|
۔(3-2) جہاد کی مفقود حقیقت کوئی بھی امت جہاد سے بے نیاز نہیں ہو سکتی ہے، اور حقیقت میں اسلام نے بھی اس ضرورت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کی بنیاد پر لبیک کہا ہے (آپ کا ارشاد ہے) میری بعثت کے وقت سے جہاد جاری ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے قتال کرے گا۔ (سنن ابو داود:2170)۔ اور جب تک جہاد حقیقی طورپرقیامت تک قائم و دائم ہے تو پھر اس حقیقت کے آثار و نشانات کو بیان کرنا ضروری ہے تا کہ اس کا مقصد سامنے آئے اور اس کا معنی و مفہوم کھل کر واضح ہو سکے، کیونکہ اسلام میں جہاد کا مقصد بہت ہی معنی خیز ہے، اور اس کا بہت کچھـ مطلب ہے ،اور اس کے بہت ہی حکیمانہ اور لازمی ضوابط ہیں اور اس کا بدلہ بہت ہی عظیم ہے اور اس کا اجر و ثواب بہت ہی زیادہ ہے۔
جہاد کے بہت سارے معانی ہیں: یہ صراحتا ظلم ہے کہ ہم جہاد کے معنی کو (صرف) اللہ کے راستے میں قتل و غارت گری اور دشمنوں کے سامنے شمشیربران لہرانے پر منحصر کریں، بلکہ جہاد کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ بالا تر ہے، اگر چہ وقت ضرورت اس کے معنی و مفہوم میں دشمنوں کی سرکوبی بھی شامل ہے۔ اور جس طرح ہم ان لوگوں سے اتفاق نہیں کرتے جو لوگ جہاد کا ایسا مفہوم پیش کرتے ہیں کہ اس میں قتال کا مفہوم مفقود ہوتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کے ساتھـ بھی اتفاق نہیں کرتے جن کا خیال یہ ہے کہ ہمیشہ جہاد ہی میں لگے رہیں بہرحال اللہ کے راستے میں جہاد کے معنی و مفہوم کے لغوی و شرعی دلالت پر غوروفکر کرنا، ضروی ہے کہ وہ اس نقطہ پر آکر ختم ہو کہ جہاد مختلف قسم کے معنی و مفہوم کو شامل ہے جیسا کہ ابن رشد نے بیان کیا ہے۔
جہاد لغت میں "جھد" سے ماخوذ ہے جس کے معنی تھکنے اور مشقت اٹھانے کے ہیں، اور شرعا اس کے معنی اللہ کے لئے اور اس کے کلمہ کی بلندی کے لئے- جس کو اللہ رب العالمین نے جنت کی طرف جانے والا راستہ قرار دیا ہے- اپنے نفس کو مزید محنت و مشقت میں ڈالنا اور اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے لئے ساری محنت صرف کرنا، اور مال کا خرچ کرنا بھی اسی (جہاد) کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔
جہاد کے وسیع اور متنوع معنی پر دلالت کرنے والی بہت ساری حدیثیں ہیں جو جہاد کے معنی کو صرف اور صرف قتال پر منحصر نہیں کرتی ہیں، انہیں احادیث میں سے وہ حدیث بھی ہے جس کو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: (مشرکین سے جہاد کرو اپنے جان و مال سے اور اپنی زبان سے)۔ (سنن النسائی:3045)، اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جہاد کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑا جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا ہے۔ (سنن الترمذی:2100)۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس امت میں نبی بھیجا گیا ہے اس کی امت میں سے اس کے کچھـ دوست اور صحابی بھی ہوئے ہیں جو اس کے طریقہ کار پر کاربند اور اس کے حکم کے پیروکار رہے ہیں لیکن ان صحابیوں کے بعد کچھـ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جن کا قول فعل کے خلاف اور حکم نبی کے خلاف ہوا ہے جس شخص نے ہاتھـ سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن ہے جس نے زبان سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن ہے جس نے دل سے جہاد کیا وہ بھی مومن ہے اس کے علاوہ رائی کے دانہ کے برابر(بھی) ایمان کا کوئی درجہ نہیں۔ (صحیح مسلم:71)، اور ایک آدمی آپ سے جہاد کی اجازت مانگنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کیا تمہارے والدین بقید حیات ہیں اس (آدمی) نے عرض کیا ہاں( اے اللہ کے رسول) تو آپ نے فرمایا جاؤ اور انہیں دونوں میں جہاد کرو یعنی ان کی خدمت کرو۔ (سنن الترمذی:1594)، اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: بیواؤں اور مسکینوں کی نگہداشت کرنے والا اللہ کی راہ میں لڑائی کرنے والے کی مانند ہے یا اس شخص کی مانند ہے جو رات بھر قیام کرے اور دن بھر روزہ رکھے۔ (صحیح بخاری:4934)۔
یہ ساری کی ساری حدیثیں جہاد کی کئی قسموں کے بارے میں ہیں: مال کے ذریعہ جہاد کرنا، حق گوئی کے ذریعہ جہاد کرنا، والدین کی رعایت و دیکھـ بھال کرکے جہاد کرنا، اس کے ساتھـ ساتھـ پوری طاقت و قوت صرف کرکے ، ہر طرح سے اپنی ذات اور بیش و بہا مال و دولت خرچ کرکے (اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے) جہاد کرنا؛ (پھر) یہ طبعی بات ہے کہ دشمنوں کے مختلف ہونے کی بنیاد پر جہاد کی شکلیں بھی مختلف قسم کی ہوں؛ (کیونکہ) کافروں اور فساد برپا کرنے والوں کے ساتھـ طاقت و قوت، زبان (کا استعمال کرکے) اور دل سے (اس کو برا سمجھـ کر) جہاد کرنا ہے، اور فاسقوں فاجروں کے ساتھـ بھی طاقت و قوت، زبان (کا استعمال کرکے) اور دل سے (اس کو برا سمجھـ کر) جہاد کرنا ہے، اور اسی طرح سے شیطان سے بھی جہاد کرنا ان شبہات کو چھوڑکرکے جن شبہات کو شیطان آراستہ و پیراستہ کرکے پیش کرتا ہے ، اسی طرح سے ان شہوات کو بھی چھوڑکرکے جنہیں وہ مزین کرکے پیش کرتا ہے۔ پھر یہاں جہاد کی ایک دوسری قسم بھی ہے وہ یہ کہ اپنے نفس کو اچھے اخلاق کے اپنانے پر ابھارنا اور ایمان و عمل میں مزید مہو ہونا اور احکام پر عمل کرنا اور نفس کو ہر طرح کی برائیوں سے پاک و صاف رکھنا۔
جب ہم اللہ رب العالمین کے قول کی روشنی میں ان دلالات پرغور و خوض کرتے ہیں، ارشاد باری ہے (وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ) (الانفال:60) تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی، کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھـ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھـ بھی اللہ کی راہ میں صرف کروگے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔
لہذا ضروی ہے کہ ہم اس نتیجے کو پہنچے کہ صحیح بات یہ ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر اپنے نفس کو خطرات میں ڈال کر جہاد کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کی طاقت و قوت کا استعمال کرکے اقتصادی، معاشرتی، سیاسی، ٹیکنالوجی اور ایمانی پیمانے پر بھر پور تیاری کرنا۔ اور کوئی بھی قوم جو میدان (کارزار) میں کامیابی کی خواہاں ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جہادی عمل کے ذریعہ امت کے طاقت و قوت کو فکری تجدید، ٹیکنالوجی، اقتصادی، سیاسی، معاشرتی، ایمانی اوراعلامی (میڈیا) پیمانہ پرخوب مضبوط کرے۔
جب اللہ کے راستے میں در اصل جان کی بازی لگا کر جہاد کرنا فرض کفایہ ہے، اور خاص حالات ہی میں متعین ہوتا ہے، جیسے کہ دشمن کا مسلمانوں کی آبادی میں گھس جانا، یا قتال میں موجودہ لوگوں پرحملہ آور ہونا، یا جس کو امام نے متعین کیا ہو اس پر پل پڑنا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عام اور وسیع معنی و مفہوم کا اعتبار کرتے ہوئے امت کے لئے سب سے بڑی مشغولیت جہاد کے حصّے میں ہوگی ، جس کے ذریعہ وہ داخلی طور پرمزید مضبوط ہو سکتی ہے تا کہ وہ (اندرسے) دشمنوں سے دفاع کرنے کے لئے اور (اپنی) مقصد کی بجا آوری کے لئے اور بھی زیادہ قوی و مضبوط ہو۔
حقيقة الجهاد الغائبة 3-2 UR
جہاد کا حکم -
|