|
تعدد ازواج اور موجودہ شرعی نقطہ نظر(1)۔ بقلم: احمد زکریا۔۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے بعض علماء و مشائخ کی جانب سے لوگوں کے لئے متعدد شادیاں کرنے کی دعوت عام طور پر اس حد تک دی جا رہی ہے۔۔۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ متعدد بیویوں کا مسئلہ یہ دین کے اصول میں سے ہے، اور جس شخص نے متعدد شادیاں نہیں کیں گویا کہ اس کا ایمان یا اس کا یقین ادھورا ہے۔
میرا خیال ہے کہ مسلمان مردوں اور عورتوں میں اس طرح کا شعور و احساس سرایت کرگیا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ ہم نے یہ بھی احساس کیا کہ زیادہ تر اسلام پسند لوگ جب بھی دین کی خدمت کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ پہلی فرصت میں آزادی فلسطین، شریعت نافذ کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے۔۔۔ بلکہ وہ پہلی شادی کے بعد دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اگر آپ ایسے شخص سے یہ سوال کریں کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے؟ وہ جواب دے گا: کیونکہ فلاں شیخ چار شادیاں کئے ہوئے ہیں، اور فلاں شیخ تین شادیاں کئے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال اس وقت پیدا ہوا جب ہم نے یہ دیکھا کہ بعض داعیان دین کا اس موضوع پر کلام کرنے کا اسلوب واضح طور پر نہایت ہی ناپسندیدہ ہے، وہ اس مسئلہ کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں جیسا کہ یہ امت محمدیہ کا سب سے پہلا اور بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔ ہم نے معروف و مشہور صحفی استاذ/سید ابوداؤد - جبکہ ہم جماعت اسلامی کی ویب سائٹ کے لئے ان کے ساتھـ یہ انٹرویو لے رہے ہیں- کے اندر اس دعوتی خطاب کے تئیں بہت جذبہ پایا۔۔۔ کیونکہ اس کا امت کے مستقبل پر برا اثر پڑتا ہے، اور ایک ایسے مسئلے میں پوری محنت صرف کی جاتی ہے جس کا صدیوں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے اس لئے ہم اس سوال کے ذریعہ آغاز کررہے ہیں۔
کیا متعدد شادیاں اصل ہیں یا فرع (یعنی صرف اس کی اجازت ہے)؟ بعض علماء کرام کا خیال ہے کہ اصل یہ ہے کہ انسان متعدد شادیاں کرے اور صرف ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرنا یہ جائز ہے، میں اس رائے سے متفق نہیں ہوں۔۔۔ اس سلسلے میں بعض عبادات جیسے کہ نماز اور روزہ وغیرہ اس کی واضح دلیل ہیں۔ نماز پوری (بغیرقصرکے) پڑھنا اور روزہ رکھنا یہ اصل ہے، قصرکرنا اور روزہ نہ رکھنا کسی سبب کی بناء پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔۔۔ اور جو شخص بغیر کسی جائز عذر کے نماز پوری نہیں پڑھتا اور روزے نہیں رکھتا تو وہ سزا کا مستحق ہے، لیکن اس کے برخلاف جس شخص کے پاس کوئی شرعی عذر پایا جا رہا ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کو یہ بات پسند ہے کہ رخصت پر بھی اسی طرح عمل کیا جائے جس طرح کے اصل حکم پر عمل کیا جاتا ہے۔۔۔ اور جو شخص پوری نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے تو وہ سزا کا مستحق نہ ہوگا بلکہ اس کو اس پر اجروثواب بھی ملے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ) (البقرة:184)، (تمہارے حق میں بہترکام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو)۔ لہذا اس کی روشنی میں اگر متعدد شادیاں ہی اصل ہیں تو پھر جس شخص کے پاس ایسا کوئی عذر نہ پایا جاتا ہو کہ وہ ایک ہی شادی پر اکتفاء کرے اس پر واجب ہوگا کہ وہ شخص متعدد شادیاں کرے، اگر وہ شخص ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر وہ گنہگار ہوگا۔ جبکہ یہ بات شرعی اور عرفی دونوں اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔ لہذا ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ کسی شخص کا متعدد شادیاں کرنا یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے کسی وجہ کی بنا پر اس کے لئے جائز کیا گيا ہے۔ لہذا میرا رجحان اسی قول کی طرف ہے کہ شادی میں اصل یہ ہے کہ آدمی ایک لڑکی سے شادی کرے۔۔۔ کیونکہ اللہ رب العالمین نے اسی سے آغاز کیا ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے کہ امت محمدیہ میں تقریبا (80٪) لوگ ایک ہی شادی پر اکتفاء کرتے ہیں، ایک سے زیادہ شادی کسی ضرورت کے تحت اور کسی وجہ کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہے۔ اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو یہ نصیحت کرتے پھریں اور ان سے یہ کہیں: زیادہ سے زیادہ شادیاں کرو جیسے کہ بعض داعی لوگ فضائی چینلوں میں ایسا کہتے رہتے ہیں۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے مسلمان کا اسلام اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ وہ ایک سے زائد شادیاں نہ کرلے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر آدمی کے اپنے حالات و ظروف ہوتے ہیں۔۔۔ مثال کے طور پر جو آدمی آپ کو سچا سمجھتا ہے اور آپ کی بات مانتا ہے اس کے پاس زیادہ علم بھی نہیں ہے آپ ایسے شخص سے کہیں کہ تمہارے لئے ایک سے زائد شادی کرنا ضروری ہے، لہذا وہ شخص آپ کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے چار چار شادیاں کرلیتا ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ اس کے پاس نہ مال و دولت ہے، نہ ہی اس کی صحت و تندرستی اس کا ساتھـ دے رہی ہے اور نہ اس کے پاس ایسا گھر ہے جہاں وہ ایک سے زائد بیویاں رکھـ سکے لہذا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تو خود ڈوب جاتا ہے لیکن اپنے ساتھـ مزید چار کو لے کر ڈوبتا ہے۔ داعیوں کو چاہیئے کہ وہ اس مسئلے کو ایسے ہی چھوڑ دیں جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے کو ایسے ہی چھوڑ دیا تھا، آپ نے متعدد شادیاں کیں۔۔۔ جب جمعہ کا دن آیا تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم لوگ بھی متعدد شادیاں کرو۔۔۔ یہ مسئلہ ہر آدمی کا اپنا الگ الگ ذاتی معاملہ ہے کیونکہ ہر آدمی کے اپنے اپنے ظروف و حالات ہی ایسا قدم اٹھانے کی وجہ ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں زیادہ تر علماء کرام کا یہی رجحان ہے انہی علماء کرام میں سے شیخ/سلمان عودہ اور شیخ/عائض القرنی وغیرہ ہیں۔ اس مسئلہ میں اختلاف کے پائے جانے کا ہم انکار نہیں کرتے بلکہ اس مسئلے میں ابھی بھی بحث و مباحثہ کی گنجائش ہے۔ لیکن یہ متعدد شادیاں کیوں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں کچھـ اسباب اور وجوہات ایسے ہیں جس کی اسلام نے رعایت کی ہے انہیں اہم وجوہات میں سے چند یہ ہیں: * عورت کا بانجھـ ہونا یا اس کا بچہ پیدا کرنے پر قادر نہ ہونا، کیونکہ یہ آدمی کو اولاد کی نعمت سے محروم کردیتی ہے۔ * عورت کے مقابلے میں آدمی کے اندر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا زیادہ عرصہ تک برقرار رہنا، بسا اوقات مرد کے اندر ستـّر(70) سال گزرنے کے بعد بھی یہ طاقت برقرار رہتی ہے۔۔۔ جبکہ عام طور پر پچاس (50) سال گزرنے کے بعد عورت کے اندر یہ طاقت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں تقریبا بیس (20) سال تک مرد کے اندر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے جبکہ عورت کے اندر اس عرصہ میں اس کا فقدان ہوچکا ہوتا ہے، تو پھر شہوت کو کنٹرول کرنے کے لئے، اس پر قدغن لگانے کے لئے یا مردوں کو انحراف سے بچانے کے لئے دوسری شادی ہی اس کا سب سے بہتر علاج ہوتی ہے۔ * شادی کی عمر میں پائی جانے والی عورتوں کی تعداد کا شادی کی عمرمیں پائے جانے والے مردوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہونا، لہذا ایسی صورت حال میں زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے شادی ممکن ہے، کیونکہ اس (تعداد کی زیادتی) کا علاج مندرجہ ذیل تین باتوں میں سے کسی ایک سے کیا جائے گا۔ پہلا حل:- آدمی صرف ایک عورت سے شادی کرے اور باقی عورتیں ایسے ہی بغیر شادی کے زندگی گزاریں، لیکن اس طرح کرنے سے وہ عورت ایک عورت کی حیثیت سے اپنے فطری حق سے محروم رہ جائے گی۔ ایسی صورت حال میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بعض غیرشادی شدہ عورتیں مردوں کی لذت سے لطف اندوز ہونے کے لئے ناجائز اور غلط راستہ اختیار کرلیتی ہیں تاکہ وہ بھی اپنا وجود ثابت کرسکیں، لیکن یہ طریقہ اس کے حق میں پائیدار ثابت نہیں ہوتی ہے کیونکہ یہ اس کے لئے ایک بیوی اور ایک ماں کا حق ادا کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتی ہے۔ دوسرا حل:- آدمی ایک عورت سے شرعی طور پر شادی کرے، اور باقی عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھے، تاکہ دوسری عورتیں بھی اپنی جنسی خواہش کا لطف لے سکیں، لیکن یہ حل بھی پائیدار نہیں ہے کیونکہ اس سے ہمارا پورا معاشرہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ تیسرا حل:- آدمی ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرے جو چار سے زیادہ نہ ہونے پائیں، اور یہی وہ اسلامی حل ہے جو ہر مرد اور ہر عورت کو ان کے فطری حقوق سے جس طرح اللہ رب العالمین چاہتا ہے مکمل طور پر لطف اندوز اٹھانے کا ضامن ہے۔ متعدد شادیاں کرنے کے شرائط متعدد شادیاں کرنا یہ ایک ایسا جائز عمل ہے جو مرد و عورت دونوں کے فطری تقاضے کو یکساں طور پر پورا کرتا ہے، معاشرہ کو ذلت و رسوائی کے گڑھے میں گرنے سے بچاتا ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف مرد کے اندر پائی جانے والی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد شادیوں کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔۔۔ بلکہ یہ تو ایک ایسی ضرورت ہے جس کو ضرورت ہی واجب کرتی ہے۔۔۔ لیکن اس کے ساتھـ ہی یہ بات نہیں بھولنا چاہيئے کہ متعدد شادیاں کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس کے لئے بھی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ تمام بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیا جائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً) (النساء:3)، (لیکن اگرتمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے) لہذا معلوم ہوا کہ اگر آدمی کے اندر عدل و انصاف کا فقدان ہے تو وہ اس جواز کا مستحق بھی نہ ہوگا۔ عدل و انصاف کی یہ جو شرط رکھی گئی یہ شرط ازدواجی زندگی کو ہر بدنظمی سے محفوظ رکھنے کی ضامن ہے۔۔۔ اسی طرح سے یہ شرط بیوی کو بھی ظلم وستم سے محفوظ رکھتی ہے، اور اس کی عزت و آبرو کی بھی حمایت کرتی ہے بایں طور کہ وہ مرد کسی دوسری بیوی کو اس پر فوقیت نہیں دے سکتا ہے۔ اللہ رب العالمین نے اس کو عدل و انصاف کے ساتھـ متعدد بیویوں پر ایک بیوی کو ہی افضل قرار دیا ہے ۔۔۔ اللہ رب العالمین نے اس بات کو افضل قرار دیا ہے کہ عدل و انصاف کے پائے جانے کے باوجود بھی متعدد شادیوں سے ایک شادی ہی افضل ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا (ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا) (النساء:3)، (یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے نا انصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ) یعنی کہ تم ظلم و ستم نہ ڈھاؤ۔ مطلوب عدل و انصاف ہم یہاں ایک بہت ہی اہم بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ یہاں جس عدل و انصاف کی بات کی جا رہی ہے اس سے مراد اٹھنے بیٹھنے، سونے، کھانے پینے اور کپڑے وغیرہ میں اس کا لحاظ رکھنا ہے۔ پیار و محبت کو عدل و انصاف کے معیار پر پرکھنا یہ تو مشکل ہی نہیں بلکہ یہ تو مستحیل ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے (وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُوراً رَحِيماً) (النساء:129)، (تم سے یہ تو کبھی نہ ہوسکے گا کہ اپنی تمام بیویوں میں ہرطرح عدل کرو، گوتم اس کی کتنی ہی خواہش و کوشش کرلو، اس لئے بالکل ہی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری کو ادھڑ لٹکتی ہوئی نہ چھوڑو اور اگر تم اصلاح کرو اور تقوی اختیار کرو تو بے شک اللہ تعالی بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے) اللہ رب العالمین کا یہ حکم بشری سمجھـ بوجھـ کے عین مطابق ہے۔۔۔ کیونکہ آدمی اگرمثال کے طور پر اپنی پہلی، دوسری اور تیسری بیوی کے درمیان محبت کرنے میں عدل و انصاف کا خود ہی مالک ہوتا تو پھر وہ دوسری شادی کرنے کے لئے قدم ہی نہیں اٹھاتا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعاء کرتے وقت یہ کہتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام بیویوں کے درمیان تقسیم کرنے کے وقت عدل و انصاف سے کام لیتے تھے اور کہتے تھے: "اے میرے پروردگار! یہ میری تقیسم ہے جس کا میں مالک ہوں لہذا تو ہمیں اس پر ملامت نہ کرنا جس کا مالک تو ہے اور میں اس کا مالک نہیں ہوں" اس حدیث کو امام ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔۔۔ اور علامہ البانی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مادی عدل و انصاف کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں میں ایک ایک دینار خفیہ طریقہ سے اس طرح تقسیم کیا کہ دوسری بیویوں کو اس کا علم نہ ہوسکا پھر آپ نے ان تمام بیویوں کو یکجا کیا اور ان سے فرمایا: "تم میں سے میرے نزدیک سب سے افضل بیوی وہ ہے جس کو ہم نے دینار دیا"۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہوجائے اور کافی سنگین حد تک پہنچ جائے تو پھر ان دونوں کے حق میں طلاق بہتر ہے۔۔۔ کیونکہ ازدواجی زندگی کا دارومدار اطمینان و سکون، پیار و محبت اور رحم و کرم پر ہے۔۔۔ اگر ان میں اس کا فقدان ہے تو پھر زندگی کا کوئی معنی نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے اسی لئے اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا: (وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلّاً مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعاً حَكِيماً) (النساء:130)، (اور اگر میاں بیوی جدا ہوجائیں تو اللہ تعالی اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا، اللہ تعالی وسعت والا حکمت والا ہے)۔ ضروری ہدایت تعدد ازواج کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جس کے بارے میں تفصیل سے بحث کرنا ضروری ہے۔۔۔ کیونکہ اس ویب سائٹ کے پڑھنے والے طرفین یعنی مرد و عورت دونوں ہیں۔۔۔ اس لئے کسی فریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف ایک ہی فریق کو بروئےکار لاتے ہوئے کوئی بات کہنا یہ حق نہ ہوگا۔۔۔ اس کے ساتھـ یہ بھی ضروری ہے کہ حق بات پوری پوری کہی جائے ادھوری بات نہ کہی جائے۔ پہلی بات: جب آدمی اپنے اہل و عیال کے ساتھـ خوشحالی کی زندگی گزار رہا ہو، اور کوئی ایسی وجہ نہ پائی جاتی ہو جس کی بنا پر وہ دوسری شادی کرے۔۔۔ تو پھر ایسے حالات میں آدمی دوسری شادی کیوں کرتا ہی ہے؟ اور اس معاملے میں کیوں جلدبازی سے کام لیتا ہے؟! دوسری بات: جو آدمی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے -عام طور پر- اس کے شروط کم سے کم ہی ہوں گے، کیونکہ وہ یہی کہے گا کہ میرے پاس تو میری بیوی پہلے سے ہی موجود ہے، وہ یہ بات جان لے کہ - مثال کے طور پر- ایک خوبصورت دوشیزہ ہمیں آسانی سے قبول نہیں کرے گی، اسی طرح سے کمسن لڑکی بھی اسے قبول نہیں کرے گی۔۔۔ لہذا وہ (دوسری شادی کے لئے) اپنے بعض شروط سے خود بخود تنازل کرلے گا اور وہ ایسی لڑکی سے شادی کرے گا جو اس کی نظرمیں عام صفات سے کچھـ کمتر ہوگی، یہ زیادہ تر لوگوں کا معیار ہے۔۔۔ جس کو کسی حد تک معیار کہا جاسکتا ہے۔۔۔ ورنہ ضروری تو یہ ہے کہ ہم ظاہری اور معنوی معیار(اخلاق، دین، علم اور سمجھـ بوجھـ وغیرہ) دونوں کو دیکھیں۔ یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے، لہذا جب وہ دوسری سے شادی کرے گا تو(بسا اوقات) وہ اس کو پسند نہ آئے، کیونکہ پہلی والی بیوی اس دوسری ولی بیوی سے کہیں زیادہ اچھی ہے، یا اس سے کہیں زیادہ حسین و جمیل ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس دوسری بیوی کے ہمراہ شادی کے ابتدائی ایام ہنسی خوشی کے ساتھـ گزارے کیونکہ یہ تو ابھی نئی نویلی دولہن ہے، اور ہر نئی نویلی دولہن اچھی لگتی ہے، لیکن اس کے ساتھـ کچھـ ہی عرصہ گزرنے کے بعد وہ آدمی اس دوسری بیوی سے بذات خود منہ موڑنے لگتا ہے اور طلاق کی نوبت آجاتی ہے، اور اس پرجو نتیجہ مرتب ہوتا ہے وہ یہ کہ اس آدمی کا مال ضائع ہوچکا ہوتا ہے اور اس کی کمر قرضوں سے جھک چکی ہوتی ہے۔ وہ بسا اوقات اس عورت کا مستقبل تہ وبالا بھی کرسکتا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس عورت کو اس آدمی سے حمل رہ جائے اور وہ اس کے بچوں کی ماں بن جائے، اور پھر اس کی بنیاد پر دوسری پریشانیاں جنم لینے لگیں جس سے وہ کوسوں دور ہوتا اگر اس نے دوسری شادی کرنے سے پہلے اچھی طرح اس موضوع پر غور کیا ہوتا۔ اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ: شادی نہ کرو۔۔۔ کیونکہ اللہ رب العالمین فرماتا ہے اور اس کا کلام حق ہے (فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا) (النساء:3)، (عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو، دو دو، تین تین، چار چار سے لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈیاں)۔ لیکن میں صاف صاف یہی کہوں گا: دوسری شادی کرنے سے پہلے اس موضوع پر اچھی طرح سے ٹھنڈے دماغ سے غور کرو۔۔۔ اگر آپ نے پہلی بیوی سے شادی کرنے کے لئے اس موضوع پر ایک ماہ غور کیا تھا تو پھر دوسری بیوی سے شادی کرنے کے لئے سال بھر اس موضوع پر غور کرو۔۔۔ اس میں تاخیر آپ کے لئے ذرہ برابر بھی مضر ثابت نہ ہوگی۔۔۔ کیونکہ آپ ابھی نوجوان ہی ہیں، اپنی عمر کے ابتدائی مرحلے ہی میں ہیں۔ تیسربات: اگر آپ نے دوسری شادی کرلی تو پھر آپ پر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ دونوں بیویوں کے ساتھـ عدل و انصاف سے کام لیں، ایسا نہ ہو کہ پہلی بیوی یا اس کے بچوں کو بھول جائیں یا اس کے حق میں کوتاہی برتیں، یا دوسری بیوی ہی میں مشغول ہوکر رہ جائیں، یا صرف پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے ہوکر رہ جائیں، اسی کی دلجوئی کرتے رہیں اور ادھر دوسری بیوی کے حق میں کوتاہی برتنے لگیں۔ چوتھی بات: آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ جب شادی کے بارے میں سوچے اور مکمل طور پر اس کا پختہ ارادہ کرلے، تو پھر اس کو چاہیئے کہ وہ اپنی پہلی بیوی کی باربار دل آزاری نہ کرے بایں طور کہ جب بھی اس کے پاس کہیں سے آئے تو یہ کہے: اے فلانی! میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، میں نے کسی کو پیغام دیدیا ہے، میں نے ایسا کیا ہے اور میں نے ویسا کہا ہے۔ اگر یہ سب کہنا ہی ہے تو پھر ایک ہی بار کہنا۔۔۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ آپ صبح و شام ایسی خبر سے اس کا دل دکھائیں جو حقیقت میں کبھی اس کے لئے خوشی کی خبر نہیں بن سکتی ہے۔ (باقی آئندہ۔۔۔) تعدد الزوجات , رؤية شرعية معاصرة UR
مسلم خاندان -
|