|
۔(3-5) جہاد عدل و انصاف، رحم وکرم اور روادری کا نام ہے اللہ رب العالمین کے راستے میں جہاد کی غرض و غایت یہ عدل و انصاف، رحم وکرم اور روادری کے معیار کو انوکھے طریقے سے قائم کرنے کے لئے وجود میں آئیں، اس کے باوجود کہ جنگوں کے اندر بےدردی قساوت قلبی عام ہوتی ہے شاذ و نادر ہی فساد و جارحیت سے خالی ہوتی ہے۔ یہ احکام اللہ رب العالمین کے اس قول کی روشنی میں سامنے آتی ہیں ارشاد باری ہے (اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى) (المائدہ:8): عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول سے ماخوذ ہے آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا پروردگارعالم اس پر رحم نہیں کرتا (صحیح مسلم:4283)۔ لہذا یہ چیز اسلام کے عدل و انصاف اس کے رحم وکرم میں سے ہے کہ اس نے جہاد کی مشروعیت سرکشوں کے مقابلے میں کی، ارشاد باری ہے (وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ) (البقرہ:190): لڑائی کرو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ رب العالمین زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اسی طرح اسلام کے عدل و انصاف اور رحم وکرم میں سے یہ (صفت) بھی ہے کہ اس نے جہاد کو کمزوروں اور مظلوموں کے لئے بطور مدد مشروع کیا، اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے (وَمَا لَكُمْ لا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيّاً وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرا) (النساء:75): بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ رب العالمین کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگا! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کردے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔ اسی طرح اسلام کے عدل و انصاف اور رحم وکرم میں سے یہ (صفت) بھی ہے کہ اس نے جہاد کو فتنہ و فساد کا قلع قمع کرنے کے لئے مشروع کیا، ارشاد خداوندی ہے (وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ) (البقرہ:193): ان سے لڑائی کرو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ رب العالمین کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ظالموں پر ہی ہے۔
اسلام کتنا زیادہ انصاف پسند ٹھہرا جب اس نے دشمن سے قتال شروع کرنے سے پہلے اسے دعوت اسلام پہنچانے کی شرط لگائی، اور اسلام کتنا ہی زیادہ رحم وکرم والا ٹھہرا جب اس نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے کو ممنوع قرار دیا، اور اسی طرح اس وقت بھی (کتنا رحم وکرم والا ٹھہرا) جب اس نے اپنے متبعین کو راہبوں، کاشت کاروں، بوڑھوں اور دائمی مریضوں کو قتل کرنے سے منع کیا، اسی طرح سے مثلہ کرنے سے منع کیا اور اس سے بھی منع کیا کہ کوئی آدمی اپنے باپ کو قتل کرے۔
یہ اسلام کی رواداری ہی ہے کہ وہ اپنے مخالفین میں سے کسی کو دین اسلام کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا ہے، بلکہ ان کو اور جو کچھـ وہ عقیدہ رکھتے ہیں اور جو دین بھی اختیار کرتے ہیں اسے مکمل آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ اور اس کی رواداری یہ بھی ہے کہ قادر ہونے کے بعد معاف کردینا اور غالب آنے پر بھی درگزرکردینا، اور یہ عدل و انصاف، رحم وکرم اور رواداری نے ہی کسی مستشرق کو یہ کہنے پر مجبور کیا: "وہ صرف مسلمان ہی ہیں جو دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے تئیں اپنے دین کی غیرت مندی اور رواداری کی روح کوساتھـ ساتھـ لے کر چلتے ہیں، اور انھوں نے اپنی دین کو پھیلانے کے لئے تلوار کھینچنے کے ساتھـ ساتھـ ان لوگوں کو بلکل نظرانداز کردیا جو آزادی کے ساتھـ ان کے دینی تعلیم کو قبول کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے"۔
اگرچہ ہم اس جگہ جہاد کے تفصیلی احکامات کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کررہے ہیں جو عدل وانصاف، رحم وکرم اور رواداری کے معیار کی صورت حال کے لئے ترجمانی کررہی ہے، ہم صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وصیت کا ذکر کرکے اسی پر اکتفا کریں گے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجاہدین کو بھیجتے وقت) فرمایا: (روانہ ہو جاؤ اللہ کا نام لے کر اللہ کی تائید و توفیق کے ساتھـ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر۔ (دیکھو) قتل نہ کرنا بوڑھے آدمی کو نہ چھوٹے بچے کو اور نہ عورت کو اور تم مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا بلکہ مال غنیمت کو جمع کرنا اور اپنے احوال کی اصلاح کرنا اور بھلائی کرنا۔ بے شک اللہ رب العالمین نیکی اور بھلائی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے) (سنن ابو داود:2247)۔
کائنات دو مثالوں کے درمیان: رحم وکرم والا جہاد اور بےدردی والی قتل و غارت گری:
اسلام نے جہاد کو مشروع کیا جو کہ سارا کا سارا رحم وکرم عدل و انصاف پر مبنی ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی زندہ ترجمانی کی اور یہ چیز اتباع کرنے والا طورطریقہ بن گیا ہراس شخص کے لئے جو آپ کے نقش قدم پرچلے اور آپ کی سنت پر عمل کرے، اسی وجہ سے تاریخ کے صفحات ان لوگوں کی ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے جہاد کی حقیقت کو جانا اور ایسے وقت میں اس کا التزام کیا جس وقت دوسرے لوگ جنگ میں ظلم و زیادتی اور سختی کے علاوہ کچھـ نہیں جانتے تھے، اور ایسے موڑ پر پہنچ کر کائنات کے سامنے دو مثالیں تھیں، رحم وکرم والی جہاد کی مثال، اور دوسری بغیر اخلاق و ضمیر والی قتل و غارت گری والی مثال۔ اور شاید کہ ہر نمونے سے چند مثالوں کا ذکریہ ہمارے لئے جہاد کے کچھـ اس معنی و مفہوم کو واضح کرے گا جس کی ہمیں جستجووتلاش ہے اور ہم جس پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔
رحم وکرم کرنے والے جہاد کے مدرسے کی چند مثالیں:
ہم مسلم قائدین کے دو بڑے موقف کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے رحم وکرم والے جہاد کے مدرسےمیں تربیت پائی، اور اپنے بڑے معلم و بزرگ رسول کے طورطریقے پر چلے۔
پہلا: یہ نمونہ صلاح الدین ایوبی کا ہے جب اللہ رب العالمین نے انہیں صلیبیوں کے خلاف فتح بخشی اور بیت المقدس ان کے قبضہ میں آگیا، اور ہنگامہ کرنے والے سارے کے سارے عیسائی ان کی پکڑ میں آگئے تو پھر ان کے ساتھـ (صلاح الدین ایوبی نے) کیا کیا؟۔
صلاح الدین ایوبی نے انتقام لینے کے بارے میں ہرگز نہ سوچا اور اگر وہ ایسا کرتے بھی تو کوئی ان کو لعن طعن بھی نہ کرتا، اسی طرح ان کو ذلیل و رسوا کرنے کے بارے میں بھی نہ سوچا اور اگر وہ ایسا کرتے تو (ان کے اس عمل سے) کوئی بھی حیران نہ ہوتا؛ لیکن حیران کن وہ چیز ثابت ہوئی جو انہوں نے ایک لاکھـ (100000) عیسائیوں کے ساتھـ (معاملہ) کیا، حقیقت میں (ہوا یہ کہ) سلطان نے انہیں ان کے جانوں اور مالوں کو مکمل امان دیا اور انہیں (صحیح سلامت) چلے جانے کی اجازت دیدی کچھـ معمولی مبلغ کے بدلے جو(صرف) استطاعت رکھنے والے ہی دیں گے۔
بیت المقدس سے چلے جانے کے لئے انہیں چالیس(40) دن کی مہلت دیدی تو وہاں سے چوراسی ہزار(84000) لوگ نکل کر کوچ کر گئے، اور اپنے جلاوطن کئے ہوئے آباء و اجداد سے "صور،عکا اورصیڈا" میں جا ملے اور سلطان حسن نے ان کے ساتھـ کچھـ آدمی بھی بھیجے جو ان کی دیکھـ بھال کر سکیں۔
سلطان حسن نے فرنگی غریبوں اور مسکینوں میں سے بہت سارے لوگوں کوبغیر فدیہ لئے آزاد کردیا، اور اپنے بھائی انصاف پسند بادشاہ کے بدلے ان میں سے دو ہزار(2000) آدمی کو بطور فدیہ چھوڑدیا۔ اوپر سے مزید دلچسپ بات یہ ہوئی کہ بعض عیسائی فقیروں اور مسکینوں نے شہر "انطاکیہ" کا رخ کیا، لیکن وہاں کے عیسائی بادشاہ نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا تو وہ سب الٹے پاوں لوٹے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ہی انہیں پناہ دی، رہے وہ لوگ جو طرابلس چلے گئے تھے جہاں لاتینی عیسائیوں کی حکومت تھی تو ان لوگوں نے بھی انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا، اور بس اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے سامانوں کی چوری بھی کی جوکہ مسلمانوں نے انہیں (بطورعطیہ) دیا تھا۔
پھر سلطان صلاح الدین(ایوبی) کا (دوسرا) رحم وکرم والاموقف عیسائیوں کے ساتھـ اس وقت پیش آیا جب وہ سب ان کے پاس اکٹھا ہوئیں اور ان سے یہ کہتے ہوئے گریہ و زاری کرنے لگیں: "ہم لوگ یا تو بیویاں ہیں یا مائیں یا پھر بیٹیاں ہیں ان لوگوں کی جو قید ہوگئے ہیں یا جوگھوڑسواروں اور فوجیوں میں سے قتل کر دئے گئے ہیں اور ہمارا کوئی مددگار نہیں اور نہ ہی کوئی ملجا و ماوی ہے۔۔۔"، اور ساری کی ساری (عورتیں) خوب روئیں، سلطان (اس سے بہت) متاثر ہوئے اور یہ حکم صادر فرمایا کہ ان کے قیدی مردوں کو رہا کر دیا جائے، اور رہیں وہ عورتیں جن کے اولیاء (نگراں و ذمہ داران) وفات پا چکے ہیں تو انہیں بہت سارے مال و دولت سے (سلطان نے) نوازہ، اور ان سارے لوگوں کو (جن کو آزاد کیا تھا) اور جن کو مال و دولت سے نوازہ تھا (صحیح سلامت) جانے کی اجازت دیدی تو یہ سارے لوگ واپس چلے گئے، اور وہ سب جہاں بھی گئے ان کی تعریفیں کرتے ہوئے گئے۔ تو کیا اس سے بھی بڑی کوئی رحم وکرم ہو سکتی ہے؟!۔
دوسرا: عثمانی سلطان محمد الفاتح کے ایک موقف کا ہم تذکرہ کرتے ہیں، (یہ موقف اس وقت کا ہے) جب اللہ رب العالمین نے انہیں 1453ء میں شہر قسطنطنیہ فتح کرنے کی توفیق دی، اور وہ "ایا صوفیا" کے اس گرجا گھر میں داخل ہو گئے جس میں اہل کنیسہ پناہ گزیں ہو گئے تھے اور جا کر چھپ گئے تھے تو (خلیفہ عثمانی نے) ان لوگوں سے ملاقات کی اور اس بات کی تاکید کی کہ وہ ان کی حمایت کریں گے، اور اہل شہرسے- جو ڈر گئے تھے- طلب کیا کہ وہ اپنےگھروں کو امن و امان کے ساتھـ واپس آجائیں، پھر پادریوں کے ان سارے آثار و نشانات کو جمع کرنے کا حکم دیا جو فتح پانے کے دن چھین لئےگئے تھے اور انہیں گرجا گھروں و عبادت گاہوں کے حوالے کردیا، اور انہیں کھلم کھلا آزادی دیدی کہ وہ سب اپنے گرجاگھروں کی اتباع کریں، اپنے مالی قوانین کو اپنائیں، اپنے رسم و رواج جو ان کے شخصی احوال سے متعلق ہیں اسی پر باقی رہیں اور ہر وہ سارا کام کریں جو دین پر آزادی سے کرنا چاہتے ہیں۔
پھر سلطان(عثمانی) نے گرجاگھروں کے سارے رؤساء وذمّہ داروں کو جمع کیا تا کہ وہ سب مل کر"جورج سکولاریوس" کو منتخب کرلیں، اور سلطان نے اس انتخاب کی توثیق بھی کردی اور اس توثیق و تائید کا اسی شان و شوکت کے ساتھـ جشن منایا گیا جس طرح سے رومی بادشاہوں کے زمانے میں منایا جاتا تھا، اور(اس کے ساتھـ ساتھـ ہی) سلطان نے ہر قسم کے داخلی و تعزیراتی معاملوں میں جو ان کی جماعتوں سے متعلق تھے انہیں کو اس میں فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیدیا، اور ساتھـ میں یہ بھی کیا کہ گرجا گھروں کے ملازمین کی ایک بڑی جماعت پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دیدی، اور ملک کے مختلف ریاستوں میں بشپ اورپادریوں کو یہ حق دیا۔
اس طرح کا رحم وکرم یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، اور نہ ہی سلطان صلاح الدین ایوبی یا سلطان محمد الفاتح کا ایسا کرنا کوئی عجیب و غریب چیز ہے، کیونکہ دونوں کی ضمیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پکار سے سیراب ہوئی تھی جو آپ نے اہل مکہ سے اس وقت کہا تھا جب وہ فتح ہو گیا تھا اور سارے کے سارے لوگ آپ کی پکڑ میں آگئے تھے، اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو اذیتیں دی تھیں،گھروں سے بے گھر کیا تھا اور آپ کے ساتھـ جنگ کی تھی، اور آج سارے کے سارے لوگ آپ سے دریافت کر رہے ہیں: آپ ہمارے ساتھـ کیسا برتاؤ کریں گے؟، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ہمیشہ باقی رہنے والی مشہور بات کہی: (جاؤ تم سب کے سب آزاد ہو) (السنن الكبرى للبيهقي:18739)۔
یقیننا یہ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طورطریقے ہی پر پلے بڑھے تھے جو عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں، کاشت کاروں اور دائمی مریضوں کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے، اور عہد و پیمان کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے، ذمیوں اوران کے اہل وعیال کی حفاظت کا حکم دیتے تھے، یہ سب کچھـ پائےجانے کے باوجود بھی ان کا جہاد کیونکر رحم وکرم والا جہاد نہیں ہو سکتا؟۔
بےرحم و ظالمانہ قتل وغارت گری کرنے والے مدرسے کی چند مثالیں:
· اگر ہم یہودیوں سے شروع کریں تو بے رحمی و انتہاپسندی کی جسامت ہمیں ہولناکی میںمبتلا کر دے گی جو دوسروں کے تئیں ان کے دلوں میں بھرے ہوئے ہیں، یہ لوگ اپنے گمان میں اللہ رب العالمین کی پسندیدہ قوم ہیں اور ان کی تعلیمات یہ کہتی ہیں: "ہم کسی بھی ذی روح کو زندہ نہیں چھوڑیں گے" (سفر تثنیہ)، "اب ہر چھوٹے و کمتر کو قتل کرو" (سفر اعداء)۔
جب معاملہ ایسا ہے تو پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ حاخامات (راہبوں) کے جوابات پوچھنے والوں کے لئے کچھـ اس طرح سے ہوں جو ہم اسرائیلی حاخام "شمعون وایزر" کے اس جواب میں دیکھتے ہیں جب ایک اسرائیلی فوجی نے اس سے سوال کیا: کیا ہتھیار سے نہتھے عربوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا جائز ہے؟، کیا ہم عربوں کے ساتھـ جانوروں جیسا سلوک کریں؟، یعنی ان کو قتل کریں یہاں تک کہ صفحہ ہستی سے ان کا وجود ختم کردیں اس (دلیل) کی بنیاد پر جو سفر تثنیہ میں آیا ہے "آسمان کے نیچے سے جانوروں کا نام ونشان تک مٹا دو"۔
حاخام نے فوجی کو ایک رسالہ کے ذریعہ یہ جواب دیا: میں تمہارے لئے بعض حکیموں کے اقوال نقل کررہا ہوں اور اس کی وضاحت بھی کر رہا ہوں اور وہ اس طور پر کہ جنگ یہودیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے نزدیک خاص طورپر بہت سارے قوانین پرمبنی ہے جیسے کہ فٹ بال اور باسکٹ بال کے قانون وقاعدے، لیکن جنگ ہم لوگوں کے نزدیک جیسا کہ ہمارے حکیموں کا کہنا ہے: ہمارے لئے یہ کھیل (کی طرح) نہیں ہے بلکہ ہم لوگوں کے نشونما کے لئے ایک ضرورت ہے، اور صرف انہیں معیار کی روشنی میں جنگ کی کیفیت کے بارے میں غوروفکر کرنا چاہئے، اسی وجہ سے میں تمہیں بتا رہا ہوں: "یہودی کے سوا سارے شریف لوگوں کو قتل کرو، اور زیادہ زہریلے اژدہے کا سر توڑ دو، ہتھیار کو پاک صاف رکھنے کا یہی ایک ذریعہ ہے"۔
جب فوجی نے حاخام کا جواب پڑھا، تو دوبارہ اس کے پاس لکھتے ہوئے کہتا ہے: "آپ کا خط ملا اور ہم نے اس کو کچھـ اس طرح سے سمجھا ہے: جنگ کے دوران کسی بھی عربی مرد یا عورت سے ہمارا واسطہ پڑے تو اس کو قتل کرنا ہمارے لئے جائز ہی نہیں بلکہ یہ میرا فرض ہے کہ میں اس کو قتل کروں، اور خود میری ذات کی طرف سے میرا فریضہ یہ ہے کہ ان سب کو قتل کروں اگرچہ اس کی وجہ سے فوجی قانون کے ساتھـ کچھـ پریشانی ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے، میرا خیال یہ ہے کہ ہتھیاروں کو پاک صاف رکھنے کا نظریہ سارے تعلیمی اداروں کے پیمانہ پرعام کرنا ضروری ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ اے حاخام! آپ اس نظریہ کی شرح و توضیح کرنے میں اور بھی زیادہ چستی سے کام لیں تا کہ ہمارے سارے فوجی اپنے اسلاف کا موقف اچھی طرح سے جان لیں"۔
شاید کہ اسی ہتھیار کی صفائی ستھرائی کا قاعدہ ہی تھا جس کے پس پردہ اسرائیلی فوج نے ہزاروں مصریوں کو سیناء کے صحراء میں 1967ء کی جنگ میں زندہ درگور کردیا تھا، اور شاید کہ اس قتل عام میں شرکت کرنے والے سارے صہیونیوں کے دل ودماغ میں پہلے ہی سے یہ فکرہ تھا، اور فلسطینیوں کے ساتھـ ایسا بہت ہوتا ہے،جو 1948ء میں دیریاسین سے لے کر 1982ء میں صبرا و شاتیلا سے گزرتے ہوئے فلسطینیوں کے روزمرہ کے قتل عام پر ختم ہوتا ہے جو کہ پورے زوروشور کے ساتھـ فلسطینی انقلاب لانے والے مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کے ساتھـ ایسا ہو رہا ہے، اوربذات خود اسی اسلوب و طورطریقے کو صہیونی شاعر" شیرنجوفسکی" اپنے قصیدے میں بیان کرتا ہے جس میں وہ کہتا ہے: مجھـ کو میرا تلوار دو تا کہ میں اپنے دشمنوں پر غالب آجاؤں، ایک فصل کاٹنے والے کی طرح کاٹوں، اور ان کی جڑوں کو تہس نہس کرکے رکھـ دوں، اور اپنے داہنے و مضبوط ہاتھوں کو آزاد کردوں اور اپنے دشمنوں کا صفایا کردوں، اور اپنی تلوار کو پورے فخر و غرور کے ساتھـ ان کے خون سے سیراب کروں، اور میرا یہ اقدام اس کشمکش والی کیفیت کے خون کا خاتمہ کردے، اور میرے دونوں پیر ان کے سروں کے بالوں کو روندیں، میں داہنے ہاتھـ سے کاٹوں اور بائیں ہاتھـ سے (اس کا) نتیجہ حاصل کروں۔
· جب ہم قتل وغارت گری کے دوسرے ظالمانہ مدرسے کا رخ کریں گے تو ہم اس میں اس طرح کی ہولناکی اور وحشیانہ حرکت پائیں گے جس کی مثال بھی بہت کم ہی ملے گی، کیونکہ صلیبی جنگیں ایک ایسے نمونے کی مثال پیش کرتی ہیں جو اس مدرسے کی حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں۔ ہم ان صفحات کی ورق گردانی کرتے ہیں تا کہ ہم جان سکیں کہ یہ جنگیں کس قدر ظالمانہ تھیں اور کس قدر ان کے دل بے رحم تھے۔
قرون وسطی میں جب صلیبیوں نے بیت المقدس میں قدم رکھا تو سوریا کے شہرمعرۃ النعمان کے پاس ٹھہرے اور اس کا محاصرہ کیا اور اس کے اندر ایسے ایسے رونگٹے کھڑے کرنے والے جرائم کا ارتکاب کیا جو سن کر بچّے بھی بوڑھے ہوجائیں؛ اور بعض انگریز مؤرخین جو اس حملے کے وقت موجود تھے مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے قتل ہونے والوں کا اندازہ لگایا کہ ان کی تعداد ایک لاکھـ (100000) تک تھی۔
پھر بیت المقدس کی طرف اپنا سفر جاری رکھا، اور اس کا بھی سختی کے ساتھـ محاصرہ کیا، جب بستی والوں نے یہ دیکھا کہ وہ یقینی طورپرمغلوب و شکست خوردہ ہیں، تو صلیبی حملہ کے قائد سے اپنے جانوں اور مالوں کے لئے پناہ طلب کی، تو ان کو ایک جھنڈا دیا کہ وہ اس کو مسجد اقصی پر بلند کریں اور اس کی طرف ہر چیز سے مامون ہوکرپناہ لیں، لیکن جیسے ہی (وہ صلیبی لوگ) مقدس شہر میں داخل ہوئے مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام شروع کردیا ا ور تباہی وبربادی شروع کردی یہاں تک کہ بوڑھوں، اماموں، عابدوں اور زاہدوں کو نہیں بخشا جو کہ مسجد میں پناہ گزیں ہو گئے تھے، اور اتنا زیادہ خون بہا کہ گھوڑسواروں کے گھٹنے تک پہنچ گیا اور پورا روڈ کھونپڑیوں، بازؤوں، پیروں اور آدمیوں کے مسخ شدہ جسموں سے کھچاکھچ بھر گیا؛ مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ وہ لوگ جو صرف مسجدوں کے اندر قتل کئے گئے ان کی تعداد ستّرہزار(70000) تک پہنچ گئی، انگریز مؤرخین ان رونگٹے کھڑے کرنے والے حادثوں کا انکار نہیں کرتے (بلکہ) ان میں سے زیادہ تر لوگ اس کو بڑے فخروغرور کے ساتھـ بیان کرتے ہیں۔
· اگر ہم 1502ء میں اندلس کے (شہر) اشبیلیہ پر نظر ڈالیں تو ہم اللہ کے دشمن مسلمانوں کواشبیلیہ اور اس کے اردگرد سے نکال بھگادینےکے لئے گرجاگھر کا یہ اعلان پائیں گے، اگر وہ لوگ معمودیہ کو قبول نہ کریں، اور شرط کے ساتھـ بھی کہ وہ سب کسی ایسے راستے کو نہ اپنائیں جو مسلم ممالک کی طرف جاتا ہو، اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی سزا قتل ہے۔
· قیصر ایفان رہیب نے جو کچھـ روسیا میں کیا اور عام تباہی وبربادی جو ان (مسلمانوں) کے خلاف ٹھانی، مسلمان وہ بھی نہیں بھول سکتے۔ ان (مسلمانوں) کو یہ اختیار دیا کہ یا تو وہ سب عیسائی بن جائیں یا اپنا وطن چھوڑکر چلے جائیں۔
اور اگر ہم کمیونسٹ روسیا کی طرف نظر ڈالیں تو وہاں کے رونگٹے کھڑے کرنے والے جرائم اور گھٹیا سے گھٹیا ذرائع کے بارے میں سٹالین کے زمانے سےلے کر1979ء میں افغانستان میں سویتی یونین کے تدخل سے گزرتے ہوئے، اور جو کچھـ آج کل چیچینیا میں ہو رہا ہے ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے جتنا بھی بیان کریں کوئی مضائقہ نہیں۔
· اور جب ہم کوسووا کے علاقے میں نظر ڈالتے ہیں جہاد اکثریت البانی مسلمانوں کی ہے، یہ صربیوں کے حملے کا شکار بنا، تا کہ وہاں سے اسلامی چھاپ کا خاتمہ کر سکے تو ہم وہاں ایسی ہولناکی پائیں گے جو بچّوں کو بھی بوڑھا کردے، تو آئیے ہم مندرجہ ذیل چند لوگوں کی گواہی کی بنیاد پر اس کے بعض پہلوؤں کو دیکھتے ہیں:
ا- منظمۃ الامن والتعاون (امن و سلامتی اور تعاون کی کمیٹی) کے نمائندے "سانڈی بلیٹ" کا کہنا ہے کہ انہوں نے چودہ سو(1400) گواہی انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں اکٹھا کی ہے، جس میں عام شہریوں کا قتل، سزا دیئے جانے کی حالات، عورتوں کی عصمت دری، باشندوں کو بھگانا، مال ودولت کی لوٹ مار، جائیداد کی تباہی اور چوری جیسے واقعات شامل ہیں۔
ب- صربیوں نے نسل کو ختم کرنے کے لئے جن جرائم کا ارتکاب کیا، نیٹو کے جنرل سکریٹری "خفیر سولانہ" نے اس سلسلے میں صاف اور واضح دلیلوں کا انکشاف کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلم البانی باشندوں کا پورے زور و شور کے ساتھـ قتل عام کر رہے تھے۔
ج- برطانوی وزیر خارجہ "روبین کوک" نے کہا کہ: صربیائی فوجیں البانی مسلمانوں کو انسانی ڈھال کی جگہ استعمال کر رہی تھیں جب نیٹو کے جہازوں نے ان پر حملہ کیا تھا۔
د- امریکی وزیردفاع "ولیم کوہین" نے کہا کہ: کوسووا کے البانی مسلمانوں میں سے تقریبا ایک لاکھـ (100000) آدمی جو قتال کرنے والی عمر میں تھے ان علاقوں میں گم ہو گئے، اور جہاں تک ممکن ہے کہ یوغوسلاوی فوجوں نے انہیں قتل کر دیا ہو۔
ھـ- نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ: یہاں سات سو اکتالیس (741) بچے ایسے ہیں جو اپنی خاندان کی تلاش میں ہیں، اور اسی کے مقابلے میں چھـ ہزار تین سو بیاسی (6382) آدمی ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی تلاش میں ہیں۔
· ان دنوں امریکہ کی کیا خبر ہے: امریکی سیاست داں ہر طرح کےذرائع اور وسائل کا استعمال کرکے جس میں اسمارٹ اسلحہ بھی شامل ہے آزادی اور جمہوریت کوعام کرنے کے لئے انصاف پسند جنگ اور صاف ستھری، اہمیت والی اور مقدس جنگ کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔
بعض لوگوں نے اس روشن بیان کی تصدیق بھی کردی یہاں تک کہ بموں اور اسمارٹ توماہوک اور کروز میزائلوں نے انہیں بیدار کیا جو افغانستان اور عراق کے باشندوں کے سروں پر برس رہی تھیں اور باقی لوگوں کا نمبر بھی آنے والا ہے۔
لیکن ان دنوں امریکہ میں فکری رجحانات اور واشنگٹن میں حکومت کرنے والی گروہ کے رجحانات کا تتبع کرنے والے کو اس نعرہ بازی کی حقیقت کو جاننے میں زیادہ مشقت نہیں اٹھانی پڑے گی، اسی طرح یہ بھی اکتشاف کرنے میں(کوئی دشواری نہیں ہوگی) کہ ہم ان دنوں ظالمانہ اور گندی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں، صرف اسمارٹ اسلحوں کا ہی نہیں بلکہ پاگل پن اور تباہ وبرباد کرنے والے اسلحوں کا سامنا کر رہے ہیں اور(اسی طرح) آزادی کی خوشخبری کا سامنا ہی نہیں بلکہ پورے عالم پر امریکی قیادت کی منصوبہ بندی کا سامنا کر رہے ہیں جو ایک غیر متعینہ مدت کے لئے امریکی مفادات کے حق میں ہے۔
لہذا ان دنوں امریکہ کی ساری کی ساری جنگیں اپنے بچاؤ کے لئے ہیں، ساتھـ ساتھـ امریکی مفادات کی حفاظت کے لئے بھی، اگرچہ یہ (امریکی) سرحد سے باہر ہی کیوں نہ ہوں، اور اس کے ساتھـ ساتھـ یہ ساری دنیا پر امریکی اصولوں کے نمونہ کو بھی تھوپنا ہے؛ یونین (اتحاد) کی کیفیت میں ہم امریکی صدر کے اس خطاب کو سنیں وہ کہتے ہیں: "بے شک امریکہ آزادی اور انصاف کے دفاع کے لئے اس جنگ میں قائد ہوگا، اس لئے کہ یہی دونوں حق و درست ہیں اور ہردورو ہرجگہ کے لئے ثابت ہیں"۔ بلکہ ان سیاست دانوں اور دانشوروں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو انصاف پسند جنگ کے معنی و مفہوم کو ایک حکم کی طرح فروغ دے رہے ہیں جس کا امریکی ریاست اپنی جنگوں میں پابندی کررہی ہے؛ ساٹھـ (60) مشہور امریکی اکیڈمی کی جانب سے جن میں سرفہرست فوکویاما صاحب کتاب "نھایۃ التاریخ" اور صموئیل ہینتنگٹون صاحب کتاب "صدام الحضارات" نےمندرجہ ذیل خطاب میں امریکی قوموں اور بین الاقوامی برادری کو مخاطب کیا، اس عنوان کے تحت، ہم کس لئے جنگ کر رہے ہیں؟۔ امریکہ سے ایک خطاب: انصاف پسند جنگ ضروری ہے کہ ان دو چیزوں سے متصف ہو:
1- یہ کہ اس جنگ کی قیادت شرعی طورپر حکومت کرے۔
2- اور یہ کہ جنگجوؤں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو ہدف نہ بنائے مگر خاص حالات میں جو بسا اوقات بعض باشندوں کی ایذا رسانی کے لئے نادانستہ طور پر اخلاقی طور پر مناسب ہو۔
اگرہم ان قانون و ضوابط کا عراق میں جو کچھـ ہوا اس پر تطبیق کریں تو ہمارا حق بنتا ہے کہ یہ سوال کریں؛ اس جنگ میں شرعیت کہاں ہے یہاں تک کہ انصاف پسند جنگ کہلائی جا سکے؟ یہ کہاں اور ہم دیکھـ رہے ہیں کہ عالمی برادری کی طرف سے رفض سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں نمائندگی کر رہی ہے؟ اور شہریوں کی ایذا رسانی سے گریز کرنے کا التزام کہاں ہے جب کہ "بی 52" طرز کے جہاز گاہے بگاہے بغداد کے رہائشی علاقوں میں ایسا بم پھینکتے رہتے ہیں جس کا وزن کئی کئی ٹن ہوتا ہے۔
ایسی حرکت ایک ایسے ملک سے کوئی بعید نہیں جس کے ہاتھـ ویتنام کی جنگ سے رنگے ہوئے ہیں، اور اس سے پہلے دوسری عالم جنگ کے دوران (جاپان کے) دونوں شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم کی بارش کی، یہ جنگ جو 1945ء میں آکر ختم ہوئی اور پانچ کروڑپانچ لاکھـ (50500000) آدمی اس کا شکاربنے، ان میں سے تیس لاکھـ (3000000) تو صرف شہری تھے اور یہ قیاسی رقم پہلی عالمی جنگ کے متاثرین سے کہیں زیادہ ہے جس میں زخمیوں، قتل ہونے والوں اور گم شدہ لوگوں کی تعداد تین کروڑسات لاکھـ (30700000) تھی۔
انہیں سب وجوہات نے امریکی مصنف "ناعوم چوفسکی" کو مجبور کیا کہ وہ یہ کہے: " دوسری عالمی جنگ سے لے کر اور آج تک اگر ہم پورے عالم میں امریکہ کے کرتوت کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ وہ(امریکہ) دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور انتہاء پسند ملک ہے"۔
یہ ظالمانہ اورذلت انگیز جنگ کے صفحات کی چند سطریں ہیں جو ہم نے پیش کیا شاید کہ یہ اسلام میں جہاد کے معنی و مفہوم اور دوسری قوموں کے یہاں کے مفہوم میں صاف اور واضح فرق کا انکشاف اس وقت کر سکیں جب دونوں کے معیار کو عملی میدان میں لایا جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے:
کسی بھی چیزکی خوبصورتی کا اندازہ اس کےمتضاد چیزوں سے لگایا جاتا ہے
اور متضاد چـیزیں ہی کسی دوسری چـیز کی امتیـازی صفت کو واضح کرتی ہیں
شروعات کی طرف واپسی:
مندرجہ بالا جائزہ سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ ایسی حقیقت ہے جو مکمل طور پرمختلف قسم کے نشیب و فراز سے مرکب ہے اس کو کسی ایک ہی نشیب و فراز میں منحصر کرنا درست نہیں ہے۔
جہاد کی مفقود حقیقت ہمارے لئے سیاسی، اقتصادی، معاشرتی، دعوتی اور طبعی طور پر فوجی (غرضیکہ) ہرپیمانہ پر ایک عام اورشامل جہاد پیش کرتی ہے؛ اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جہاد یہ تو صاف ستھری غرض وغایت تک پہنچنے کے لئے مختلف ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جسے اسلامی طور طریقے نے بیان کیا ہے۔
اسی طرح یہ جہاد کی موجودگی یا عدم موجودگی کی متوقع مفادات، شرعی احکام کے التزام کی روشنی میں موجودہ طاقت وقوت جو اس کو منظم کرتی ہے اور کلی طور پر اسلامی مقاصد کے اس طرف متوجہ ہونے سے وابستہ ہونے کو بھی واضح کرتی ہیں۔
جہاد کی مفقود حقیقت ہمارے لئے جہاد کا ایک ایسا مفہوم پیش کرتی ہے جو عدل و انصاف رحم وکرم اور رواداری پر مشتمل ہے، تا کہ دشمن کو شکست دینے سے پہلے اپنے نفس پر غلبہ پانے والا اس کا التزام کرے، میدان میں دشمن کے خلاف مقابلہ پر آنے سے پہلے قربانی اور جانثاری کا راستہ اختیار کرنے کے لئے سوچیں۔ ۔ ۔ یہی جہاد کی مفقود حقیقت ہے، اور امید کرتے ہیں کہ (معاملہ) اب صاف اور واضح ہو جائے گا۔
الجهــــاد عدل ورحمــة وسماحة 3-5 UR
جہاد کا حکم -
|