیں وہ یہ کہ کفربالطاغوت کے بغیر ایمان باللہ کی تکمیل نہیں ہوسکتی بلکہ وہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلمہ شہادت کا صرف ادا کردینا ہی کسی حد تک کفر بالطاغوت (یعنی اللہ کے علاوہ جس کی عبادت کی جائے) کا اعلان ہے۔

مصنف اس سلسلے میں زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تکفیر کے دعاۃ نے کفر بالطاغوت کے معنی کو بدل دیا ہے وہ ہر اس حاکم کے حق میں اس کا اطلاق کرنے لگے جو مکمل شریعت اسلامی کے مطابق حکومت نہیں کرتا، حالانکہ یہ بات علمائے سلف سے ثابت نہیں ہے جب کہ ان کے درمیان حجاج اور ان جیسے دوسرے ظالم و سفاک حکام موجود تھے۔

وہ فرماتے ہیں کہ لفظ طاغوت کو اسی معانی میں استعمال کر نا علمائے سلف سے ثابت نہیں ہے۔ حتی کہ جب وہ کفر بالطاغوت کے بارے میں بات کر تے تھے تو اسے عام صفات سے متصف کرتے تھے کہ وہ جو اپنے نفس کی عبادت یا لوگوں کی عبادت کی طرف بحالت رضامندی دعوت دے۔۔۔جہا ں تک لفظ طاغوت کا کسی حاکم پربذات خود اطلاق کرنے کی بات ہے جو مکمل شریعت کی تطبیق نہیں کرتا یا کسی ایسے متعین شخص پر جس نے سرکشی کی اور ظلم جبر کے پہاڑ توڑے تو یہ ان سے مطلقا ثابت نہیں ہے چہ جائے کہ وہ کفرباطاغوت کو سامنے رکھکر لوگوں کے ایمان کا جائزہ لیں جو کہ ان کے عرف و اعتقاد میں بذات خود حاکموں میں سے کوئی حاکم ہے۔

انسان اپنی طاقت و قوت سے زیادہ مکلف نہیں ہے۔۔۔ اگر چہ وہ حاکم ہی کیوں نہ ہو

مصنف یہاں مسلم نوجوانوں کے افکار اور ان کی صحیح علمی اور فکری رہنمائی کر تے ہوئے ان کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں کہ بعض نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ حکام کو مطلقا مکمل اقتدار کا حق حاصل ہو تا ہے، وہ لا محدود صلاحیتیوں کے مالک ہو تے ہیں ان کے حکم اور اشارے میں ساری چیزیں ہوتی ہیں وہ جیسا چاہتے ہیں کر تے ہیں کیونکہ سارے چیزوں کی باگ ڈور ان کے ہاتھـ میں ہے اور سارے کے سارے لوگ ان کے حکم کے تابع ہیں اور ان کے اشاروں پر چلنے والے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ یہ بڑی حد تک سادہ لوحی پر مبنی ہے اور اس کے ساتھـ ساتھـ بہت ساری الجھی ہوئی حقیقت حال اور پیچیدگیوں سے غفلت برتتی ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھـ ہی اس سے داخلی اور خارجی طاقت کا معیار بھی برقرار نہیں رہتا جو کہ بسا اوقات بہت سارے قرارات اور اختیارات کے سامنے سنگین رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مصنف اس غلط فہمی کو دور کر نے سے قبل شروع میں واضح کر نا چاہتے ہیں کہ ان باتوں کا مطلب حکمرانوں کی غفلت و کوتاہی کی وجہ سے ان کی طرف سے دفاع کرنا مقصود نہیں ہے یا اس سے ان کے لئے کوئی عذر تلاش کر نا مقصود نہیں ہے یا وہ جن شرعی احکام کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکتھے ہیں انہیں ٹالنے اور ملتوی کرنے کے لئے یہ باتیں نہیں ہیں، نہ ہی یہ کسی شخص کی مدافعت میں کہی گئی ہیں اور نہ کسی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا مقصود ہے بلکہ یہ باتیں تو لوگوں کو موضوعی طور پر غور وفکر کرنے، مسائل کا گہرائی کے ساتھـ جائزہ لینے اور بہت ہی سنجیدگی کے ساتھـ فیصلہ لینے کی ایک کھلی دعوت ہے۔ پھر مصنف آگے فرماتے ہیں کہ حاکم عصر حاضر میں بالخصوص اور بالعموم ہر زمانے میں خواہ اس کی سلطنت کتنی ہی عظیم ہو، اس کی صلاحیت کتنی ہی وسیع ہو مگر اس پر کچھـ حدود وقیود ہو تے ہیں جس کی پابندی اس کے لئے نہایت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنے ملک میں تنہا زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس کے ساتھـ داخلی و خارجی طاقتیں شریک کار ہوتی ہیں، جن کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ اپنے افکاررخیالات میں ان کے ساتھـ ہم آہنگ ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بسا اوقات حکمرانوں کو جب وہ اپنی مرضی سے کچھـ خیر اور بھلائی کر نا چاہتے ہیں تو انہیں نافذ کر نے میں بہت دشواریوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے، بلکہ کبھی تووہ مجبور ہوتے ہیں اور اس قاعدے پر عمل کرتے ہیں "مالا یدرک کلہ لا یترک کلہ" ( یعنی جس چیز کو مکمل حاصل نہیں کیا جاسکتا اسے مکمل چھوڑا بھی نہیں کیا جاسکتا) اور کبھی تو وہ لوگوں پر اس طرح سے حکومت کرتے اور حیلہ اپناتے ہیں تاکہ کسی طرح سے ان کے دلوں میں ایمان باقی رہے اور وہ متنفر نہ ہو نے پائیں۔

 پھر مصنف کچھـ قدیم و جدید حکمرانوں کے تجربات نقل کرتے ہیں جن کے اندرونی و بیرونی گرد و پیش کے حالات ان کے خیر اور عدل و انصاف کا اقرار کرنے کے درمیان حائل ہوگئیں۔۔۔ وہ (مصنف) ان ساری چیزوں سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو مزید حقیقت حال کو سامنے رکھکر غور وفکر کرنے کے طریقوں کی طرف اور واقعات کو موضوعی نقطہ نظر سے اپنے گرد وپیش کی طرف دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔۔۔ چنانچہ کسی شخص پر کوتاہی و کمی کا الزام لگانا، یا مستحیل یا نظری چیزوں کا مطالبہ کرنا کتنا آسان ہے۔۔۔ یہ اسلو ب بسا اوقات جوشیلے اور جذباتی نوجوانوں کو اچھا لگتا ہے لیکن درحقیقت اس میں سچائی اور امانت کا فقدان ہوتا ہے اور نوجوانوں کے احساسات و خیالات کا بالکل لحاظ نہیں کیا جاتا ہے جیسا کہ اس معاملے میں اہل عقل و خرد کو مشتعل کیا جاتا ہے اور وہ اس کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں، اور اس قسم کے لوگوں کو ذلت و حقارت کی نظرسے دیکھتے ہیں، یہ ساری چیزیں کسی دیندار اور صاحب فکر ونظر کے لئے بالکل صحیح نہیں ہیں۔

مصنف اخیر میں فرماتے ہین کہ آج کے نوجوانوں کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار اعلی تک پہونچنے اور حکومت کی کرسی پر براجمان ہو نے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام مشکلات اور پریشانیوں کا خاتمہ کر دیں گے، اور نہ ہی ان کے ہاتھـ میں کوئی جادوئی چھڑی ہے جس کے ایک اشارے سے حقیقت کے دھارے کا رخ بدل جائے گا اور تمام اشیاء اپنی اصلی حالت میں کام کرنے لگیں گی۔

الحاكمية.. رؤية شرعية ونظرة واقعية الجزء الثاني UR



کتابيں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت