|
جبر کے بجائے محبت ڈاکٹر خالد مشتاق۔۔ ”میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں“۔ میں نے اسے بتایا: ”میں اسلام آباد میں ہوں، آج کل مہینے میں صرف آخری ہفتہ کراچی میں رہتا ہوں، آپ وہاں کلینک پر آجائیں“۔ ”سر میں اسلام آباد سے ہی بات کررہی ہوں، میں آپ کے گھر آجا?ں؟“ میں نے اس سے کہا کہ آپ اگر مریض ہیں تو اسپتال آئیں۔ اس نے اپنا تعارف کرایا، وہ میری ایک مریضہ جسے سانس کی تکلیف تھی، کی بیٹی تھی۔ کہنے لگی ”میں کئی مرتبہ اماں کے ساتھ آپ کے پاس آئی ہوں۔ ہم اسلام آباد ایک دو ماہ کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ مجھے آج بڑی مشکل سے یہ پتا چلا ہے کہ آپ یہاں ہیں۔ کیا آپ گھر پر نہیں مل سکتی؟ کلینک آپ کر نہیں سکتے تو میں پارک آجاتی ہوں۔ میرا نام صائمہ ہی، عمر ساڑھے 18سال ہے، کراچی یونیورسٹی میں بی فارمیسی کی طالبہ ہوں۔“ وہ اس وقت کسی رشتہ دار کے گھر G-7 مرکز میں رہ رہی تھی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اسپتال کے علاوہ مریض سے نہیں مل سکتا۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر آپ نہیں ملے تو میں اپنے آپ کو نقصان پہنچا لوں گی۔ اور ایک لیکچر انسانی جان کو بچانے کی اہمیت پر دے ڈالا۔ میں نے اس کی بات سننا ضروری سمجھا۔
اسلام آباد میں نہ ہی میرا گھر تھا نہ کلینک، میں اس وقت پیما ریلیف کے آفس میں رہ رہا تھا اور ریلیف کے مختلف کاموں میں مصروف تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ کل صبح مجھے PIMS اسپتال اسلام آباد جانا ہے۔ وہاں میں 2 گھنٹے میں فارغ ہوجاﺅں گا، آپ OPD میں آجائیں لیکن ساتھ کسی دوسرے فرد کو ضرور لائیں۔ وہ دوسرے دن اپنی ایک کزن کے ساتھ انتظار کررہی تھی۔ اس نے بتایا کہ ہماری زندگی میں بڑے مسائل ہیں۔ ہم بلوچ کالونی کراچی میں رہتے ہیں، ہمارے والدین دونوں پڑھے لکھے ہیں لیکن قوتِ برداشت نام کی کوئی چیز ان میں نہیں۔ ابا کے آنے کے وقت تو ایسا لگتا ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر‘ سب لوگ الرٹ، خوف و ہراس اور وسوسے دلوں میں، آنکھوں میں پریشانی کہ پتا نہیں اب کیا ہوگا۔ ابا نے غصے میں PHD کیا ہے اور گالیوں میں بھی اسپیشلسٹ ہیں، طعنہ زنی میں تو وہ گولڈ میڈلسٹ ہیں، تنقید کرنے میں انہوں نے تمام ریکارڈ توڑ رکھے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تنقید کرنے اور دوسروں میں کیڑے نکالنے کا مقابلہ ہو تو میرے والد صاحب دنیا میں ورلڈ چیمپئن ہوں گے۔ بس ابا کے آتے ہی احتساب عدالت لگ جاتی ہے۔ امی تو پٹ بھی جاتی ہیں۔ ہم بڑے ہوگئے ہیں، اس لیے کچھ محفوظ ہیں۔ امی بھی سن سن کر اب Immune ہوگئی ہیں، لیکن ہم ہر وقت خوف میں مبتلا رہتے ہیں، گھر میں بات نہیں کرسکتی، اپنی مرضی کا کھانا نہیں پکا سکتی، ٹی وی نہیں دیکھ سکتے۔ ابا کا حکم آیا سو جاﺅ، بس آنکھیں بند کرکے لیٹ جاتے ہیں۔ جب ان کا حکم ہو، جانے آنے کی اجازت ہے۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں رہنے کا دل نہیں چاہتا۔ امی کا مزاج یہ ہے کہ وہ لیکچر دیتی رہتی ہیں۔ ہم امی کے لیکچر سننے سے بچنے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ دھیان امی کی طرف رہتا ہے کہ کہیں پھر نہ سننی پڑے۔ امی ابو کی اتنی سن چکی ہوتی ہیں کہ وہ ہماری بات ہی نہیں سنتیں۔ ہم تنہائی کا شکار ہیں۔ کہنے لگی: ڈاکٹر صاحب! میرا جب سے یونیورسٹی میں داخلہ ہوا ہے کچھ Relex ہوئی ہوں۔ مجھے کچھ اچھی دوست بھی مل گئی ہیں، لیکن انٹر کی چھٹیوں کے زمانے سے میرے ساتھ ایک مسئلہ ہوا ہے۔ میرے پاس موبائل فون پر ایک لڑکے کی مس کال آئی۔ کال جب کئی مرتبہ آئی تو میں نے بات کرلی۔ اس لڑکے نے میری باتیں بہت تحمل سے سنیں، کیوں کہ شروع میں، میں نے اسے خوب سنائیں، لیکن جب اس نے میری ہر تلخ بات کا بھی ہنس کر جواب دیا تو مجھے خوشی ہوئی۔ اب میں گھنٹوں اس لڑکے کے ساتھ بات کرتی۔ اس طرح میں ذہنی طور پر ایک طرح سے Relex ہوگئی کہ کم از کم کوئی تو میری سنتا ہی، ماں باپ تو بات ہی نہیں کرتے۔ لیکن یونیورسٹی آکر جب میری دوستی چند ایسی لڑکیوں سے ہوئی جو مختلف تھیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں غلط کررہی ہوں۔ اس لڑکے نے فون پر مجھ سے کہا کہ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے اسے انکار کردیا۔ اس پر اس نے مجھے دھمکی دی کہ میں تمہیں بدنام کردوں گا، میں نے تمہاری آواز ریکارڈ کرلی ہی، میں تمہاری آنٹی کو فون کروں گا اور انہیں تمہاری آواز بھی سنا?ں گا۔ اس بلیک میلنگ پر میرا دل اس کی طرف سے خراب ہوگیا۔ میری آنٹی جو بڑے لیکچر دیتی ہیں اور امی کی طرح زبردستی اچھے کام کرانے کی کوشش کرتی ہیں، انہوں نے کہہ دیا کہ تم نے تو Boy Friends بنا لیے ہیں۔ میں رونے لگی کہ میرے اوپر اتنا بڑا الزام! کہنے لگی: ڈاکٹر صاحب اس لفظ کا مطلب کتنا سنگین ہے۔ اس کے بعد میرے ابو نے مجھے مارا، میں نے بتایا کہ میرا اس سے اب کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے میری پڑھائی چھڑا کر زبردستی مجھے اسلام آباد پھوپھی کے گھر بھیج دیا۔ وہ رو رہی تھی، غصے میں کہنے لگی کہ اب میں انہیں فرینڈز بناکر دکھا?ں گی۔ اس کی کزن نے بتایا کہ ہم نے بڑی مشکل سے اسے سنبھالا ہے۔ اس پر طعنہ زنی کے ساتھ ہمارے ماموں نے جسمانی تشدد بھی کیا ہے۔ ہمارے ماموں کہہ رہے تھے کہ تم نے میری عزت خاک میں ملانے کی کوشش کی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ڈاکٹر صاحب ایسے دوغلے فرد جیسے میرے والد ہیں، کی تو عزت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ اس نے کہا کہ میرے والد کا خاندان یہاں رہتا ہی، اب میں انہیں مزا چکھا?ں گی۔ میں نے اسے ایک سائیکالوجسٹ کے پاس بھیجا لیکن وہ مصر تھی کہ آپ ہی مجھے دیکھیں۔ میں نے کراچی کلینک پر آنے کا کہا۔ اس نے غصے میں والد صاحب کے ایک دوست کے لڑکے کو فون کرنا شروع کیا اور شادی کی بھی آفر کردی۔ وہ لڑکا اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ویٹر تھا۔ وہ بخوشی راضی ہوگیا۔ صائمہ اس لڑکے کو نہ ہی پسند کرتی تھی نہ ہی شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس کا ہدف تو والد صاحب سے انتقام لینا تھا۔ اس نے اس لڑکے کو کورٹ میرج کی دعوت دی۔ میں F8 مرکز کچہری میں رہتا تھا۔ فون پر جب پتا چلا تو میں اس وکیل سے ملا جو ان کی کورٹ میرج کے کاغذات بنا رہا تھا۔ وکیل کو بتایا کہ یہ لڑکی مریض ہے۔ وکیل صاحب نے لڑکے سے بھی ملوادیا۔ میں نے اسے بھی یہ بات سمجھا دی۔ لیکن خاندان بھر میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ یہ کورٹ میرج کررہی ہے۔ والد صاحب نے فوراً اسے کراچی واپس بلوالیا۔ اب یہ فارمیسی کررہی ہے۔ کچھ عرصہ اس کا ڈپریشن کا علاج کیا گیا۔ ان حالات میں کسی بھی لڑکی کا نارمل رہنا ممکن نہیں۔ اب اس کا وقت یونیورسٹی کی سہیلیوں کے ساتھ گزرتا ہے، لیکن اب بھی وہ گھر سے زیادہ یونیورسٹی میں خوش رہتی ہے۔ اس نے بتایا کہ دیگر سہیلیاں تو گھر جاتے ہوئے خوش ہوتی ہیں جبکہ مجھے بوریت ہوتی ہے۔ ہماری پریکٹس میں یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ بہت سی بچیاں موبائل فون پر لڑکوں کے رابطے کی شکایت کے ساتھ لائی جاتی ہیں۔ عام طور پر زیادہ تر لڑکیاں آتی ہیں لیکن لڑکوں کے والدین بھی موبائل فون پر لڑکیوں سے بات کرنے کی شکایت کے ساتھ لڑکوں کو لاتے ہیں اور سب ہی ماحول کا رونا روتے ہیں، ٹی وی کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں، انٹرنیٹ کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن اپنے گھر میں انہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ یہ واقعات نئے نہیں، نہ ہی معاشرے کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خراب ہیں۔ مسائل پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ حالات اور زمانے کے ساتھ ان کا انداز اور رفتار بڑھ گئی ہے۔ اس خاندان کا بھی جب جائزہ لیا گیا تو جبر کا ماحول نکلا۔ والدین بچوں سے محبت سے بات نہیں کرتے تھے۔ زبردستی اپنے فیصلے منواتے تھے۔ نتیجتاً جب اور جو بھی محبت سے بات کرنے والا ملا وہ بچے اور بچیاں اس کی طرف راغب ہوجاتے تھے۔ ابھی پچھلے ہی ماہ ایک لڑکی کو اس کی ماں کلینک پر لائی۔ بچی کا سانس پھولا ہوا تھا۔ معائنہ پر سانس کی تکلیف نہ نکلی۔ تفصیل پر پتا چلا کہ اسے کوئی لڑکا فون پر تنگ کرتا تھا۔ پھر بات چیت شروع ہوگئی۔ اب وہ شادی کا مطالبہ کررہا ہے۔ لڑکی کی منگنی ہوچکی تھی، منگیتر باہر رہتا ہے۔ ماں اور والد دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ میں اکیلی گھر پر بور ہوتی تھی، اس لیے وقت گزارنے کے لیے گپ لگا لیا کرتی تھی۔ اب یہ پیچھے پڑگیا ہے۔ لڑکی کی والدہ لڑکی ہی کو برا قرار دے رہی تھی۔ ہم نے اس لڑکے کو اپنے ایک صحافی دوست سے فون کرادیا، مسئلہ حل ہوگیا، لیکن ایک ماہ بعد پھر کالیں آنا شروع ہوگئیں، میں نے نمبر تبدیل کرنے کا کہا۔ نمبر تبدیل ہوا لیکن پھر یہ نمبر بھی چند لڑکوں کے ہاتھ لگ گیا اور وہ اکیلے میں اسے ڈسٹرب کرتے رہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بہت سے لڑکے مس کال دیتے رہتے ہیں، اگر کوئی فون اٹھا لے تو بس پھر بار بار فون کرتے ہیں۔ یہ شکایت بہت سے لوگوں نے کی کہ مس کال پر بہت فون آتے ہیں اور اٹھالیں تو مسئلہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات جان بوجھ کر ایسا ہوتا ہی، لیکن تحقیق پر پتا چلا کہ اکثر اچانک نمبر غلط مل جانے پر ایسا ہوتا ہے۔ میں نے انہیں ایک آزمودہ ترکیب بتائی جس پر عمل کرکے ہمارے گھر میں مس کال اچانک آنے کا مسئلہ عام طور پر نہیں ہوتا۔ ہم چارسدہ مردان روڈ پر ریلیف کے کام کے لیے رہ رہے تھے۔ ہم نے وہاں سے سم حاصل کی۔ اب یہ سم کراچی میں استعمال کررہے ہیں۔ 6ماہ ہوگئے ہیں ایک مرتبہ بھی کوئی مس کال نہیں کرتا، اور اگر آ بھی جائے تو خاتون کی آواز سن کر دوبارہ کوئی نہیں کرتا۔ انہوں نے کسی چھوٹے شہر سے سم منگوالی اور اب یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ بڑے شہروں میں انسانوں کا سمندر ہے، کسی کو خطرہ نہیں ہوتا کہ ہم تک کوئی پہنچ سکتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں لوگ زیادہ محتاط رہتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں ڈاکے کی واردات دن دہاڑے نہیں ہوتی، ہر فرد دوسرے کو جانتا ہے اس لیے لوگ محتاط رہتے ہیں کہ فوراً Trace ہوجائیں گے۔ اسی طرح چھوٹے شہر کی سم استعمال کرکے خواتین اس مسئلے سے باآسانی محفوظ رہ سکتی ہیں۔ ان کیسز کا جائزہ لیں تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں: 1۔ گھر میں اگر والدین کے تعلقات آپس میں کشیدہ ہوں گے تو بچے سکون کی تلاش میں باہر راغب ہوں گے۔ 2۔ اس لڑکی کے والد کا رویہ اس کی ماں کے تضحیک آمیز تھا۔ شوہر کا بیوی کے ساتھ رویہ تلخ ہو تو بچے دشمن ہوجاتے ہیں اور پھر وہ خود بھی ذہنی طور پر متاثر ہوتے ہیں جس کے زیر اثر کوئی بھی قدم ایسا اٹھا سکتے ہیں جس سے والد کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔ بڑھاپے میں پرسکون زندگی کے لیے ضروری ہے کہ جوانی میں بیوی کی عزت کریں۔ اس کے ساتھ زبانی زیادتی بھی نہ کریں۔ مارنا تو دنیا کے کسی بھی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا صلہ اولاد کی دشمنی کی صورت میں بڑھاپے میں ملتا ہے۔ پھر صرف پچھتاوا اور ذہنی پریشانی ہی ملتی ہے۔ 3۔ ما?ں کو چاہیے کہ بچوں سے اپنی بات منوانے کے لیے سختی نہ کریں، چاہے وہ کوئی مذہبی فریضہ ہی ادا کرنے کی بات ہو۔ محبت سے سمجھانے اور رغبت دلانے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہی، جبکہ جبر کرنے سے صرف منافقت اور دو رخا پن پیدا ہوتا ہی، دکھاوا آجاتا ہی، اور بچے اچھے کام بھی صرف دکھانے کے لیے کرنے لگتے ہیں اور بعد کی عمر میں یہ عادت بن جاتی ہے۔ 4۔ بچوں کو موبائل فون دلانا ضرورت بن جاتا ہے لیکن موبائل دیتے وقت انہیں اس کے استعمال کے مختلف پہلو?ں سے متعلق بتانا ضروری ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو۔ اور یہ بھی کہ اگر ان سے کوئی لڑکی یا لڑکا فون پر بات کرے یا وہ خود کسی سے بات کرنے لگیں تو فوراً اپنی والدہ کو بتائیں۔ والدہ یا والد دونوں مل کر اسے پیار محبت سے سمجھائیں۔ 5۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ہر مسئلے کو خاندانی عزت کے نام پر زبردستی حل نہ کریں ورنہ اس کا نتیجہ ہٹ دھرمی اور انتقام کی صورت میں سامنے آئے گا۔ Source: karachiupdates.com
مسلم خاندان -
|