English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
جہاد کا حکم -

۔(2-3) احکام جہاد پر نئے وقوع پذیر امور کے اثرات

نئے وقوع پذیرامور احکام جہاد پر متاٴثر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر واقعہ کے لیے مخصوص حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہر نئے واقعہ پر اس طرح غور کیا جائے کہ یہ سابقہ مسلم اور ثابت احکام کے دائمی ہونے ہر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔ یہاں ہم یہ دیکھیں گے کہ بعض سیاسی اور دیگر نئے امور، بعض حکمراں نظاموں کے بارے میں اپنائے گئے موقف پر، یا بعض بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھـ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں یا جہاد کی ترجیحات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم ہر ایک کی متعدد مثالیں پیش کرتے ہیں۔

حکمراں نظاموں کے موقف:

کسی حکمراں نظام کے بعض نئے سیاسی امور نفاذ شریعت اسلامی کے موجب ہوسکتے ہیں، ان نئے امور سے ایسی حالت پیدا ہوتی ہے جو حکمراں موقف پر یقینی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے وہ ٹکراؤ یا جہاد کے اختیار سے مکمل طور پر دور ہوجاتا ہے۔ کبھی بعض نئے امور بر عکس اور الٹی تبدیلوں کے موجب ہوتے ہیں مثال کے طور پر حکمراں نظام کمیونسٹ حکومت کا اعلان کردے اور مکمل طور اسلام کے خلاف دشمنانہ پالیسی کو نافذ کردے۔ جیسا کہ سنہ ١٩٧٩ء میں افغانستان میں اس وقت ہوا جبکہ سویت فوج کی مدد سے کمیونسٹ وہاں پر برسر اقتدار ہوگئے اور افغان مجاہدین نے ان کے خلاف اعلان جہاد کر دیا جس پر پوری اسلامی امت متفق تھی۔

بالکل اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نظام حکومت اپنے ما تحت تمام علاقوں پر کسی معتبر عذر کی بنا پر، اسلامی شریعت کا نفاذ تمام لوگوں پر نہ کرے، جس سے اعلان جہاد میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جیسے کہ حکومت الانقاذ (بچاؤکرنے والی حکومت) کے زیر سایہ سوڈانی انتظامیہ کی حالت ہے جو، وہاں کی باغی تحریکوں کے مدد گار امریکی اور یورپی دباؤ کی وجہ سے جنوبی سوڈان میں اسلامی شریعت کو عام نہیں کر سکتی۔ یہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سیاسی حالات کی بنا پر مسلمان اور دیگر اقوام آپس میں مل جائیں اور وہ مشترکہ دشمن کے خلاف تعاون کریں اور آپس میں حلیف بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف کا مفہوم ہے (روم تم سے امن کی صلح کریں گے اس کے بعد تم سے جنگ کریں گے وہ دشمن ہیں۔ بس تم فتح ونصرت حاصل کروگے اور غنیمت پاؤگے اور تم سلامتی میں ہوگے) (سنن ابن ماجہ:٤٠٧٩)۔

اسلامی خلافت نہ ہونے کی وجہ سے احکام جہاد پراس کے اثرات:

آخری نہیں بلکہ آخر میں ہم، اسلامی خلافت کی عدم موجودگی میں رونما نئے امور کےاحکام جہاد کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ سنہ ١٩٢٤ء میں جب مصطفی کمال اتاترک نے خلافت اسلامیہ کے زوال کا اعلان کیا اس کے بعد اُن اکثر اسلامی علاقوں پر جو اس کے ما تحت تھے، سامراجیت کے زیر تسلط آ گئے، اور ان پر برطانوی یا فرانسیسی یا اٹالوی نو آبادیت کا قبضہ ہوگیا۔ اُس وقت سے اسلامی امت، اپنی زمینوں کی محافظ اورطاقت و قوت کی مالک نہیں رہی۔ اس وجہ سے فطری بات تھی کہ اسلامی اقوام آزادی کی کوشش اور ملک پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف جہاد کریں ان حالات میں یہ (جہاد) شرعی طورپر واجب ہوتا ہے۔ اور وہ فقہاء کے اس فیصلے کو فطری طور پر چھپاتا ہے کہ سال میں ایک مرتبہ جہاد کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ یہاں اوّلیت یا ترجیح حصول آزادی کے لیے ہے، وطن سے باہر لڑنے کے لیے نہیں ہے ہمارے آج کے زمانے میں بعض لوگوں نے اس طرف توجہ نہیں کی اور وہ اس حالت میں جہاد پر آمادہ کرتے ہیں جبکہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد کے واجب ہونے کی وہ شرائط پوری نہیں ہوتیں جو بعض فقہاء نے مقرر کی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا یہ قول اوّلیات یا ترجیحات کی ترتیب کی بڑی غلطی کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف یہ اس حقیقت سے غفلت یا فراموشی کی مانند ہے کہ فقہاء کا یہ قول قوی خلافت کے ملک کے لیے تھا جو سال میں ایک اور غالبـا کئی مرتبہ لڑنے کی قدرت رکھتا ہو لیکن کمزوری، غیر مستحکم اور سامراجیت کی ستم ظریفیوں کی حالت میں، مقبوضہ ملک کے باہر سال میں ایک مرتبہ جنگ کیسے لڑی جا سکتی ہے؟۔

اور جب ہم اس مسئلہ کے بارے میں بعض فقہاء کے اقوال پر غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے، سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد کے واجب ہونے کے حکم پر، نئے رونما امور کے بہت زیادہ اثرات کو شدت سے محسوس کیا چنانچہ انہوں نے کئی صورتیں فرض کیں اور ہر حالت کے لئے مختلف مثالیں دیں جو مسلمانوں اور مذکورہ جہاد کی تکمیل کے درمیان حائل ہو سکتی ہیں۔

امام ابن قدامہ المقدسی اسی مفہوم میں کہتے ہیں: "کم از کم ہر سال میں ایک مرتبہ ضرور ہو کیونکہ اہل ذمہ پر جزیہ ہر سال واجب ہوتا ہے اور یہ مدد (لڑائی میں عدم شرکت) کا متبادل ہے اور یہ جس کا متبادل ہے وہ جہاد ہے اس وجہ سے سامان کی کمی یا تعداد کم ہونے کے باعث مسلمانوں کی کمزوری یا کسی مدد کا انتظار ہو یا راستہ کی رکاوٹ ہو یا راستے میں چارہ یا پانی نہ ہو " یا اسلام کے بارے میں دشمن کی اچھی رائے کا علم ہو اور ان کے اسلام قبول کرنے کی خواہش ہو جیسے عذر واسباب نہ ہونے کی حالت میں ہر سال میں ایک مرتبہ جہاد ہو۔ اگر ان کے خلاف قتال (لڑائی) مؤخر کردی جائے یا مصلحت کی بناپر لڑائی کو ترک کرنا بہتر ہو تو عارضی صلح کے ساتھـ ترک کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریش کے ساتھـ دس سال کے لیے صلح کی اور اُن کے خلاف لڑائی کو مؤخر کیا یہاں تک کہ قریش نے عہد شکنی کی، علاوہ ازیں عرب قبائل کے خلاف لڑائی میں، عارضی صلح کے بغیر، تاخیر فرمائی: اور اگر سال میں لڑائی کی ضرورت ایک سے زیادہ بار پیش آئے تو یہ واجب ہو جاتا ہے کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے اور جب بھی ضرورت پیش آئے تو یہ واجب ہوجاتا ہے" (المغني:20/414)۔

اور یہی دور اندیشی نقطہ نظر ہے اور درست وہدایت یافتہ فہم وسمجھـ بوجھـ ہے جو ہمارے ائمہ اسلاف نے ہمارے لیے مکمل وضاحت اور قدرت کے ساتھـ پیش کیا ہے، تو ہے کوئی یاد کرنے والا!۔

أثر المستجدات الواقعية على أحكام الجهاد 2-3 UR



جہاد کا حکم -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت