|
مصرحجراسود کی طرح ہے اسے تنہا نہ اٹھاؤ بقلم: ڈاکٹر/ ناجح ابراہیم۔۔ وہ مشکلات اور بحران جن سے کمیٹی برائے آئین سازی دوچار ہورہی ہے ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکیمانہ حل کی یاد دلا رہی ہے جو مشکلات حجراسود کو اس کی جگہ رکھنے کے وقت پیش آرہی تھیں۔
عربی قبیلوں میں اس مسئلے کو لے کر کہ کون شخص خانہ کعبہ میں حجراسود کو اس کی جگہ میں رکھنے کا شرف حاصل کرے گا کافی اختلاف سامنے آیا۔۔۔ کیونکہ ہرہرقبیلہ اس بات پر اڑا ہوا تھا کہ یہ شرف اسی کو حاصل ہو دوسرے کو حاصل نہ ہو یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ لوگ اس مسئلے کو لے کر لڑجاتے۔۔۔ پھر ان تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ جو شخص سب سے پہلے وہاں آئے وہی اس بات کا فیصلہ کرے۔۔۔ بہت خوشی کی بات کہ سب سے پہلے نمودار ہونے والے شخص وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے یہ اسوقت کی بات ہے جب آپ نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے اس کے باوجود بھی ان تمام لوگوں نے ایک زبان ہوکر کہا "یہ امانت دار محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔۔ ہم انہیں حکم بنانے کے لئے راضی ہیں" آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر پھیلائی اور حجراسود کو اس کے بیچ میں رکھا اور ہرقبیلے نے چادر کے کونے کو پکڑا۔۔۔ اس حل سے اور حل کرنے والے کی اس حکیمانہ عمل سے سارے لوگ راضی ہوگئے۔
یہ واقعہ اپنی سادگی کے باوجود بھی اپنے اندر بہت ساری اہم دلالتیں لئے ہوئے ہے اس کے اندر وہ ساری صلاحیتیں پائی جارہی ہے کہ مصرکی قیادت کرنے کے لئے ہم سب اس سے سبق سیکھیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بس میں یہ تھا کہ آپ بذات خود وہ حجراسود اٹھاتے اور اس کی جگہ رکھـ دیتے اور اس وقت درپیش سارے مشکلات کا خاتمہ ہوجاتا۔۔۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت سے پہلے ہی اپنے فطری حکیمانہ ملکہ سے اس بات کا ادراک کرلیا کہ بےشک ایسا کرنا دوسروں کے دلوں کو ٹھیس پہنچائے گا، انہیں اپنی اس خامی کا احساس دلائے گا، دوسروں کے خلاف ان کے سینوں میں حقد و کراہیت بھر دے گا اور انہیں اس عمل کے مسترد کرنے پر ابھارے گا۔ لہذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجراسود کو اٹھانے میں تمام لوگوں کو شریک کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تمام لوگ بغیر کسی استثناء کے آپ سے راضی اور خوش ہوگئے۔
اس واقعہ میں ہم لوگ اگر یہ تصور کریں کہ مصـر یہ وہی حجراسود ہے تو ہر فریق کا حکم (نمائندہ) یہی کوشش کرے گا کہ وہی تن تنہا اس کام کو انجام دے یا اپنی طاقت کے مطابق وہی اکیلا اس پر غالب آئے تو وہ ایسا کرکے اپنے آپ پر دوسروں کی طرف سے انگلی اٹھانے کے لئے بذات خود راستہ ہموار کردے گا وہ چاہے جتنا متقی و پرہیزگار ہی کیوں نہ ہو۔ لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے پر غالب آنے کے بجائے ان کو بھی شرکت کرنے کا موقع دیں اگرچہ ہم طاقتور ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ پھر اسوقت کا عالم کیا ہوگا جب ہم لوگ کمزور ہوں؟
ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم دوسروں سے بھی مدد لیں اگرچہ ہم کو دوسروں کے مدد کی ضرورت نہ ہو۔۔۔ تو پھر اس کا عالم کیا ہونا چاہيئے جب ہم اپنا وطن بنانے کے لئے ہرمخلص شہری کے مدد اور اس کے شرکت کے ضرورت مند ہوں۔
مصر میں مخلصین کی کمی نہیں ہے وہ مکمل طور پر اپنے خدوخال سے پہچانے جاتے ہیں انہیں پہچاننے میں غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔
اگرایسی بات ہے تو پھر کیوں ہم دوسروں کو چھانٹتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ہم دوسروں کے کانٹ چھانٹ کی تلخی کا مزہ خود بھی چکھـ چکے ہیں؟!
ہم انہیں اپنے ہی وطن میں کام کرنے کا موقع کیوں نہیں دیتے ہیں؟! جب کہ اس سے پہلے وہ خود بھی ہمارے حقوق کا دفاع کرتے تھے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس بات کو مسترد کردیا کہ خانہ کعبہ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے رکھے ہوئے بنیاد پر دوبارہ پھر سے تعمیرکریں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اس وقت ان کے ملک کے مسلمانوں کی سماجی کیفیت اس طرح کا اقدام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات سے خوف کھا رہے تھے کہ عرب کے لوگ جب کہ وہ ابھی نئے نئے مسلمان بھی ہوئے تھے یہ سمجھیں گے کہ آپ تن تنہاء اپنی مرضی کے مطابق خانہ کعبہ کو بنانا چاہتے ہیں۔۔۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت خاتم الانبیاء اور عین اسی وقت حاکم وقت بھی تھے بالفاظ دیگر ان کے لئے دین و دنیا دونوں کی سربراہی اکٹھا کردی گئی تھی، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا "اے عائشہ! اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی (یعنی جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے) تو میں خانہ کعبہ کو توڑ کر اس کو ازسرنو دوباہر بناتا"۔
بلاشبہ ہم لوگ اس عظیم فقہ نبوی کے ضرورت مند ہیں تاکہ ہم دوسرے کے لئے اپنے دلوں میں مزید جگہ بنا سکیں۔۔۔ اور انہیں زیادہ سے زیادہ اپنے سے قریب کرسکیں اور ان کے ساتھـ شریک ہوسکیں۔۔۔ ہمارے معاشرے میں موجود جن مسائل کا ادراک ہم آج نہیں کرپا رہے ہیں اس کا ادراک ہم کل کرسکتے ہیں۔۔۔ کوئی بعید نہیں کہ کل اس میں ہماری وہی لوگ اخلاص کے ساتھـ مدد کریں جو آج اسے مکمل طور پر مسترد کررہے ہیں۔
کیا آئینی کمیٹی میں اس شخص کی جو آئینی فقہ میں متخصص نہیں ہے اس کی گنجائش ہے۔۔۔ کیا دانتوں کے طالبعلم یا ڈاکٹر یا کھلاڑی یا دوافروش یا وہ مظاہرہ کرنے والا شخص جو ان چیزوں میں متخصص نہیں ہے وہ شب و روز کے سائے میں ایک آئینی فقیہ میں تبدیل ہوجائے گا؟
ایسا کرنا بھی بہتر ہے کہ ہر پارٹی یا یونین یا کمیٹی اپنی طرف سے کسی آئین ساز کو امیدوار بنادے تاکہ وہ آئین میں ان کے مطالبات کی ترجمانی کرسکے۔
اس پہلو کا ادراک بااخلاق کھلاڑی ابوتریکہ نے اپنے فطری ملکہ سے ہی کرلیا اور اس نے ابتداء ہی سے اس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔۔۔ کیونکہ آئینی کمیٹی یہ وہ کھیل کا میدان نہیں ہے جہاں وہ گول کرسکے، مثال کے طور پر ڈاکٹر/ احمد کمال ابوالمجد یا ڈاکٹر/ شافعی بشیر یا استاذ/ مختار نوح اور یہ سب کے سب متخصص اور اسلام پسند لوگ ہیں جو اس کمیٹی سے خارج کردئیے گئے اور اسی طرح سے ان کے ساتھـ دسیوں لوگ بھی خارج کرديئے گئے۔۔۔ اگر یہ لوگ کھیل کے میدان میں آجائیں تو ایک بھی گول نہیں کرسکتے۔۔۔ لہذا ہر آدمی کو چاہیئے کہ وہ اپنے اپنے میدان ہی میں رہے تاکہ ہم سب لوگ اپنے اپنے میدان میں کامیابی کے ساتھـ منزل مقصود کو حاصل کرسکیں۔
مصر هي الحجر الأسود .. فلا تحملوه وحدكم UR
حادثات -
|