English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: والدہ فوت ہوئى تو اس كے ذمہ دو رمضان كے روزے تھے - فتوے -: روزے كى قضاء سے بھى عاجز عورت كا حكم - فتوے -: رمضان كي قضاء ميں دوسرا رمضان شروع ہونے تك تاخير كرنا - فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
کتابيں -

۔(3) حاکمیت۔۔۔ شریعت اور حقیقت کے آئینے میں

مؤلف/ ڈاکٹر ناجح ابراہیم۔۔ اس شمارے کے فصل ثانی میں مصنف کتاب نے بہت سے اسلامی مفاہیم و اصطلاحات کا تجزیہ پیش کیا ہے جو تکفیری جماعت کےغلو وتشویش کا شکارہیں۔۔۔ یہاں کاتب نے اسلامی حلقے پر پھیلے ہوئے متعدد اصطلاحات کا جر‏اءت مندانہ انداز میں بحث کیا ہے اور بہت ہی سلاست ونرمی سے شرعی دلیلوں پر اعتماد کرتے ہوئے اور کبھی عقلی طور پر ثابت شدہ بدیہیات اورمنظم دلائل کی روشنی میں انہیں نقل کیا ہے۔

اسلام ایک ایسا دستور حیات ہے جو تمام حدود و تعزیرات پر مشتمل ہے

کاتب موصوف نے یہاں شریعت کو قائم کرنے کا صحیح مفہوم اور اسلام کی صرف ایک ہی جانب سے تطبیق کرنے کی غلطی کا ذکر کیا ہے اور وہ ہے شرعی حدود کی تطبیق کرنا، جیسا کہ اسلام کی تطبیق کرنے والے بعض وکلاء کا رجحان ہے۔

پھر مصنف اسلام کی وسعت و ہمہ گیری کو بیان کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلام کے حق میں یہ بہت بڑا ظلم ہو گا کہ اس وسعت کو زندگی کے ایک ہی میدان میں محصور کردیا جائے، چنانچہ اسلام کے تمام روشن پہلو دین کے جزء لا ینفک ہیں۔۔۔ اس کے گراں قدر ہونے کے باوجود کوئی تنہا چیزیہ اسلام کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ پھر کا تب شریعت کی تطبیق کے نام پر صرف حدود و تعزیرات کو نافذ کر نے کی دعوت دینے والوں کی غلطیوں پر زور دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے گویا کہ شریعت صرف حدود ہی کا نام ہے۔۔۔ چنانچہ اگر شرعی حدود کی تطبیق دے دی جائے تو کیا شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہو جائے گا؟ اگرچہ انسانی زندگی سے اخلاق ختم ہوجائیں، ان کے ضمیر مردے ہوجائیں اور ایمان و یقین کے معانی ان کے دل سے نکل جائیں، اور اگر حدود نافذ نہ کئے جائیں تو کیا شریعت کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ اور لوگوں کی زندگی سے دین کا سورج غروب ہوجائے گا۔

پھر مصنف شرعی حدود کی اہمیت و افادیت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت میں حدود کی اہمیت اور اس کے مقام و مرتبے کا مطلقا یہ مطلب نہیں ہے کہ پورے اسلام کو صرف اسی پر محصور کردیا جائے، اور جو شریعت مختلف عبادات و معاملات پر محیط ہے اسے حدود و تعزیرات کے خاص مجموعہ کی شکل میں مقید کردیا جائے، اسی طرح مکمل شریعت کو بعض دینی شعائر کی صورت میں پیش کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔

مصنف شریعت اسلامیہ کے مختلف پہلو کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اسلام کی مکمل اور صحیح تصویر پیش کر سکیں اس تصویر کے علاوہ جو کہ بعض لوگوں نے بغیر کسی قصد و ارادہ کے اچھا گمان کرکے ایسا اختیار کیا ہے۔۔۔ وہ اخیر میں فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ انسانی زندگی سے شریعت اسلامیہ کے کسی جزء کا فقدان ایک بڑی مصیبت سمجھی جاتی ہے۔۔۔ لیکن یہ سب سے بڑا مسئلہ یہی نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا مسئلہ تو زندہ ضمیر کا ناپید ہوجانا ہے جو انساني ضمیر کوشریعت کا مطیع و فرماں بردار بنا تا اور قانون الہی کے خلاف حیلہ و بہانہ اختیار کرنے سے روکتا ہے اور اس کے حدود سے نکلنے سے روکتا ہے۔

مصنف اپنی بات اس نکتہ کو بیان کرتے ہوئے ختم کر تے ہیں کہ ان باتوں کو اللہ رب العالمین کے حدود کو بہانہ بنا کر دینی شعائر پر عمل کرنے میں کوتاہی کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ یہ بسااوقات شریعت اسلامیہ کے دیگر اہم پہلو کے طرف لوگوں کی توجہات کو مرکوز کرتی ہیں جس کی طرف عام طور پر ان کا ذہن نہیں جاتا:۔ کیونکہ شریعت ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کو اجزاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

افراد کی طرح ممالک کو بھی مجبور کرنا

مصنف نے یہاں لفظ اکراہ (مجبور کرنا) کے مفہوم کو پیش کیا ہے جس کی وضاحت کی عصر حاضر میں مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے پھر انہوں نے اس مفہوم پرغور کرنے کی دعوت دی کہ جس طرح افراد کو کسی چیز کے لئے مجبور کیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح ممالک کوبھی مجبور کیا جاتا ہے اور بسااوقات تو ممالک افراد سے زیادہ سنگین اور نازک حالات کے شکار ہو جاتے ہیں، عصر حاضر میں ممالک کے ساتھـ جبر پر مبنی واقعات کی نوعیتیں مختلف ہوتی ہیں کبھی ان کے ساتھـ سختی اور تشدد کی شکل میں تو کبھی انہیں ساری دنیا سے چھانٹ کرالگ کر دینے اور دیگر ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کر نے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح سے اقتصادی طور پر مجبورکرنا ہے، جس کا نتیجہ ان ممالک پر اقتصادی پابندی لگاکرکے اور بیرونی امدادات کا خاتمہ کرکے اوراکسپورٹ و امپورٹ کی سرگرمیوں کو ختم کر نا مقصود ہوتا ہے۔۔۔ اور اکراہ و زبردستی اس وقت اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے جب فوجی قبضے کے ساتھـ ساتھـ فضائی حملے کے ذریعہ دھمکی دی جاتی ہے، نتیجتا وہاں کی زندگی کا تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور وہ ملک سیکڑوں سال پیچھے چلا جاتا ہے۔

کاتب موصوف ان ممالک پر واقع قدیم و جدید جبر واکراہ کے بعض نمونوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان ملکوں کے طور طریقے اس طرح کے جبر اکراہ میں کس طرح ہوا کرتے تھے۔۔۔ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب کوئی ملک اس طرح کے حالات سے دوچار ہو اور ضرورت کے تحت کراہ رہی ہو تو ایسی صورت حال میں معاملہ بدل جاتا ہے۔۔۔ اور اس کے لئے ان حالات میں وہ ساری چیزیں مباح و جائز ہو جاتی ہیں جو عام دیگر حالات میں جائز نہیں ہو سکتی ہیں۔۔۔ اور ضرورت کی یہ کیفیت ان ملکوں کے سامنے ایسے ایسے اختیارات سامنے رکھتی ہے جس میں سب سے اچھے کا اختیار ہی سب سے زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔۔۔ اوران کے سامنے مصالح و مفاسد اور نفع و نقصان کے درمیان موازنہ کر کے منافع اور مصالح کو اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارۂ کارنہیں رہ جاتا ہے لہذا وہ یہ کوشش کرتی ہے کہ دو میں سے کوئی کمتر والی مصلحت کی قربانی دے کرکے بڑے کو اپناتی ہے۔۔ اور اسی طرح دو میں سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہونے والی سے بچ کر چھوٹے کا ارتکاب کرتی ہے۔

یہاں کاتب اس بات کی وضاحت کر تے ہیں کہ یہ مسئلہ یونہی بغیر کسی قاعدہ کے نہیں ہے بلکہ شریعت نے اس کی تطبیق کے لئے قواعد وضع کئے ہیں جو اس کی صحیح تطبیق میں پنہاں ہیں۔۔۔ انہی قواعد میں سےیہ ہے کہ "ضرورت کا اندازہ و تخمینہ اس کے مقدار کے مطابق کیا جا تا ہے" لہذا کسی ملک کےلئے درست نہیں ہے کہ و ہ حالت مجبوری میں اپنے بس سے باہر کی چیزوں کی جانب توجہ دے بلکہ اسے انہیں چیزوں پر اکتفا کر نا چاہیے جتنے کی کم سے کم گنجائش ہوتی ہے، پھرمصنف آگے فرماتے ہیں کہ ممالک کا جبر و اکراہ کا شکار ہونا یہ کوئی نادرونایاب بات نہیں ہے بالخصوص جب یہ ممالک، کشمکش سے پر علاقوں میں واقع ہوں جیسے کہ شرق اوسط کا علاقہ جس کے درمیان میں ہماری عربی و اسلامی دنیا واقع ہے، اوریہ چیز ہرگز درست نہیں ہے کہ کوئی ملک اس انتظار میں رہے یہاں تک کہ اس پر اس طرح کا جبر و اکراہ واقع ہو جس کا دفاع کرنے کی اس کے پاس طاقت نہ ہو بلکہ افق میں اس کے نشانات ظاہر ہونے اور شہروں وانسانوں پر سامراجیوں کے قدم جمنے سے پہلے ہی اپنے مقام و حیثیت کے مطابق اقدام کر نا چاہیے تاکہ ان کے مضر اثرات سے وہ محفوظ رہ سکیں۔

دوسرے ممالک سے گوشہ نشینی اختیار کر نا۔۔۔ خودکشی اور بربادی ہے

 اس باب کے اخیر میں مصنف موجودہ زمانے میں مسلم ممالک کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے صیحح معنی و مفہوم پر روشنی ڈالتے ہیں، کاتب نے اشتعال انگیزی اور جوشیلے اسلوب سے قطع نظر بہت ہی سکون اور منطقی سانچے میں اسے ڈھال کر پیش کیا ہے، چنانچہ کاتب موصوف اپنی بات کے آغاز میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عصر حاضر میں اگر کوئی ملک دیگر ممالک سے گوشہ نشینی اختیار کر تا ہے تو گویا اپنے گلے میں پھانسی کا پھنداڈالتا ہے، اور اپنی قبر خود اپنے ہاتھو ں سے کھودتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس وقت بین الاقوامی تعلقات ملکوں کے لئے ضرورت زندگی بن گئے ہیں اور کسی بھی ملک کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے فوجی اسلحے اور اقتصادی وسائل سے نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کا اندازہ اس کی سیاسی کارکردگی، سفارتی دائرۂ کار کی وسعت اوربیرونی تعلقات کی مضبوطی کے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے۔

پھر مصنف نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں قائم اسلامی ڈپلومیٹک ممالک کی روشن تصویروں کا جائزہ لیا ہے اور بتا یا ہے کہ کیسے اس وقت کے مسلمانوں کو اپنےملک کے بیرونی تعلقات کو مؤثر بنانے کی خواہش دامن گیر تھی اور کیسے انہوں نے ان تعلقات کو وسیع کیاتھا، وہ آگے فرماتے ہیں کہ پہلی اسلامی ریاست میں بیرونی تعلقات کی روشن زندہ دلی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی ملک کے لئے دوسرے ممالک بالخصوص اس زمانے کے عظیم ممالک کے ساتھـ گہرے تعلقات کا ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ ممالک خواہ ہم اس بات کا اقرار کریں یا انکار، مختلف میدانوں میں بین الاقوامی نظام کی قیادت کر رہے ہیں اور ان تعلقات کا ہونا مسلم ممالک کے دین یا اس کے حکام کی قومیت کے لئے کوئی معیوب بات نہیں ہے، جب تک کہ وہ بڑے مصالح و فوائد کو برورئے کار لاتے رہیں اور اس کے دین، وطن اور عوام کے لئے مضر رساں عناصر کو دور کر تے رہیں اور جو لوگ مسلم اور غیر مسلم ملکوں کے درمیان بالخصوص مظلوم مسلم اقلیتی ممالک کے درمیان تعلقات ختم کر نے کی آواز اٹھاتے ہیں ان کی تردید میں مصنف سوالات کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ: کیا وہ ممالک ایسا کرنے سے اپنی خلاف ورزیوں سے باز آجائیں گے؟ اسی طرح ان سےقطع تعلق کر نے میں زیادہ نقصان کس کا ہو گا؟ پھرمسلم ممالک کن کے ساتھـ معاملہ کریں گے؟ اور کیا مسلم ملکوں کے معاملات صرف دنیا کے ان چھوٹے چھوٹے ممالک کے ساتھـ ہوں گے جن کا عالمی منظر نامے پر نہ کوئی وزن ہے اورنہ ہی کوئی قیمت؟ پھر مصنف ان سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فرماتےہیں کہ: اخیر میں سب سے بڑا نقصان ہماری گوشہ نشیں عربی و اسلامی ممالک کو ہوگا، جو ایسے ہو جا ئیں گے کہ گوشہ نشینی کی رسی خود اپنے گلے میں ڈال لیں گے، چنانچہ یہ ممالک اپنے دین و عوام کے مصالح کو بروئے کار نہیں لا سکیں گے اور نہ ہی ہر جگہ مسلمانوں کو پیش آنے والے ظلم و جبر کے واقعات کو ختم کر سکیں گے، وہ مزید فرماتے ہیں کہ مسلم ممالک کو عالمی تعلقات قائم کرنا نہ اختیاری ہے اور نہ محل نظر بلکہ انہیں تو اس سے کوئی چھٹکارا ہی نہیں ہے۔۔۔ اگریہ ممالک موجونہ دور میں اپنے قدموں کو جمانا چاہیں۔ اور کاتب آج کے مسلم نوجوانوں کو اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ مسلم ملکوں کی صلاحیتوں کا حقیقی اندازہ لگائیں اور حالات و صلاحیتوں کے پیش نظر گزشتہ صدیوں میں اسلامی ملکوں کا موازنہ اس سے نہ کریں کیونکہ ان کے درمیان حالات اور طاقت و قوت میں بہت ہی زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔۔۔ وہ اس سلسے میں فرماتے ہیں کہ: حقیقت حال نہ تو اس کی اجازت دیتی ہے اورنہ ہی یہ انصاف کی بات ہے کہ ہم آج کے مسلم ملکوں سے وہ سب کچھـ کرنے کا مطالبہ کریں جو عہد عموی و عباسی میں کیا جاتا تھا، یا اس (موجودہ) دور کا اس (گزرے ہوئے) زمانے سےموازنہ کریں جو بالکل ختم ہوچکا ہے اور اس کا نام و نشان تک نہ باقی رہا اور عالمی صورت حال کا معیار بدل چکا ہے اور الٹا سے بھی الٹا ہو چکا ہے۔

 اورسب سے اخیر میں کاتب موصوف نوجوانوں کی توجہات کو اس قاعدہ کی طرف مرکوز کرتے ہیں (ہر ممکن چیز کو ثابت کرنا) کہ شریعت کے احکام نے ہر ممکن چیز کو بروئے کارلانے کا فن بتایا ہے، ان احکامات نے سیاسی بازیگروں کو تسلیم کرنے سے پہلے ہی ان قواعد کو مضبوط کر دیا، چنانچہ ممکن چیز کو بروئے کار لانا صرف سیاست پر منحصر نہیں ہے بلکہ وہ شریعت کے قواعد میں سے ایک قاعدہ ہے جسکی قرآن وسنت نے نشان دہی کی ہے اور علماء اسلام نے فقہی قواعد کی اصل کی طرح اسکو بھی ہرزمانے میں اصل مانا ہے، پھر کاتب موصوف اسلام کے دعاۃ کی رہنمائی کر تے ہوئے اپنی بات یہاں ختم کرتے ہیں کہ انہیں لوگوں کے ساتھـ اور خود اپنے ساتھـ صادق ہونا چاہئے، انہیں اسلامی ممالک کی امکانیات ووسائل سے بڑھکر امید نہیں کرنی چاہیے اورمستحیل چیز کو حاصل کرنے میں ممکن ذرائع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ امت اسلامیہ انحطاط و ضعف کی جس حالت کو پہونچ گئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔

الحاكمية.. رؤية شرعية ونظرة واقعية الجزء الثالث UR



کتابيں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت