English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: اسلامی نظام حکم کے سائے میں ملک کا کردار - نخلستان اسلام -: افسوس نہ کریں اور زندگی کو خوشگوار بنائیں - حادثات -: فلسطینی گا‏ؤں دیریاسین کی بھلائی ہوئی دردناک داستان - اپني مشکلات بتائيں -: خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے - موجودہ قضيے -: فقہی اختلاف کے آداب میں سے ہے۔۔۔ فروعات میں فریق مخالف کی رائے کا احترام کرنا - کتابيں -: مغرب کی اسلام دشمنی کے پہلو۔۔ ٹکراؤ کا آغاز - نخلستان اسلام -: مایوس نہ ہوں - مسلم خاندان -: کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ - فتوے -: کسی جگہ اکٹھا ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے کا حکم - مسلم خاندان -: خواتین مسجد سے بے دخل کیوں؟۔ - موجودہ قضيے -: امت اسلامیہ کو اجتماعی طور پر مرتد گرداننا۔۔۔ جھوٹ اور بے بنیاد ہے - فتوے -: کیا عورت کا مرد کے پیچھے بغیر کسی حائل کے نماز پڑھنا جائز ہے؟۔ - مسلم خاندان -: مس کال یا جہنم سے نجا ت کا ایک ذریعہ؟۔ - جہاد کا حکم -: اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو۔۔ دشمن کی نوعیت -  
ووٹ ديں
کیا شام میں مظاہرہ کرنے والی عوام کی فتح ممکن ہے؟
ہاں
نہیں
معلوم نہیں
سابقہ را? عامہ
جہاد کا حکم -

۔(4-7) پانچوں تکلیفی احکام (واجب،حرام، اور۔۔۔) کا اطلاق جہاد پر ہوتا ہے

بسا اوقات بعض لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: جب جہاد کا اعتبار فرض کفایہ میں سے ہوتا ہے اور بعض (استثنائی) حالات میں فرض عین ہو جاتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ کبھی منع نہیں ہو سکتا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جہاد کا حکم بھی دیگر شرعی احکام ہی کی طرح ہے۔ عمل کے وقت اس کا حکم کبھی ظروف و حالات کو دیکھتے ہوئے واجب سے منع میں بدل جاتا ہے۔ اس سوال کے اندر بعض قول کے خلط ملط ہونے کی بو پائی جا رہی ہے، یہ قول کہ جہاد اصل میں فرض کفایہ ہے اور بعض استثنائی حالات میں فرض عین ہو جاتا ہے۔ اور عمل کے وقت جہاد کا حکم یا بالفاظ دیگر اس کے درمیان خلط ملط کرنا کہ جہاد کرنے کے اصل مخاطب کون ( لوگ) ہیں؟ کیا اس کے مخاطب سارے مسلمان ہیں یا بعض لوگ ہی اس کے مخاطب ہیں اور کن چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے جس کی بنیاد پر جہاد فرض ہوتا ہے۔ لہذا اس پر کلام کرنا کہ جہاد فرض کفایہ ہے یا فرض عین ہے یہ صرف اس کی فرضیت کے دائرہ کار کو بیان کرنا مقصود ہے اور (یہ بھی بتلانا ہے کہ) کیا سارے مسلمانوں کو یہ حکم شامل ہے یا سارے لوگوں کے سوا بعض لوگ ہی اس کے اصل مخاطب ہیں، رہا اس پر کلام کرنا کہ جہاد کبھی واجب ہوتا ہے اور کبھی حرام ہو جاتا ہے تو یہ ان شرعی اوصاف کے پائے جانے سے مشروط ہے جس کے پائے جانے کے بعد ہی اللہ رب العالمین نے یہ حکم لاگو کیا ہے۔ لہذا جب یہ (شرعی اوصاف) پایا گیا اس وقت ہم یہ کہیں گے کہ جہاد فرض کفایہ یا فرض عین ہے، لیکن اگر یہ (شرعی اوصاف) نہیں پایا گیا تو اس وقت جہاد کرنا منع ہے اور ایسی صورت میں فرض عین یا فرض کفایہ پر کلام نہیں کریں گے کیونکہ اصل وجوب ہی نہیں پایا گیا، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ: شرعی جہاد کا اس کے اسباب و شروط کے پائے جانے يا نہ پائے جانے سے مربوط ہونا اور کسی قسم کی ممانعت کا نہ پایا جانا، تو اس کا حکم بھی دیگر شرعی احکام ہی کی طرح ہے، مثال کے طور پردیکھیں: نماز ہر مکلف انسان پر فرض عین ہے لیکن حائضہ عورت کے حق میں یہ حرام ہو جاتا ہے کیونکہ حیض نماز کی ادائیگی سے مانع ہے لہذا اس حائضہ عورت کے حق میں نماز پڑھنا حرام ہے، اگر چہ یہ حقیقت میں فرض عین ہے۔ اسی طرح سے جہاد کا حکم بھی فرض کفایہ ہے، بیٹے کے حق میں جہاد کرنا اس صورت میں حرام ہے جب اس نے اپنے والدین سے اجازت نہ لی ہو کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس شخص سے فرمایا جو آپ سے جہاد کرنے کی اجازت مانگنے آیا تھا (کیا تمہارے والدین با حیات ہیں تو اس شخص نے عرض کیا کہ ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا تو پھر ان کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو "یعنی ان کی خدمت ہی تمہارے لئے جہاد ہے") (ترمذی:1594)۔

دوسری وجہ: شرعی جہاد کا تنفیذ کرنے کی طاقت و قوت سے مربوط ہونا، چاہے طاقت و قوت سے انفرادی تیاری مقصود ہو یا پورے جماعت کی تیاری مقصود ہو جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا ہے۔ اس لئے شریعت نے جہاد کو اندھے، لنگڑے، بیمار، بچے اور عورت پر فرض نہیں کیا، اس حکم کے پائے جانے کے باوجود بھی کہ جہاد فرض کفایہ یا فرض عین ہے۔

تیسری وجہ: جہاد کے پائے جانے یا نا پائے جانے کو مربوط کرنا اس چیز سے کہ اس سے کتنے مصالح وابستہ ہیں اور کتنی برائیاں و خرابیاں اس سے دور ہوتی ہیں، اور یہ بات بالکل سمجھـ سے باہر ہے کہ آئے دن نت نئے متعدد قسم کی خرابیوں کے پائے جانے کے باوجود جو کہ کسی حاصل کردہ مصلحت سے بھی بڑھکر ہیں جہاد کی فرضیت باقی رہے۔ جہاد کے پس پردہ جو مصلحتیں وابستہ ہیں ان کے نہ پائے جانے کی بنیاد پرشرعی طور پر یہ کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ جہاد کی فرضیت ہر حال میں باقی رہتی ہے، اور جہاد کا حکم بھی بالکل حج کی طرح ہے جو کی اسلام کے پانچوں ارکان میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت غیر مستطیع (جو حج کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہواس) شخص سے ساقط ہو جاتی ہے، اور اسی طرح اس شخص سے بھی اس کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے جو کہ مالی و جسمانی طور پر حج کی استطاعت تو رکھتا ہو لیکن راستے میں قزاقوں کا خطرہ ہے جو اس کو قتل کر سکتے ہیں اور اس کے مال و دولت کو چھین سکتے ہیں، لہذا ایسی صورت حال میں اگر وہ حج کو نکلتا ہے تو اس کا وہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جس غرض سے وہ نکلا ہے، اس کا مال و دولت چھن جائے گا اور اس کی جان بھی چلی جائے گی۔

چوتھی وجہ: جہاد پر یہ قاعدہ صادق آتا ہے "اللہ رب العلمین نے جس طرح احکام مشروع کئے ہیں اسی طرح اس کے ختم ہونے کے اسباب بھی مشروع کئے ہیں" اس قاعدہ کی مزید توضیح کرتے ہوئے امام قرافی مالکی (رحمہ اللہ) کہتے ہیں: اللہ رب العلمین نے جس طرح احکام مشروع کئے ہیں اسی طرح اس کے ختم ہونے اور باقی نہ رہنے کے اسباب بھی مشروع کئے ہیں لہذا اسلام اور عہد و پیمان دونوں کو خونریزی سے حفاظت کرنے کا سبب بنایا۔ مرتد ہونا، جنگ کرنے پر آمادہ ہونا، شادی شدہ کا زنا کرنا، ذمی کا جنگ کے لئے اتارو ہونا یہ سب کے سب روافع (سابقہ حکم کو ختم کرنے والی) ہیں، اسی طرح اسیر(قیدی بنانا) ملکیت کا باعث ہے اور آزادی اس حکم کو زائل کردیتی ہے، اور اس کے کسی سبب کے حکم کا ازالہ کرنے کی مشروعیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس کے علاوہ (کسی دوسرے چیز)کے حکم کا بھی ازالہ کرسکے(الفروق:1/76)۔

اللہ رب العالمین نے جہاد کو مشروع کیا لیکن مثال کے طور پر ساتھـ ساتھـ وہ چیز بھی مشروع کیا جو اس (جہاد کے) حکم کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پرجزیہ کی ادائیگی جہاد کی فرضیت کو ختم کر دیتا ہے تا کہ اس کے بدلے جزیہ ادا کرنے والے کے حق میں قتال کی ممانعت ہو۔

پانچویں وجہ: بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنہوں نے ہمیں بتلایا کہ جہاد فرض کفایہ اور کبھی کبھار فرض عین ہے، ہم نے بذات خود انہیں دیکھا کہ مدینہ ہجرت کرکے آنے کے بعد یہودیوں سے جہاد کرنا ترک کردیا، اور غزوہ احزاب کے موقع پر قبیلہ غطفان سے مفاہمت کرنا چاہا تا کہ احزاب کے جم غفیر کو بکھیر سکیں، اور یہ بھی دیکھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے ساتھـ مفاہمت کی، یہ ساری چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ جہاد بعض حالات میں جائز ہے اور بعض حالات میں ممنوع ہے جیسا کہ بعض دیگرحالات میں فرض بھی ہے۔

چھٹویں وجہ: امت اسلامیہ کے فقہاء کرام اس چیز سے متنبہ تھے، اسی وجہ سے ہم ان کے اقوال میں ایسی چیزیں پاتے ہیں جو اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ جہاد کبھی فرض ہے اور کبھی حرام ہے اسی طرح کبھی مستحب ہے اور کبھی مکروہ ہے اور بعض دیگر حالات میں جائز ہے، یہ چیز ان ائمہ کرام کے اقوال میں غوروخوض کرنے سے پتہ چلتا ہے جن کے بعض اقوال ہم ذکر کر رہے ہیں تاکہ یہ اہم معاملہ بالکل صاف ہو جائے۔

صاحب کتاب "در المختار" حنفی کہتے ہیں: "اگر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جنگ کرے گا تو قتل کر دیا جائے گا اور اگر جنگ نہیں کرے گا تو اسیر (قیدی) بنا لیا جائے گا لہذا ایسے شخص پر قتال کرنا ضروری نہیں ہے" (در المختار:4/127)۔

ابن عابدین حاشیہ میں لکھتے ہیں: ("اس پر قتال کرنا ضروری نہیں ہے" اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اس نے قتال کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا تو جائز ہے، لیکن "شرح سیر" میں ہے کہ اس میں کوئی مضا ئقہ نہیں ہے کہ تنہا آدمی حملہ کرے اگرچہ وہ یہ گمان کرتا ہو کہ وہ قتل یا زخمی کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا، یا اس کو شکشت اٹھانی پڑے گی، تو ایسا بہت سارے صحابہ کرام نے آپ کی موجودگی میں جنگ احد کے دن کیا اور آپ نے ان کی تعریف بھی کی، لیکن اگر اس کو یہ یقین ہو کہ وہ ان پر غلبہ نہیں پا سکتا تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ان پر حملہ کرے کیونکہ اس کے اس حملے سے دین کی سربلندی حاصل نہیں ہو سکتی ہے)۔

لہذا سابقہ باتوں کی بنیاد پر ہم پر یہ واجب ہوتا ہے کہ ہم یہ بات جان لیں کہ جہاد کبھی کبھار حرام بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ فرض ہوتا ہے، لہذا جہاد کے حکم کے بارے میں غورو خوض کرنے کے بعد جب ہم اس نتیجے پر پہونچے کہ وہ شرط کے مکمل طور پر نہ پائے جانے سے یا جہاد کا سبب نہ پائے جانے سے یا کسی بھی طرح کے ممانعت کے پائے جانے سے یا جہاد کرنے کی بنیاد پر بڑی بڑی خرابیوں کے جنم لینے کے غالب گمان کی بنیاد پر (جہاد) حرام ہو جاتا ہے، تو ایسی صورت حال میں اس پر بحث کرنا درست نہیں ہے کہ وہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ہے۔ بخلاف اس کے کہ ساری شرطیں پائی جائیں، اور کسی قسم کی کوئی ممانعت بھی درپیش نہ ہو، اور مفاد کا بھی وجود ہو تو ایسی صورت حال میں جہاد کرنا واجب ہے، اور اب اس کیفیت کے بعد غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ جہاد فرض عین ہے یا فرض کفایہ ہے۔

يتطرق إلى الجهاد الأحكام التكليفية الخمسة 4-7 UR



جہاد کا حکم -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت