English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: عورت گھریلو فرائض اور نفلی عبادتوں کے درمیان - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ اندلس کی فتح - موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
جہاد کا حکم -

جہاد ایک شرعی حکم۔۔ دور رس اثرات اور دلالتیں

یہ ایک بدیہی امر معلوم ہوگا کہ ہم یہ باور کرائیں کہ جہاد اسلامی کے ضوابط، اس کے احکام اور اس کے مقاصد کتاب وسنت اور ان دونوں سے نکلےمصادر سے حاصل کئے جاتے ہیں، بڑی حد تک یہ بات صحیح ہے لیکن وہیں پر اس بدیہی امر سے بعض امور پوری طرح مربوط ہیں اور اس کی وجہ سے بعض لوگوں کے اندر شبہات پیدا ہوتے ہیں یا پھر یہ کہ یہ ایک ایسے بیان کے ضرورت مند ہیں جو وضاحت کرنے والا ہو اور متعدد قسم کے اوہام وخرافات کی دھجیاں اڑانے والا ہو۔ در اصل بعض اوقات ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ جہاد کی اپنی جنگی شکل وصورت اور مشتعل افراد کی وجہ سے متعدد قسم کے اوہام وخرافات پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح یہ لوگ جہاد کے احکام فاسد دلوں کی رغبت وخواہش یا غیظ وغضب سے مشتعل لوگوں کے مطابق لیتے ہیں اور اس طرح کسی شخص، کسی قوم، کسی نسل یا کسی قبیلے سے انتقام لینے کا مفہوم اس میں آ جاتا ہے۔

اسی طرح اسوقت بھی شبہات پیدا ہوتے ہیں جب جہاد کے ثابت شدہ قرآن وسنت کے قطعی احکام اور ظنی احکام کے مابین فرق نہیں کیا جاتا اور کتاب وسنت کے نصوص سے جہاد کے جن احکام کا پتہ چلتا ہے انھیں فقہاء کے ان اقوال کے ساتھـ ملا دیا جاتا ہے جو فقہ کی کتابوں میں جہاد کے باب میں مذکور ہیں۔ بلکہ بعض لوگ تو فقہاء کے احکام کو اس طرح لازمی قرار دیتے ہیں کہ جیسے وہ قرآن وسنت کے احکام ہوں اور پھر ہم بعض ناراض اور مشتعل افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ ان میں سے بعض اقوال کو سہارا بنالیتے ہیں تا کہ اپنی انتقامی کارروائیوں اور غلط تصرفات کی صفائی بیان کرنے کے لئے پیش کرسکیں۔

شریعت اور اقوال فقہاء کے مابین پائے جانے والے شبہات کا ازالہ:

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی فقیہ کا کوئی قول اگر کسی کتاب میں درج ہے تو یہ شرعی حکم سمجھا جائے گا۔ یہ ایسی غلطی ہے جس کی تصحیح ضروری ہے کیوں کہ فقہاء اور شریعت کے اقوال کے مابین برابری کرنے کی وجہ سے یہ غلطی پیدا ہوئی ہے حالاں کہ ان دونوں کے مابین فرق پایا جاتا ہے جو کسی پر مخفی نہیں، اس لئے کہ شریعت عبادت ہے ان عقیدوں، قطعی وظنی حکموں، آداب واخلاق اور قواعد ومقاصد سے جو کتاب وسنت اور علماء کے اجماع سے حاصل کئے گئے ہیں جبکہ فقہاء کے اقوال ان کے اس فہم کی عکاسی کرنے والی ہیں جو انھوں نے فقہ کے مختلف ابواب میں شریعت کے دلائل سے متعلق جمع کئے ہیں، اور اکثر وبیشتر ان کا تعلق قطعی امور سے نہیں بلکہ ظنی سے ہوتا ہے، اس لئے کہ قطعی امور تو تسلیم شدہ اور متفقہ ہوا کرتے ہیں۔ اس طرح نصوص اور ان کے فہم میں بڑا فرق پایا جاتا ہے، اس شبہ کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ فقہاء کے اقوال کے ساتھـ معاملہ کرنے میں خلل پایا جاتا ہے، اس لئے نہایت ضروری ہے کہ اس مسئلے کو سرفہرست رکھا جائے کہ کس طرح فقہاء کے اقوال کے ساتھـ معاملہ کیا جانا چاہئے۔ یوں تو عام طور سے اس مسئلے کو دقت کے ساتھـ منظم کرنا چاہئے لیکن بطور خاص جہاد کے مسائل میں اسے باقاعدہ باریک بینی کے ساتھـ منظم کئے جانے کی ضرورت ہے، اس لئے کہ اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض جنگی کارروائیوں کی علت بیان کرنے کے لئے کسی نہ کسی فقیہ کے قول کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح جب موجودہ دور کے کسی مسئلے کو کسی ایسے فتوے پر قیاس کیا جاتا ہے جو سینکڑوں سال پہلے جاری ہوا ہے یا آپ کو کسی ایسی فقہی کتاب کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہتا ہے جو قرون اولی کی کتاب ہے تو ضروری ہے کہ اس اہم ترین مسئلے کا صحیح اور دقیق حل سامنے لایا جائے۔ ہم یہاں پر بعض اصول وقواعد بیان کررہے ہیں جنھیں ہم صحیح سمجھتے ہیں۔ اور فقہاء کے اقوال کے ساتھـ معاملہ کرنے کے لئے صحیح اور شرعی شکل میں انھیں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

1.         فقہاء کے اقوال ان کے اس فہم کی عکاسی کرنے والے ہیں جو انھوں نے شرعی نصوص سے اخذ کئے ہیں، اس طرح یہ امر واضح ہے کہ نص کی قدسیت اور فقیہ کے فہم میں غلطی کا امکان پایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فقہاء کے اقوال ( ان کے مقام ومرتبے کا پوری طرح لحاظ رکھتے ہوئے ) غلط بھی ہوسکتے ہیں اور صحیح بھی اور یہی وہ امر ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے قول میں اس طرح بیان کیا ہے: (اگر حاکم فیصلہ کرے اور اس کے لئے اجتہاد کرے اور اس کا یہ اجتہاد صحیح ہو تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر اجتہاد غلط ہوجائے تو اس کے لئے ایک اجر ہے) (صحیح بخاری:6805)۔

2.                  فقہاء کے اقوال قطعی حجت اس وقت ہوں گے جب کسی ایک شرعی حکم پر متفق ہوں۔

3.         فقہاء کے جو اقوال کتابوں میں پائے جاتے ہیں انھیں موجودہ صورت حال پر فٹ نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ کام صرف وہی کرسکتا ہے جس کے اندر فتوی جاری کرنے کی شرعی اہلیت پائی جاتی ہو۔ لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ جو لوگ اس رتبے کو نہیں پہنچتے ہیں وہ بغیر سوچے سمجھے ایسا کرنے لگتے ہیں۔

4.         جب فقہاء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہو تو تلاش اس بات کی ہونی چاہئے کہ کون سا قول حق سے زیادہ قریب ہے، لیکن جو ترجیح دینے کا یہ کام نہیں کرسکے تو اپنے گمان کے مطابق سب سے بڑے عالم اور فقیہ کے قول کو اپنا لے، اور ان میں جو مباح ہوں ان میں سب سے آسان قول کو اپنایا جائے لیکن شاذ اقوال سے گریز کیا جائے۔ اسی طرح قول مرجوح کو بھی نہ اپنایا جائے اگر اس کے بارے میں پتہ چل جائے۔

5.         ایسے فتوے کو دلیل وحجت نہ بنایا جائے جو کسی عالم سے کسی خاص زمانے میں اور کسی خاص جگہ میں صادر ہوا ہو۔ اسے کسی دوسرے زمان ومکان پر فٹ نہ کیا جائے۔ اس لئے کہ کسی عالم کا فتوی اللہ کے دین میں حجت نہیں ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس قسم کے فتووں سے بعض احکام کو سمجھنے میں مدد حاصل کی جائے۔

6.         عالم اور فقیہ دونوں کے اقوال میں پائی جانی والی فرق کو ملحوظ رکھا جائے اس لئے کہ مفتی محض شرعی حکم کا ذکر کرتا ہے اور اسے موجودہ مسئلے پر منطبق کرتا ہے۔ اس لئے کہ احکام کا انطباق اس بات کا متقاضی ہے کہ موجودہ صورت حال کے اسباب وشروط اور موانع پر نظر ڈالی جائے اس کے نتیجے میں کسی قسم کے مفادات سامنے آئیں گے اور کسی قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ سب کچھـ معلوم کرنے کے لئے ایک مجتہد عالم کی ضرورت ہے۔

7.         اللہ کی راہ میں جہاد سے متعلق احکام اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان میں نہایت دقت اور باریکی سے کام لیا جائے اور ان احکام کو بیان کرنے کے لئے ایسے شخص کو مکلف کیا جائے جو اجتہاد کے درجے کو پہنچا ہوا ہو، اس لئے کہ بعض اوقات یہ عجیب وغریب بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جو جہاد کرتے ہیں وہ طہارت اور وضو سے متعلق احکام معلوم کرنے میں تو بڑی دقت سے کام لیتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے مختلف علماء سے اس کے مسائل معلوم کرتے ہیں لیکن خود جہاد کے مسئلے میں اپنے اس اسلوب کو بھول جاتے ہیں حالانکہ اس کا تعلق خون بہانے اور دوسروں کے مال کو جائز قرار دینے سے ہے۔

8.         جہاد کے بہت سے مسائل آج معاصر اجتہاد کے محتاج ہیں، صرف عظیم فقہی تراث کی طرف رجوع کرنا کافی نہیں ہے جسے ہمارے لئے اس امت کے فقہاء اور علماء نے اپنے اپنے عصر و زمانے میں چھوڑا ہے۔ اس سے اس بات کی ضرورت اور زیادہ آشکارا ہوتی ہے کہ اس کی ذمہ داری وہ لوگ اٹھائیں جو اس کے اصول سے پوری طرح واقف ہوں، جو اس کی باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہوں، جو امت کے حقیقت حال سے واقف ہوں اور جن چیلنج کا سامنا امت کو کرنا پڑ رہا ہے اس کا انھیں پوری طرح احساس ہو۔

الجهاد حكم شرعي.. الأبعاد والدلالات 4-4 UR



جہاد کا حکم -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت