|
۔(4۔1) جہاد فرض کفایہ اور فرض عین کے مابین جمہور فقہاء کا کہنا ہے کہ جہاد کا اندراج فرض کفایہ میں ہوتا ہے جسے اگر بعض مسلمانوں نے ادا کردیا تو باقی ماندہ لوگوں سے یہ واجب ساقط ہوجائے گا اور کوئی بھی گنہ گار نہ ہوگا۔ لیکن اگر کسی نے بھی اس فرض کو ادا نہیں کیا تو سبھی قدرت رکھنے والے گنہ گار ہوں گے۔ اس طرح یہ جہاد دوسرے مختلف فرض کفایہ کے مانند ہے جیسے قاضی کی ذمہ داری سنبھالنا شہادت دینا فتوی دینا علم سیکھنا اور سکھانا وغیرہ۔
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جہاد دوسرے فرض کفایہ کی طرح اپنی حالت پر باقی رہے گا اور یہ کبھی فرض عین نہ ہوگا۔ اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ بعض حالتوں میں جہاد کو ممنوع نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس لئے کہ جہاد فرض کفایہ اور فرض عین دونوں کے مابین گردش کرتا رہتا ہے۔ ساتھـ ہی مکلف کئے جانے والے پانچوں احکام بھی اس کے ضمن میں آتے ہیں، اس طرح کبھی تو یہ واجب ہوجاتا ہے کبھی ممنوع قرار دیا جاتا ہے اور کبھی جائز ہوجاتا ہے۔ چوں کہ اس وقت ہم جہاد کے فرض کفایہ اور فرض عین کے مابین گردش کرنے کی بات کررہے ہیں اس لئے جہاد کے ضمن میں وارد مکلف کئے جانے والے احکام کے موضوع کو ہم اگلی بحث کے لئے مؤخر کرتے ہیں۔
شرعی فرائض فرض عین اور فرض کفایہ کے مابین منقسم ہیں:
فرض عین کا معنی ومطلب وہ احکام ہیں جنھیں اللہ سبحانہ وتعالی نے ہر فرد مسلم سے من وعن (ہو بہو) ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انھیں اس پر واجب کیا ہے اور ان کی ادائیگی اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا جیسے نماز، روزہ، اور زکاۃ۔
رہا فرض کفایہ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے امت مسلمہ سے کچھـ ایسے احکام طلب کئے ہیں جنھیں اگر امت کے کچھـ لوگوں نے ادا کردیا تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہوجائے گا۔ لیکن اگر کسی نے بھی اس فرض کو ادا نہیں کیا تو اس فرض کی ادائیگی میں تقصیر کرنے کی وجہ سے پوری امت گنہ گار ہوگی۔ فرض کفایہ کی مثال مختلف نوعیت کی ہے جیسے کہ علمی تحقیق، نماز جنازہ کی ادائیگی، سلام کا جواب دینا، مختلف قسم کی صنعتوں کا سیکھنا، قاضی کا منصب سنبھالنا اور گواہی دینا وغیرہ ہے، لیکن یہاں پر چند امور قابل غور ہیں:
(أ) فرض کفایہ کی ادائیگی انھیں لوگوں پر عائد ہوگی جن کے اندر اس کے ادا کرنے کی شرطیں اور صفتیں پائی جائیں گی۔ مثال کے طور پر قاضی کا منصب لیجئے، یہ منصب وہی شخص سنبھالے گا جو اسے ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہوگا۔ اس لئے کہ اس منصب کو سنبھالنے کی اپنی کچھـ شرطیں ہیں۔ لہذا وہ لوگ جو ان شرطوں پر پورے نہ اتریں وہ اس کی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے۔ (تہذیب الموافقات ص 68)۔
(ب) فرض کفایہ کبھی کبھی فرض عین میں تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ اسوقت جب کسی جگہ ایک شخص کے علاوہ اور کوئی دوسرا اسے ادا کرنے والا نہ پایا جائے۔ ایسی صورت میں شرعی طور پر یہ فرض اسی کو ادا کرنا ہوگا۔
ان اصولوں کی روشنی میں اب آئیے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کب اور کہاں جہاد فرض عین ہوگا اور کب فرض کفایہ۔
جمہور فقہاء کے یہاں اصل یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ کی گنتی میں آتا ہے لیکن بعض متعینہ حالتوں میں ان سب کے نزدیک یہ فرض عین میں تبدیل ہوجاتا ہے، اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جہاد کے حکم پر گفتگو کی جائے پھر یہ بیان کیا جائے کہ یہ کب فرض عین ہوجاتا ہے۔
اس کا بیان کہ جہاد فرض کفایہ ہے: بیشتر علماء وفقہاء کی یہ رائے ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کا اندراج فرض کفایہ کی لسٹ میں ہوتا ہے۔ صرف سعید بن مسیب نے اسے فرض عین قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں مالکی فقیہ ابن جزّی فقہاء کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتےہیں: جہاد کے حکم کے سلسلے میں پہلا مسئلہ: یہ جمہور فقہاء کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔ لیکن ابن مسیب کا قول ہے کہ یہ فرض عین ہے۔ امام سحنون (مالکی) کا کہنا ہے کہ فتح (مکہ) کے بعد یہ نقل کی صف میں آگیا۔ امام داودی کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگون پر فرض عین ہے جن کی باگ ڈور کفار کے ہاتھـ میں ہو۔ (قوانین فقہیہ ص 108)۔
فرض کفایہ کی صورت میں جمہور کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: (لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ المُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى القَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الحُسْنَى) (النساء:95): مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ مین جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بنسبت جان ومال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے۔
اس آیت سے استدلال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیت جہاد کرنے والوں اور گھر بیٹھنے والوں دونوں کی فضیلت ثابت کررہی ہے، اور دونوں کے ساتھـ بہتر معاملے کا وعدہ کیا جارہا ہے، اگر جہاد فرض عین ہوتا تو گھر بیٹھنے والے گنہ گار ہوتے اور پھر ان دونوں کے مابین موازنہ نہ کیا جاتا، اسلئے کہ اجر وثواب حاصل کرنے والوں اور گناہ سمیٹنے والوں کے مابین موازنہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی بھلائی کا وعدہ کیا جاتا لیکن اللہ تعالی نے ان لوگوں کے مابین بڑائی کی وجہ بیان کردی اور وہ یہ کہ جہاد کرنے والوں کو گھر بیٹھنے والوں کے مقابلہ میں بڑا درجہ دیا کیونکہ وہ آزمائش سے اچھی طرح گذرے، دشمن کے ساتھـ مقابلے میں اپنی جانوں کو داؤں پر لگایا، اس طرح یہ جہاد فرض کفایہ ہوا اس لئے کہ مقصد لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالی کے کلمہ کو بلند کرنا ہے خواہ اسے کوئی بھی ادا کرے۔ اب اگر کچھـ لوگوں نے اس فرض کو ادا کردیا تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہوگیا جیسا کہ فرض کفایہ کی صورت ہے۔
اسی طرح جمہور فقہاء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس عمل سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب کوئی سریہ روانہ کرتے تو خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم او آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دوسرے بہت سے اصحاب مدینہ میں ہی مقیم رہتے، اگر یہ فرض عین ہوتا تو سب کے سب نکل پڑتے۔
جو لوگ اسے فرض عین کہتے ہیں وہ دلیل میں اللہ تعالی کا یہ قول پیش کرتے ہیں: (انفِرُوا خِفَافاً وَثِقَالاً وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ) (التوبہ:41): (نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھـ ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو)۔ اس آیت کا ظاہری معنی ومطلب یہی نکلتا ہے کہ تمام لوگوں کا جہاد کے لئے نکلنا واجب ہے اور جو لوگ اسے بھاری سمجھیں ان کے لئے دنیا وآخرت میں سخت ترین عذاب کی دھمکی ہے۔ یہ آیت عام ہے اور ہر فرد مسلم پر جہاد کے فرض عین ہونے کی دلیل ہے۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فرض عین سے ہٹی ہوئی ہے اور اس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے پہلے مذہب کے سلسلے میں بیان کی ہے۔ پھر اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ یہ ہٹی ہوئی نہیں ہے تو یہ اس پر محمول کیا جائے گا کہ یہ ان لوگوں پر فرض عین ہے جنھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے متعین کیا اور جنگ کے لئے انھیں اکسایا۔ اسلئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت پر لبیک کہنا فرض ہے اور ایسا ان دلیلوں کو جمع کرتے ہوئے کیا جارہا ہے۔
رہا ان لوگوں کا استدلال جو اسے مستحب قرار دیتے ہیں تو اللہ تعالی کا یہ قول ہے: (كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِتَالُ) (البقرۃ:216): (تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے) اس طرح یہ حکم مستحب ہے نہ کہ فرض اور یہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ تعالی کا یہ قول: (كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْراً الوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقاًّ عَلَى المُتَّقِينَ) (البقرۃ:180): (تم پر فرض کیا گیا ہے کہ تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر)۔ وصیت مستحب ہے اور یہی حال جہاد کا بھی ہے اس لئے کہ دونوں آیتوں کا خطاب یکساں ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اسے ہم نہیں مانتے کہ قتال اور وصیت کی دونوں آیتوں کا حکم مستحب کے درجے میں ہے بلکہ دونوں کا حکم واجب ہے، لیکن وصیت کے واجب ہونے کا حکم دوسری آیتوں کے آنے پر ناسخ ہوگیا جب کہ قتال کے واجب ہونے کے سلسلے میں کوئی ناسخ کرنے والی آیت نازل نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں (تم پر جنگ فرض کی گئی) اپنی جگہ من وعن باقی ہے۔ ویسے بعض فقہاء کے نزدیک وصیت کا حکم بھی اپنی جگہ قائم ودائم ہے، اس طرح جمہور فقہاء کی رائے راجح قرار دی جائے گی کہ جہاد غیر ضروری حالت میں فرض کفایہ کے تحت آئے گا۔
جمہور کے قول کو راجح قرار دئے جانے کے بعد اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ جہاد کب فرض عین ہوجاتا ہے؟ وہ حالتیں جن میں جہاد فرض عین ہوجاتا ہے، فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کچھـ متعینہ حالتیں ہیں جن میں جہاد فرض کفایہ سے فرض عین کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور یہ حالتیں کچھـ اس طرح ہیں:
اول: امام (حاکم ) خود جنگ کے لئے نکلے یا جماعت نکلے تو ایسی صورت میں جس سے بھی جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے اس پر نکلنا واجب ہوجاتا ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ) (التوبہ:38): اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سنے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا؟ سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھـ یونہی سی ہے۔ یہاں پر استدلال اس سے ہے کہ اللہ تعالی نے لوگوں کا جہاد کے لئے نکلنے میں ٹال مٹول کو نا پسند کیا تو اگر یہ فرض عین نہ ہوتا تو اللہ تعالی ان لوگوں کے اس عمل پرنا پسندیدگی کا اظہار نہ کرتا۔ اسی طرح وہ حدیث بھی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے جیسے اصحاب سنن نے بیان کیا ہے اور وہ (عبد اللہ) ابن عباس کی وہ حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم لوگ نکل کھڑے ہو"۔ امام سندی شرح ابن ماجہ میں کہتے ہیں: "یعنی جب امام (حاکم) تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہے تو تم جہاد کے لئے نکلو۔ اس طرح یہ حدیث دلالت کررہی ہے کہ جب امام نکلنے کے لئے کہے تو ایسی صورت میں جہاد فرض عین ہے" (حاشية السندى على ابن ماجہ 5/401)۔
(دوم) دشمن مسلمانوں کے ملک میں داخل ہوجائے یا کسی اسلامی ملک پر قبضہ کرلے تو ایسے وقت میں جہاد فرض عین ہوجائے گا اور اس کی دلیل امت کا اجماع ہے۔ اس لئے کہ یہ مظلوم کی متفقہ طور پر مدد کرنے کی مانند ہے۔
(سوم) دونوں جماعتون میں مڈ بھیڑ ہو جانے کی صورت میں جتنے لوگ وہاں موجود ہوں ان پر جنگ کرنی واجب ہوجائے گی اور وہاں سے لوٹ آنا ناجائز ہوگا، إلا یہ کہ کوئی جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا دوسری جماعت سے جاملنے کے لئے ایسا کرے۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفاً فَلاَ تُوَلُّوهُمُ الأَدْبَارَ*وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ المَصِيرُ) (الانفال:15۔16): اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلے میں پیٹھـ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھـ پھیری۔ إلا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے، یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لئے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
اس طرح ہم دیکھـ رہے ہیں کہ اللہ نے مومنوں کو جنگ کے وقت پیٹھـ پھیرنے سے منع کیا ہے اور جو ایسا کرے انھیں دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی ثابت کررہی ہے کہ جنگ میں ثابت قدم رہنا واجب ہے۔ اسی طرح فرض عین کا پتہ اللہ عز وجل کے قول: (جس نے اس موقع پر پیٹھـ پھیری) کی عمومیت سے چلتا ہے۔ امام بن جزی المالکی کا (بدائع الضائع 8/380) میں ایک انوکھا قول ہے کہ اس کے علاوہ ایک اور حالت (بھی) ہے جس میں جہاد فرض عین ہے، اور وہ ہے مسلمان قیدیوں کو رہا کرانے کی حالت۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ فرض کفایہ والے جہاد اور فرض عین والے جہاد کے مابین فرق کیا جانا بہت ہی اہم معاملہ ہے، اس لئے کہ اس پر جہاد سے متعلق بعض احکام کی تفصیلات میں اختلاف مرتب ہوتا ہے، مثال کے طور پر فرض کفایہ والے جہاد میں لڑکے کا اپنے والدین سے اجازت لئے بغیر نکلنا صحیح نہیں ہے، اسی طرح بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، رہا وہ جہاد جو فرض عین ہے تو اس میں اس قسم کی اجازت کی شرط نہیں پائی جاتی، ایک اور اہم مسئلہ ہے جس سے متنبہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی واقعہ میں جہاد کے حکم کا تعین کئے جانے کی چھان بین کرنا اور یہ طے کرنا کہ کیا یہ جہاد کفایہ میں آئے گا یا جہاد عین میں۔ اور اگر جہاد عین کے باب میں آتا تو کیا اس کے نفاذ کی تمام شرطیں پائی جاری ہیں؟۔
اس لئے کہ جہاد فرض عین ہو سکتا ہے جیسے مسلمانوں کے قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے جہاد کرنا کیوں کہ وہ کافروں کے قبضے میں ہیں، لیکن فرض کیجئے اگر قدرت وطاقت کے پائے جانے کی شرط متوافر نہیں ہے تو ایسی صورت میں جہاد کو نافذ کرنے سے باز آجانا چاہئے اور ان قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے دوسرے وسائل استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آگے چل کر اس مسئلہ کو ہم مزید واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
الجهاد بين فرض الكفاية و فرض العين 4-1 UR
جہاد کا حکم -
|