|
شہداء انقلاب شریعت کی نظر میں بقلم: ڈاکٹر/جمال منشاوی۔۔ ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا بے حد ضروری ہے اور وہ ہے کہ: جو لوگ انقلاب کے دوران مارے گئے کیا وہ شہید ہیں؟
ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ پہلے ان شبہات کا جواب دیں جو بعض دین کا دعوی کرنے والے لوگ پیدا کررہے ہیں یہ کہکر کے کہ جو لوگ اس انقلاب کے دوران مظاہرہ کرتے ہوئے میدان میں جاں بحق ہوگئے وہ شہید نہیں ہیں، آخر ایسا کیوں؟
میں کہتا ہوں کہ شہید کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم دنیاوی احکام کے اعتبار سے شہید اور دوسری قسم آخرت کے اعتبار سے شہید۔
دنیوی احکام کے اعتبار سے شہید: یہ وہ لوگ ہیں جو معرکہ کارزار میں مارے جائیں ان کی نیت جو بھی رہی ہو کیونکہ نیت سے متعلق اللہ رب العالمین کے سوا کوئی نہیں جانتا، لہذا ان لوگوں کو نہ تو نہلایا جائے گا اور نہ ہی نیا کفن پہنایا جائے گا "وہ اپنے اسی کپڑے میں دفن کئے جائیں گے جس میں وہ مارے گئے ہیں" ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی "کیونکہ فرشتے ان کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں"۔
آخرت کے اعتبار سے شہید: یہ صرف وہ لوگ ہیں جیسے کہ پانی میں ڈوب کر مرنے والا، کسی پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا، آگ میں جل کر مرنے والا، کسی عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا، زچگی کے وقت مرنے والی عورت یا حالت نفاس میں مرنے والی عورت یہ تمام لوگ آخرت کے اعتبار سے شہید ہیں بالفاظ دیگر انہیں نہلایا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
اسی قسم کے تحت ان لوگوں کا بھی شمار کیا جائے گا جس کے حق میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے، جو شخص اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے" لہذا اب جو شخص اپنے مال و جائیداد کی حفاظت کررہا ہو اور اسی مال کو چرانے والے کے ہاتھوں وہ ماردیا گیا تو وہ شہید ہے، اور جو شخص اپنی بیوی یا بہن یا ماں یا کسی بھی محرم کی عزت و آبرو کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے۔
ایک اضافی بات جو ہم کہنا چاہتے ہیں: وہ یہ ہے کہ یہ لوگ جو مارے گئے "شریعت کی نگاہ میں شہید ہیں" یہ اسلامی شریعت کی تنفیذ کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ یہ لوگ دفاعی جہاد کی حالت میں تھے "یعنی ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے" اور جہاد کی قسموں میں سے یہ دوسری قسم ہے، پہلی قسم وہ ہے جو طلب کی بنیاد پر ہو۔
یہاں ایک بات اور رہ جاتی ہے وہ یہ کہ انسان بسا اوقات کوئی عادی کام کرتا ہے جس کا تعلق اس کی اور اس کے گھروالوں کی روزی سے ہوتا ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بیوہ عورت اور یتیم کی حاجت پوری کرنے کے لئے کوشش کرنے والا، اور وہ شخص جو محنت و مشقت کرتا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے ہاتھـ نہ پھیلائے یہ تمام لوگ ہی فی سبیل اللہ میں شمار کئے جائیں گے!۔
دوسری بات یہ ہے کہ: کیا انقلابی کیفیتیں، مظاہرات یہ سب دفاعی جہاد ہیں، ظلم کے خلاف ہیں اور ظالم و جابر حاکم کے روبرو حق بات کہنے کے مترادف ہیں؟۔
اگر کسی کی اور کوئی دوسری رائے ہو تو وہ بیان کرے!
اب ہم دوسرے مسئلے کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ان مظاہرات میں معصیت بھی پائی گئی جیسے کہ مرد و عورت کا اختلاط، گانا، سگریٹ نوشی! بخدا اولا یہ بیہودہ قسم کے شبہات اس لائق نہیں ہیں کہ ان کا جواب دیا جائے، لیکن جب ان مسائل کو اٹھایا جارہا ہے تو پھر ان کا جواب دینا ہی بہتر ہے، خاص طور پر اس طرح کے اور دوسرے بہت سارے شبہات، مظاہرہ کرنے والوں کے راستے میں ان کی حیثیت کانٹوں کی طرح ہے "میرا مقصد ہے کہ ہر وہ شخص جو نکلا اور ان مظاہرات میں شرکت کی"۔
ذرا آپ تصور کریں کہ ایسا مظاہرہ جس میں لاکھوں لوگ مل کر سب اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں وہ صرف اس لئے اٹھـ کھڑے ہوئے ہیں تاکہ حق والوں کو ان کا حق دلا سکیں۔
کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اسے عتبہ اور موسکی بازار(راجدھانی قاہرہ میں دو مشہور بازار جو خان خلیلی سے متصل ہیں) پر قیاس کریں جہاں ایک جائز شئ کے لئے اختلاط ہوتا ہے اور وہ جائز شئ ہے خرید و فروخت؟ کیا کوئی شخص اسے حرام قرار دے سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا شرعی طور پر یہ جائز خرید و فروخت سے بھی زیادہ اہم اور واجب ہے، یہاں یہ بات جاننا بےحد ضروری ہے کہ اس مظاہرے کے دوران کسی بھی طرح کی کوئی چھیڑخانی نہیں دیکھی گئی، بلکہ نقاب لگانے والی خواتین بھی بغیرنقاب والی خواتین کے سنگ، ان لڑکیوں کے ہمراہ بھی جو تنگ قسم کا پوشاک زیب تن کئے ہوتی تھیں اور عیسائی عورتیں سب باہم مل کر بیٹھـتی تھیں ان سب کا مقصد صرف ایک تھا اور وہ تھا موجودہ نظام حکومت کا خاتمہ!۔
جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ہم ان سے کہنا چاہیں گے: فرض کرلیں کہ ان مظاہرات کو بغیر کسی اختلاط کے منظم کیا گیا، مرد حضرات سب ایک طرف اور ساری خواتین دوسری طرف لیکن لوگوں نے اس ترتیب کو چھوڑ کر اختلاط کو اختیار کیا تو ایسی صورت میں انکار کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن کوئی اپنے گھر ہی میں بیٹھا رہے اور لوگوں پر فتوے جھاڑے تو یہ چيز ناقابل قبول ہے۔
رہا گانے بجانے کا مسئلہ تو ہم نے جو کچھـ بھی دیکھا اور سنا چاہے وہ اسکندریہ میں ہو یا میدان تحریر میں ہو وہ سب قومی ترانے تھے اور لوگوں میں جوش و ولولہ پیدا کررہے تھے یا احمد فؤاد نجم اور شیخ امام عیسی کے اشعار تھے جو وطن اور سیاست سے متعلق تھے اپنے ملک میں موجود ظلم کے متعلق تھے۔ بہرکیف اب امیدیں وابستہ ہیں (انشاء اللہ) وہ مدد بھی قریب ہے جس کا لوگوں کو انتظار تھا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
قرآن کریم کیوں نہیں پڑھتے؟ اللہ رب العالمین سے روتے گڑگڑاتے کیوں نہیں، کیا ہم پریشانی میں مبتلا نہیں ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے:
قرآن کریم کی تلاوت، قیام اللیل، رب ذوالجلال کی بارگاہ میں رونا گڑگڑانا اور دعاء کرنا یہ سب کچھـ موجود تھا، اور اس جیسے بھیڑ میں بعض افواہوں کا پایا جانا یہ کوئی بعید تر نہیں، لیکن جو نتیجہ سامنے آیا اس سے اس کو قیاس نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس جیسے افواہوں کی طرف توجہ کی جائے گی۔
بےشک مفاد اور نقصان کا قیاس فقہ کی ابواب میں اس کی بہت اہمیت ہے، فقیہ وہی ہے جو دو ضررساں چیزوں میں سے سب سے کمتر کے ارتکاب کرنے کی اجازت دیدے تاکہ بڑے ضرر سے بچا جا سکے اور دونوں میں سے سب سے زیادہ مفید ہاتھـ لگ سکے، اس شخص کے حق میں جو دونوں میں سے زیادہ نقصان والے سے بچنا چاہتا ہے اور زیادہ خیر و بھلائی والے کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔
رہا حلال اور حرام کا مسئلہ تو اسے ہرکوئی جانتا ہے، اور جب کسی قوم اور اس کے عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہو، ظلم کے خاتمہ کرنے کا مسئلہ ہو، جابر و ظالم حکمراں کو ہٹانے کا مسئلہ ہو، وطن کو بنانے کا مسئلہ ہو اور فساد کی جانچ پڑتال کرنے کا مسئلہ ہو تم ہم اس کے درمیان اور سگریٹ نوشی، تنگ جینس زیب تن کرنے، گانا سننے، مباح کام کے لئے اختلاط کرنے میں ظاہر سی بات ہے کہ ہم پہلے والے کو ہی اختیار کریں گے۔
تحریر کے نوجوانوں سے ہم دوبارہ کہنا چاہیں گے: آپ سب لوگوں کا بہت بہت شکریہ۔
شهداء الثورة في ميزان الشريعة UR
حادثات -
|