English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
جہاد کا حکم -

۔(3-3) جنگ کے تئیں اسلام کا نقطہ نظر

اسلام نے کبھی اس سے بے پرواہی نہیں برتی کہ وہ ایک ایسا دین ہے جو بشریت کی زندگی کو منظم کرنے کے لئے آیا، نہ کی فرشتوں کی، آدمی کسی بھی طرح کا ہو اچھے یا برے رجحان کا ہو، اسلام بشریت کی ترقی کے لئے صرف خیالی آسمانوں میں نہیں منڈلایا اور نہ ہی ظلم پر خاموش رہا اور نہ ہی جارحیت کے خلاف مدد کرنے سے باز رہا، اور نہ ہی لوگوں سے یہ طلب کیا کہ وہ داہنے رخسار پر طمانچہ کھانے کے بعد اپنا بایاں رخسار(بھی) گھمائیں تا کہ مزید ظالم کے طمانچے برداشت کریں، کیونکہ یہ چیز فطرت کے خلاف ہے اور تطبیق کرنے کے لائق بھی نہیں ہے۔

اسلام (اپنی پوری تاریخ میں) کبھی ان لوگوں کی طرح نہیں رہا جو بدتر سے بدتر طرح کا جنگ کرتے ہیں، اور (آئے دن) نت نئے قتل و غارت گری، عبرتناک سزا، خون خرابہ اور تباہی و بربادی کے طریقے اختیار کرتے ہیں، اور ساتھـ ہی ساتھـ یہ صدائیں بلند کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کا مقصد صرف اور صرف پیار و محبت، آزادی و بھائی چارگی اور امن و سلامتی قائم کرنا ہے۔

زندگی، آدمی کی ذات اور انسانی معاشرہ کے صورت حال کی طرف اسلام حقیقت پسندی سے دیکھتا ہے۔ اور جو کشمکش و ٹکراؤ وجود میں آتے ہیں اور ان کی بنیاد پر جو جنگیں چھڑ جاتی ہیں، تو اسلام اس جنگ کی طرف ایسے نظریے سے دیکھتا ہے کہ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کی طرف بشری معاشرہ بذات خود دعوت دیتا ہے، (اس لئے) اسلام نے اس کا انکار کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے بارے میں غوروخوض کرنے میں مخالفت کی۔ بلکہ بایں طور اس کا اعتراف کیا کہ یہ جارحیت سے دفاع کرنے اور فساد برپا کرنے والوں کے مزاج کو درست کرنے کا ایک ذریعہ ہے؛ اسلام نے جنگ کا اعتراف (اس لئے) کیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بشری طبیعت اور معاشرے کے طور طریقے ایسے ہوتے ہیں کہ عام طور پر لڑائی جھگڑے، ظلم، حق سے انکار، آزادی کے خلاف زیادتی اور دین میں فتنہ پروری کی نوبت آ ہی جاتی ہے۔

اسلام ایک عملی و اصلاحی شریعت ہے، حقیقت حال کا معاینہ کرنے سے اپنی آنکھیں ڈھانپتا نہیں، اسلام اگر جنگ کا اقرار نہ کرتا اور اس کا اعتراف نہ کرتا کہ وہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور جارحیت کا دفاع کرنے والا کا بھی، اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کے نشر کرنے کے لئے راستے سے ہر قسم کے رکاوٹ کے ہٹانے کا بھی ذریعہ ہے تو برائی اور فتنہ وفساد جس کی ہمیشہ سرکشی اور بغض و عناد رکھنے والی طاقتیں پشت پناہی کرتی ہیں وہ اس دعوت و تبلیغ کی جو ابھی ابتدائی مرحلے ہی میں تھی اس کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتیں، اور پوری انسانیت اس کے بہترین نتائج سے ہر صورت میں محروم ہو جاتی، ارشاد باری تعالی ہے (الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيراً) (الحج:40) (یہ وہ ہیں) جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ رب العالمین ہے۔ اگر اللہ رب العالمین لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے، گرجے، مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وہ مسجدیں بھی ڈھادی جاتیں جہاں اللہ رب العالمین کا نام بکثرت لیا جاتا ہے۔

اسلام نے انہیں سارے خطرات کا دفاع کرنے کے لئے، انہیں اعتبارات پر لبیک کہتے ہوئے اور کائنات کے لئے ایک نیا مثال پیش کرتے ہوئے جو اس کے لئے معروف و مشہور نہ تھا جہاد کو مشروع کیا۔ ساری کائنات ظالمانہ جنگ اور سخت سے سخت سزاؤں کی عادی ہو چکی تھی، جو ہر قسم کے ظلم و ستم، سرکشی اور جارحیت سے بالا تر تھی، کہ اچانک اس کے لئے ایک ایسی نئی مثال سامنے آگئی جو رحمت و رواداری اور احسان سے بھری ہوئی عدل و انصاف پر مبنی تھی۔

غلطی کرنے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان جہاد کی حقیقت:

اسلام اور متاخرین کے درمیان جہاد کے مفہوم میں صاف اور واضح فرق ہے، اس کہ باوجود کچھـ لوگ ایسے ہیں جو اس کے صحیح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی سبقت اصرار کرکے اور بعض لوگوں کا گھات میں رہ کرکے، اور کبھی کبھار کچھـ لوگ شدت جذبات، غصہ اور بغاوت کا اظہار کرکے؛ جہاد کے آثارونشانات کو مسخ کرنے کا عمل چاہے اس کے نہ ماننے والوں کی طرف سے ہو یا ان لوگوں کی طرف سے ہو جو اس کے معنی و مفہوم (کے سمجھنے) میں غلطی کرتے ہیں بہر صورت نتیجہ ایک ہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جہاد کی حقیقت کا غلط مفہوم کو مقدم کرنا جو بسا اوقات اس کے نہ ماننے والوں کے برابر شبہات کی وجہ سے اور برابر غلط مفہوم مراد لینے والوں کی وجہ سے (ذہن میں) راسخ و پختہ ہو سکتا ہے؛ اور پھر اسی صورت حال کی وجہ سے ان جیسے لوگوں کے لئے جہاد کی مفقود حقیقت کا بیان اور اس کی وضاحت بہت ہی ضروری ہے۔

نظرة الإسلام للحرب 3-3 UR



جہاد کا حکم -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت