|
مذہبی جماعتوں کی حکومتوں کے قیام کے تناظر میں بحث العربیہ۔۔ دینی سیاسی جماعتوں کے ماہرین نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ کئی عرب ملکوں میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں تخت اقتدار پر پہنچنے والی دینی قوتوں کو سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کو مستقبل میں اپنی سیاسی کامیابیوں کے لیے اپنے افکار و نظریات، سیاسی منشور اور طریقہ کار میں جوہری تبدیلیاں لانا ہوں گی تا کہ انہیں عصر حاضر سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
عرب ماہرین نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" ٹی وی کے پروگرام "پینوراما" میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں دینی جماعتوں کی سیاست پر بات کرتے ہوئے لبنان یونیورسٹی میں اسلامیات کے پرفیسر ڈاکٹر رضوان السید نے کہا کہ "اخوان المسلمون 70ء کے عشرے سے کسی نہ کسی شکل میں سیاسی گرمیوں کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ مصر، اردن اور یمن میں اخوان کو بڑی حد تک عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔
جماعتوں اور ریاستی قوانین میں فرق
لبنانی دانشور رضوان السید نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ عرب ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے قیام کا نظریہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب عربوں میں قومی حکومتوں کا رحجان پیدا ہوا۔ اسلامی حکومتوں کے قیام کا نظریہ دراصل قومی بنیاد پر وجود میں آنے والے نظام کے کا مقابل نظام تھا۔ تاہم اب چونکہ عربوں میں الگ الگ قومیت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے اب دینی قوتوں کو بھی اپنے سیاسی منشور اور طریقہ کار کو بدلنا ہو گا۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے مصری دانشور اور عالم دین ڈاکٹر ناجح ابراہیم نے رضوان السید کے دینی جماعتوں کی سیاست کے بارے میں آراء سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کا اپنا ایک قانون اور طریقہ کار ہوتا ہے۔ ضروری نہیں جو قانون کسی جماعت کا ذاتی ہو وہی قانون اس ملک کا بھی ہو۔ میرا دینی جماعتوں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ جماعتی قوانین کو ریاستی قوانین پر مسلط نہ کریں بلکہ دونوں کو اپنی اپنی جگہ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ جس ذہن کےساتھ کسی جماعت کی زمام کار سنھبالی گئی ہو وہی اذہان اور تربیت ریاستی امور چلانے کے لیے بھی کافی ہو۔ دینی جماعتوں کو اپنے ملکی نظم ونسق چلانے والی قیادت کو الگ اور جماعتی قیادت سنبھالنے والے افراد کو الگ کرنا ہو گا۔
ڈاکٹر ابراھیم نے دینی قوتوں کی کامیابی کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ "دینی قوتوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے مخالف نظریات رکھنے والی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے سختی سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیاسی شراکت کے لیے راہیں تلاش کرنے پر بھی توجہ ہونی چاہیے۔ وہ اسی ذریعے سے عوام میں اپنا گہرا مقام پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دینی جماعتیں اپنے دعوتی اور تبلیغی پروگرام کو سیاسی پروگرام سے الگ رکھیں۔ حکومتی معاملات چلانے کے لیےتقویٰ کی شرط اگر ضروری ہے تواس کے ساتھ اہلیت کی شرط بھی لازمی ہونی چاہیے۔
"پینوراما" میں گفتگو کرتے ہوئے مصری صحافی اور اخوان المسلمون کے امور کے ماہرابراہیم غرابیہ نے جماعت کی شہری آزادیوں کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اخوان المسلمون شہری آزاد یوں میں بلاجواز مداخلت نہیں کرے گی۔ غرابیہ کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون اکثریت کے فیصلے کی حامی ہے۔ چونکہ جمہوریت میں بھی اکثریت ہی کی رائے کا فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اخوان المسلمون کا طریقہ کار بھی جمہوری اور عمومی سیاسی طریقہ کار کے مطابق ہے۔
مذہبی ریاست شرعی فریضہ نہیں
العربیہ ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لبنانی تجزیہ کار پروفیسر رضوان السید نے کہا کہ دینی قوتوں کو اپنے سیاسی منشور میں اسی طریقہ کے مطابق تبدیلی لانا ہو گی جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں مسیحی مذہبی جماعتوں نے لائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت یا مذہبی ریاست کے قیام کے تصورات اب قابل عمل نہیں رہے۔ ریاست کے سیاسی خدوخال کا تعین وہاں کا معاشرہ اپنے تمام طبقات کے ساتھ مل کر کرتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہبی ریاست کا قیام کوئی دینی فریضہ یا عبادت نہیں۔ حکومت فطرتا مصالح عامہ کے ادارے کا نام ہے نہ کہ عبادت ہے۔
رضوان السید کا کہنا تھا کہ مذہبی بنیاد پر حکومت کے قیام کوششیں دین کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ ایسی حکومت کے ذریعے ایک ایسے معاملے کو فرض قرار دیا جاتا ہے جو خدا نے فرض نہیں کیا۔
ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مصری عالم دین نے ناجح ابراہیم نے کہا کہ دینی جماعتوں کی قیادت وفاداری کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے جبکہ ریاست کی سربراہی اور اس کے منتظمین پوری قوم کے مفاد اور مصلحت کی تحت منتخب ہونے چاہئیں۔ اسلام بھی اسی طرز فکر کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں عبادات اور معاملات کے بارے میں علماء کا اجتہاد کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے لیکن سیاسی فقہ کی تدوین کا عمل جمود کا شکار ہے، جس کے احیاء کی ایک مربتہ پھر ضرورت ہے۔
5-1-2012ء
حادثات -
|