|
۔(2-1) جہاد اور باطل پرستوں کا مذاق فریضہ جہاد نہ صرف اپنے حق میں غلطی کرنے والے باطل پرستوں کے جرم سے دوچار ہے بلکہ باطل پرستوں کے مزاق سے یہ ایک اور نئی قسم کی دشواریوں سے دوچار ہے جو شدید بے رحم اور سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔ تمام قسم کے باطل پرست نظری طور پر منہج اسلامی سے، اور عملی طور پر ملت اسلامیہ سے جہاد کو مکمل یا جزوی طور پر حذف کردینا چاہتے ہیں۔ اللہ رب العزت کے طریقے اور ملت اسلامیہ کے مستقبل سے بیک وقت اس نوعیت کا مزاق کیا جارہا ہے۔ باطل پرست کبھی تو کہتے ہیں جہاد جائز نہیں اور کبھی کچھـ اور کہتے ہیں۔ چنانچہ باطل پرست ہر زمانے اور ہر جگہ میں جہاد کو منسوخ کرنے کے منصوبے بناتے رہے۔ جہاں تک جہاد کے عملی طور پر جائز نہ ہونے کی بات کا تعلق ہے تو اس سے ان کا مقصد، جہاد کے لئے شرعی شرطیں نہ پائے جانے کی وجہ سے اس تصادم میں جہاد کے صحیح ہونے کا انکار کرنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس قول کو بخوبی سمجھتے ہیں:کہ مسلمانوں کے علاقوں اور انصاف کرنے والی مسلم حکومت کے زیر سایہ، جہاد کے اسباب کے ختم ہونے کی وجہ سے یہ باطل ہوجاتا ہے اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاقوں میں جہاد کی شرطوں کے نہ ہونے یا اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے اسے ممنوع قرار دیا جا سکتا ہو۔ اور ہم اس کو بھی سمجھتے ہیں کہ ہر زمانے میں اسلامی تاریخ نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ظالم حاکموں کا جہاد، قوم اور اس کے فرزندوں کے لیے فساد۔ خرابی اور نقصان کا موجب ہوا ہے اور اس سے غالبا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس وجہ سے ان حالات میں جہاد ساقط اور ممنوع ہوجاتا ہے۔ ہم یہ سب کچھـ سمجھنے کے باوجود، امت اور ملت کے دشمنوں، کافروں، مشرکوں اور ملحدوں، جو ان کی زمین پر قبضہ کرکے ان کی دولتوں کو چھیننے اور ان کے تشخص کو نست ونابود کرنے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں، ان کے خلاف جہاد کے منسوخ ہونے کو نہیں کہتے۔ اس کے پیش نظر ہم پر واجب ہے کہ باطل پرستوں کو بدنام، ان کے مزاق اور اقوال کو بے نقاب اور ان کے دعؤوں کے پس پردہ اسباب کو تلاش کریں تاکہ ہم ان کا احاطہ اور ان کے منفی اثرات کا علاج کر سکیں۔
ہم مندرجہ ذیل عناوین کے تحت اسی کو پیش کریں گے۔
· جہاد کی منسوخی "تعریف اور نشاندہی"۔
· باطل پرستوں کا مزاق "خطرات"۔
· جہاد کی منسوخی کے دعوے کے پس پردہ اسباب اور ان سے نمٹنے کے راستے۔
جہاد کی منسوخی "تعریف اور نشاندہی" : ہم باطل پرستوں کے مزاق سے مرتب ہونے والے خطرات کی سنگینی کا تصور کر سکیں اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان سے اور ان کی آراء سے واقف ہوں۔ باطل پرست کسی ایک رائے پر متفق نہیں ہیں، نہ کسی مشترکہ ترجیحات کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور نہ ہی ان کے مقاصد ایک جیسے ہیں اس وجہ سے ہم فریضہ جہاد کی منسوخی کی دو قسموں میں تمیز کر سکتے ہیں جو یہ باطل پرست پیش کرتے ہیں۔ اور وہ ہیں:
پہلا: جہاد کی مکمل منسوخی کا دعوی:
جہاد کی مکمل منسوخی کا دعوی کرنے والے فریضہ جہاد کو اسلامی مفہوم سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے اسلام کو ایک دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کا جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے تلور نکالنے یا دشمنوں سے بحث ومباحثہ کرنے یا کمزوروں کی مدد یا قبضہ کرنے والوں اور نو آباد کار سامراج کے خلاف مزاحمت کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے لیے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلام امن پھیلانے کے لیے آیا ہے اس کی تعلیمات دلائل اور حجت پر مبنی ہیں اس میں کوئی زبردستی یا جبر وتشدد نہیں ہے ان کے نزدیک جہاد ایک قسم کا جبر وتشدد ہے جسے شریعت اور اس کا عقیدہ مسترد کرتا ہے۔ اس وجہ سے اسلام میں جہاد نہیں ہے۔ جہاد کا مکمل طور پر انکار کرنے والے غالبا اسلام کے دشمن یا اسلام سے منسوب بعض گمراہ کن جماعتیں ہیں ان میں سے بعض فرقوں کی گمراہی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ دائرہ اسلام ہی سے خارج ہو جاتی ہیں۔
دوسرا: جہاد کی جزوی منسوخی کا دعوی:
جہاد کی جزوی منسوخی کا دعوی کرنے والے، اس پر زمانے یا جگہ کی پابندی لگاتے ہیں اور اضافی شرطیں عائد کرتے ہیں جو اس کی حقیقتا منسوخی کی موجب ہوتی ہیں۔ باوجودیکہ وہ تاکید کرتے ہیں کہ جہاد نا قابل منسوخ اسلامی فریضہ ہے۔ ان سے بعض لوگ جہاد کو، آخری زمانے میں اور روز قیامت سے پہلے مہدی منتظر کے آنے تک، ملتوی کرتے ہیں اس کا مفہوم تو یہ ہوا کہ نوآباد کار سامراجیوں اور فلسطین جسے اسلامی ممالک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف جہاد کو، اسلام اور حضرت محمد مصطفی صلیﱠ اللہ علیہ وسلم کی شریعت جائز قرار نہیں دیتی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت اور امام غائب جو سنہ٢٦٠ھ سے عراق کے تہہ خانے (سرنگ) میں روپوش ہیں– کی واپسی تک جہاد نہیں ہے۔ اثنا عشری امامی شیعہ فرقہ کے عقیدے کے مطابق، امام کے بغیر جہاد نہیں ہے۔ انہیں میں سے بعض نے سابق امامی شیعہ قول کو فلسطین کی طرف منتقل کیا اور یہ طے کیا کہ مسلح فلسطینی مزاحمت اور استشہادی کاروائیاں جائز نہیں کیونکہ فلسطین میں مرتبے والا مسلم امام نہیں جو اس جہاد کا حکم دے۔ اور مشروع جہاد کے لیے صاحب مرتبہ اور اقتدار کے مالک مسلم امام کی موجودگی شرط ہے۔ ان کے علاوہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جہاد صرف وطنوں کے دفاع کی حالت ہی میں صحیح ہے، اور شریعت، اپنے وطن کی سرحدوں سے باہر، کمزوروں اور مظلوموں کی مدد کے لئے نہیں آئی۔ ان لوگوں کے نزدیک، اسرائیل کا مقابلہ کرنے یا سنہ 1990ء میں کویت کو عراق کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے مصری یا شامی عرب فوجوں کی شرکت، شرعی اعتبار سے ناجائز ہے۔ آخرکار نہ کہ آخری، اسلامی جہاد کو اس کے کسی ایک صحیح مفہوم تک محدود کرنے والوں کا کہنا ہے: اسلامی جہاد در حقیقت نفس (خواہشات) غربت – بیماری اور پس ماندگی کے خلاف جہاد ہے۔ جہاں تک تلوار سے جہاد کا تعلق ہے تو اسلام اس سے واقف نہیں۔ اسلام کی فیاضی اور نرمی اس کا ( جہاد بالسیف ) کا انکار کرتی ہے۔
یہ اُن اقوال کی بعض مثالیں ہیں جو جہاد کو جزوی طور پر منسوخ کرنے کے لیے پھیلائے جاتے ہیں۔ خواہ یہ جانتے ہوئے ہو یا غلطی یا جہالت اور لا علمی سے ہو۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جہاد کو جزوی طور پر منسوخ کرنے والوں کی اکثریت ملت اسلامیہ سے نسبت رکھتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ تاویل کرتے ہیں یا غلط فہمی يا اپنے وہمی مفاد کی بنا پر اس کے قائل ہیں۔ لیکن اس کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ جہاد کو جزوی طور پر منسوخ کرنے کی کوشش کرنے والےغیرمسلم نہیں ہیں۔ بعض دھوکہ باز مستشرقین (علوم اسلامیہ کے غیر مسلم ماہرین) جو اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جہاد کو مکمل طور پر منسوخ کرنے والا قول سودمند نہیں۔ اس لیے وہ اپنے قول کوجہاد کی جزوی منسوخی میں تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس میں حتی الامکان فساد پیدا کرسکیں۔
الجهاد و عبث المبطلين 2-1 UR
جہاد کا حکم -
|