|
تعدد ازواج اور موجودہ شرعی نقطہ نظر(2)۔ بقلم: احمد زکریا۔۔ گزشتہ قسط میں ہم اس موضوع پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ متعدد شادیاں اصل ہیں یا فرع، اس پر بھی کلام کیا ہے کہ آخرکار متعدد شادیوں کی نوبت کیوں آتی ہے اور جب انسان دوسری شادی کرتا ہی ہے تو پھر اس کے لئے کیا کیا شرائط ہیں نیز بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے گزشتہ قسط میں اس کو واضح کیا جا چکا ہے اور اس دوسری و آخری قسط میں ہم دوسری شادی سے متعلق بعض دیگر مسائل پر گفتگو کریں گے۔
تعدد کا مسئلہ اور اس میں پائی جانے والی ظلم وستم کی شکلیں پہلی شکل:- ہمیشہ دوسری شادی کرنے کی دھمکی دینا: بعض شوہر اپنی پہلی بیوی کو ہمیشہ دوسری بیوی سے شادی کرنے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں، اگرچہ یہ بات وہ بطور مزاق ہی کیوں نہ کہتے ہوں، لیکن پھر بھی یہ چیز عورت کے اندر نفیساتی طور پر منفی اثر چھوڑتی ہے لہذا آپ یہ محسوس کریں گے کہ مرد ہمیشہ اپنی بیوی سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ میں کچھـ ایسے شوہروں سے بھی واقف ہوں جو اپنی بیوی سے سہاگ رات منانے کے لئے کمرے کے اندر گئے اور ابھی ایک ہی دو گھنٹہ گزرا تھا کہ وہ اپنی نئی نویلی دولہن سے ہی دوسری بیوی سے شادی کرنے کے متعلق باتیں کرنے لگے، عورت کو اس طرح کی دھمکی دینے کی ضرورت نہیں ہے، کافی غور و فکر کرنے کے بعد اگر آپ اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ آپ کو دوسری شادی کرنی ہی ہے، تو آپ صرف یہ نہ گمان کریں کہ بات صرف دوسری بیوی کی ہی ہے بلکہ اس موضوع کو ٹھنڈے دماغ سے بہت ہی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھـ صحیح اور درست طریقہ سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ استخارہ، غور و فکر اور صلاح و مشورہ کرنے کے بعد شادی کا فیصلہ کر ہی لیں تو پھرآپ یہ اقدام کربھی سکتے ہیں اس کے لئے آپ کو دوسری شادی کی دھمکی دے کر اپنی پہلی بیوی کا صبح و شام دل دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری شکل:- دوسری شادی کرنے کے لئے جلدبازی میں فیصلہ کرنا: کسی بھی شخص کا دوسری شادی کرنے کے لئے جلدبازی میں فیصلہ کرنا حالانکہ وہ اس دوسری شادی کا اہل نہیں ہے، یا تو جذباتی طور پر اس کے قابل نہیں ہے یا جسمانی طور پر وہ نا اہل ہے یا پھر اس کی مالی حیثیت ایسی نہیں ہے یا تمام وجوہات کی بنا پر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ میں ایسے بہت سارے لوگوں سے یہاں تک کہ بعض نیک اور صالح لوگوں سے بھی واقف ہوں۔۔۔ ان میں سے بعض لوگوں نے دوسری شادی کرنے کے لئے بہت ہی جلدبازی سے کام لیا انہوں نے اس موضوع سے متعلق اچھی طرح غور و فکر نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے اس کے بارے میں کسی سے صلاح و مشورہ لیا بلکہ وہ اپنی ہی رائے پر اڑے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاملہ اس کے خلاف ہوجاتا ہے جیسا وہ سوچتا تھا! اسے ایسے ایسے امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ جو کچھـ ہم نے دیکھا ہے اور تخمینہ لگایا ہے تو ہم اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دوسری شادی میں ناکامی پہلی شادی کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے خاص طور پر شوہر جب دوسری شادی کرتا ہے تو وہ شادی کے وقت ہی اپنے بعض شروط سے تنازل کرلیتا ہے کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ وہ شادی کے لئے خود ہی تیار ہے اور اس کے پاس ایک بیوی بھی ہے۔۔۔ اگر وہ تمام شرطوں کا اعتبار کرتے ہوئے بیوی تلاش کرتا ہے تو وہ ملنے والی نہیں لہذا وہ بذات خود اپنی بعض شرطوں سے تنازل کرلیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شوہر اپنی دوسری بیوی میں بعض وہ ناگوار چیزیں بھی پاتا ہے جو بسا اوقات اس کو ایسا بنادیتی ہیں کہ وہ خود ہی اپنے جلدبازی والے فیصلے پر شرمندہ ہوتا ہے۔ تیسری شکل:- دونوں بیویوں میں سے کسی ایک ہی کی طرف مائل ہوجانا: اپنی دونوں بیویوں میں سے کسی ایک ہی بیوی کی طرف مائل ہوجانا، مثال کے طور پر اپنی ساری توجہ فلانہ کی جانب، اسی کے ساتھـ ہنسنا، اسی کے ساتھـ مزاق کرنا، اسی کی جانب دیکھنا، اسی کی جانب اشارہ کرنا یعنی جب دونوں بیویاں ایک ہی جگہ ہوں، اس کے بچوں کی زیادہ دیکھـ بھال کرنا، ان کے لئے تحفہ اور کھلونے وغیرہ خریدنا جو دوسری بیوی کے بچوں کے ساتھـ نہ کرنا، اور آپ یہ بھی محسوس کریں گے کہ وہ فلانہ کے پاس زیادہ سے زیادہ آتا جاتا ہے۔۔۔ اس کی باری کے دن بھی اور جس دن اس کی باری نہیں ہوتی اس دن بھی ایسا کرتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں وہ دوسری بیوی کو نظرانداز کرتا ہے اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں ہے، بسا اوقات وہ اس سے دور ہی بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے اپنے ملنے کے سارے وعدے اسی کی باری کے دن کرتا ہے۔۔۔ تاکہ اس کے پاس جانے سے، اس کی طرف دیکھنے سے، اس کے ساتھـ اٹھنے بیٹھنے سے، اس کے ساتھـ ہنسی مزاق کرنے سے یا اس کے بچوں کے ساتھـ کھیلنے سے زیادہ سے زیادہ اسے بہانہ بنانے کا موقع مل سکے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ تو اپنی نئی والی بیوی میں بالکل محو ہو کر رہ جاتے ہیں اور دوسری بیوی کے بال بچوں کو بھول ہی جاتے ہیں۔۔۔ ان کی دیکھـ بھال نہیں کرتے، ان کی پرورش و پرداخت نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں اپنے سینے سے لگاتے ہیں، جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے "اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لو" جیسا کہ آپ یہ پسند کرتے ہو کہ وہ سب آپ کے ساتھـ برابر حسن سلوک کریں تو پھر آپ کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ بھی ان سب کی برابر دیکھـ بھال کریں، بچوں کے درمیان باہم بغض و عداوت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے باپ ان کے درمیان عدل و انصاف سے کام نہیں لیتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ شوہر ایک بیوی کو لے کر سفر کرتا ہے اور دوسری کو بالکل نظرانداز کردیتا ہے، اور کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی ساری مال و دولت ایک ہی پر لٹاتا ہے جبکہ وہ دوسری کو ایک پائی بھی نہیں دیتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے صحیح حدیث میں آتا ہے جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا ہے "اے لوگو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے لہذا تم لوگ آپس میں ایک دوسر پر ظلم نہ کرو"۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے "ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے"۔ ظلم اور ظالموں کا انجام:- دور حاضر میں پورا عالم دیکھـ رہا ہے کہ پوری پوری قوم کی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر مسلمان قوموں کا۔ ان پر ہرطرح کے دشمنوں کو مسلط کیا جا رہا ہے، ایسے ایسے ظالم و جابر حکمرانوں کو مسلط کیا جا رہاہے جن حکمرانوں نے ملک کی ساری جائیداد کو تن تنہا ہڑپ لیا ہے، ساری قوم کے حقوق کو نظرانداز کردیا ہے، بلکہ اپنی عوام کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا ہے اور انہیں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ ظلم و ستم جس کا تمام مسلمان شکار ہو رہے ہیں یہ اللہ رب العالمین کی جانب سے ایک طرح کا عقاب ہو؟! کیونکہ اللہ رب العالمین ظالموں کو ظالموں سے ہی مـزہ چکھاتا ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے اور یہ اس کا وعدہ ہے، اس کا وعدہ برحق ہے ارشاد ہے (وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضاً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (الأنعام:129)، (اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب) "نولی" کا مطلب یہ ہے کہ ہم انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھیں گے، لہذا اللہ رب العالمین ظالم کی سزا یہ کردیتا ہے کہ اس ظالم پر اس سے بھی بڑا ظالم مسلط کردیتا ہے۔۔۔ اور کوئی بھی ہستی ایسی نہیں ہے اللہ جس پر قادر نہ ہو۔۔۔ اور جو شخص بھی ظلم و ستم کرے گا وہ اپنے سے بڑا ظالم و جابر کی جانب سے آزمایا جائے گا۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث آتا ہے جو صحیح حدیث ہے اور اس حدیث کو امام ترمذی، ابوداؤد اور احمد بن حنبل وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس سے آخرت کے عذاب کے ساتھـ جو اللہ تعالی نے اس کے لئے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی عذاب دینے کے لائق ہو سوائے بغاوت اور رشتہ داری قطع کرنے کے"۔ بلاشبہ عورتوں پر ظلم کرنا، اس کے حقوق کو پامال کرنا، اس پر ستم ڈھانا، اس کو کمتر گرداننا اسے نہ تو کئی قانون جائز قرار دیتی ہے، نہ ہی کوئی تنظیم اس کی تائید کرتی ہے اور نہ ہی کوئی عدالت اس کو درست قرار دیتی ہے۔ بہانہ کرنے کے ذرائع بہت ہیں، ازدواجی زندگی میں چھیڑچھاڑ کرنے کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی حل اس کا نکل سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ اللہ رب العالمین کے سزا کی یاد دلائی جائے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَداً بَعِيداً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ) (آل عمران:30)، (جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی۔ اللہ تعالی تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالی اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے) پیارے بھائیو! خدا کی قسم میں آج بھی یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ بہت سارے گھروں میں آج بھی ظلم کا بول بالا ہے، ہم پر ضروری ہے کہ جن لوگوں کی باگ ڈور ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم ان کے حقوق میں اللہ رب العالمین سے خوف کھائیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے جس کو امام احمد نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور وہ صحیح حدیث ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے "کوئی بھی شخص جو دس یا اس سے زیادہ آدمی کے اوپر نگراں مقرر کیا گیا اللہ تعالی اس کو ایسے حال میں بروزقیامت لائے گا کہ اس کے دونوں ہاتھـ اس کے گردن سے بندھے ہوں گے پھر یا تو اس کی نیکیاں اسے کھولیں گی یا تو پھر اس کے گناہ اسے تباہ وبرباد کردیں گے۔۔۔" بسا اوقات آپ کے اہل و عیال دس یا اس سے زیادہ ہوں، اگر ہم یہ مان لیں کے وہ اس تعداد سے کم ہوں یا ہم یہ مان لیں کہ آپ کے پاس دو بیویاں ہیں یا صرف ایک ہی بیوی ہے تو اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری حدیث میں آتا ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہرشخص اپنے ماتحت کے بارے میں جوابدہ ہے"۔ ایک دوسری حدیث جو حضرت ابوھـریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ صحیح حدیث ہے اور اسے امام احمد، ابوداؤد، نسائی اور طیالسی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے ارشاد فرمایا: "جس شخص کے پاس دو بیویاں ہوئیں اور وہ شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کی جانب مائل رہا تو وہ شخص بروزقیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک جانب جھکا ہوا ہوگا"۔ پیارے بھائیو! عورت بھی ایک مخلوق ہے جس کی اپنی شخصیت ہے، اس کی عزت ہے، اس کے اندر بھی جذبات ہیں، اس کے اپنے جسم کے لئے بھی کچھـ مطالبات ہیں اور اپنی روح کے لئے بھی کچھـ مطالبات ہیں، اس کے وجدانی کیفیت کے بھی کچھـ مطالبات ہیں۔ عورت کی ساری خواہشیں کھانا پانی، کپڑا اور گھر ہی میں پنہاں نہیں ہیں۔ ہرگز نہیں! یہ کافی نہیں ہیں۔ اسی طرح سے اس کی ساری خواہش بستر پر جسمانی تعلقات قائم کرنے سے نہیں ہوتی، یہ بھی کافی نہیں ہیں۔ بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے وہ یہ کہ آپ اس کے ساتھـ اچھے اخلاق سے پیش آئیں، اس کو اچھی طرح سے رکھیں، اس کے ساتھـ اچھا معاملہ کریں۔۔۔ عورتوں کی نادانیوں پر صبر و تحمل سے کام لیں، اس کے ساتھـ رواداری برتیں۔۔۔ اس پر اکتفاء نہیں بلکہ آدمی جتنا بھی اس کے ساتھـ اچھائی کرسکتا ہے وہ کرے اور حقیقت میں آدمی بہت ساری اچھائیاں کرنے پر قادر ہے۔ (وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً) (الفرقان:74)، (اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا)۔ تعدد الزوجات , رؤية شرعية معاصرة UR 2
مسلم خاندان -
|